Friday, 2 January 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*





وزن کم کرنے والے انجیکشنز کا بڑھتا استعمال صحت کے لیے خطرناک؟
انڈیا کے معروف ڈاکٹروں نے ’وزن کم کرنے والے‘ انجیکشنز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال اور اُن کے ممکنہ خطرناک اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انجیکشنز موٹاپے اور ذیابیطس کا کوئی جادوئی حل نہیں اور ان کا غیرمنظم استعمال صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق انڈیا میں ’مونجارو‘، ’ویگووی‘ اور ’اوزمپک‘ جیسے بھوک کم کرنے والے انجیکشنز کی طلب میں رواں برس غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ صرف آٹھ ماہ میں ’مونجارو‘ انڈیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوا بن گئی ہے جو اینٹی بائیوٹکس کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہے۔
اس کامیابی کے بعد دواساز کمپنی ’ایلی للی‘ نے اسی طرح کی ایک نئی میڈیسن پر تحقیق شروع کر دی ہے جو اگلے سال گولی (ٹیبلٹ) کی صورت میں دستیاب ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب دواساز کمپنی ’نوو نورڈسک‘ نے بھی اوزمپک کو متعارف کرایا ہے تاہم ان دواؤں کی قیمتیں عام شہری کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ برس کئی دواؤں کے پیٹنٹ ختم ہو جائیں گے، جس کے بعد مقامی کمپنیاں سستے متبادل متعارف کرائیں گی اور مارکیٹ میں ان ادویات کی بھرمار ہو جائے گی۔
ڈاکٹروں کے مطابق انڈیا میں بعض شہریوں کو موٹاپے اور ذیابیطس کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں 20 کروڑ سے زائد افراد ذیابیطس کا شکار ہیں، جبکہ موٹاپے کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔سرجن ڈاکٹر موہت بھنڈاری اور دیگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان انجیکشنز کا بے جا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ادویات پٹھوں کی کمزوری، لبلبے کی سوزش، پتے میں پتھری اور بعض صورتوں میں بینائی کے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان دواؤں کی فراہمی اور تجویز کو سخت ضابطوں کے تحت لایا جائے۔
کئی ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ انجیکشنز اب جمز اور بیوٹی کلینکس پر بھی بغیر مکمل طبی جانچ کے فروخت ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان خطرناک ہے اور حکومت کو فوری مداخلت کرنی چاہیے۔
ماہرینِ صحت اس بات پر متفق ہیں کہ وزن کم کرنے والے انجیکشنز مددگار ہو سکتے ہیں مگر اصل حل صحت مند غذا، ورزش اور طرزِِ زندگی میں تبدیلی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ادویات عارضی سہارا ہو سکتی ہیں لیکن مستقل صحت کے لیے زندگی گزارنے کے طریقے بدلنا ناگزیر ہے۔














سعودی عرب میں شراب پر آج بھی ہے مکمل پابندی ، 73 سال قبل پیش آیا تھا دردناک واقعہ
سعودی عرب دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں شراب پر مکمل پابندی ہے۔ ایک قطرہ بھی پینا عام شہریوں کے لیے وبال جان بن سکتا ہے انتہائی مشکل ۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ پابندی نہ صرف اسلامی قوانین کی وجہ سے لگائی گئی تھی بلکہ 73 سال قبل ایک ہولناک سیاسی واقعے کی وجہ سے بھی لگائی گئی تھی۔

جنوری 1952 میں شاہ عبدالعزیز نے شراب کی درآمد، فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ اس کی بنیادی وجہ 1951 کا ایک واقعہ تھا جس میں شاہی خاندان کے ایک فرد نے شراب کے نشے میں دھت برطانوی سفارت کار کو قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ملک میں شراب پر پابندی لگا دی گئی۔ اس واقعے کے 73 سال بعد بھی پابندی برقرار ہے۔اس دن کیا ہوا تھا؟
1951 میں جدہ میں برطانوی نائب قونصل سیرل عثمان کے گھر پر ایک پارٹی کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ نوجوان شہزادہ مشاری بن عبدالعزیز (شاہ عبدالعزیز کا بیٹا) نشہ میں تھا۔ جب عثمان نے اسے مزید شراب دینے سے انکار کیا تو مشتعل شہزادے نے اسے گولی مار دی جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ یہ واقعہ شاہی خاندان کے لیے انتہائی شرمناک تھا، جس سے سعودی عرب کا بین الاقوامی امیج خراب ہوا۔ برطانوی حکومت نے احتجاج کیا اور شاہ عبدالعزیز کو شاہی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ اب ملک میں شراب کی اجازت نہیں ہوگی۔ 1952 میں اس نے پورے سعودی عرب میں شراب پر پابندی لگا دی۔ تب سے، اسے درآمد کرنا، بیچنا، رکھنا، یا استعمال کرنا جرم ہے۔
ملتی ہے ایسی سزا
شراب پیتے ہوئے پکڑے جانے والے سعودی شہریوں کو 100 کوڑے اور جیل کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ غیر ملکیوں کو ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شروع میں یہ پابندی صرف اور صرف مذہبی بنیادوں پر تھی لیکن اس واقعے نے اسے قانونی قوت بخشی۔ اسلام میں شراب حرام ہے۔ آج، ویژن 2030 کے تحت، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کئی اصلاحات نافذ کی ہیں، جن میں خواتین کو ڈرائیونگ، سینما گھروں تک رسائی اور سیاحت کا حق دینا شامل ہے۔ حال ہی میں، غیر مسلم سفارت کاروں کے لیے ڈپلومیٹک کوارٹر میں شراب کی دکان کھولی گئی، اور ایکسپو 2030 اور 2034 فیفا ورلڈ کپ کے لیے سیاحتی علاقوں میں محدود چھوٹ کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم عام سعودی شہریوں اور مسلمانوں کے لیے یہ پابندی برقرار ہے۔













امریکہ میں بھارت کے خلاف پاکستان رچ رہا ہے سازش ، کروڑوں ڈالر پانی کی طرح بہا رہے شہباز ۔ منیر
واشنگٹن: حالیہ امریکی فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (FARA) کی واشنگٹن میں سامنے آنے والی دستاویزات سے امریکہ میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی لابنگ سرگرمیوں کی مکمل تصویر سامنے آئی ہے۔ ان سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستانی حکومت اور اس سے منسلک تنظیموں نے امریکہ میں اپنا امیج بہتر بنانے اور پالیسی سازوں پر اثر انداز ہونے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ یہ کوششیں امریکی کانگریس، ایگزیکٹو برانچ، تھنک ٹینکس اور میڈیا تک پھیلی ہوئی ہیں۔

ایک دستاویز کے مطابق، اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پاکستان میں قائم ایک تھنک ٹینک جو پاکستان کے نیشنل سکیورٹی ڈویژن سے وابستہ ہے، نے امریکہ میں لابنگ اور پبلک پالیسی کے کام کے لیے تقریباً 900,000 ڈالر وصول کیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، Hyperfocal Communications LLC اکتوبر 2024 میں اس کام کے لیے رجسٹرڈ ہوا تھا۔ یہ کمپنی ٹیم ایگل کنسلٹنگ ایل ایل سی کے تحت ذیلی کنٹریکٹر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا تھا۔پاکستان نے کس کے ساتھ کیا معاہدہ؟
ایک اور دستاویز سے انکشاف ہوا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے اکتوبر 2025 سے Erwin Graves Strategy Group LLC کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔ معاہدے میں پہلے تین ماہ کے لیے 25,000 امریکی ڈالر کی ماہانہ ادائیگی کی شرط رکھی گئی تھی۔ اس معاہدے میں امریکی کانگریس کے اراکین اور حکومتی اہلکاروں تک رسائی کے ساتھ ساتھ پالیسی گروپس اور تھنک ٹینکس کے ساتھ بات چیت بھی شامل تھی۔ اس نے علاقائی استحکام، اقتصادی ترقی اور جمہوری اصلاحات جیسے مسائل پر توجہ دی۔

