Thursday, 31 August 2023

مشترکہ خطاب جمعہ نمبر 146 بعنوان

مورخہ یکم ستمبر 2023ء بروز جمعہ نماز جمعہ سے قبل مندرجہ ذیل مساجد میں مذکورہ عنوان پر مشترکہ طور پر خطاب ہوگا ان شاء اللہ!

(1)منو مسجد(چونا بھٹی) ایک بجے
مولانا مجاہد الاسلام ملی

(2)مسجد باغ فردوس (سلیم نگر)ایک پانچ
حافظ محمد طلحہ

(3)مسجد ھاجرہ (محفوظ کالونی)بارہ تیس
مولانا محمدعمران کفلیتوی

(4)محمّدی مسجد (سردار نگر)بارہ پچاس 
قاری وقاص انجم انصاری 

(5)مسجد سلامت اللہ (رحمت آباد)بارہ پچاس
مفتی محمدمدثرملی سیفی

(6)مسجد خاتون جنت(جعفر نگر)ایک بجے
مولانا عبدالوحیدندوی قاسمی
(7)مسجدحوّا(بخاری باغ)ایک پانچ
حافظ بلال احمد جمالیؔ

(8)مالدہ قبرستان (گیارہ ہزار کالونی)ایک دس
مولانا محمدعادل اشاعتی

(9)غربید مسجد (گیندا میدان)ایک بجے
مولانا ریحان رئیس ندوی

(10)مسجد ام مختار (ہزار کھولی)بارہ پچاس
مفتی عبدالخالق ندوی

(11)مسجد آصفہ ابراہیم (باغ مصطفیٰ)ایک بجے
مفتی محمداسلم جامعی

(12)مسجد محسنہ (نعمت باغ)بارہ چالیس 
محترم اقبال سر 

(13)مسجد عریش (پوارواڑی)ایک بجے
مولانا کامران حسَّان انصاری

(14)مسجد مرتضیٰ رمضان (نورنگ کالونی)ایک بجے
محترم محمد زید انجنیئر
(15)مسجد صدیق وامین (پوارواڑی)ایک بجے 
مولانا محمد عمران کفلیتوی

(16)سائرہ مسجد (رمضان پورہ) ایک بجے
مولانا محمد اشفاق ملی

(17)مسجد عارف اسماعیل (اخترآباد)ایک بجے
مولانا نہال احمد قاسمی

(18)مسجد اسحاق و فریدہ (شاہ پلاٹ)ایک بجے
حافظ توصیف جمال

(19)مسجد یحییٰ زبیر (نشاط نگر) ایک پانچ
مفتی محمدعامریاسین ملی

(20)مسجد سعدیہ خاتون (مولانا حنیف ملی نگر) بارہ پینتیس 
مولانا عمرفاروق کفلیتوی

(21)مسجد حضرت ام ایمن (سرسید نگر)ایک پانچ
مولانا محمد مصطفی جمالی

(22)مسجد خالدہ یونس (گاندھی نگر)بارہ پچاس
مولانا علاؤالدین ندوی
(23)مسجد زید بن حارثہ (مومن پورہ)ایک پانچ
مولاناعبدالمتین قاسمی

(24)حمیدہ مسجد (درے گاؤں)ایک بجے
مولانا حسیب الرحمن ندوی
 
(25)مسجد و خانقاہ مجددیہ (نشاط نگر) ایک بجے
مفتی عبدالمالک کفلیتوی

(26)مسجد رحمت عالم (رمضان پورہ)بارہ پچاس
مفتی فرقان خالد قاسمی

(27)مسجد بسم اللہ حجن (گلشن آباد) بارہ پینتیس
مولانا مجاہد الاسلام ملی

(28)مسجد محمد امین عشرت (بڑا قبرستان) بارہ بجے
مفتی محمدشعیب قاسمی

(29)مسجدنذیریہ (رونق آباد)بارہ پچاس
مفتی محمد فیضان ملی ندوی

(30)آسمہ مسجد(اسٹار ہوٹل)ایک بجے 
مفتی ارشد جمال ملی
(31)مسجد مولانا محمدالیاس(عباس نگر)ایک پانچ
حافظ مصدق احمد تجویدی

(32) جامع مسجد مرکز ( دھولیہ) ایک بجے 
مفتی محمد ناظم ملی

(33) جونی مسجد
(اسلام پورہ) بارہ پچپن
قاری عبداللہ فیصل

(34) مسجد کوہ نور یعقوب نگر) ساڑھے بارہ بجے
مفتی محمد عامر عثمانی

(35) مسجد شگفتہ (ہیرا پورہ) بارہ پچاس
مولانا افضال احمد ملی

(36) نورانی مسجد ( نیا پورہ) ایک بجے
مولانا شفیق الرحمن فلاحی

(37)؛مسجد حضرت جعفر طیار (فارمیسی نگر) ایک بجے 
مولانا عبدالماجد رشیدی

(38) مسجد صابرہ حجن( مالدہ شیوار) 
ایک بجے 
مولانا جمال ناصر ندوی

(39) مسجد ابو ایوب انصاری ( کریم نگر) بارہ چالیس 
 مفتی محمد انعام ملی

(40) مسجد سکمسیر ایک بجے
مولانا محمد عمران اسجد ندوی

(41) مسجد چراغ النساء پوار واڑی) ایک بجے
مولانا مجاہد الاسلام خالد بیتی

(42) مسجد حجن زیب النساء( باغ محمود ) ایک بجے
 مولانا عتیق احمد جمالی

(43) مسجد حذیفہ بن یمان گلشیر نگر ) سوا بجے 
محمد شرجیل ملی رحمانی

(45) مکہ مسجد ( امن چوک) بارہ پچاس
مفتی محمد خالد ملی
(46) مسجد بھاؤ میاں( فتح میدان )
قاری تَوصِیف اِشتِیاق
 ساڑھے بارہ بجے

