کمبل کی تقسیم کی گئی(دعوت اسلامی مالیگاؤں)
الحمدللہ عزوجل! سردی کے موسم میں ضرورت مندوں کی مدد کے لیے جی این آر ایف کی جانب سے پورے وطنِ عزیز ہندوستان میں غریب اور مستحق افراد میں کمبل تقسیم کاری کا سلسلہ جاری ہے بحمدہ تعالیٰ 31 دسمبر 2025 کو مالیگاؤں شہر میں بھی ضرورت مندوں میں کمبل تقسیم کئے گئے. اس خدمتِ خلق کے عمل کا مقصد سرد موسم میں لوگوں کو سہولت اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔
*جی این آر ایف* ہمیشہ سے انسانیت کی بھلائی اور اجتماعی خدمت کے کاموں میں مصروفِ عمل رہا ہے۔ اسی جذبے کے تحت مختلف شہروں اور علاقوں میں کمبل پہنچائے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اب تک *جی این آر ایف* کی جانب سے پورے ہند بھر میں تقریباً تقریبا35000کمبل تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
آخر میں *جی این آر ایف* کی جانب سے تمام والنٹیئرز، ذمہ داران، معاونین اور ان تمام افراد کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا جاتا ہے جنہوں نے اس فلاحی مہم میں بھرپور ساتھ دیا۔
اللہ پاک اس نیک عمل کو قبول فرمائے اور آگے بھی خدمتِ خلق کی توفیق عطا فرمائے۔
GNRF Department - Dawateislami India
محفل طنز و مزاح ٦ جنوری منگل کو
زندہ دلان مالیگان کے زیر اہتمام اسکس لائبریری اور مالیگاؤں آرٹس اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن کے اشتراک سے مورخه ۶ جنوری ۲۰۲۶ء بروز منگل، شب دس بج کر دس منٹ پر محفل طنز و مزاح ( سلسلہ نمبر 15) اسکس لائبریری ہال میں منعقد کیا جارہا ہے۔ نئے سال کی مناسبت سے بطور تحفہ پروگرام کے آخر میں طنز و مزاح سے بھر پور ایک ڈرامہ ” آؤ ڈاکو آیا “ بھی پیش کیا جائے گا جس کی تفصیل ذیل کے مطابق ہے۔ صدارت : مختار یوسفی صاحب، نظامت : عمران جمیل سر، قرأت : رضوان ربانی سر، اسٹارٹر : عجیب انصاری، تبرک : مرزا طوسی (مختصر تعارف اور کلام) پیش کش : مومن آصف بارون، ہنزل گوئی : مجاور مالیگانوی، مزاحیہ مضامین : محمد رضا سر (MSE)، ڈاکٹر مبین نذیر سر(سٹی کالج ) ڈاکٹر رمضان مکی سر اور طنز و مزاح سے بھر پور ڈرامہ "آؤ ! ڈا کو آیا" (رائیٹر ڈائریکٹر آصف سبحانی)
پیش کیا جائے گا- پروگرام ہر حال میں وقت مقررہ پر شروع کر دیا جائے گا۔ صدر و اراکین اسکس لائبریری، زنده دلان مالیگاوں و مالیگاؤں آرٹس اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن و منتظمین نے شرکت کی گزارش کی ہے ۔
*جمہوریت نہیں، ٹکٹوں کا کاروبار*
✍️*وسیم رضا خان* ✍️
ناشک میونسپل کارپوریشن کے انتخابات جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں، سیاست کا درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے، اس بار انتخابی بحث ترقی، عوامی مسائل یا پالیسیوں پر غور و خوض کے بجائے ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر اٹھنے والے سنگین الزامات کے گرد سمٹ گئی ہے۔ سیاسی گلیاروں اور پارٹی کے اندر سے اٹھنے والی آوازیں یہ سوال پوچھنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کیا یہ انتخابات ایک جمہوری عمل ہیں یا پھر ٹکٹوں کا ایک مبینہ بازار؟
بھارتیہ جنتا پارٹی کے حوالے سے یہ الزامات سامنے آ رہے ہیں کہ کارپوریشن انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم شفاف اور قابلیت پر مبنی ہونے کے بجائے مبینہ طور پر مالی لین دین سے متاثر ہے۔ چرچا ہے کہ ٹکٹوں کے اس مبینہ کھیل میں سینکڑوں کروڑ روپوں تک کا ایک 'بازار' بن گیا ہے۔ اگرچہ یہ الزامات عوامی بیانات اور سیاسی بحثوں پر مبنی ہیں اور ان کی ابھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی، پھر بھی انہیں مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ شکایتیں صرف اپوزیشن جماعتوں سے نہیں بلکہ خود پارٹی کے ناراض کارکنوں کی جانب سے سامنے آ رہی ہیں۔
