Wednesday, 2 July 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





*جمعہ کو شہر کی تمام مساجد میں خودکشی کے موضوع پر خطاب کیا جائے*
*ائمہ و مقررین سے خصوصی گزارش*

*از: مفتی محمد عامر یاسین ملی*


*شہر میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام اور لوگوں کو خودکشی جیسے سنگین گناہ سے واقف کرانے کے لیے آئندہ ہفتے شہر بھر کی مساجد میں خودکشی کا گناہ اور اس کی روک تھام کے موضوع پر مشترکہ خطاب ہوگا ان شاءاللہ*
*مقررین کی معروف تنظیم گلشن خطابت کے تمام ہی اراکین خودکشی کے موضوع پر خطاب کریں گے ، لہذا شہر کے تمام ائمہ و مقررین سے بھی گزارش ہے کہ بلا تفریق مسلک و مکتب فکر نماز جمعہ سے قبل اس موضوع پر مشترکہ خطاب کریں اور شہر میں پیش آچکے خودکشی کے واقعات اور ان کے اسباب کے تناظر میں تفصیل کے ساتھ خودکشی کی وجوہات اور ان کے تدارک پر روشنی ڈالیں نیز اس سلسلے میں اہل خانہ اور سماجی تنظیموں کی ذمہ داریوں کو بھی اجاگر کریں۔*

*خودکشی کے موضوع پر مدلل و مفصل تقریری مواد حاصل کرنے کے لیے مقررین اس وہاٹس ایپ نمبر پر میسج کریں:*
8446393682











*بُرائیاں اچھے لوگوں کے خاموش رہنے سے بھی پھیلتی ہیں*

        *اسلام ایک آفاقی مذہب ہے... جس کی تبلیغ کے لیے ہمارے اسلاف نے بے انتہا قربانیاں دیں... دنیا کو ترک کر صرف اور صرف اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے ہمہ جہت کاوشیں کیں... مصیبتوں کا سامنا کیا... دشمنانِ اسلام کو ہر محاذ پر منہ کے بل گرایا... دینِ حق کو سر بلندی ملی اس کے بعد ساری دنیا پر سبز پھریرے لہرائے... لیکن ہم مسلمان بڑے نا شکرے ہیں... اسلاف کی ان قربانیوں کو فراموش کرکے دنیا کی رنگینیوں میں بدمست ہوگئے... یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہماری اخروی زندگی ہی اصل زندگی ہے اور یہ دنیا فانی ہے... ایک دن اسے ختم ہو جانا ہے۔*

          *آج ہمارے شہر مالیگاؤں میں بے انتہا بُرائیاں اپنا گھر کر چکی ہیں جس کے خاتمے کی اشد ضرورت ہے... ہمارا شہر مسجدوں میناروں کا شہر کہلاتا تھا لیکن موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ اس شہر کو بُرائیوں کی آماجگاہ تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا جا سکتا... یہ کیوں ہو رہا ہے؟... وجہ صاف ہے... اسے ہماری بے حسی کہنا غلط نہ ہوگا... گیہوں کے ساتھ گھُن بھی پیسا جاتا ہے کے مصداق بُـرے لوگوں کے بیچ رہتے ہوئے اچھے لوگ بھی بُرائیوں کے خلاف آواز نہیں اُٹھا رہے ہیں... بُرائیاں دیکھ کر بھی اس کو روکا نہیں جا رہا... کہیں ایسا نہ ہو کہ آگے چل کر سوائے پچھتاوے کے ہمارے پاس اور کچھ نہ ہو... خدارا ہمارے شہر عزیز کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے ایک ہو جائیں... آپسی اختلافات کو ختم کرکے بُرائیوں کی روک تھام کے لیے لائحہ عمل طے کریں... ان بُرائیوں کو روکیں تاکہ جس چمن کو ہمارے اسلاف نے اپنے لہو سے سینچہ ہے وہ چمن سرسبز و شاداب ہو جائے... ہمارا شہر جس کی مثالیں دی جاتی ہیں... اسلامی تہذیب و ثقافت کا منبع کہلانے والا شہر مالیگاؤں ہر طرح کی بُرائیوں سے پاک و صاف ہو جائے ۔*

*"شاید کہ تیرے دل میں اُتر جائے میری بات" ....*

*ازقلم : شعیب اشرف فیمس ایڈورٹائزنگ ایجنسی مالیگاؤں*












*ہماری قوم کے مستقبل کی فکر کیجۓ*

دوپہر بارہ کس سے ملاقات کی غرض سے میں قدوائی روڈ پر ایک چائے کی ہوٹل پر بیٹھا تھا۔