(47) مسجد انوار نبوی (نورباغ)ساڑھے بارہ بجے
حافظ عبداللہ ہادی ملی

(48) مسجد ابن عباس (عباس نگر)
بارہ چالیس

(49) مسجد ثناء اللہ (ثناء اللہ نگر)ایک دس
مولانا فضل الرحمن ندوی

(50) مسجد یوسفیہ (ہزارکھولی) ایک بجے
 حافظ عبد الرحیم ملی

(51) مسجد بتول ابراہیم (گلشن امین )بارہ پچاس 
مفتی حفظ الرحمن اشاعتی 

برادران اسلام سے گزارش ہے کہ وقت مقررہ پر مساجد میں پہنچ کر اہتمام کے ساتھ جمعہ کا بیان سماعت کریں۔ گزارش کنندگان:
مفتی محمد عامر یاسین ملی
 8446393682
مولانا شفیق الرحمن فلاحی 
8983734066
مفتی محمد عامر عثمانی
9270121798
قاری عبد اللہ فیصل صاحب
9422213883
حافظ انعام الرحمن ناولٹی
9226896393

جاری کردہ: گلشن خطابت گروپ مالیگاؤں

بتا کیا کیا تونے میرے لیے


نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ 
 سرنامہ ابرار کاشف کے مشہور ومقبول ایک نظم سے ماخوذ ہے، اس نظم میں انہوں نے ’’مخاطب ہے بندے سے پروردگار‘‘ کہہ کر بات شروع کی ہے، پھر اللہ رب العزت کے ذریعہ جو انعامات بندوں پر کیے گیے ان سے چند کا مخصوص لب ولہجہ میں تذکرہ کیا ہے، چند اس لیے کہ سارے انعامات کا ذکر کرنا بندے کے بس میں ہے ہی نہیں، وہ تو بے شمار ہیں، ان کی گنتی کی ہی نہیں جا سکتی، انہیں انعامات میں سے ایک ’’ والدین‘‘ کا بھی ذکر کیا ہے، اور آخرمیں اللہ سے کہلوایا ہے کہ "بتا کیا کیا تونے میرے لیے"۔
 یہ سوال اپنی جگہ اس لیے صحیح ہے کہ اللہ کے بندے ان دنوں جس بے راہ روی کے شکار ہو گیے ہیں ، ان میں فرائض کی ادائیگی بھی بالائے طاق چلی گئی ہے، سنن وواجبات نوافل اور حسن اخلاق وکردار کا کیا ذکر کیا جائے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بندوں کی اس بے راہ روی سے اللہ رب العزت کے عز وجلال، شرف ومنزلت پر ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا ، اس لیے کہ اللہ بے نیاز اور تمام چیزوں سے مستغنی ہے۔
 لیکن آج کل اولاد جب پڑھ لکھ کر بڑی ہوجاتی ہے تو اسے شکوہ ہوتا ہے کہ والدین نے ہمارے لیے کیا کیا، یہ ایک طعن وتشنیع سے بھرا جملہ ہوتا ہے، جو والدین کے لیے اولاد کی جانب سے مختلف موقعوں سے ادا ہوتا رہتاہے،چوں کہ بچے والدین کی زندگی بھر کی محنت کو فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ والد نے اس کو سجانے، سنوارنے ، پڑھانے ، نوکریاں دلانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا، اب وہ بڑا ہو کر ان خدمات کو روپے میں آنکنے لگتا ہے، حالاں کہ سردی کی یخ بستہ رات میں اس کی ماں نے ایک رات جو جاگ کر گذاری اور اس کے ذریعہ ناپاک کیے گیے گیلے بستر پر لیٹی رہی اور اسے خشک بستر فراہم کیا، اس ایک رات کا بدلہ وہ زندگی بھر کی خدمتِ کے بعد بھی ادا نہیں کرسکتا،یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا ہے وہیں والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید بھی کی ہے، اور انہیں جھڑکنے، اف تک کہنے سے منع کیا ہے اور ان سے عزت واکرام کے ساتھ گفتگو کرنے کی تلقین کی ہے، حکم ہے کہ ان کی ضرورت ہو تو کاندھے جھکا دو اور اس جھکانے میں جبر نہیں بلکہ رحمت وشفقت کا عنصر غالب رہنا چاہیے، اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی حق ادا نہیں ہوگا، اس لیے ان کے لیے دعا سکھائی گئی کہ اے میرے رب ان دونوں پر رحم فرمایا جیسا انہوں نے بچپن میں میری پرورش شفقت ومحبت کے جذبے سے کی، لیکن آج صورت حال برعکس ہے، ایک فلیٹ کے دو کمرے میں بیٹا اور والدین رہتے ہیں، لیکن بیٹا کو توفیق نہیں ہوتی کہ وہ اپنے والدین کی خدمت میں حاضری دے، محبت کے دو بول ان سے کر لے اور اپنی شکل ان کو دکھادے، حالاں کہ و ہ ان کے نفقہ پر ہی زندگی گذار رہا ہوتا ہے، یہی حال بیٹیوں کا ہے، بیٹیاں پہلے کبھی والدین سے محبت کرنے والی ہوتی تھیں، لیکن اب مغرب کی آندھی میں سارے اطوار بدل گیے ہیں، وہ شادی شدہ ہونے کے باوجود اپنی بیماری اور ولادت کے مراحل میں والدین کے سر آکر پڑتی ہیں، لیکن بغل کے روم میں ماں تکلیف سے کراہ رہی ہوتی ہے، بہو تو پھر بہو ہے، بیٹی بھی جھانکی نہیں مارتی اور اس کی بھی رٹ ہوتی ہے کہ ابا، اماں نے مجھے کیا دیا، سارے ضرورت کے سامان دینے کے بعد بھی یہی رٹ رہتی ہے، باپ نے میرے لیے کیا کیا، شوہر اگر بد قسمتی سے اچھا نہیں مل سکا تو یہ شکوہ اور بڑھ جاتا ہے، وہ میکے سے بہت سامان اٹھا کر لے جائے گی اور احساس نہیں ہوگا کہ اس سامان کے والدین کے گھر سے اٹھا لینے پر انہیں کیسی کلفت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا، سسرال والے جہیز کے لالچی تو ہوتے ہی ہیں، بیٹیاں بھی کم دماغ نہیں کھاتی ہیں، اور اس کے باوجود ان کی رٹ ہوتی ہے کہ ابا نے کس غریب گھر میں میرا رشتہ کردیا، حالاں کہ سبھی جانتے ہیں کہ رشتہ نوشتہ سے ہوتا ہے، جو مقدر میں لکھا ہے وہی ہو کر رہے گا، والدین کے جوتا گھسنے اور جھک ماری سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے، میاں بیوی کے رشتے زمین پر نہیں آسمان پر طے ہوتے ہیں، لیکن یہ یقین ہمارے دماغ سے نکل گیا تو سب کی تان والدین پر آکر ٹوٹتی ہے۔
