الیکشن کمیشن کی سرپرستی میں کرناٹک رپورٹ، راہل گاندھی کے ’ووٹ چوری‘ الزام کو چیلنج، 83 فیصد ووٹرز کا ای وی ایم پر اعتماد
الیکشن کمیشن آف انڈیا کی سرپرستی میں تیار کی گئی ایک جامع جائزہ رپورٹ نے راہل گاندھی کے ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزام کو ایک بڑا چیلنج دے دیا ہے۔ کرناٹک میں 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد کیے گئے اس سروے میں نہ صرف ووٹر ٹرن آؤٹ میں اضافہ پایا گیا، بلکہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں (EVMs) پر عوامی اعتماد بھی نمایاں طور پر مضبوط دکھائی دیا۔یہ سروے اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے کیا گیا کہ انتخابات کے دوران ووٹر بیداری کی مہمات کس حد تک مؤثر ثابت ہوئیں۔ اس مقصد کے لیے الیکشن کمیشن نے کرناٹک مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن اتھارٹی (KMEA) کو SVEEP (Systematic Voters’ Education and Electoral Participation) پروگرام کے نتائج کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی تھی۔
یہ سروے، جس کا عنوان
‘Lok Sabha Elections 2024: Evaluation of Endline Survey of Knowledge, Attitude and Practice (KAP) of Citizens’
ہے، کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر وی۔ انبوکمار کی ہدایت پر مکمل کیا گیا۔
وسیع پیمانے پر سروے
اس سروے میں ریاست کے چار بڑے ڈویژنز بنگلورو، بیلگاوی، کلبرگی اور میسورو کے 102 اسمبلی حلقوں سے 5,100 ووٹرز کو شامل کیا گیا، جو اسے ریاست کی تاریخ کے سب سے بڑے بعد از انتخاب تجزیاتی سروے میں شامل کرتا ہے۔
نمایاں نتائج
رپورٹ کے مطابق :
95.75 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ انہوں نے ووٹ ڈالا
83.61 فیصد ووٹرز نے انتخابی نظام اور EVMs پر اعتماد کا اظہار کیا
85.31 فیصد افراد ووٹر لسٹ سے آگاہ تھے
99.02 فیصد کے پاس ای پی آئی سی (ووٹنگ کارڈ) موجود تھا
رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے :
’’تمام ڈویژنز میں ووٹرز کی بھاری اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ای وی ایم درست اور شفاف نتائج فراہم کرتی ہیں۔‘‘
آگاہی میں بہتری، مگر کچھ خلا باقی
اگرچہ ووٹر لسٹ اور ووٹنگ کے عمل سے آگاہی خاصی بہتر رہی، تاہم آن لائن رجسٹریشن، ہوم ووٹنگ، شکایات کے اندراج اور ووٹر تفصیلات کی درستی جیسے امور پر معلومات محدود پائی گئیں۔ صرف 30.39 فیصد افراد کو نیشنل ووٹرز ڈے کی درست تاریخ معلوم تھی۔
’’ووٹ چوری‘‘ الزام پر سوال
دلچسپ بات یہ ہے کہ کلبرگی ڈویژن میں EVMs پر سب سے زیادہ اعتماد دیکھا گیا، حالانکہ یہی وہ خطہ ہے جہاں سے الند (Aland) میں ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزامات نے جنم لیا تھا، جو بعد میں راہل گاندھی کی انتخابی مہم کا مرکزی نعرہ بنے۔
دیہی اور شہری ووٹرز میں فرق
دیہی ووٹرز نے انتخابی عمل کو نسبتاً منصفانہ قرار دیا، جس کی بڑی وجہ بوتھ لیول آفیسرز (BLOs) کی مؤثر موجودگی بتائی گئی۔ اس کے برعکس شہری نوجوانوں میں سیاسی بےزاری اور شکوک دیکھنے میں آئے، جنہوں نے اشرافیہ کے غلبے اور شفافیت کی کمی پر سوال اٹھائے۔
پیسے اور دباؤ کے خدشات
رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ پیسے اور طاقت کے استعمال سے متعلق خدشات خاص طور پر کلبرگی کے کچھ علاقوں میں موجود رہے، تاہم اکثر افراد نے انتقامی کارروائی کے خوف اور شکایتی نظام پر کم اعتماد کے باعث ان معاملات کی رپورٹ نہیں کی۔
معذور ووٹرز کو درپیش مسائل
معذور افراد (PwDs) میں پوسٹل بیلٹ اور خصوصی سہولتوں سے متعلق آگاہی تو بہتر تھی، مگر علیحدہ قطاروں، قابلِ رسائی انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کی کمی جیسے مسائل نے ان کے لیے ووٹنگ کو مشکل بنا دیا، خاص طور پر معذور خواتین کو اضافی مشکلات کا سامنا رہا۔
مجموعی جائزہ
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ کرناٹک میں ووٹر آگاہی اور شرکت میں نمایاں بہتری آئی ہے، لیکن شمولیت، آخری سطح تک رسائی اور مسلسل ووٹر تعلیم کے میدان میں مزید کام کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود، بلند ووٹر ٹرن آؤٹ اور EVMs پر مضبوط عوامی اعتماد ان تمام بیانیوں کے لیے ایک واضح جواب ہے جو انتخابی نظام کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہیں۔
جماعت اسلامی نے کرایا تھا عثمان ہادی کو قتل ، ڈھاکہ آفس میں رچی گئی تھی سازش !
