آج اپوزیشن کے اتحاد ’ انڈیا ‘ کا دوروزہ اجلاس ممبئی میں شروع ہو رہا ہے ۔ اس سے ایک دن قبل مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے جو بات کہی کہ ’ انڈیا ‘ اتحاد کی سرگرمیوں نے مرکز کی مودی سرکار کو گیس سلینڈر کی قیمت دوسو روپیے کم کرنے پر مجبور کر دیا ہے ، اس میں دَم ہے ۔ لیکن اُن کی اس بات میں کہ ’ مرکزی حکومت ہی گیس پر ہے ‘ ، کتنا دَم ہے اس کا اندازہ ابھی لگا پانا ممکن نہیں ہے ۔ یہ سچ ہے کہ بی جے پی اور اس کی حلیف سیاسی پارٹیوں کے محاذ این ڈی اے میں اپوزیشن کے اتحاد ’ انڈیا ‘ کے سرگرم ہونے کے بعد سے ایک ہلچل مچی ہوئی ہے ، اور اس کی طرف سے ہر ممکنہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام میں مقبولیت حاصل کرنے سے پہلے ہی ’ انڈیا ‘ کے اتحاد کو یا تو پارہ پارہ کردیا جائے یا اُسے تنازعات میں یا کرپشن کے الزام میں گھیر لیا جائے ۔ اس کوشش کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ’ انڈیا ‘ حکمراں جماعت اور اس کے حلیفوں کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ رہی ، اور ایسے معاملے اٹھا رہی ہے جو مودی حکومت کو کسی نہ کسی طرح کٹ گھڑے میں کھڑا کرتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود یہ کہنا یا ماننا کہ ’ مرکز کی مودی سرکار گیس پر ہے ‘ قبل از وقت ہے ۔ ’ انڈیا ‘ کے اس دعوے کے باوجود کہ ’ آئندہ کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی ہار یقینی ہے ‘ نہ بی جے پی کو کمزور سمجھا جا سکتا ہے ، اور نہ ہی اس حقیقت کو فراموش کیا جا سکتا ہے کہ دس برسوں کے اقتدار میں بی جے پی نے اپنی بنیادوں کو کچھ اس قدر مضبوط کرلیا ہے کہ اپوزیشن کو اپنے اختلافات بھلا کر متحد ہونے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔ مطلب یہ کہ بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیوں کو ہرا پانا اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ ’ انڈیا ‘ کے ذمہ داران سمجھ اور لوگوں کو سمجھا رہے ہیں ۔ یقیناً بی جے پی نے گزشتہ دس برسوں کے دوران ملک میں امیری اور غریبی کے توازن کو بگاڑا ہے ۔ آج غریب مزید غریب ہو گیا ہے اور جو امیر تھے ان کی دولت آسمان کو چھو رہی ہے ، بلکہ اب صورت حال یہ ہے کہ دولت بس چند خاندانوں میں محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔ یہ سارے دولت مند آج بی جے پی کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں ۔ بلاشبہ غربت نے تمام حدیں پار کر لی ہیں ، لیکن پچھڑے اور پِسے ہوئے بھارتیوں کو ’ دھرم اور ذات پات ‘ کے نام پر اس طرح سے بانٹ دیا گیا ہے کہ انہیں ایک پلیٹ فارم پر لانا ’ انڈیا ‘ کے لیے لوہے کے چنے چبانے جیسا ہوگا ۔ آج بھی ملک کی ستّر فی صد آبادی کو مفت راشن دیا جا رہا ہے ، اور یہ مفت راشن پانے والے مودی اور یوگی کو اپنا اَن داتا سمجھ رہے ہیں ، انہیں اگر ’ انڈیا ‘ اپنے سے قریب کر لیتی ہے تو اس کے لیے بڑی حد تک آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں ، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کام کیا کیسے جائے ؟ اس کا ایک حل ’ ذات کی بنیاد پر مردم شماری ‘ میں چھپا ہوا ہے ۔ اگر جیسا کہ نتیش کمار اور لالو پرساد یادو نے کہا ہے یہ مردم شماری ممکن ہو سکی اور اعداد و شمار سامنے آگئے تو پچھڑوں کو خود یہ اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی اصل آبادی کیا ہے ، اور اس کے لحاظ سے انہیں کیسے محروم رکھا جا رہا اور استحصال کیا جا رہا ہے ، اور یہ احساس اُن کو این ڈی اے سے دور کرنے کا محرک بن سکتا ہے ۔ مودی سرکار نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کیے ہیں ، نہ دو کروڑ نوکریوں کا وعدہ ، نہ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کا وعدہ ، نہ ہی مہنگائی کم کرنے کا وعدہ ۔ اس پر مستزاد یہ کہ ذات پات کا دیو آزاد ہے ، دلتوں ، آدی واسیوں اور پچھڑوں کے ساتھ ظلم و جبر کی چھوٹ ہے ، مسلمانوں کی لنچنگ معمول کی بات ہے ، اور فرقہ وارانہ تشدد سے ، مثلاً منی پور اور میوات کے ، ملک نفرت کی بھٹی میں تبدیل ہو گیا ہے ۔ سب کا ساتھ ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کا نعرہ بس نعرہ ہی ثابت ہوا ہے ۔ بی جے پی کی ریاستوں میں جنگل راج ہے ، اترپردیش میں نظم و نسق کا حال ابتر ہے ، لوگ ہر طرح کی مشکلات سے جوجھ رہے ہیں ، اور چاہتے ہیں کہ حالات بہتر ہوں ۔ لیکن اس کے لیے بی جے پی سے سیدھی ٹکر لینا ہوگی ۔ ’ انڈیا ‘ اتحاد کو مشکلات کا سامنا ہے ، ہر کوئی وزیراعظم بننا چاہتا ہے ، کیجری وال بھی اور اکھلیش یادو بھی ! دلت لیڈر پرکاش امبیڈکر الگ ناراض ہیں ، کئی مسلم لیڈروں میں اس بات کو لے کر ناراضی پائی جارہی ہے کہ ’ انڈیا ‘ اتحاد نے انہیں بلایا نہیں ۔ یہ مسائل اگر برقرار رہے تو بی جے پی کے لیے الیکشن جیتنا مشکل نہیں ہوگا ۔ ویسے بھی دس برسوں میں اس نے پولیس سے لے کر ہر ایک سرکاری محمکہ پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے ، اسے اس محاذ پر کوئی فکر نہیں ہے ، اور رہی دولت تو یہ بے شمار ہے ۔ لیکن ’ انڈیا ‘ کو تمام مسائل سےنمٹنا ہے ، اندرونی بھی اور بیرونی بھی ۔ آج ’ انڈیا ‘ کی جو میٹنگ شروع ہو رہی ہے اُس میں اسے سب سے زیادہ توجہ آپسی اختلافات کو دور کرنے پر دینا ہوگی ۔ اس کے بعد اُسے لائحہ عمل طئے کرنا ہوگا کہ کیسے این ڈی اے کو اُن مسائل میں الجھایا اور گھیرا جائے جو اس کے گلے کی ہڈی بن سکتے ہیں ۔ اگر ’ انڈیا ‘ نے یہ کر لیا تو اس کے لیے حالات بہتر سے بہتر ہو سکتے ہیں ۔