 بعض لڑکوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ ا چھی خاصی کمائی کرتے ہیں، لیکن والدین پر ایک روپیہ خرچ کرنے کی توفیق نہیں ہوتی، بہت ہوا تو کہے گا کہ ضرورت پڑے تو مانگ لیجئے، تمہارے بر سر روزگار ہونے میں جو تمہاری ضرورتوں کو بن مانگے پورا کرتا رہا، وہ اب تم سے مانگے گا، یہ بڑے شرم کی بات ہے، لیکن کیا کیجئے گا اس دنیا میں یہ سب ہوتا رہتا ہے، کئی لڑکوں کو دیکھا کہ وہ اپنی شادی کے لیے کپڑے اور زیورات کی خریداری پر لاکھوں خرچ کر دیتے ہیں لیکن یہ توفیق نہیں ہوتی کہ والدین کے لیے بھی دو جوڑے کپڑے اور ضروری سامان لے لیں، ایسے لوگوں میں بے کسی، بے بسی نہیں، بے حسی ہوتی ہے، اپنے کمرے میں وہ اے سی کو لر لگانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، لگاتے ہیں، لیکن والدین گرمی میں پک رہے ہیں تو ان کے ذہن میں آرام وآسائش کا خیال نہیں ہوتا، بوڑھے والدین پڑھاتے لکھاتے ہیں، مکان بنا کر دیتے ہیں اور جب لڑکا غیر ملک بیوی بچوں کے ساتھ چلا جاتا ہے تو یہ گھر کی چابھی کیر ٹیکر کی طرح لے کر بیٹھے رہتے ہیں، اور بچے ان کے مرنے پر ا جنازہ پڑھ جاتے ہیں، کبھی وہ بھی نہیں ہوتا، بیش تر ایسے لڑکوں کو جنازہ پڑھنا بھی نہیں آتا، کوتاہی والدین کی بھی ہے کہ دینی تعلیم سے اپنے بچے کو محروم رکھا، لیکن جب بچہ بالغ ہوگیا تو اس کو خود اپنی اصلاح اور ضروریات دین سیکھنے کی فکر کرنی چاہیے تھی، وہ نہیں ہوسکا، خون پسینہ ایک کرکے والدین نے جو کچھ حاصل کیا تھا اسے فروخت کرکے دوسرے ملک جا بیٹھتا ہے، اور ان تمام رشتے ناطے کو توڑ دیتا ہے جو برسوں کی محنت سے والدین نے جوڑا تھا اور صلہ رحمی کو پروان چڑھایا تھا۔
یہ جو باتیں اوپر لکھی گئی ہیں، ان کا تعلق عمومی احوال سے ہے، سارے لڑکے یقینا ایسے نہیں ہوتے ، کئی لڑکے تو باپ پر جان نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں، ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ والدین سے جو کچھ بن پڑا میرے لیے کیا، اب میں جوان ہوں، بر سر روزگار ہوں تو ان کی ضروریات اور خوشنودی کا خیال کرکے جنت کا سامان کرلوں۔
 ایک اور شکایت ان دنوں عام ہے، شادی ہوتے ہی والدین سے جد اہوجانا، بچوں کی تعلیم وتربیت کے نام پر دور شہر جا کر بس جانا، یقینا مسئلہ کے اعتبار سے اس میں گنجائش ہے، لیکن حسن سلوک کے کچھ اپنے تقاضے بھی ہیں، والدین اگر ضرورت مند ہیں تو ان کی آرام وآسائش کے لیے ساتھ بھی رکھا جا سکتا ہے اور متبادل نظم بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کا خیال بچوں کو آتا نہیں ہے اور وہ اپنی دنیا میں اس قدر مگن ہوجاتے ہیں کہ آج کے دور میں ٹیلی فونک رابطہ بھی منقطع ہوجاتا ہے۔
 ایسے میں جو بات ابرار کاشف نے اللہ کی طرف سے کہی ہے، وہی بات والدین کہہ سکتے کہ" بتا !کیا کیا تونےمیے لیے"، طبرانی نےالمعجم الصغیر(رقم 947 ) والا وسط رقم الحدیث6570اور بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ ص305میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جملہ نقل کیا ہے کہ" انت ومالک لابیک"، یعنی تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے، اس روایت کا آخری حصہ سنن ابن ماجہ (التجارات ما للرجل من مال ولدہ حدیث2292)میں بھی موجود ہے۔ محمد فواد عبد الباقی نے اپنی تعلیق میں لکھا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح بخاری کی شرط کے مطابق ہیں، شیخ ناصر الدین البانی نے بھی اس جملے کوصحیح قرار دیا ہے، امام احمد کی ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر شکایت کی کہ میرے والد نے میری دولت ختم کردی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے لیے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے۔ لہذا تم ان کے مال میں سے کھاؤ۔ اس سلسلے میں جو اشعار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے والد نے نقل کیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے میری شکایت کی، حالاں کہ میں نے بچپن میں تمہیں کھلایا پلایا، جوان ہونے کے بعد تک تمہاری ذمہ داری اٹھائی، تمہارا سب کچھ میری کمائی سے تھا، کسی رات تم بیمار پڑگئے تو میں نے بے قراری اور بے داری کے ساتھ گذاری، جیسے بیماری تمہیں نہیں مجھے لگ گئی ہو، تمہاری موت سے میں ڈرتا رہا اور تم نے میرا بدلہ سخت روئی اور سخت گوئی سے دیا اس طرح کے بہت سارے اشعار احادیث کی کتابوں میں مذکور ہیں، جن کی سند پر اعتراض کیا گیا ہے، سخاوی نے مقاصد حسنہ میں اس کے ایک راوی مکندر کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کی یاد داشت کے حوالہ سے انہیں ضعیف قرار دیا گیا ہے، حالاں کہ وہ اصلا صدوق ہیں،شیخ البانی نے مکندر بن محمد بن مکندر کو لین الحدیث کہا ہے، عبید بن کلصہ کے حوالہ سے تقریب میں ایسا ہی لکھا ہے، مگر اس کا آخری جملہ" انت ومالک لابیک" صحیح ہے اور اس کے متابع اور شواہد موجود ہیں۔
 اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین پر حسب ضرورت مال بھی خرچ کرنا چاہیے، لیکن اب صورت حال اس قدر بدل گئی ہے کہ والدین بچوں کے لیے سب کچھ نثار کردیتے ہیں، لیکن انہیں بڑھاپے میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، محبت کے دو بول سننے کے لیے وہ ترس جاتے ہیں، ان کی خبر گیری اور تنہائی میں ان کا مونس ومددگار کوئی نہیں رہتا، بلکہ اب مغربی ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی اولڈ ایج ہوم (بیت الضعفاء) نے رواج پانا شروع کردیا ہے، والدین بچوں کے لیے سب کچھ کر گزرتے ہیں، لیکن بچے اور بچیوں کی بے اعتنائی پر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے اور وہ زبان حال سے یہ پوچھتے ہیں" بتا !کیا کیا تونے میرے لیے"۔