بھارت کے خلاف کوئی ہو رہی ہے سازش؟
درج کردہ مسائل میں تجارت، سیاحت اور پاکستان میں نایاب معدنیات کے امکانات کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔ فہرست میں جموں و کشمیر کا تنازعہ اور پاک بھارت تعلقات شامل ہیں۔ ان انکشافات پر بھارت میں کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ ان میں جموں و کشمیر اور بھارت پاکستان تعلقات پر امریکہ میں لابنگ کا ذکر ہے۔ ایک اور جانکاری میں بتایا گیا ہے پاکستان ایمبیسی نے مئی میں Korvis Holdings Inc. کی خدمات بھی عوامی تعلقات کی خدمات کے لیے حاصل کیں۔ ان میں میڈیا آؤٹ ریچ اور نیریٹیو ڈیولپمنٹ شامل ہیں ۔ امریکی قانون کے تحت، غیر ملکی حکومتوں اور ان سے منسلک تنظیموں کو اپنی لابنگ اور تعلقات عامہ کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات ظاہر کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ دستاویزات ان کے معاہدوں، سرگرمیوں اور ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات ظاہر کرتی ہیں۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*




الیکشن کمیشن کی سرپرستی میں کرناٹک رپورٹ، راہل گاندھی کے ’ووٹ چوری‘ الزام کو چیلنج، 83 فیصد ووٹرز کا ای وی ایم پر اعتماد
الکشن کمیشن کا سروے: راہل گاندھی کے ووٹ چوری الزام کو چیلنج :
الیکشن کمیشن آف انڈیا کی سرپرستی میں تیار کی گئی ایک جامع جائزہ رپورٹ نے راہل گاندھی کے ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزام کو ایک بڑا چیلنج دے دیا ہے۔ کرناٹک میں 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد کیے گئے اس سروے میں نہ صرف ووٹر ٹرن آؤٹ میں اضافہ پایا گیا، بلکہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں (EVMs) پر عوامی اعتماد بھی نمایاں طور پر مضبوط دکھائی دیا۔یہ سروے اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے کیا گیا کہ انتخابات کے دوران ووٹر بیداری کی مہمات کس حد تک مؤثر ثابت ہوئیں۔ اس مقصد کے لیے الیکشن کمیشن نے کرناٹک مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن اتھارٹی (KMEA) کو SVEEP (Systematic Voters’ Education and Electoral Participation) پروگرام کے نتائج کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

یہ سروے، جس کا عنوان
‘Lok Sabha Elections 2024: Evaluation of Endline Survey of Knowledge, Attitude and Practice (KAP) of Citizens’
ہے، کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر وی۔ انبوکمار کی ہدایت پر مکمل کیا گیا۔
وسیع پیمانے پر سروے

اس سروے میں ریاست کے چار بڑے ڈویژنز بنگلورو، بیلگاوی، کلبرگی اور میسورو کے 102 اسمبلی حلقوں سے 5,100 ووٹرز کو شامل کیا گیا، جو اسے ریاست کی تاریخ کے سب سے بڑے بعد از انتخاب تجزیاتی سروے میں شامل کرتا ہے۔

نمایاں نتائج

رپورٹ کے مطابق :

95.75 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ انہوں نے ووٹ ڈالا

83.61 فیصد ووٹرز نے انتخابی نظام اور EVMs پر اعتماد کا اظہار کیا

85.31 فیصد افراد ووٹر لسٹ سے آگاہ تھے

99.02 فیصد کے پاس ای پی آئی سی (ووٹنگ کارڈ) موجود تھا

رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے :

’’تمام ڈویژنز میں ووٹرز کی بھاری اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ای وی ایم درست اور شفاف نتائج فراہم کرتی ہیں۔‘‘

آگاہی میں بہتری، مگر کچھ خلا باقی

اگرچہ ووٹر لسٹ اور ووٹنگ کے عمل سے آگاہی خاصی بہتر رہی، تاہم آن لائن رجسٹریشن، ہوم ووٹنگ، شکایات کے اندراج اور ووٹر تفصیلات کی درستی جیسے امور پر معلومات محدود پائی گئیں۔ صرف 30.39 فیصد افراد کو نیشنل ووٹرز ڈے کی درست تاریخ معلوم تھی۔

’’ووٹ چوری‘‘ الزام پر سوال
دلچسپ بات یہ ہے کہ کلبرگی ڈویژن میں EVMs پر سب سے زیادہ اعتماد دیکھا گیا، حالانکہ یہی وہ خطہ ہے جہاں سے الند (Aland) میں ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزامات نے جنم لیا تھا، جو بعد میں راہل گاندھی کی انتخابی مہم کا مرکزی نعرہ بنے۔

دیہی اور شہری ووٹرز میں فرق

دیہی ووٹرز نے انتخابی عمل کو نسبتاً منصفانہ قرار دیا، جس کی بڑی وجہ بوتھ لیول آفیسرز (BLOs) کی مؤثر موجودگی بتائی گئی۔ اس کے برعکس شہری نوجوانوں میں سیاسی بےزاری اور شکوک دیکھنے میں آئے، جنہوں نے اشرافیہ کے غلبے اور شفافیت کی کمی پر سوال اٹھائے۔

پیسے اور دباؤ کے خدشات
رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ پیسے اور طاقت کے استعمال سے متعلق خدشات خاص طور پر کلبرگی کے کچھ علاقوں میں موجود رہے، تاہم اکثر افراد نے انتقامی کارروائی کے خوف اور شکایتی نظام پر کم اعتماد کے باعث ان معاملات کی رپورٹ نہیں کی۔

معذور ووٹرز کو درپیش مسائل

معذور افراد (PwDs) میں پوسٹل بیلٹ اور خصوصی سہولتوں سے متعلق آگاہی تو بہتر تھی، مگر علیحدہ قطاروں، قابلِ رسائی انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کی کمی جیسے مسائل نے ان کے لیے ووٹنگ کو مشکل بنا دیا، خاص طور پر معذور خواتین کو اضافی مشکلات کا سامنا رہا۔

مجموعی جائزہ
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ کرناٹک میں ووٹر آگاہی اور شرکت میں نمایاں بہتری آئی ہے، لیکن شمولیت، آخری سطح تک رسائی اور مسلسل ووٹر تعلیم کے میدان میں مزید کام کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود، بلند ووٹر ٹرن آؤٹ اور EVMs پر مضبوط عوامی اعتماد ان تمام بیانیوں کے لیے ایک واضح جواب ہے جو انتخابی نظام کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہیں۔














جماعت اسلامی نے کرایا تھا عثمان ہادی کو قتل ، ڈھاکہ آفس میں رچی گئی تھی سازش !
بنگلہ دیش کے سیاسی منظر نامے کو ہلا کر رکھ دینے والے شریف عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے بڑا اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ نیوز 18 انڈیا کو ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ ہادی کے قتل کے پیچھے جماعت اسلامی کے اندر ایک دھڑے کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ کوئی بیرونی سازش نہیں بلکہ جماعت کے اندر اقتدار اور تسلط کے لیے جاری جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ذرائع کے مطابق شریف عثمان ہادی کا سیاسی قد بتدریج بلند ہو رہا تھا۔ خاص طور پر نوجوان ووٹرز اور طلبہ میں ان کی مقبولیت جماعت کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی تھی۔ آئندہ 12 فروری کے انتخابات سے پہلے، ہادی ایک اہم انتخابی عنصر بن گیا تھا۔ ان کے اثر و رسوخ کو جماعت کی روایتی سیاسی اور قیادت کے لیے خطرہ سمجھا جارہا تھا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہادی کو ختم کرنے کی سازش ڈھاکہ میں جماعت کے دفتر میں رچی گئی۔ تنظیم کے اندر ایک دھڑا ہادی کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا تھا۔ دریں اثنا، مبینہ طور پر قتل کے معاہدے کے حوالے سے اندرونی اختلافات سامنے آئے۔ ابتدائی طور پر ایک کروڑ ٹکے پر قتل پر اتفاق ہوا لیکن بعد میں اس رقم کو لے کر جماعت کے اندر جھگڑا ہوگیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک دھڑے کا خیال تھا کہ یہ رقم اتنی بڑی سیاسی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ناکافی ہے جب کہ دوسرے دھڑے نے اخراجات کم رکھنے پر اصرار کیا۔ اس کشمکش کے دوران یہ سارا معاملہ جماعت کے اندر سے ہی افشا ہو گیا۔ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ شوٹر کے لیے اضافی بڑی رقم پر اتفاق کیا گیا تھا۔ہادی کے قتل کو بھارت سے جوڑا گیا
اس پورے واقعے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ چند روز قبل ہادی کے قتل کو بھارت سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ بتایا گیا کہ ملزمان بھارت فرار ہو کر میگھالیہ میں روپوش ہیں ۔ تاہم بنگلہ دیش اس نظریے کی کوئی ٹھوس بنیاد فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ یہ کہانی گھڑنے کی کوشش کی گئی کہ ملزم دبئی فرار ہو گیا ہے لیکن اس کے باوجود کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔ نیوز 18 نے پہلے خبر دی تھی کہ اگر ملزم بیرون ملک چلا بھی جائے تو بھی یونس کی انتظامیہ کے واقعے میں ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔














کوئی نہیں دیکھے گا T20I ورلڈ کپ، آر اشون کا بڑا دعویٰ
سابق کرکٹر روی چندرن اشون نے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ’’ایش کی بات‘‘ میں ایشون نے کہا ہے کہ اس سال کوئی بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہیں دیکھے گا۔ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کا فروری کی 7 تاریخ سے آغاز ہورہا ہے۔ ٹورنامنٹ میں کل 20 ٹیمیں حصہ لیں گی جنہیں پانچ گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ٹیم انڈیا گروپ اے میں ہے۔ اس گروپ میں پاکستان، امریکہ، نمیبیا اور ہالینڈ شامل ہیں۔

T20 ورلڈ کپ کی منصوبہ بندی کے بارے میں اشون کا کہنا ہے کہ اس سال کا T20 ورلڈ کپ کوئی بھی دیکھنے والا نہیں ہے۔ ہندوستان بمقابلہ امریکہ، ہندوستان بمقابلہ نمیبیا جیسے میچز آپ کو ٹورنامنٹ سے دور کر دیں گے۔ جب میں اسکول میں تھا، 1996، 1999 اور 2003 ورلڈ کپ بہت خاص تھے۔ہم شیڈول کا لارڈ اکھٹا کرتے تھے کیونکہ ٹورنامنٹ میں چار سال بعد آتا تھا لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے۔کیاکمزورٹیمیں عدم دلچسپی کا سبب ہیں؟

اشون نے واضح طور پر کہا کہ اگر ہندوستانی ٹیم کا مقابلہ امریکہ اور نمیبیا جیسی ٹیموں سے ہوتا تو شائقین اتنے پرجوش نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہاکہ، اگر ٹیم انڈیا کو پہلے راؤنڈ میں انگلینڈ اور سری لنکا جیسی ٹیموں کا سامنا ہوتا، تو شاید ٹورنامنٹ کا جوش و خروش پہلے ہی بڑھ جاتا، جیسا کہ پہلے ہوتا تھا کیونکہ سپر 8 مرحلے تک معاملات سست ہو جاتے۔ون ڈے کرکٹ کے حوالے سے اشون کو تشویش

اشون نے T20 ورلڈ کپ کے علاوہ ون ڈے کرکٹ کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا خیال ہے کہ 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے بعد آئی سی سی کو اس فارمیٹ پر دوبارہ غور کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ شائقین کرکٹ ٹی ٹوئنٹی کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں کچھ دلچسپی قائم ہوئی ہے، لیکن ایسے کھلاڑیوں کی تعداد معلوم نہیں ہے۔ تاہم اصل تشویش یہ ہے کہ ون ڈے کرکٹ اپنا وجود کھو سکتی ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*





ایران میں پُرامن مظاہروں کو تشدد سے کچلا گیا تو امریکہ مداخلت کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی اور انہیں تشدد کر کے ہلاک کیا تو امریکہ انہیں بچانے آئے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’تُرتھ سوشل‘ پر جمعے کو کہا کہ ’ہم وہاں جانے کے پوری طرح تیار ہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف ایران کے مختلف صوبوں میں حالیہ تین برسوں کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور اس دوران متعدد افراد کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔احتحاج کا سلسلہ اتوار کو اس وقت تہران سے شروع ہوا تھا جب دکانداروں نے اشیا کی قیمتیں بڑھنے اور معاشی جمود کے خلاف ہڑتال کی اور یہ سلسلہ ملک کے دوسرے حصوں تک پھیلتا چلا گیا۔
فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ صوبہ چہار محل کے شہر لردیگان میں جھڑپوں میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ صوبہ لورستان کے علاقے ازنا میں تین افراد جان سے گئے۔
 رپورٹ کے مطابق ’کچھ مظاہرین نے شہر کی انتظامی عمارات پر پتھراؤ شروع کیا جن میں گورنر کے دفتر کے علاوہ، ایک مسجد، مارٹرز فاؤنڈیشن کا دفتر، ٹاؤن ہال اور بینک شامل تھے۔ اس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔‘
ایجنسی کا کہنا ہے کہ ’پتھراؤ سے عمارات کو شدید نقصان پہنچا اور پولیس نے کافی تعداد میں گرفتاریاں بھی کیں۔ ازنا میں بلوائی مظاہرین کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میں شامل ہو گئے اور پولیس سٹیشن پر حملہ کیا۔‘
ملک میں چلنے والی ایسی تحریکوں میں شرکت کرنے والوں کو پہلے بھی ریاستی میڈیا نے ’فسادی‘ قرار دیا تھا۔
جمعرات کو تہران کے ایک ضلع میں ’سکیورٹی فورسز اور انٹیلیجنس سروسز کے مربوط آپریشن‘ میں مبینہ طور پر امن عامہ کو نقصان پہنچانے سے متعلق جرائم کے تحت 30 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
یہ مظاہرے 2022 میں پھیلنے والی پرتشدد احتجاج کی لہر کے مقابلے میں چھوٹے ہیں جن کا سلسلہ مہسا امینی نامی خاتون کی دوران حراست ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا۔
خاتون کو ایران کے لباس کے ضابطے کے تحت حجاب نہ اوڑھنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
اس پر ملک کے طول و عرض میں احتجاج کی شدید لہر پھیل گئی تھی اور پرتشدد واقعات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکار بھی شامل تھے۔











💫السّلام وعلیکم💫
  *ہمارے امیدواروں کا تعارف* 
 *عوامی خدمت: شکیل بھائی (شکیل کرانا)* 
 *قیادت: شاہد ریشم والا* 
 *مخلصانہ کوششیں: فروغ شیخ* 
 *نوجوان قیادت: محسن خان* 

 *وارڈ نمبر 03 کی ترقی، ہماری اولین ترجیح* 

 *تبدیلی کا وقت* : پچھلے نمائندوں کو موقع دیا جا چکا ہے، اب ایک نئی اور متحرک قیادت کو خدمت کا موقع دیں.

 *ترقیاتی کام* : ہمارے امیدوار ہمارے وارڈ میں بنیادی سہولیات اور ترقیاتی کاموں کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

 *اتحاد اور خدمت* : ہمارا مقصد اتحاد اور مخلصانہ خدمت کے ذریعے آپ کے مسائل حل کرنا ہے۔













*بادشاہ خان نگر مدرسہ اظہارُ العلوم کے پاس کچروں کا انبار عارف نوری نے فوراً صفائی کروائی!*
(پریس ریلیز) کارپوریشن الیکشن کے وقت بڑے بڑے وعدے اور دعوے کرنے والے وارڈ نمبر 5 کے سابق کارپوریٹر اور امیدوار اپنا الیکشن میں مَست ہے یہاں بادشاہ خان نگر میں ہر طرف کچروں کا انبار ہے بار بار توجہ دلانے کے باوجود گندگی اور کچروں سے بادشاہ خان نگر کی عوام بے حد پریشان ہیں بروز اتوار 28 دسمبر مدرسہ اظہارُ العلوم کے پاس تنگ گلی اور بے انتہا کچرا تقریباً چار دنوں سے جمع تھا گندگی اور تعفّن سے اطراف کے لوگ اور راہگیروں کو بے انتہا تکلیف تھی محلّے کے لوگوں نے اس پریشانی کو دیکھتے ہوئے سوشل ورکر عارف نوری کو فون کرکے طلب کیا اور کہا کہ بادشاہ خان نگر میں ہر امیدوار اور اُن کے چمچے دورہ کررہے ہیں مگر کسی نے بھی اس جانب توجہ نہیں دی لوگ پریشان ہے فوراً عارف نوری صاحب نے صاف صفائی انچارج اقبال صاحب کو فون کیا اور کہا کہ کچروں کو فوراً آج ہی اٹھایا جائے حالانکہ اسی گلی کے کونے پر اقبال صاحب کا گھر ہے بہر کیف انھوں نے فوراً کرمچاری کو بھیج کر کچروں اور گندگیوں کو صاف کروایا ہم اقبال صاحب کے شکر گزار ہیں کہ چُھٹّی ہونے کے باوجود انھوں نے عوامی تکلیف کو دیکھتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھائی فیصلہ عوام کو کرنا ہے پانچ سال کس طرح سے گزارنا ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*