اسی دوران ATT ہائی اسکول کی چھٹی ہوئی، چھٹی کے بعد بہت سے بچے اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو گئے.. میں نے دیکھا کہ بہت سارے بچے اس چائے کی ہوٹل پر آئے، تقریباً چھٹی ساتویں کے بچے.. نویں دسویں کے بچے ہوٹل پر آئے.. کوئی بیڑی پی رہا ہے، کوئی کھلے عام سگریٹ پی رہا ہے.. گٹکا تمباکو کھا رہا ہے... اسی وقت میں نے ایک طرف جا کر ان سب کی ویڈیو بنائی ویڈیو بنانے کے دوران کچھ بچوں نے مجھے دیکھ لیا اور دم دبا کر جانے لگے.. جب ویڈیو بن گئی تو میں کرسی پر بیٹھ گیا.. کچھ بچے میرے پاس آئے اور سوال کیا کہ بھائی ویڈیو کیوں بنا ہو؟پلیز اسے ڈلیٹ کردو..میں نے انہیں سمجھایا کہ تم اسکول کا یونیفارم پہن کر یہاں پر ایسا کام کر رہے ہو.. اور جو بھی باتیں... بہت سے بچے رونی صورت بنا کر منتیں کرنے لگے.. ہوٹل والا بھی میرا جاننے والا تھا اس لیے میں نے اسے بھی کہا کہ بھائی تم لوگ اتنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو یہ سب بیچ رہے ہو.. آئندہ کے لیے ان سب نے وعدہ کیا کہ اب نہیں کریں گے اور ہوٹل والے نے بھی یقین دلایا کہ شعیب بھائی آئندہ سے اسکولی طلباء اور کم عمر کے بچوں کو بیڑی سگریٹ نہیں بیچیں گے... بحالت مجبوری میں نے ویڈیو ڈلیٹ کر دی۔

خیر جو بھی.. اس بات سے میرا مشاہدہ کہتا ہے ہماری قوم کے مستقبل.. نشہ گٹکا اور دیگر برے کاموں میں الجھ کر اپنا مستقبل تاریک کر رہے ہیں ۔
میں نے مالیگاؤں سماج سدھار کمیٹی کے ذمے داران مولانا عمرین محفوظ رحمانی سے اسی وقت رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن شاید وہ کسی مجلس میں تھے اس لیے میرا فون نہیں اٹھا سکے... منصور اکبر صاحب.. مزمل بھائی سیف نیوز ان احباب کو بھی فون کرکے اس جانب توجہ دلانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے بھی فون نہیں اٹھایا.. لہٰذا میں مالیگاؤں سدھار کمیٹی کے ذمے داران سے گزارش کرتا ہوں کہ شہر کے طلباء ہمارا مستقبل ہیں انکی ان بری عادتوں کو ختم نہ کیا گیا تو آئندہ سوائے پچھتاوے کے ہمارے پاس کچھ نہیں ہوگا....

میں گزارش کرتا ہوں شہر کی اسکولوں کے پاس چھٹی کے دوران بچے سیدھا گھر جائیں اس جانب کوئی لائحہ عمل طے کریں اور والدین سے بھی گزارش ہے بچے اسکول کی چھٹی کے بعد گھر کب آتے ہیں اس بات کا خیال رکھیں.. ان پر سختی کریں ۔

اللہ پاک ہم سب کو صحیح سمجھ اور قوم کا درد رکھنے والا بنائے ۔آمیـن یا رب العالمین

فقط والسلام
شعیب اشرف فیمس ایڈورٹائزنگ ایجنسی











*💫 عالمی تحریک سنّی دعوتِ اسلامی کا قافلہ..........*

*📣 آج اصلاحی کارنر میٹنگ*

*🏮 زیرِ سرپرستی :- آلِ رسول حضرت مولانا سید محمد امین القادری صاحب قبلہ (نگراں سنی دعوت اسلامی مالیگاؤں)*

*2 جولائی 2025ء بروز بدھ بعد نمازِ مغرب سے رات 10 بجے تک*

1️⃣ *🎙️مــــقرر :- حضرت قاری نور محمد‌ رضوی صاحب*
*🔅 بمقام :- خانقاہ قادریہ مسجد، نیا اسلامپورہ، مالیگاؤں*

2️⃣ *🎙️مــــقرر :- حضرت قاری عبدالسلام قادری صاحب*
*🔅 بمقام :- اجمل ہوٹل کے پاس، رمضانپورہ، مالیگاؤں* 