بنگلہ دیش کے سیاسی منظر نامے کو ہلا کر رکھ دینے والے شریف عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے بڑا اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ نیوز 18 انڈیا کو ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ ہادی کے قتل کے پیچھے جماعت اسلامی کے اندر ایک دھڑے کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ کوئی بیرونی سازش نہیں بلکہ جماعت کے اندر اقتدار اور تسلط کے لیے جاری جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ذرائع کے مطابق شریف عثمان ہادی کا سیاسی قد بتدریج بلند ہو رہا تھا۔ خاص طور پر نوجوان ووٹرز اور طلبہ میں ان کی مقبولیت جماعت کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی تھی۔ آئندہ 12 فروری کے انتخابات سے پہلے، ہادی ایک اہم انتخابی عنصر بن گیا تھا۔ ان کے اثر و رسوخ کو جماعت کی روایتی سیاسی اور قیادت کے لیے خطرہ سمجھا جارہا تھا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہادی کو ختم کرنے کی سازش ڈھاکہ میں جماعت کے دفتر میں رچی گئی۔ تنظیم کے اندر ایک دھڑا ہادی کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا تھا۔ دریں اثنا، مبینہ طور پر قتل کے معاہدے کے حوالے سے اندرونی اختلافات سامنے آئے۔ ابتدائی طور پر ایک کروڑ ٹکے پر قتل پر اتفاق ہوا لیکن بعد میں اس رقم کو لے کر جماعت کے اندر جھگڑا ہوگیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک دھڑے کا خیال تھا کہ یہ رقم اتنی بڑی سیاسی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ناکافی ہے جب کہ دوسرے دھڑے نے اخراجات کم رکھنے پر اصرار کیا۔ اس کشمکش کے دوران یہ سارا معاملہ جماعت کے اندر سے ہی افشا ہو گیا۔ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ شوٹر کے لیے اضافی بڑی رقم پر اتفاق کیا گیا تھا۔ہادی کے قتل کو بھارت سے جوڑا گیا
اس پورے واقعے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ چند روز قبل ہادی کے قتل کو بھارت سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ بتایا گیا کہ ملزمان بھارت فرار ہو کر میگھالیہ میں روپوش ہیں ۔ تاہم بنگلہ دیش اس نظریے کی کوئی ٹھوس بنیاد فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ یہ کہانی گھڑنے کی کوشش کی گئی کہ ملزم دبئی فرار ہو گیا ہے لیکن اس کے باوجود کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔ نیوز 18 نے پہلے خبر دی تھی کہ اگر ملزم بیرون ملک چلا بھی جائے تو بھی یونس کی انتظامیہ کے واقعے میں ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
کوئی نہیں دیکھے گا T20I ورلڈ کپ، آر اشون کا بڑا دعویٰ
سابق کرکٹر روی چندرن اشون نے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ’’ایش کی بات‘‘ میں ایشون نے کہا ہے کہ اس سال کوئی بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہیں دیکھے گا۔ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کا فروری کی 7 تاریخ سے آغاز ہورہا ہے۔ ٹورنامنٹ میں کل 20 ٹیمیں حصہ لیں گی جنہیں پانچ گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ٹیم انڈیا گروپ اے میں ہے۔ اس گروپ میں پاکستان، امریکہ، نمیبیا اور ہالینڈ شامل ہیں۔
T20 ورلڈ کپ کی منصوبہ بندی کے بارے میں اشون کا کہنا ہے کہ اس سال کا T20 ورلڈ کپ کوئی بھی دیکھنے والا نہیں ہے۔ ہندوستان بمقابلہ امریکہ، ہندوستان بمقابلہ نمیبیا جیسے میچز آپ کو ٹورنامنٹ سے دور کر دیں گے۔ جب میں اسکول میں تھا، 1996، 1999 اور 2003 ورلڈ کپ بہت خاص تھے۔ہم شیڈول کا لارڈ اکھٹا کرتے تھے کیونکہ ٹورنامنٹ میں چار سال بعد آتا تھا لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے۔کیاکمزورٹیمیں عدم دلچسپی کا سبب ہیں؟
اشون نے واضح طور پر کہا کہ اگر ہندوستانی ٹیم کا مقابلہ امریکہ اور نمیبیا جیسی ٹیموں سے ہوتا تو شائقین اتنے پرجوش نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہاکہ، اگر ٹیم انڈیا کو پہلے راؤنڈ میں انگلینڈ اور سری لنکا جیسی ٹیموں کا سامنا ہوتا، تو شاید ٹورنامنٹ کا جوش و خروش پہلے ہی بڑھ جاتا، جیسا کہ پہلے ہوتا تھا کیونکہ سپر 8 مرحلے تک معاملات سست ہو جاتے۔ون ڈے کرکٹ کے حوالے سے اشون کو تشویش
اشون نے T20 ورلڈ کپ کے علاوہ ون ڈے کرکٹ کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا خیال ہے کہ 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے بعد آئی سی سی کو اس فارمیٹ پر دوبارہ غور کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ شائقین کرکٹ ٹی ٹوئنٹی کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں کچھ دلچسپی قائم ہوئی ہے، لیکن ایسے کھلاڑیوں کی تعداد معلوم نہیں ہے۔ تاہم اصل تشویش یہ ہے کہ ون ڈے کرکٹ اپنا وجود کھو سکتی ہے۔