کمبل کی تقسیم کی گئی(دعوت اسلامی مالیگاؤں) 
الحمدللہ عزوجل! سردی کے موسم میں ضرورت مندوں کی مدد کے لیے جی این آر ایف کی جانب سے پورے وطنِ عزیز ہندوستان میں غریب اور مستحق افراد میں کمبل تقسیم کاری کا سلسلہ جاری ہے بحمدہ تعالیٰ 31 دسمبر 2025 کو مالیگاؤں شہر میں بھی ضرورت مندوں میں کمبل تقسیم کئے گئے. اس خدمتِ خلق کے عمل کا مقصد سرد موسم میں لوگوں کو سہولت اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔

 *جی این آر ایف* ہمیشہ سے انسانیت کی بھلائی اور اجتماعی خدمت کے کاموں میں مصروفِ عمل رہا ہے۔ اسی جذبے کے تحت مختلف شہروں اور علاقوں میں کمبل پہنچائے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اب تک *جی این آر ایف* کی جانب سے پورے ہند بھر میں تقریباً تقریبا35000کمبل تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

آخر میں *جی این آر ایف* کی جانب سے تمام والنٹیئرز، ذمہ داران، معاونین اور ان تمام افراد کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا جاتا ہے جنہوں نے اس فلاحی مہم میں بھرپور ساتھ دیا۔
اللہ پاک اس نیک عمل کو قبول فرمائے اور آگے بھی خدمتِ خلق کی توفیق عطا فرمائے۔

GNRF Department - Dawateislami India












محفل طنز و مزاح ٦ جنوری منگل کو 
زندہ دلان مالیگان کے زیر اہتمام اسکس لائبریری اور مالیگاؤں آرٹس اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن کے اشتراک سے مورخه ۶ جنوری ۲۰۲۶ء بروز منگل، شب دس بج کر دس منٹ پر محفل طنز و مزاح ( سلسلہ نمبر 15) اسکس لائبریری ہال میں منعقد کیا جارہا ہے۔ نئے سال کی مناسبت سے بطور تحفہ پروگرام کے آخر میں طنز و مزاح سے بھر پور ایک ڈرامہ ” آؤ ڈاکو آیا “ بھی پیش کیا جائے گا جس کی تفصیل ذیل کے مطابق ہے۔ صدارت : مختار یوسفی صاحب، نظامت : عمران جمیل سر، قرأت : رضوان ربانی سر، اسٹارٹر : عجیب انصاری، تبرک : مرزا طوسی (مختصر تعارف اور کلام) پیش کش : مومن آصف بارون، ہنزل گوئی : مجاور مالیگانوی، مزاحیہ مضامین : محمد رضا سر (MSE)، ڈاکٹر مبین نذیر سر(سٹی کالج ) ڈاکٹر رمضان مکی سر اور طنز و مزاح سے بھر پور ڈرامہ "آؤ ! ڈا کو آیا" (رائیٹر ڈائریکٹر آصف سبحانی)
پیش کیا جائے گا- پروگرام ہر حال میں وقت مقررہ پر شروع کر دیا جائے گا۔ صدر و اراکین اسکس لائبریری، زنده دلان مالیگاوں و مالیگاؤں آرٹس اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن و منتظمین نے شرکت کی گزارش کی ہے ۔













*جمہوریت نہیں، ٹکٹوں کا کاروبار*

✍️*وسیم رضا خان* ✍️
                             

ناشک میونسپل کارپوریشن کے انتخابات جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں، سیاست کا درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے، اس بار انتخابی بحث ترقی، عوامی مسائل یا پالیسیوں پر غور و خوض کے بجائے ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر اٹھنے والے سنگین الزامات کے گرد سمٹ گئی ہے۔ سیاسی گلیاروں اور پارٹی کے اندر سے اٹھنے والی آوازیں یہ سوال پوچھنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کیا یہ انتخابات ایک جمہوری عمل ہیں یا پھر ٹکٹوں کا ایک مبینہ بازار؟
بھارتیہ جنتا پارٹی کے حوالے سے یہ الزامات سامنے آ رہے ہیں کہ کارپوریشن انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم شفاف اور قابلیت پر مبنی ہونے کے بجائے مبینہ طور پر مالی لین دین سے متاثر ہے۔ چرچا ہے کہ ٹکٹوں کے اس مبینہ کھیل میں سینکڑوں کروڑ روپوں تک کا ایک 'بازار' بن گیا ہے۔ اگرچہ یہ الزامات عوامی بیانات اور سیاسی بحثوں پر مبنی ہیں اور ان کی ابھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی، پھر بھی انہیں مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ شکایتیں صرف اپوزیشن جماعتوں سے نہیں بلکہ خود پارٹی کے ناراض کارکنوں کی جانب سے سامنے آ رہی ہیں۔
سب سے سنگین سوال یہ ہے کہ برسوں سے تنظیم کے لیے کام کرنے والے وفادار کارکنوں کو ٹکٹوں کی تقسیم میں مبینہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ الزامات ہیں کہ زمینی جدوجہد، تنظیمی شراکت اور عوامی حمایت کے بجائے اثر و رسوخ، جان پہچان اور وسائل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ نہ صرف کارکنوں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ داخلی جمہوریت کا زوال بھی ہے۔ سیاسی جماعتیں عوامی پلیٹ فارمز سے بدعنوانی کے خلاف 'زیرو ٹالرنس' کی بات کرتی ہیں، لیکن جب ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر اس طرح کے سوالات کھڑے ہوتے ہیں، تو ان کی اخلاقی ساکھ کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اس سیاسی کلچر کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں انتخابات کو خدمت کا ذریعہ نہیں بلکہ سرمایہ کاری اور منافع کا موقع مان لیا گیا ہے۔
ناشک کے باشعور عوام کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ ایسے نمائندے منتخب کرنا چاہتے ہیں جن کی ترجیح عوامی مفاد ہو، یا پھر وہ جو مبینہ طور پر بھاری اخراجات کے بعد اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ وہیں، سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان الزامات کی واضح اور حقائق پر مبنی تردید کریں یا پھر غیر جانبدارانہ داخلی تحقیقات کے ذریعے سچائی سامنے لائیں۔
اگر وقت رہتے شفافیت اور جوابدہی کو یقینی نہ بنایا گیا، تو ناشک میونسپل کارپوریشن کے انتخابات جمہوریت کے جشن کے طور پر نہیں، بلکہ ٹکٹوں کے مبینہ کاروبار کی ایک مثال کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ یہ صورتحال نہ صرف سیاست کے لیے بلکہ عوام کے بھروسے کے لیے بھی انتہائی خطرناک اشارہ ہے۔ سیاست کے اس جدید ورژن میں کارکن اب 'عوامی خادم' نہیں، بلکہ 'پرامید گاہک' بنتے جا رہے ہیں۔ برسوں تک جھنڈا اٹھانے، پوسٹر لگانے اور گالیاں کھانے کا روایتی پیکیج اب پرانا ہو چکا ہے۔ نیا پیکیج ہے—وسائل، تعلقات اور اثر و رسوخ۔ جن کے پاس یہ تینوں ہیں، ان کے لیے ٹکٹ 'امکان' نہیں بلکہ ایک 'عمل' بن جاتا ہے۔ طنز یہ ہے کہ جو کارکن ٹکٹ سے محروم رہ جاتے ہیں، انہیں فوراً 'نظم و ضبط' کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔ پارٹی میں جمہوریت تب تک زندہ رہتی ہے جب تک ٹکٹ آپ کی جیب میں ہو۔ ٹکٹ نہیں ملا تو سوال پوچھنا 'نظم و ضبط کی خلاف ورزی' اور 'بغاوت' کہلاتا ہے۔ یعنی جمہوریت ایک مشروط سہولت ہے—بشمول ٹکٹ۔

انتخابی اسٹیج سے بدعنوانی کے خلاف لمبی چوڑی تقریریں ہوتی ہیں، لیکن ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت وہی تقریریں کہیں فائلوں میں دبی نظر آتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سب صرف الزامات ہیں، افواہیں ہیں اور ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو۔ لیکن جب افواہیں بار بار اٹھیں اور مختلف سمتوں سے اٹھیں، تو طنز خود بخود ایک سنگین سوال میں بدل جاتا ہے۔