3️⃣ *🎙️مــــقرر :- حضرت قاری رضوان نوری صاحب*
*🔅 بمقام :- نثار ہوٹل، نیا اسلامپورہ، مالیگاؤں*

4️⃣ *🎙️ مــــقرر :- حضرت مولانا مفتی محمد رضا مرکزی صاحب*
*🔅 بمقام :- نوری گارڈن، نور باغ، مالیگاؤں*

5️⃣ *🎙️ مــــقرر :- حضرت قاری شہزاد رضا صاحب*
*🔅 بمقام :- آگرہ روڈ، سوپر مارکیٹ کے پاس، مالیگاؤں*

*💐 الداعی :- عالمی تحریک سنی دعوت اسلامی مالیگاؤں*













ٹی بی مُکت بھارت ابھیان کے تحت پاورلوم مزدوروں کی صحت کے لیے اہم میٹنگ کا انعقاد

مالیگاؤں: حکومتِ ہند کی جانب سے "ٹی بی مُکت بھارت ابھیان" کے تحت مختلف شہروں میں سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں آج محکمہ صحت کی جانب سے پاورلوم ایسوسی ایشن کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔

اس میٹنگ میں پاورلوم ورکرز کے لیے ایک خصوصی ہیلتھ چیک اپ کیمپ منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی، جس کا مقصد مزدور طبقے میں صحت سے متعلق بیداری پیدا کرنا اور ان کا مفت معائنہ کرنا ہے۔ میٹنگ کے دوران محکمہ صحت کے افسران نے ٹی بی (تپ دق)، حفاظتی ٹیکہ کاری (Vaccination) اور دیگر صحت کے مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی۔
محکمہ صحت نے بتایا کہ پاورلوم صنعت سے وابستہ مزدوروں کو اکثر مختلف جسمانی امراض کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے ان کے لیے باقاعدہ صحت معائنہ بے حد ضروری ہے۔ اس کیمپ کے ذریعے نہ صرف ٹی بی جیسے سنگین مرض کی شناخت کی جائے گی بلکہ مزدوروں کو مفت علاج کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

میٹنگ میں پاورلوم ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ وہ مزدوروں کی صحت کے تحفظ کے لیے محکمہ صحت کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے

Tuesday, 1 July 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*






تنہائی اور سماجی تعلقات کا فقدان کتنا خطرناک؟ عالمی ادارہ صحت کی فکر انگیز رپورٹ جاری
تنہائی ایک سنگین عالمی مسئلہ بنتی جا رہی ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال 8 لاکھ افراد موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں تنہائی اور سماجی تعلقات کے فقدان کو انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ دنیا میں ہر سال 8 لاکھ سے زائد افراد تنہائی کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی اس فکر انگیز رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنہائی اور سماجی تعلقات کا فقدان انسانی صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے، جتنا کہ تمباکو نوشی، موٹاپا یا فضائی آلودگی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر 6 میں سے ایک شخص تنہائی کا شکار ہے، جو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی گہرے منفی اثرات ڈال رہی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ سماجی رابطے صرف خوشی کا ذریعہ نہیں بلکہ بہتر صحت اور طویل عمر کی ضمانت بھی ہیں۔ جن افراد کے قریبی سماجی تعلقات ہوتے ہیں، ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوتا ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ تنہائی سے دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، فالج اور ذہنی دباؤ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، اور ایسے افراد جو تنہائی کا شکار ہوتے ہیں، ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس وقت دنیا میں ہر سال اوسطاً 8 لاکھ 71 ہزار اموات ایسی ہیں جن کی ایک بڑی وجہ تنہائی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنہائی کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں، معمر افراد اور کم آمدنی والے ممالک کے شہریوں پر پڑتا ہے۔

اس وقت 13 سے 29 سال کے نوجوانوں میں تقریباً 20 فیصد تک تنہائی کا سامنا ہے۔ کم آمدنی والے ممالک میں 24 فیصد لوگ شدید تنہائی محسوس کرتے ہیں، جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 11 فیصد ہے۔

اس رپورٹ کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانوم کا کہنا ہے کہ ہم ایسے وقت میں جی رہے ہیں، جہاں ٹیکنالوجی نے ہمیں جوڑنے کے ہزاروں مواقع فراہم کر دیے ہیں، اس کے باوجود دنیا بھر میں لاکھوں افراد خود کو اکیلا اور تنہا محسوس کرتے ہیں۔ یہ ایک خاموش وبا ہے، جو انسانی صحت کے ساتھ معاشرے کی ترقی اور معیشت کو بھی متاثر کرتی ہے۔











اور فرازؔ چاہییں کتنی محبتیں تجھے!