مولانا سید محمد امین القادری صاحب کی قیادت میں جلوس برائے نزولِ بارانِ رحمت و دعا

* مالیگاؤں :* عالمی تحریک سنی دعوت اسلامی کے زیرِ اہتمام یکم ستمبر 2023ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء فوراً مرکزِ اہلسنّت جامع مسجد یارسول اللہ شہید عبد الحمید روڈ مالیگاؤں سے درگاہ حضرت کلّو شاہ عید گاہ تک بارانِ رحمت کے نزول کے لئے جلوس نکلا جائے گاـ جس کی قیادت *آلِ رسول حضرت مولانا سید محمد امین القادری صاحب قبلہ (نگراں سنی دعوت اسلامی مالیگاؤں)* فرمائیں گےـ اور کلّو شاہ بابا عید گاہ پر پہنچ کر توبہ و استغفار کے بعد بارانِ رحمت کے نزول کے لئے خصوصی دعائیں کی جائے گی 

اہلیانِ شہر سے گذارش کی جاتی ہے کہ عشاء کی نماز مرکزِ اہلسنّت جامع مسجد یارسول اللہ پر ادا کریں اور جلوس برائے بارانِ رحمت میں کثیر تعداد میں شریک ہوں 

* الداعی : عالمی تحریک سنی دعوت اسلامی مالیگاؤں*

’ انڈیا ‘ اتحاد کے مسائل

آج اپوزیشن کے اتحاد ’ انڈیا ‘ کا دوروزہ اجلاس ممبئی میں شروع ہو رہا ہے ۔ اس سے ایک دن قبل مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے جو بات کہی کہ ’ انڈیا ‘ اتحاد کی سرگرمیوں نے مرکز کی مودی سرکار کو گیس سلینڈر کی قیمت دوسو روپیے کم کرنے پر مجبور کر دیا ہے ، اس میں دَم ہے ۔ لیکن اُن کی اس بات میں کہ ’ مرکزی حکومت ہی گیس پر ہے ‘ ، کتنا دَم ہے اس کا اندازہ ابھی لگا پانا ممکن نہیں ہے ۔ یہ سچ ہے کہ بی جے پی اور اس کی حلیف سیاسی پارٹیوں کے محاذ این ڈی اے میں اپوزیشن کے اتحاد ’ انڈیا ‘ کے سرگرم ہونے کے بعد سے ایک ہلچل مچی ہوئی ہے ، اور اس کی طرف سے ہر ممکنہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام میں مقبولیت حاصل کرنے سے پہلے ہی ’ انڈیا ‘ کے اتحاد کو یا تو پارہ پارہ کردیا جائے یا اُسے تنازعات میں یا کرپشن کے الزام میں گھیر لیا جائے ۔ اس کوشش کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ’ انڈیا ‘ حکمراں جماعت اور اس کے حلیفوں کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ رہی ، اور ایسے معاملے اٹھا رہی ہے جو مودی حکومت کو کسی نہ کسی طرح کٹ گھڑے میں کھڑا کرتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود یہ کہنا یا ماننا کہ ’ مرکز کی مودی سرکار گیس پر ہے ‘ قبل از وقت ہے ۔ ’ انڈیا ‘ کے اس دعوے کے باوجود کہ ’ آئندہ کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی ہار یقینی ہے ‘ نہ بی جے پی کو کمزور سمجھا جا سکتا ہے ، اور نہ ہی اس حقیقت کو فراموش کیا جا سکتا ہے کہ دس برسوں کے اقتدار میں بی جے پی نے اپنی بنیادوں کو کچھ اس قدر مضبوط کرلیا ہے کہ اپوزیشن کو اپنے اختلافات بھلا کر متحد ہونے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔ مطلب یہ کہ بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیوں کو ہرا پانا اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ ’ انڈیا ‘ کے ذمہ داران سمجھ اور لوگوں کو سمجھا رہے ہیں ۔ یقیناً بی جے پی نے گزشتہ دس برسوں کے دوران ملک میں امیری اور غریبی کے توازن کو بگاڑا ہے ۔ آج غریب مزید غریب ہو گیا ہے اور جو امیر تھے ان کی دولت آسمان کو چھو رہی ہے ، بلکہ اب صورت حال یہ ہے کہ دولت بس چند خاندانوں میں محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔ یہ سارے دولت مند آج بی جے پی کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں ۔ بلاشبہ غربت نے تمام حدیں پار کر لی ہیں ، لیکن پچھڑے اور پِسے ہوئے بھارتیوں کو ’ دھرم اور ذات پات ‘ کے نام پر اس طرح سے بانٹ دیا گیا ہے کہ انہیں ایک پلیٹ فارم پر لانا ’ انڈیا ‘ کے لیے لوہے کے چنے چبانے جیسا ہوگا ۔ آج بھی ملک کی ستّر فی صد آبادی کو مفت راشن دیا جا رہا ہے ، اور یہ مفت راشن پانے والے مودی اور یوگی کو اپنا اَن داتا سمجھ رہے ہیں ، انہیں اگر ’ انڈیا ‘ اپنے سے قریب کر لیتی ہے تو اس کے لیے بڑی حد تک آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں ، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کام کیا کیسے جائے ؟ اس کا ایک حل ’ ذات کی بنیاد پر مردم شماری ‘ میں چھپا ہوا ہے ۔ اگر جیسا کہ نتیش کمار اور لالو پرساد یادو نے کہا ہے یہ مردم شماری ممکن ہو سکی اور اعداد و شمار سامنے آگئے تو پچھڑوں کو خود یہ اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی اصل آبادی کیا ہے ، اور اس کے لحاظ سے انہیں کیسے محروم رکھا جا رہا اور استحصال کیا جا رہا ہے ، اور یہ احساس اُن کو این ڈی اے سے دور کرنے کا محرک بن سکتا ہے ۔ مودی سرکار نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کیے ہیں ، نہ دو کروڑ نوکریوں کا وعدہ ، نہ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کا وعدہ ، نہ ہی مہنگائی کم کرنے کا وعدہ ۔ اس پر مستزاد یہ کہ ذات پات کا دیو آزاد ہے ، دلتوں ، آدی واسیوں اور پچھڑوں کے ساتھ ظلم و جبر کی چھوٹ ہے ، مسلمانوں کی لنچنگ معمول کی بات ہے ، اور فرقہ وارانہ تشدد سے ، مثلاً منی پور اور میوات کے ، ملک نفرت کی بھٹی میں تبدیل ہو گیا ہے ۔ سب کا ساتھ ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کا نعرہ بس نعرہ ہی ثابت ہوا ہے ۔ بی جے پی کی ریاستوں میں جنگل راج ہے ، اترپردیش میں نظم و نسق کا حال ابتر ہے ، لوگ ہر طرح کی مشکلات سے جوجھ رہے ہیں ، اور چاہتے ہیں کہ حالات بہتر ہوں ۔ لیکن اس کے لیے بی جے پی سے سیدھی ٹکر لینا ہوگی ۔ ’ انڈیا ‘ اتحاد کو مشکلات کا سامنا ہے ، ہر کوئی وزیراعظم بننا چاہتا ہے ، کیجری وال بھی اور اکھلیش یادو بھی ! دلت لیڈر پرکاش امبیڈکر الگ ناراض ہیں ، کئی مسلم لیڈروں میں اس بات کو لے کر ناراضی پائی جارہی ہے کہ ’ انڈیا ‘ اتحاد نے انہیں بلایا نہیں ۔ یہ مسائل اگر برقرار رہے تو بی جے پی کے لیے الیکشن جیتنا مشکل نہیں ہوگا ۔ ویسے بھی دس برسوں میں اس نے پولیس سے لے کر ہر ایک سرکاری محمکہ پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے ، اسے اس محاذ پر کوئی فکر نہیں ہے ، اور رہی دولت تو یہ بے شمار ہے ۔ لیکن ’ انڈیا ‘ کو تمام مسائل سےنمٹنا ہے ، اندرونی بھی اور بیرونی بھی ۔ آج ’ انڈیا ‘ کی جو میٹنگ شروع ہو رہی ہے اُس میں اسے سب سے زیادہ توجہ آپسی اختلافات کو دور کرنے پر دینا ہوگی ۔ اس کے بعد اُسے لائحہ عمل طئے کرنا ہوگا کہ کیسے این ڈی اے کو اُن مسائل میں الجھایا اور گھیرا جائے جو اس کے گلے کی ہڈی بن سکتے ہیں ۔ اگر ’ انڈیا ‘ نے یہ کر لیا تو اس کے لیے حالات بہتر سے بہتر ہو سکتے ہیں ۔