ناشک کے عوام اب محض تماشائی نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ اگر ٹکٹ مبینہ طور پر سرمایہ کاری سے ملتے ہیں، تو وصولی بھی کہیں نہ کہیں سے ہوگی اور اس کا بوجھ آخرکار عام شہری پر ہی پڑتا ہے۔ ایسے میں انتخابات عوامی خدمت کا ذریعہ نہیں بلکہ 'اخراجات وصول کرنے کا پروجیکٹ' بن جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ناشک منپا انتخابات میں جمہوریت مکمل طور پر غائب نہیں ہوئی ہے—بس وہ ٹکٹ کی تقسیم کے دفتر کے باہر ایک لمبی قطار میں کھڑی اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب اس کی باری آئے گی، تب تک جمہوریت بچے گی یا نہیں؟














*مالیگاؤں سیکولر فرنٹ کی تشہیری مہم*
*انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر I.S.L.A.M پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے اُمیدواروں کی کامیابی کیلئے سیکولر فرنٹ کی تشہیری مہم کا وارڈ وائز آغاز*

*کــارنــــر میـٹـنـگــــ*

*2 جنوری بروز جمعہ*

*1) گلشیر نگر ڈپو گلی نمبر 4*
*شام 6 بجے سے 8 بجے تک*

*2) سیلانی چوک*
*رات 8 بجے سے 9 بجے تک*

*3) گاندھی نگر چوک*
*رات 9 بجے سے 10 بجے تک*

*مقرر خصوصی*
*آصـف شـیـخ رشـید صـاحبــــ*
*بانی و قائد اسلام پارٹی ،مالیگاؤں*

*🔴سیف نیوز بلاگر*

💫السّلام وعلیکم💫
 

 *ہمارے امیدواروں کا تعارف* 

 *عوامی خدمت: شکیل بھائی (شکیل کرانا)* 
 *قیادت: شاہد ریشم والا* 
 *مخلصانہ کوششیں: فروغ شیخ* 
 *نوجوان قیادت: محسن خان* 

 *وارڈ نمبر 03 کی ترقی، ہماری اولین ترجیح* 

 *تبدیلی کا وقت* : پچھلے نمائندوں کو موقع دیا جا چکا ہے، اب ایک نئی اور متحرک قیادت کو خدمت کا موقع دیں.

 *ترقیاتی کام* : ہمارے امیدوار ہمارے وارڈ میں بنیادی سہولیات اور ترقیاتی کاموں کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

 *اتحاد اور خدمت* : ہمارا مقصد اتحاد اور مخلصانہ خدمت کے ذریعے آپ کے مسائل حل کرنا ہے۔

Thursday, 1 January 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*




میڈونا کی مراکش میں چھٹیاں، روایتی میزبانی اور فن تعمیر کے مناظر کی جھلکیاں
پاپ آئیکون میڈونا اس دنوں مراکش میں وقت گزار رہی ہیں، جہاں سے انہوں نے تصاویر کی ایک سیریز شیئر کی ہے جو ملک بھر کے ایک ہمہ جہت سفر کی جھلک پیش کرتی ہے، جس میں ثقافت، فیشن، فنِ تعمیر اور روایات کا امتزاج نظر آتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق حال ہی میں میڈونا نے انسٹاگرام پر اپنے 20.1 ملین فالوورز کے ساتھ اس سفر کی جھلکیاں شیئر کیں۔ یہ دورہ بظاہر مختلف مقامات اور انداز پر مشتمل ہے۔ تصاویر میں میڈونا کو مقامی بازاروں کی سیر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں چمڑے کی اشیا قطار در قطار فرش سے چھت تک سجی ہوئی ہیں۔سردیوں کے لباس میں ملبوس میڈونا نے لمبا فر کوٹ اور ہم رنگ ٹوپی پہن رکھی ہے اور ایک بڑی بُنی ہوئی ٹوکری نما بیگ اٹھا رکھا ہے، جو اس جگہ کے مٹیالے رنگوں اور بناوٹ میں گھل مل جاتی ہے۔
ایک اور منظر مراکش کی مہمان نوازی کو اجاگر کرتا ہے، جہاں روایتی پودینے کی چائے پیش کیے جانے کا لمحہ قید کیا گیا ہے۔ رسمی لباس میں ملبوس ایک خادم نقش و نگار والے چاندی کے کیتلی سے رنگین گلاسوں میں چائے انڈیل رہا ہے، پس منظر میں نفیس ٹائلوں سے مزین اندرونی حصے دکھائی دیتے ہیں۔ان تصاویر میں فنِ تعمیر کی تفصیلات نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ کئی تصاویر میں سجے ہوئے اندرونی مناظر دکھائے گئے ہیں، جن میں تراشیدہ پلستر کی دیواریں، زیلیج ٹائل ورک اور محرابی چھتیں امل ہیں۔
ایک وسیع منظر میں شاندار نشست گاہ دکھائی دیتی ہے، جہاں نقش دار گدّے ایک آراستہ محراب کے نیچے قطار میں رکھے ہیں، جو روایتی مراکشی ڈیزائن کی مہارت اور توازن کو نمایاں کرتے ہیں۔شمعوں کی روشنی میں سجا ایک ڈرامائی عشائیہ اس سفر میں ایک اور رنگ بھر دیتا ہے۔ بلند محرابوں کے نیچے قائم طویل میز پر شمعدان، کرسٹل گلاس ویئر اور روایتی کھانے سجے ہیں، جبکہ اس جگہ کے آخری سرے پر ایک سفید گھوڑا پُرسکون کھڑا نظر آتا ہے۔
میڈونا نے نرم روشنی میں کھینچی گئی اپنی ایک قریبی تصویر بھی شیئر کی، جس میں وہ نمایاں سن گلاسز، ہیرے کے جھمکے اور فر کالر والا کوٹ پہنے ہوئے ہیں، جو اس سفری کہانی میں فیشن کا ایک اور لمحہ پیش کرتا ہے۔آخری تصاویر میں میڈونا کو بظاہر کسی تاریخی مذہبی یا مقدس مقام کے اندر شمعیں جلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
انہوں نے اس پوسٹ کے ساتھ کیپشن دیا: “Moroccan Holiday”
گلوکارہ نے اپنے مداحوں کو اپنی تہوار کی تقریبات کی جھلک بھی دکھائی، جس میں انہوں نے اپنے بوائے فرینڈ، اکیم مورس، اور اپنی 13 سالہ جڑواں بیٹیوں، سٹیلا اور ایسٹیئر، کے ساتھ فوٹو شوٹ کی تصاویر شیئر کیں۔کرسمس ٹری اور ڈسکو بالز سے سجے سرخ پس منظر کے سامنے پوز دیتے ہوئے، میڈونا نے سفید ساٹن کی منی ڈریس پہن رکھی ہے، جس کی چھوٹی آستینوں پر لیس کا کام، چوکور گلا اور شوخ گھیر ہے۔ اس لباس کو انہوں نے فِش نیٹ ٹائٹس، سنہری ساٹن اوپیرا دستانوں اور اپنے مخصوص گلیمر کے ساتھ مکمل کیا ہے۔