فراز جیسے سخن طراز کا تذکرہ ہو تو ان کا وہ مشہور کلام بھی سماعتوں میں رس گھولنے لگتا ہے جسے پاکستان کے بڑے گلوکاروں نے گایا۔ فراز کی غزلیں ہوں یا نظمیں اور فلموں میں‌ شامل کی گئی وہ شاعری جو نور جہاں اور مہدی حسن کی آواز میں ریکارڈ کی گئی، آج بھی بہت ذوق و شوق سے سنی جاتی ہے۔ فراز کے مجموعہ ہائے کلام کے کئی ایڈیشن بازار میں آئے اور فروخت ہوگئے۔ احمد فراز اردو کے صفِ اوّل کے شاعر اور اپنے دور کے مقبول ترین شعرا میں سے ایک تھے۔ ان کی شاعری میں رومانویت اور مزاحمت کا عنصر نمایاں ہے۔

یہ پارہ جمیل یوسف کی کتاب "باتیں کچھ ادبی’ کچھ بے ادبی کی” سے لیا گیا ہے جو بطور شاعر احمد فراز کی اہمیت اور مقبولیت کو اجاگر کرتا ہے۔ جمیل یوسف نے شاعری اور ادبی تنقید کے ساتھ شخصی خاکے بھی لکھے ہیں۔ ان کے قلم سے نکلا یہ واقعہ ملاحظہ کیجیے۔

جمیل یوسف لکھتے ہیں، ”شاعروں میں جو شہرت، عزت اور دولت احمد فراز نے کمائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ کسی اور شاعر کو زندگی میں وہ بے پناہ محبت اور والہانہ عقیدت نہیں ملی جو احمد فراز کے حصے میں آئی۔ اقبال اور فیض کی بات الگ ہے۔ وہ بلاشبہ احمد فراز کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑے شاعر تھے، ان کی زندگی میں بھی ان کی شہرت اور مقبولیت کچھ کم نہ تھی مگر ان کی پذیرائی اور ان کی اہمیت کی سطح کچھ مختلف نوعیت کی تھی۔ پھر ان کی شہرت اور مقبولیت کا دائرہ اتنا وسیع اور بے کراں نہیں تھا۔ مثلاً فراز کی زندگی میں ان کے شعری مجموعے جس کثیر تعداد میں فروخت ہوئے اس کی کوئی مثال اردو شاعری کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ پھر جتنی محفلوں اور مشاعروں میں احمد فراز کو سنا گیا اس کی بھی کوئی نظیر اردو شاعری کی تاریخ میں موجود نہیں۔

جمیل یوسف مزید لکھتے ہیں، ایک مشاعرے کے دوران ظفر اقبال نے احمد فراز سے کہا کہ ” فراز! جس طرح کی شاعری تم کرتے ہو، کیا تمہارا خیال ہے کہ تمہارے مرنے کے بعد یہ زندہ رہے گی؟”

احمد فراز نے جواب دیا، ”ظفر اقبال! جتنی عزت، لوگوں کی محبت اور شہرت مجھے مل گئی ہے وہ میرے لیے کافی ہے۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ میری شاعری میرے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے یا نہیں۔”












یوم عاشورہ کی اہمیت اور فضائل، یوم عاشورہ کی تاریخ کیا ہے؟ 
دس محرم الحرام کو اسلام میں نہایت اہمیت حاصل ہے۔ شیعہ طبقے کی جانب سے یوم عاشورہ کے موقع پر تعزیے اور ماتمی جلوس نکالے جاتے ہیں۔ اسی دن نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جگر گوشۂ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت امام حسینؓ کو میدان کربلا میں شہید کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی اسلامی تاریخ میں دس محرم الحرام کی ایک خاص اہمیت ہے۔کرتی رہے گی پیش شہادت حسینؑ کی

آزادئ حیات کا ہے یہ سرمدی اصول

حیدرآباد، تلنگانہ: محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے یہ ان چار مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے جو حرمت والے ہیں۔ جن کے تعلق سے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے پاس مہینوں کی تعداد بارہ ہیں ان میں چار مہینے حرمت والے ہیں۔ اسلام کے اندر جو چار ماہ محترم بتائے گئے ہیں، ان کے نام محرم الحرام، رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ ہیں۔