منی پور میں پھر دو گروپ کے درمیان گولی باری

منی پور میں تقریباً 4 ماہ سے تشدد کا بازار گرم ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں ایسا محسوس ہوا تھا کہ حالات معمول پر آ رہے ہیں، لیکن ایک بار پھر دو گروپ کے درمیان گولی باری کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ 12 گھنٹوں میں تصادم کی وجہ سے 2 لوگوں کی موت ہو گئی ہے اور تازہ ترین خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ جمعرات کی صبح بشنوپور ضلع کے کھوئرینٹک کے فٹ ہلز اور چراچندپور ضلع کے چنگفیئی و کھوسابنگ علاقوں میں دو گروپ کے درمیان گولی باری کی اطلاع پولیس کو ملی۔
ایک افسر کے حوالے سے کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ منی پور میں تازہ تشدد کا معاملہ بدھ کی شام کچھ دیر کی امن کے بعد شروع ہوا تھا۔ تصادم میں کے دوران بم لگنے سے زخمی ہوئے ایک شخص کی موت میزورم کے راستے گواہاٹی لے جاتے وقت ہو گئی، جبکہ ایک دیگر زخمی شخص کی موت چراچندپور ضلع کے اسپتال میں علاج کے دوران ہوئی۔

موصولہ خبروں کے مطابق چنگفیئی علاقے میں بدھ کے روز ہوئی گولی باری میں زخمی ہوئے پانچ لوگوں میں سے تین کو چراچندپور ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ بشنوپور نارائن سینا گاؤں کے پاس منگل کو ہوئے تشدد میں دو لوگوں کی موت ہو گئی جبکہ 6 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ ذرائع کے مطابق ایک کی موت گولی لگنے سے ہوئی تھی جبکہ دوسرے کی موت اپنے ہی بندوق سے نشانہ چوکنے کے سبب ہوئی۔ دراصل نشانہ چوکنے کے سبب گولی سیدھے اس کے منھ پر لگی جو ہلاکت خیز ثابت ہوئی۔

انڈیا کا اجلاس: ملک بھر کے اپوزیشن رہنماؤں کا ممبئی پہنچنے کا سلسلہ جاری

ممبئی: انڈیا کے 26 شراکت داروں کی دو روزہ میٹنگ آج یعنی جمعرات کی شام ملک کے تجارتی دارالحکومت ممبئی میں شروع ہونے جا رہی ہے۔ اپوزیشن اتحاد کا افتتاحی اجلاس کی میزبانی بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کی تھی، جبکہ تیسرا اجلاس مہاراشٹرا میں اپوزیشن اتحاد مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کی طرف سے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں کانگریس، شیوسینا (یو بی ٹی) اور شرد پوار کی قیادت والا این سی پی (نیشنلسٹ کانگریس) دھڑا شامل ہے۔
انڈیا اجلاس کے لیے ملک بھر کے اپوزیشن لیڈران کے ممبئی پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ آج ممبئی پہنچنے والے لیڈران میں سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ شامل ہیں، جبکہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے لیڈر ایم کے اسٹالن چنئی سے ممبئی اجلاس میں شرکت کے لئے روانہ ہو چکے ہیں۔