ایمسٹرڈیم میں نئے سال کے جشن کے دوران ایک قدیم چرچ جل گیا
نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں نئے سال کی خوشی کے موقع پر 19ویں صدی کا ایک چرچ آگ لگنے سے جل گیا جبکہ مختلف مقامات پر تشدد کے واقعات بھی ہوئے جن میں دو افراد ہلاک ہوئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایمسٹرڈم میں سنہ 1872 میں تعمیر ہونے والےوونڈیلکرک چرچ میں صبح کے وقت لگی۔
 حکام کا کہنا ہے کہ چرچ کا 50 میٹر (164 فٹ) اونچا ٹاور آتشزدگی کے باعث گر گیا اور چھت کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ امید بھی ظاہر کی گئی ہے کہ اس کے بعد بھی ڈھانچہ برقرار رہنے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔اسی طرح ڈچ پولیس یونین کے سربراہ نائن کوئیمین نے بتایا ہے کہ نئے سال کی رات پولیس کے خلاف ایسے پرتشدد واقعات ہوئے ہیں جو اس سے قبل کبھی نہیں دیکھے گئے۔
 ان کا کہنا تھا کہ ایمسٹرڈم میں ڈیوٹی کے دوران ان کو بھی آتش بازی اور دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا گیا۔
نصف شب کے تھوڑی دیر بعد حکام کی جانب سے موبائل فونز پر ایک الرٹ جاری کیا گیا جس میں لوگوں سے کہا گیا تھا کہ جب تک جانوں کو خطرہ نہ ہو ہنگامی سروسز فراہم کرنے والے اداروں سے رابطہ نہ کریں۔
رپورٹ کے مطابق پولیس اور فائر فائٹرز پر حملوں اور پرتشدد واقعات کی اطلاعات پورے ملک میں پھیلی ہوئی تھیں۔
جنوبی شہر بریڈا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہاں لوگوں نے پولیس پر پیٹرول بم پھینکے۔
آتش بازی سے جڑے حادثات کی وجہ سے دو افراد ہلاک ہوئے جن میں سے ایک کی عمر 38 سال اور دوسرے کی 17 برس بتائی گئی ہے جبکہ تین افراد بری طرح زخمی ہوئے۔
روٹرڈیم کے ایک ہسپتال کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہاں 14 افراد لائے گئے جن میں 10 نابالغ افراد بھی شامل تھے، ان کی آنکھیں شدید متاثر ہوئی تھیں اور ان میں سے دو کی سرجری بھی کرنا پڑی۔
اس سے قبل ایسی اطلاعات تھیں کہ اگلے برس میں آتش بازی کی غیر سرکاری طور پر خریداری پر پابندی لگائی جائے گی اس لیے لوگوں نے اس کو بڑی مقدار میں خریدا تھا۔
ڈچ پروٹینک ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس بار آتش بازی کے سامان پر ریکارڈ 151 ملین ڈالر خرچ کیے گئے۔
کچھ علاقوں کو آتش بازی کے لیے ممنوعہ قرار دیا گیا تھا تاہم اس پر زیادہ عملدرآمد دیکھنے میں نہیں آیا۔
اے ایف پی سے وابستہ صحافی کا کہنا تھا کہ ایسے ہی ایک علاقے میں صبح تین بجے کے قریب زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔











مرکز کا تمباکو مصنوعات پر اضافی ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ، یکم فروری سے ہوگا نافذ العمل
نئی دہلی: وزارت خزانہ نے سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی میں بڑی تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جو یکم فروری 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ بدھ کے روز جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، حکومت نے سگریٹ پر ان کی لمبائی اور قسم کے لحاظ سے فی ایک ہزار سگریٹ 2,050 روپے سے 8,500 روپے تک اضافی ایکسائز ڈیوٹی عائد کی ہے۔

جی ایس ٹی کے علاوہ عائد ہوگی نئی ڈیوٹی

یہ اضافی ایکسائز ڈیوٹی تمباکو اور اس سے ملتی جلتی مصنوعات پر پہلے سے عائد 40 فیصد گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے علاوہ ہوگی۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں پارلیمنٹ نے تمباکو مصنوعات اور ان کی تیاری پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے سے متعلق ایک بل منظور کیا ہے۔

سینٹرل ایکسائز (ترمیمی) بل 2025

حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے سینٹرل ایکسائز (ترمیمی) بل، 2025 کا مقصد جی ایس ٹی کمپنسیشن سیس کی مدت ختم ہونے کے بعد تمباکو اور متعلقہ مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی میں نظرِ ثانی کرنا ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا تھا کہ اس ڈیوٹی سے حاصل ہونے والی آمدنی ڈیویژیبل پول میں جائے گی اور اس کا 41 فیصد حصہ ریاستوں میں دوبارہ تقسیم کیا جائے گا۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں کہا: ’’کئی ارکان نے کہا کہ یہ سیس ہے، لیکن ایکسائز سیس نہیں ہے۔ جی ایس ٹی سے پہلے بھی ایکسائز ڈیوٹی موجود تھی۔ کمپنسیشن سیس اب مرکز کے پاس واپس آ رہا ہے، جسے ایکسائز ڈیوٹی کے طور پر وصول کیا جائے گا اور 41 فیصد کے تناسب سے ریاستوں میں تقسیم کیا جائے گا۔‘‘

صحت عامہ کے خدشات اور ٹیکس میں اضافہ

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں تمباکو پر ٹیکس سالانہ بنیاد پر بڑھایا جاتا ہے، جبکہ کچھ ممالک اسے مہنگائی سے جوڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’بھارت میں بھی جی ایس ٹی سے پہلے تمباکو کی شرحوں میں ہر سال اضافہ کیا جاتا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ صحت سے متعلق خدشات تھے، کیونکہ قیمتوں اور ٹیکس میں اضافہ لوگوں کو اس عادت سے باز رکھنے کے لیے کیا جاتا تھا۔‘‘

تمباکو کی کاشت میں کمی

نرملا سیتارمن کے مطابق، حکومت کی مختلف پالیسیوں اور اقدامات کے باعث 2018 سے 2021-22 کے درمیان تمباکو کی کاشت کے تحت آنے والا 1.12 لاکھ ایکڑ (45,323 ہیکٹیئر) رقبہ دیگر فصلوں کی طرف منتقل ہوا ہے۔ یہ رقبہ گنا، مونگ پھلی، آئل پام، کپاس، مرچ، مکئی، پیاز، دالوں اور ہلدی جیسی فصلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*




اسرائیل کا غزہ میں 37 عالمی امدادی تنظیموں کے لائسنس منسوخ کرنے کا اعلان، عالمی برادری نے سخت مذمت کی
اسرائیلی ہٹ دھرمی:غذا اورادویات کے بحران کاخدشہ
اسرائیل نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں سرگرم 37 بین الاقوامی غیر سرکاری امدادی تنظیموں (NGOs) کے لائسنس منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ تنظیمیں نئے رجسٹریشن قوانین کے تحت مطلوبہ شرائط پوری کرنے میں ناکام رہیں۔

بی بی سی عربی کے مطابق جن تنظیموں کے لائسنس معطل کیے گئے ہیں ان میں ActionAid، International Rescue Committee، Doctors Without Borders (MSF) اور Norwegian Refugee Council سمیت دیگر معروف عالمی ادارے شامل ہیں۔ اسرائیلی اعلان کے مطابق یکم جنوری سے ان تنظیموں کے لائسنس معطل ہوں گے اور انہیں 60 دن کے اندر اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرنا ہوں گی۔

اسرائیل کا الزام ہے کہ ان امدادی اداروں نے اپنے عملے سے متعلق مکمل ذاتی معلومات فراہم نہیں کیں۔ تاہم عالمی این جی اوز نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے تقاضے انسانی کارکنوں کی جانوں کو شدید خطرے میں ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر جنگ زدہ علاقوں میں۔
عالمی برادری کا شدید ردعمل
اس فیصلے پر برطانیہ، فرانس، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، جاپان، ناروے، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ سمیت 10 ممالک نے سخت مذمت کی ہے۔ ان ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی امدادی تنظیمیں غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنا ناقابل قبول ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ ان تنظیموں کے بغیر غزہ میں خوراک، ادویات، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کو مطلوبہ پیمانے پر فراہم کرنا ناممکن ہو جائے گا۔

یورپی یونین کی انسانی ہمدردی کی کوآرڈینیٹر حاجا حبیب نے بھی اسرائیلی اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی این جی اوز کو غزہ میں داخل ہونے سے روکنا دراصل زندگی بچانے والی امداد تک رسائی بند کرنے کے مترادف ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی انسانی ہمدردی کا قانون بالکل واضح ہے اور اس میں کسی قسم کے ابہام کی گنجائش نہیں :

’’امداد ہر صورت ان افراد تک پہنچنی چاہیے جنہیں اس کی اشد ضرورت ہے۔‘‘
7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں جاری جنگ کے باعث انسانی بحران شدید تر ہو چکا ہے۔ لاکھوں فلسطینی خوراک، صاف پانی، ادویات اور طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ بین الاقوامی امدادی تنظیمیں غزہ میں انسانی مدد فراہم کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں اسرائیل کی جانب سے ان کی سرگرمیوں پر پابندیاں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں، جس پر عالمی برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔












جموں کشمیر: پونچھ میں پاکستانی ڈرون کی دراندازی، آئی ای ڈی، اسلحہ اور منشیات برآمد، بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع
پونچھ میں پاکستانی ڈرون کی دراندازی کے بعد سیکوریٹی سخت:
جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب پاکستانی ڈرون کی جانب سے بھارتی حدود میں دراندازی کا سنگین واقعہ پیش آیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، پاکستانی ڈرون پونچھ کے علاقے کھڈی کرمڑا (Khadi Karmada) میں بھارتی فضائی حدود میں داخل ہوا اور تقریباً پانچ منٹ سے زائد وقت تک موجود رہا، جس کے بعد واپس پاکستانی حدود میں چلا گیا۔اس دوران ڈرون کے ذریعے ایک مشتبہ پیکٹ گرایا گیا، جس میں امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس (IED)، اسلحہ، گولہ بارود اور منشیات شامل تھیں۔ اس واقعے نے سرحدی ضلع پونچھ میں سیکیورٹی خدشات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

ڈرون کی نقل و حرکت کا پتہ چلتے ہی بھارتی فوج اور جموں و کشمیر پولیس نے فوری طور پر کھڈی کرمڑا، اور ملحقہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر محاصرہ اور تلاشی (Cordon and Search Operation) شروع کر دی۔ اس کارروائی کا مقصد گراۓ گئے مواد کو مکمل طور پر برآمد کرنا اور زمینی سطح پر کسی ممکنہ دہشت گرد نقل و حرکت کو ناکام بنانا ہے۔

واقعے سے متعلق ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے، جس میں ڈرون کے ذریعے گرایا گیا مواد واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ سیکیورٹی ایجنسیاں برآمد شدہ سامان کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں تاکہ اس ڈرون سرگرمی سے لاحق خطرات کا مکمل اندازہ لگایا جا سکے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب نئے سال کے موقع پر جموں خطے میں پہلے ہی ہائی الرٹ نافذ ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کے تحت سرحدی علاقوں اور جنگلاتی پٹیوں میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

پی ٹی آئی (PTI) کی رپورٹ کے مطابق، منگل کے روز پونچھ اور کشتواڑ کے سرحدی اور پہاڑی علاقوں میں بھی مخصوص انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر سرچ آپریشن شروع کیے گئے۔ حکام کے مطابق، ڈوڈہ-کشتواڑ کے جنگلاتی علاقوں میں دہشت گردوں کے دو گروہوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق، جیشِ محمد سے وابستہ دو دہشت گرد گروہ، جن میں ہر ایک میں دو سے تین دہشت گرد شامل ہیں، اس خطے میں سرگرم ہو سکتے ہیں۔ ان علاقوں میں ماضی میں بھی سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

پونچھ میں، بھارتی فوج کی رومیو فورس نے خانیتار ٹاپ اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بھی سرچ آپریشن انجام دیا، جہاں دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس کارروائی میں فضائی نگرانی کے آلات اور سنفر ڈاگز کا استعمال کیا گیا۔

اس کے علاوہ، نئے سال کے پیش نظر پٹھانکوٹ۔جموں۔سرینگر نیشنل ہائی وے پر کٹھوعہ، سامبا، جموں اور ادھم پور اضلاع میں گاڑیوں کی سخت چیکنگ کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گردانہ کارروائی کو روکا جا سکے۔













بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی اور طلبا رہنماؤں پر مشتمل سیاسی جماعت ’این سی پی‘ کا اتحاد انڈیا کے لیے باعث تشویش کیوں؟
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے جولائی 2024 میں شروع ہونے والی تحریک کی قیادت وہی رہنما کر رہے تھے جنھوں نے گذشتہ سال فروری میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) قائم کی۔

این سی پی نے ملک میں متبادل سیاست کی بات کی لیکن ناقدین انھیں جماعتِ اسلامی کی ’بی ٹیم‘ قرار دیتے ہیں۔

این سی پی کے رہنما انڈیا کی حکومتی پالیسیوں پر کُھل کر تنقید کرتے ہیں اور گذشتہ چند ماہ کے دوران اس جماعت نے اپنے انڈیا مخالف بیانیے کی وجہ سے بھی شہرت حاصل کی۔

اب جب بنگلہ دیش میں عام انتخابات میں محض دو ماہ باقی ہیں، تو این سی پی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جماعتِ اسلامی کے ساتھ مل کر انتخابی میدان میں اُترے گے۔ناقدین کے مطابق اس اعلان نے اس دلیل کو مزید تقویت دی کہ این سی پی دراصل جماعت اسلامی ہی کی ’بی ٹیم‘ ہے۔

یاد رہے کہ سنہ 1971 میں جماعتِ اسلامی نے بنگلہ دیش کی آزادی کے خلاف اور پاکستان کے حق میں مؤقف اپنایا تھا اور اب یہ جماعت، این سی پی اسی کے ساتھ انتخابی اتحاد کر رہی ہے۔

دسمبر میں این سی پی کے چیف آرگنائزر حسنَات عبداللہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر بنگلہ دیش کو غیر مستحکم کیا گیا تو انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں، جنھیں ’سیون سسٹرز‘ (سات بہنیں) کہا جاتا ہے‘ کو توڑ دیا جائے گا۔

ان ریاستوں میں اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ شامل ہیں۔حسنَات عبداللہ نے اپنے اس متنازع بیان کے دو روز بعد ڈھاکہ میں انڈیا کے ہائی کمشنر کو بھی ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کے ہائی کمشنر کو ملک بدر کر دینا چاہیے تھا کیونکہ اُن کا ملک شیخ حسینہ کو پناہ دے رہا ہے۔‘جماعت اسلامی اور این سی پی کے اتحاد پر انڈیا میں بھی بحث جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر فروری 2026 کے انتخابات میں اس اتحاد کو کامیابی ملتی ہے تو اس کے اثرات انڈیا پر مرتب ہوں گے۔

انڈیا کے سٹریٹجک اُمور کے ماہر برہما چیلانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ حکومت کو پُرتشدد طریقے سے اقتدار سے ہٹانے کے دوران اسلامی قوتوں، خاص طور پر جماعتِ اسلامی کے طلبا ونگ نے سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کو بڑی حد تک توانائی فراہم کی۔ اب انھی طلبا مظاہروں کی قیادت کرنے والے رہنماؤں پر مشتمل نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے باضابطہ طور پر جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کر لیا۔‘

برہما چیلانی نے مزید لکھا کہ ’دوسرے بڑے اتحاد کی قیادت کرنے والی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے بھی اسلامی قوتوں کے ساتھ اتحاد کیا ۔ بی این پی کا اتحاد جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ ہوا۔‘

ان کے مطابق ’ملک کی سب سے بڑی اور سیکولر سمجھی جانے والی عوامی لیگ پر پابندی کے بعد، فروری کا انتخاب اب دو ایسے اتحادوں کے درمیان مقابلہ بن گیا جو اسلامی قوتوں کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ یہ بنگلہ دیش کی بنیاد کے اصولوں سے ایک اہم اور علامتی انحراف کو ظاہر کرتا ہے۔‘

اسی دوران انڈین اخبار ’دی ہندو‘ کے بین الاقوامی امور کے مدیر سٹینلی جونی نے ایکس پر لکھا کہ ’این سی پی گذشتہ برس ہونے والی طلبا تحریک کا وراث ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ پارٹی کے قیام کے وقت اس کے رہنماؤں نے خود کو بنگلہ دیش کی روایتی جماعتوں کے مقابلے میں ایک معتدل اور اصلاح پسند متبادل کے طور پر پیش کیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’لیکن اب یہی پارٹی جماعتِ اسلامی کے ساتھ باضابطہ اتحاد میں شامل ہو گئی۔ یعنی انھی قوتوں کے ساتھ، جنھوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کی مخالفت کی تھی اور 1971 کے قتلِ عام کے دوران پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔‘

جماعت اسلامی سے اتحاد کے فیصلے پر این سی پی کے اندر بھی کچھ اختلافات دکھائی دے رہے ہیں۔ پارٹی کے دو اہم رہنماؤں سمیت کئی خواتین رہنماؤں نے اس فیصلے کے بعد احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا۔بنگلہ دیش کی سیاست کے تجزیہ کار ڈاکٹر مبشر حسن کا کہنا ہے کہ این سی پی کا مستقبل اس بات پر منحصر ہو گا کہ انڈیا مخالف سیاست کس حد تک آگے جاتی ہے تاہم ان کا ماننا ہے کہ انتخابی اتحاد فریقین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔

مبشر حسن نے بی بی سی بنگلہ سے گفتگو میں کہا کہ ’بنگلہ دیش میں انڈیا مخالف ماحول کا مضبوط ہونا این سی پی اور جماعت اسلامی کی یکجہتی کی بڑی وجہ ہے۔‘