سب سے سنگین سوال یہ ہے کہ برسوں سے تنظیم کے لیے کام کرنے والے وفادار کارکنوں کو ٹکٹوں کی تقسیم میں مبینہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ الزامات ہیں کہ زمینی جدوجہد، تنظیمی شراکت اور عوامی حمایت کے بجائے اثر و رسوخ، جان پہچان اور وسائل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ نہ صرف کارکنوں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ داخلی جمہوریت کا زوال بھی ہے۔ سیاسی جماعتیں عوامی پلیٹ فارمز سے بدعنوانی کے خلاف 'زیرو ٹالرنس' کی بات کرتی ہیں، لیکن جب ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر اس طرح کے سوالات کھڑے ہوتے ہیں، تو ان کی اخلاقی ساکھ کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اس سیاسی کلچر کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں انتخابات کو خدمت کا ذریعہ نہیں بلکہ سرمایہ کاری اور منافع کا موقع مان لیا گیا ہے۔
ناشک کے باشعور عوام کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ ایسے نمائندے منتخب کرنا چاہتے ہیں جن کی ترجیح عوامی مفاد ہو، یا پھر وہ جو مبینہ طور پر بھاری اخراجات کے بعد اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ وہیں، سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان الزامات کی واضح اور حقائق پر مبنی تردید کریں یا پھر غیر جانبدارانہ داخلی تحقیقات کے ذریعے سچائی سامنے لائیں۔
اگر وقت رہتے شفافیت اور جوابدہی کو یقینی نہ بنایا گیا، تو ناشک میونسپل کارپوریشن کے انتخابات جمہوریت کے جشن کے طور پر نہیں، بلکہ ٹکٹوں کے مبینہ کاروبار کی ایک مثال کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ یہ صورتحال نہ صرف سیاست کے لیے بلکہ عوام کے بھروسے کے لیے بھی انتہائی خطرناک اشارہ ہے۔ سیاست کے اس جدید ورژن میں کارکن اب 'عوامی خادم' نہیں، بلکہ 'پرامید گاہک' بنتے جا رہے ہیں۔ برسوں تک جھنڈا اٹھانے، پوسٹر لگانے اور گالیاں کھانے کا روایتی پیکیج اب پرانا ہو چکا ہے۔ نیا پیکیج ہے—وسائل، تعلقات اور اثر و رسوخ۔ جن کے پاس یہ تینوں ہیں، ان کے لیے ٹکٹ 'امکان' نہیں بلکہ ایک 'عمل' بن جاتا ہے۔ طنز یہ ہے کہ جو کارکن ٹکٹ سے محروم رہ جاتے ہیں، انہیں فوراً 'نظم و ضبط' کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔ پارٹی میں جمہوریت تب تک زندہ رہتی ہے جب تک ٹکٹ آپ کی جیب میں ہو۔ ٹکٹ نہیں ملا تو سوال پوچھنا 'نظم و ضبط کی خلاف ورزی' اور 'بغاوت' کہلاتا ہے۔ یعنی جمہوریت ایک مشروط سہولت ہے—بشمول ٹکٹ۔
انتخابی اسٹیج سے بدعنوانی کے خلاف لمبی چوڑی تقریریں ہوتی ہیں، لیکن ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت وہی تقریریں کہیں فائلوں میں دبی نظر آتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سب صرف الزامات ہیں، افواہیں ہیں اور ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو۔ لیکن جب افواہیں بار بار اٹھیں اور مختلف سمتوں سے اٹھیں، تو طنز خود بخود ایک سنگین سوال میں بدل جاتا ہے۔
ناشک کے عوام اب محض تماشائی نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ اگر ٹکٹ مبینہ طور پر سرمایہ کاری سے ملتے ہیں، تو وصولی بھی کہیں نہ کہیں سے ہوگی اور اس کا بوجھ آخرکار عام شہری پر ہی پڑتا ہے۔ ایسے میں انتخابات عوامی خدمت کا ذریعہ نہیں بلکہ 'اخراجات وصول کرنے کا پروجیکٹ' بن جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ناشک منپا انتخابات میں جمہوریت مکمل طور پر غائب نہیں ہوئی ہے—بس وہ ٹکٹ کی تقسیم کے دفتر کے باہر ایک لمبی قطار میں کھڑی اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب اس کی باری آئے گی، تب تک جمہوریت بچے گی یا نہیں؟
*مالیگاؤں سیکولر فرنٹ کی تشہیری مہم*
*انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر I.S.L.A.M پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے اُمیدواروں کی کامیابی کیلئے سیکولر فرنٹ کی تشہیری مہم کا وارڈ وائز آغاز*
*کــارنــــر میـٹـنـگــــ*
*2 جنوری بروز جمعہ*
*1) گلشیر نگر ڈپو گلی نمبر 4*
*شام 6 بجے سے 8 بجے تک*
*2) سیلانی چوک*
*رات 8 بجے سے 9 بجے تک*
*3) گاندھی نگر چوک*
*رات 9 بجے سے 10 بجے تک*
*مقرر خصوصی*
*آصـف شـیـخ رشـید صـاحبــــ*
*بانی و قائد اسلام پارٹی ،مالیگاؤں*