آج سے شروع ہونے والے انڈیا کے دو روزہ اجلاس سے قبل ممبئی کی سڑکیوں پر بڑی تعداد میں پوسٹرز اور ہورڈنگز نصب کئے گئے ہیں جن میں اتحاد کے قائدین کو نمایاں طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔
سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے ممبئی پہنچنے پر کہا ’’انڈیا اتحاد کا بنیادی مقصد اجتماعی طور پر لڑنا اور ملک کو بچانے، آئین، جمہوریت، سیکولرازم وفاقیت کو بچانے کے لیے بی جے پی کو شکست دینا ہے۔ ملک بہت بڑی مصیبت میں ہے۔ متعدد بحرانوں اور ملک کو بی جے پی-آر ایس ایس کے چنگل سے آزاد کرنا ہے۔ اپوزیشن کے ساتھ آنے کا یہی بنیادی مقصد ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ بی جے پی کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا۔‘‘
انڈیا کے اجلاس سے قبل راجیہ سبھا کے ایم پی اور آر جے ڈی لیڈر منوج جھا نے کہا ’’ممبئی میں اجلاس کے بعد ہمارے پاس ایک مضبوط بنیاد اور روڈ میپ ہوگا اور ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہم اس ملک کو دوبارہ پٹری پر لا رہے ہیں۔ ہر پارٹی اپنے لیڈر کو سب سے اوپر پر دیکھنا چاہتی ہے لیکن سب کو متحدہ کے اجلاس کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیے۔‘‘

برہان پور کے نوجوان شاعر ڈاکٹر واصف یار کی مالیگاؤں آمد پر عظیم الشان اعزازی

برہان پور کے نوجوان شاعر ڈاکٹر واصف یار کی مالیگاؤں آمد پر عظیم الشان اعزازی, شعری محفل کا انعقاد, زیر ترتیب شعری مجموعہ "مٹی ڈال "کا سرنامہ بنی غزل نے بے پناہ داد و تحیسن حاصل کی 


مالیگاؤں :(خیال اثر) مٹی ڈال کے تخلیق کار ڈاکٹر واصف یار کی مالیگاؤں آمد پر کوہ نور میوزک اکیڈمی کے ریکارڈنگ روم میں ایک منفرد اعزایہ شعری نششت کا انعقاد کیا گیا.سینئر صحافی و شاعر سلیم جھانگیر کی صدارت اور عمران راشد کی نظامت میں ڈاکٹر واصف یار کا نہ صرف عظیم الشان استقبال کیا گیا بلکہ ان کی خدمت میں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی آمد کو اہالیان مالیگاؤں کے لئے خوش آئند قرار دیا گیا. ڈاکٹر شہروز خاور, صدیق اکبر, ندا فاروقی, خیال اثر, فرنود رومی, مشتاق احمد مشتاق, جیسے شعراء کے علاوہ صاحب اعزاز واصف یار اور صدر مجلس سلیم جھانگیر نے اپنے کلام بلاغت نظام سے سامعین کو محظوظ فرمایا. ڈاکٹر واصف یار کی جدید رجحانات و امکانات اور کروٹیں بدلتے ہوئے ردیف و قوافی پر مبنی غزلوں کو بے انتہا سراہا گیا. یاد رہے ڈاکٹر واصف یار کا تعلق دار السرور برہانپور جیسے تاریخی شہر سے ہے. موصوف کے والد محترم نصف صدی سے زائد عرصہ سے سال بہ سال ممتاز محل فیسٹول کے عنوان سے ممتاز کی یاد میں کل ہند مشاعرہ ,سیمنار و دیگر تقاریب کا باقائدگی سےانعقاد کرتے آئے ہیں. برسوں پہلے واصف یار کے والد محترم شہزادہ آصف خان غوری نے برہانپور جیسے تاریخی شہر اور ممتاز محل کے اولین مدفن کو ویران تاج محل جیسے تاریخی ورثے کی حیثیت سے کتابی شکل میں ترتیب دے کر اسے عام بھی کیا تھا. جس طرح واصف یار کے اجداد ماضی میں سونے چاندی کے ورق بنایا کرتے تھے بالکل اسی طرح آج موصوف لفظوں کی بنت
 سے شعر و شاعری میں ناموری حاصل کرتے جارہے ہیں. واصف یار کے جد امجد موحوم اشرف پینٹر بھی اپنے وقت کے نامور مصور رہے ہیں. شاہکار فلم مغل اعظم کے مختلف رنگوں کے امتزاج سے قد آدم پوسٹر مہینوں تک سنیما گھر کی زینت بنا رہا تھا. مرحوم اشرف پینٹر کے تعلقات کے آصف, نوشاد, دلیپ کمار, شکیل بدایونی, حسرت جے پوری,محبوب جیسے نابغہ روزگار فنکاروں و قلمکاروں سے دیرنہ رہے ہیں بلکہ دلیپ کمار تو ان کے مکان پر قیام پذیر بھی ہوئے تھے. برہان پور میں ایک نمایاں شخصیت کے حامل یہ خانوادابرہانپور کے تاریخی ورثے کی بقاء کے لئے مسلسل سرگرداں رہا ہے.یہ شہزادہ آصف خان غوری ہی تھے جنھوں نے برہان پور میں موجود ملکہ ہندوستان ارجمند بانو المعروف ممتاز محل کااولین مدفن دریافت کرتے ہوئے دنیا کو چونکانے کا سبب بنے تھے. عجب بات ہے کہ شہزادہ آصف خان غوری اور ان کا خانوادہ چار سو پچاس سال سے زیادہ ممتاز محل کی بوڑھی روح کی زلف گرہ گیر کا عاشق دل گیر ہے. برہان پور کے ہی ایک شاعر شعور آشنا کے مطابق راتوں کے پر ہول سناٹوں میں ممتاز محل کے عشق میں مجنوں بنے آصف خان ممتاز محل کے ویران مدفن پر ممتاز محل ممتاز محل کی گردان پاگل پن کی حد کرتے دکھائی دیتے ہیں. مرحوم اشرف پینٹر کے خانوادے کا یہ جنون ہے کہ ختم ہونے کی بجائے دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے .اس خانوادے کا مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ محمکہ آثار قدیمہ اس عظیم تاریخی ورثے کی حفاظت کے لئے متوجہ ہو چاہے وہ برہان پور کی کالے پتھروں سے تعمیر شدہ خوب صورت ترین جامع مسجد ہو یا شاہی قلعہ ممتاز محل یاحمام ہو یا پھر ممتاز محل کا اولین مدفن. وہ مدفن جو ممتاز محل کے مردہ جسم اور روح سے عاری ہے. برسوں پہلے شہزادہ آصف خان غوری نے حکومت وقت سے مطالبہ بھی کیا تھا کہ ممتاز محل کی آخری وصیت پر عمل پیرا ہو کر ان کے اولین مدفن پر تاج محل تعمیر کیا جائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو آگرہ میں جمنا کے کنارے سنگ مرمر سے تعمیر کئے گئے تاج محل کو سائینس و جدید ٹیکنا لوجی کے ذریعے ٹکڑوں میں کاٹ کر برہان پور لائیں اور اسی مقام پر آن بان اور شان کے ساتھ استادہ کر دیا جائے جہاں پر ممتاز محل کو موت کے بعد پہلے دفن کیا گیا تھا نیز ایسا کرنے میں جو بھی خرچ درکار ہوگا اسے وہ خود برداشت کرنے کی قوت رکھتے ہیں. آج چند ماہ بعد ہی ممتاز محل فیسٹول اور ممتاز محل کی برسی قریب آرہی ہے اور ہندوستان کی فضاؤں میں شہزادہ آصف خان غوری کی ممتاز محل ممتاز محل کی گردان سنائی دے رہی ہے. ڈاکٹر واصف خان یار یا ان کا خاندان اسی مقام پر سکونت پذیر ہے جہاں شہنشاہ ہند شاہجہاں کے احباب خاص میں شامل عبدالرحیم خان خاناں کا قیام تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی توجہ کا مرکز برہان پور کے تاریخی مقامات اور ممتاز محل ہو. بہرحال جو بھی ہے واصف یار کی مالیگاؤں اہالیان شہر کے لئے خوش آئند ہے. موصوف کی شاعری کو مجلس میں تمام ہی شعراء اور سامعین نے بے پناہ داد و تحیسن سے نوازہ. اس موقع پر کوہ نور میوزک اکیڈمی کے روح رواں ابوالفصل جاوید نے بھی واصف یار کی خدمت میں گلہائے عقیدیت پیش کرتے ہوئے نہ صرف نیک خواہشات کا اظہار کیا بلکہ انھیں بار بار مالیگاؤں آنے کی پر خلوص دعوت دی.
 