اُن کے مطابق این سی پی نے جن قوتوں کے ساتھ سمجھوتہ کیا، جن میں جماعت اسلامی بھی شامل ہے، ان کا مقصد انڈیا مخالف جذبات کو ہوا دے کر عوامی تحریک کھڑی کرنا اور انتخابی فائدہ حاصل کرنا ہے۔
’این سی پی کے چیف کوآرڈینیٹر ناہید حسن عوامی تحریک کے چہرے کے طور پر ایک الگ کردار ادا کرتے رہے ہیں لیکن اب ایک سیاسی جماعت کے رہنما کے طور پر ان کا مستقبل روشن ہو گا یا تاریک، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ جماعت کو انڈیا مخالف اتحاد کے طور پر آگے بڑھانے کی ان کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں۔‘دوسری جانب ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر شمیم رضا کا ماننا ہے کہ این سی پی کو اتحاد میں شامل کرنے سے جماعت اسلامی کو کچھ حد تک فائدہ ہوا کیونکہ این سی پی کی شبیہ جماعت کے حلقے سے باہر کے ووٹوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں مدد دے گی۔

انھوں نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’ایک بار پھر جماعت اسلامی کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ان مسائل پر این سی پی کو قریب لائے جن پر این سی پی رہنماؤں کی عوامی اور سوشل میڈیا پر موجودگی کے باعث تنقید ہوتی ہے تاہم جماعت کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے این سی پی کو کچھ سوالات کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا۔‘

جماعت سے اتحاد پر این سی پی میں بغاوتاین سی پی کی مرکزی کمیٹی کے 30 رہنماؤں نے سنیچر کے روز پارٹی کنوینر ناہید اسلام کو خط لکھ کر جماعت کے ساتھ کسی بھی انتخابی اتحاد کی مخالفت کی تھی۔

بی بی سی بنگلہ کے مطابق شیخ حسینہ مخالف تحریک کی قیادت کرنے والی طلبا تحریک کے ایک کوآرڈینیٹر عبدالقادر نے فیس بک پوسٹ میں ناہید اسلام پر ’عوامی جذبات کے ساتھ کھیلنے‘ کا الزام لگایا۔

انھوں نے لکھا کہ ’نوجوانوں کی سیاست کی قبر کھودی جا رہی ہے۔ این سی پی بالآخر جماعت اسلامی کے ساتھ براہِ راست اتحاد کر رہی ہے۔ عوام اور کارکنوں کی امیدوں اور خواہشات کو کچل کر چند رہنماؤں کے مفاد کے لیے یہ خودکش فیصلہ کیا گیا۔‘

بی بی سی بنگلہ کے مطابق جماعت کے ساتھ انتخابی سمجھوتے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر کئی افراد نے شکایت کی کہ این سی پی کا وہ دھڑا جو جماعت کے ساتھ سمجھوتے پر پہنچا ہے، انتخابات سے پہلے ہی جماعت کی طرف جھک رہا ہے کیونکہ وہ ’جماعت نواز‘ ہے۔

جماعتِ اسلامی سے انتخابی اتحاد کے بارے میں ایک خاتون رہنما نے اپنے فیس بک پر لکھا کہ ’جماعتِ اسلامی ایک قابلِ اعتماد اتحادی نہیں۔ میرا ماننا ہے کہ این سی پی کو اس کے سیاسی مؤقف یا نظریے کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون یا سمجھوتے پر بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘

دوسری جانب کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات یا سودے بازی میں جماعت سے زیادہ فائدے کی یقین دہانی کی وجہ سے ہی این سی پی کی اعلیٰ قیادت نے ان کے ساتھ انتخابی اتحاد کا فیصلہ کیا۔

بنگلہ دیش کے بڑے اخبار ’دی ڈیلی سٹار‘ نے تجزیہ کار اور مصنف محی الدین احمد کے حوالے سے لکھا کہ این سی پی ’ریاستی اقتدار پر مرکوز سیاست‘ کرتی ہے اور جہاں حالات اپنے حق میں دیکھتی ہے وہاں اتحاد کر لیتی ہے۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے اتحاد کے انتخابات کے بعد زیادہ دیر تک قائم رہنے کا امکان نہیں ہوتا۔

ایک اور تجزیہ کار الطاف پرویز نے ڈیلی سٹار سے گفتگو میں کہا کہ ’ابتدا سے ہی این سی پی کے اندر دائیں بازو کا جھکاؤ موجود رہا۔ دوسری بات یہ کہ گذشتہ 17 ماہ میں عوام کے ایک بڑے حصے نے عبوری حکومت کی ناکامیوں کے لیے جزوی طور پر این سی پی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود حکومت کے سربراہ نے کہا تھا کہ انھیں طلبا نے نامزد کیا۔ ساتھ ہی یہ تاثر بھی عام رہا ہے کہ کئی مشیروں کی تقرری یا انتخاب طلبا نے ہی کیا۔‘

اس اتحاد کا جماعتِ اسلامی کو کتنا فائدہ ہو سکتا ہے؟الطاف پرویز نے اس اتحاد کو جماعت کے لیے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’جنوبی ایشیا اور دنیا بھر میں جماعت اسلامی کی شناخت ایک شریعت پر مبنی جماعت کے طور پر رہی ہے۔ جماعتِ اسلامی انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش تینوں ممالک میں موجود ہے۔ 84 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب جماعت کو اتنی بڑی اخلاقی کامیابی ملی۔ اس نے ایک عوامی بغاوت کی قیادت کرنے والی پوری قوت کو اپنے دائرے میں لے لیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے نتیجے میں اب وہ دنیا کو یہ دکھا سکتی ہے کہ شریعت پر مبنی جماعت ہونے کے باوجود اس کی اپیل معتدل متوسط طبقے تک پھیل چکی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’دوسری بات یہ ہے کہ 12 فروری کے انتخابات کے بعد بھی بنگلہ دیش میں سیاست جاری رہے گی۔ چاہے جماعت انتخابات ہار بھی جائے لیکن این سی پی کا اس کے ساتھ ہونا جماعت کی قیادت میں اپوزیشن سیاست کو کھڑا کرنا آسان بنا دے گا۔ عملی طور پر اس نے کسی اور اپوزیشن قوت کے لیے جگہ ختم کر دی۔ سیاست میں اخلاقی اور ثقافتی پہلو بہت اہمیت رکھتے ہیں اور این سی پی کے نوجوان رہنما متوسط طبقے کی ثقافتی پس منظر سے آتے ہیں۔‘

تاہم تجزیہ کار محی الدین احمد نے ڈیلی سٹار سے گفتگو میں کہا کہ این سی پی کا جماعت کے کیمپ میں جانا انتخابات سے پہلے کا فطری سیاسی عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں ہر انتخاب سے پہلے ایسے اتحاد بنتے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں این سی پی کے جماعت کے ساتھ جانے کو کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں سمجھتا۔ اقتدار کی سیاست ایسے ہی آگے بڑھتی ہے۔ این سی پی حال ہی میں بنی جماعت ہے۔ اس کے کسی بھی رہنما نے 1971 کو نہیں دیکھا، اس لیے اس سے ان کا کوئی جذباتی تعلق نہیں۔ وہ ریاستی اقتدار پر مرکوز سیاست کرتے ہیں اور جہاں انھیں سازگار ماحول دکھائی دیتا ہے، وہیں چلے جاتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ انھوں نے (این سی پی) بی این پی کے ساتھ بھی بات چیت کی تھی لیکن نتائج سے وہ مطمئن نہیں تھے۔ ممکن ہے کہ انھیں جماعت کے ساتھ سودے بازی کی صورت بہتر لگی ہو، اس لیے انھوں نے یہی راستہ اختیار کیا۔‘

محی الدین احمد نے یہ بھی کہا کہ ’جس طرح 1971 میں آزادی کی اجتماعی جدوجہد کی کامیابیوں کو اپنے نام کرنے کا رجحان عوامی لیگ میں رہا، اسی طرح 2024 کی عوامی تحریک کی کامیابیوں کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کا رجحان این سی پی میں بھی دکھائی دیتا ہے۔‘

*🛑سیف نیوز اُردو*

جنگ کے بعد مالال ہوا ایران، جلد ملیں گے اتنے ارب ڈالر، مسعود پزشکیان نے کیا یہ بڑا اعلان ایران صدر کے مسعود پزشکیان ...