🔴افسانہ 
مہاجرین 
. افسانہ نگار ۔۔ صـــــــادق اســــــــد
مالیگاؤں 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات کی تاریکی میں ایک کشتی ساحل پر آکر رکی، ملاح نےکشتی سے تختی کولٹکا دیا، جس پراندھیرے کے سبب ہلکا ہلکاکچھ لکھا ہوا نظر آرہا تھا ،کچھ دیر بعد مختلف سمتوں سے کئی لوگ اپنے اپنے پریواروں کےساتھ آےَ، اور کشتی پر سوار ہونے لگے، جب سبھی لوگ کشتی میں بیٹھ گئے توملاح نے چپو سے زمین کو دھکیلنے کی کوشش کی، کشتی گہرے پانی کی طرف بڑھ گئی؛ ملاح اپنی مخصوص نششت پر بیٹھ گیا؛ اورچپو سےپانیوں کو چھلنی چھلنی کرنے لگا، عورتوں مردوں اور بچوں سے بھری کشتی سمندر پر ریگنے لگی؛ شیر خوار بچےاپنی ماوُں کے زانوں پر کچھ سو رہے تھے، اور کچھ پانیوں پر پڑ تے ہی چپو سے آنے والی چھپ چھپ کی آواز کوسن رہے تھے، ان کی مائیں چھپ چھپ کے ساتھ ساتھ اپنےبچوں کو تھپکیاں دینے لگیں؛ مسافروں کےدلوں سےوطن بدری کا دکھ ابھی کم بھی نہ ہو پایا تاکہ سمندر میں ارتعاش پیدا ہو نے لگا،سمندر کی موجیں اوپر اٹھ اٹھ کر ایک دوسرے سےٹکرانے لگیں، ملاح نے سمندرکے ارادے کوبھانپ لیا؛ اورکشتی کا رخ موڑ کرلہروں کی سمت چلنے لگا؛ کبھی کبھی اونچی ہوتی ہوئیں لہرےکشتی سے ٹکرا جاتیں اورکشتی ہچکولےکھا نے لگتی، عورتوں اوربچوں کی دردناک چیخیں فضا میں گونجنےلگتیں، کشتی آہستہ آہستہ چلتے ہوئے بہت دور نکل گئی،پانیوں کا جوش ختم ہونے لگا؛ موجوں کا اٹھنا بند ہوگیا؛ آسمان کے ایک کنارے سے اجالاپھوٹنے لگا؛ عٙمادالحسن جواپنےپریوار کےساتھ ہجرت کر رہے تھے؛ کشتی میں کھڑے ہو کر چاروں جانب دیکھنے لگے؛ دور دور تک کنارا نظر نہ آیا،ہاں سمندر کے ایک طرف اونٹ کے کوہان کی مانندپہاڑ دکھائی دے رہے تھے؛ جو ان کے ذہن کےنقشے میں نہیں تھے. 
عمادالحسن ملاح کےقریب بیٹھتے ہوئے کہنے لگے"،میرے خیال سے ہمیں اب تک پڑوسی ملک کی سرحد نظر آجانی چاہئے تھی "ملاح جو تھک چکا تھا،سر ہلا تے ہوئے کہنے لگا"ہاں پر مجھے لگتا ہے،رات جب،میں نے طلاطم کی وجہ سے کشتی کا رخ بد لا تو شاید ہم کسی اور سمت نکل آئے" ہیں ،"کیا" ،عمادالحسن حیرت سے بولے،اور پھر ایک سمت دیکھنے لگے،لیکن پانیوں کےسوا کچھ نظر نہ آیا،عمادالحسن نےملاح کے چہرے پر نظریں گاڑدیں اور گویا ہوئے "اب کیا کرینگے"ملاح چپ رہا،اور دھیرے دھیرے چپو چلا تا رہا. 
مسافروں کو جب یہ پتا چلاکہ ہم راستہ بھٹک گئے ہیں؛ تو وہ ملاح سے لڑ نےجگھڑ نے لگے،عمادالحسن رات کے طوفان کو یاد دلاتے ہوئے لوگوں کو سمجھاتے رہے لیکن لوگوں کا شور کم نہ ہوا،ملاح بہت تھک چکا تھا،ایک شخص آگے بڑھا،اور ملاح سے چپو چھینتے ہوئے کہا "لاوُچپو مجھے دو کشتی میں چلاتا ہوں" ملاح اٹھا،اور چپ چاپ دوسری جگہ بیٹھ گیا؛وہ شخص جس نے چپو لیا تھا،جیسے تیسے کشتی کا رخ موڑا اورایک نئی سمت چلنے لگا ،سورج چڑھ آیا اور کشتی چلتی رہی، کچھ گھنٹوں بعد وہ شخص بھی تھک گیا،اک اور شخص آگے آیا چپو کو تھامااور کشتی چلانے لگا،دن رات کی طرح کشتی کا رخ بدلتا رہا،ہر نیا شخص آتا،چپو سبھا لتا،اور ایک نئی سمت کشتی چلانے لگتا،مگر دور دور تک ساحل نظر نہ آتا ہفتہ گزر گیا کشتی کا سفر جاری رہا،مسافروں کے لائے ہوئے سامان ختم ہونے لگے،کچھ دنوں بعد ماوُں کی چھاتیاں خشک ہونے لگیں،چہرے کے گو شت اندر کو دھنس گئے،ہڈیاں ابھر آئیں؛آنکھوں کی چمک ماند پڑگئی،بچے بھوک سے روتے بلکتے اور پھر چپ ہو جاتے،ماںُیں اپنے کمزور ہاتھوں سے کچھ کپڑوں میں لپیٹ کر اپنے بچوں کو سمندر کے سپردکر دیتیں، جب مردوں کے بازوؤں میں اتنی قوت نہ رہی،کہ کشتی کو میل آدھا میل چلا سکیں، تو کچھ نامراد ہو کر سمندر میں کود گئے، کچھ آنکھیں آسمان کو تکتے تکتے پتھرا گئیں، ملاح کا بدن کب سرد پڑا کسی کو نہیں معلوم، ملاح سے پہلے بھی کئی جسم اکڑ چکے تھے، جب کشتی چلا نے کےلئے بازو نہ رہے ،توسمندر کی لہریں کشتی کو ایک سمت لے کر چلنے لگی،کشتی میں آخری بچے ہوئے شخص عمادالحسن کی ہلکی ہلکی سانسوں کاسلسلہ جاری تھا، کہ ایک کرخت آواز ان کے کانوں میں پہنچی"کون ہو تم کھڑے ہو جاوُ، اور اپنے اپنے ہاتھوں کو اوپر کرلو"کشتی سے کوئی جواب نہ پاکر پھر وہی لہجہ وہی جملے گونجے،اب بھی کشتی سے نہ کوئی جواب ملا نہ کوئی حرکت کچھ دیر خاموشی چھائی رہی پھر ایک کہ بعد کئی فوجی کشتی پر چڑھ گئے،اور اپنی اپنی بندوقیں تان لیں، آگے بڑھتے ہوئے فوجی ان اکڑے ہوئے جسموں کو ٹھوکریں مار مارکر دیکھنے لگے، ایک فوجی کی نظر عمادالحسن پر پڑی جو کشتی کے ایک طرف ٹیک لگائے اپنے پچکے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رکھے،ان فوجیوں کو دیکھ رہے تھے ، وہ فوجی انکے قریب آ یا،اور زور سے چلا یا" کون ہو تم"......،تمام فوجی اس آواز کی طرف پلٹے عمادالحسن اپنے چہرے کو دھیر ے سے ایک سمت کئے اور غور سے دیکھنے لگے،تمام فوجی بھی اس طرف دیکھنے لگےجس طرف ایک تختی تھی اور تختی پر لکھا تھا مہاجرین...
🎬🎬🎬🎬


______یوم پیدائش 01 جون 1970

فلک سے کوئی ستارہ گرے تو رک جاؤں
اداس پیڑ کا پتہ ہلے تو رک جاؤں

تھکن سے چور ہوں جاری ہے زندگی کا سفر
زرا سی دیر کو رستہ رکے تو رک جاؤں

کسی کے ساتھ میں چلنا ہے میرا طئے لیکن
کسی کے واسطے رکنا پڑے تو رک جاؤں

قدم سے لپٹا ہوا ہے مسافرت کا جنوں
یہ کیسے ہو کوئی روکے مجھے تو رک جاؤں

میں بزم یار سے نکلا تو سوچ کر نکلا
کوئی خلوص سے آواز دے تو رک جاؤں

وہ جھولے میلے وہ بچپن کی یاد تازہ ہو
کہیں پہ راہ میں سرور ملے تو رک جاؤں

رفیق سرور
*غــــــــــــــــــــــــــزل*

خصلتِ بے جا نواہی تجھے لے ڈوبے گی
تیرے اعضا کی گواہی تجھے لے ڈوبے گی

بحرِ موّاج میں ہے زیست کا ہے بیڑا پیارے
یہ تِری فطرتِ شاہی تجھے لے ڈوبے گی


تُو ابھرتے ہوئے سورج سے سبق لے ورنہ
شمس ڈوبا تو سیاہی تجھے لے ڈوبے گی


چِھیپ دریائے محبّت میں تکبّر کی نہ ڈال
وہ انا کی ہے جو ماہی تجھے لے ڈوبے گی


ہے امیری تو فقیروں کی خبرگیری کر
چندروزہ ہے دُراہی، تجھے لے ڈوبے گی


کرب لہجے سے ہو واضح یہ ضروری ہے عطا
یہ تِری فکرِ فُکاہی تجھے لے ڈوبے گی

•┈┈┈┈• ★ *شاعر* ★ •┈┈┈┈•
       *عطـــا عـــلوی

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑جھارکھنڈ پیپر لیک احتجاج: رانچی میں کئی طلباء کو حراست میں لیا گیا، مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال* ...