اس مہینے کی حرمت زمانے جاہلیت سے ہے ان مہینوں میں دور جاہلیت میں لوگ قتل و غارتگری وغیرہ سے گریز و پرہیز کرتے تھے اور اس کا احترام کرتے تھے، ماہ محرم کے اندر بہت سے اسلامی واقعات رونما ہوئے ہیں سب سے بڑا واقعہ نواسے رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا میدان کربلا میں پیش آیا۔

محرم کی دس تاریخ کو کہا جاتا ہے یوم عاشورہ

یوم عاشورہ کے حوالے سے مفتی شیخ داؤد ندوی رنگم پیٹ نے کہا کہ اسلامی قمری مہینوں میں محرم الحرام کا پہلا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ چار متبرک مہینوں میں سے ایک ہے۔ اسلام سے پہلے اور بعد میں بھی یہ مہینہ متبرک سمجھا جاتا رہا۔ اس مہینہ میں جنگ و غیره ممنوع تھی اور ہے۔ ہجرت کے تقریباً 7 سال بعد اسلامی کیلنڈر کی ابتداء ہوئی اس ماہ کی دس تاریخ کو یوم عاشورہ کہا جاتا ہے، جس کے دامن سے بہت سے اہم واقعات وابستہ ہیں۔

یوم عاشورہ کو امام حسینؓ کو شہید کیا گیا:
یوم عاشورہ زمانہ جاہلیت میں بھی قریش مکہ کے نزدیک بڑا اہم دن تھا۔ محرم الحرام کی پہلی تاریخ میں ہی خانۂ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا اور قریش اس دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ 10 محرم الحرام کو ہی کربلا میں ظالموں نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا تھا۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے ظالم کے خلاف انسانیت کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی آواز بلند کی اور اپنی قربانی پیش کی تھی۔ اہل تشیع یوم عاشورہ کربلا کے شہداء کی یاد میں مناتے ہیں اور آج کا دن طالموں کے ظلم اور دہشت گردی کے خلاف منایا جاتا ہے۔ اس دن شیعہ طبقہ سیاہ لباس پہن کر ماتمی جلوش کا اہتمام کرتے ہیں اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

اللہ کے رسول نے 10 محرم الحرام کو خاص اہمیت دی:

پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی حیات طیبہ میں یوم عاشورہ کا خاص اہتمام کیا۔ آپ ﷺ قریش کے ساتھ عاشورہ کا روزہ بھی رکھتے تھے لیکن دوسروں کو اس کا حکم نہیں دیتے تھے، پھر جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے اور یہاں یہودیوں کو بھی آپ نے عاشورہ کے روزہ کا خاص اہتما کرتے دیکھا اور ان کی یہ روایت پہنچی کہ یہ وہ مبارک تاریخی دن ہے، جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نجات عطا فرمائی تھی اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرقاب کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزے کا زیادہ اہتمام فرمایا اور مسلمانوں کو بھی اس کا عمومی حکم دیا۔یوم عاشورہ کے روزہ سے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان

نبی اکرم ﷺ نے یوم عاشورہ کے روزہ کے حوالے سے ارشاد فرمایا: "جو شخص عاشوراء کا روزہ رکھے، مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید واثق ہے کہ اس کے پچھلے ایک سال کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ ( صحیح مسلم جلد 1 صفحہ 367) ۔ فقہائے کرام نے گناہوں کی معافی کے حوالے سے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ ان سے مراد چھوٹی چھوٹی نافرمانیاں ہیں، بڑے بڑے گناہ تو خود قرآن وحدیث کی تصریح کے مطابق بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔

جہاں تک اللہ کے بندوں کے حقوق غصب کرنے کا تعلق ہے، وہ صاحب حق کے معاف کیے بغیر معاف نہیں ہوتے۔ بعض روایات میں اس دن کے حوالے سے یہ بات ملتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اہل خانہ پر عام دنوں کے مقابلے میں بہتر کھانے (اپنی استطاعت کے مطابق) کا انتظام کرے تو اللہ تعالیٰ پورا ایک سال اس کے رزق میں برکت عطا فرمائے گا۔ (مشکٰوۃ)۔

یوم عاشورہ کی اسلامی تاریخ:

یوم عاشورہ میں ہی اللہ تعالیٰ نے عرش، لوح و قلم اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کو جامہ ہستی پہنایا۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔ اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ بنایا گیا اور ان پر آگ گلزار ہوئی۔ اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ہولناک سیلاب سے محفوظ ہو کر کوہ جودی پر لنگر انداز ہوئی۔ اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے سے رہائی نصیب ہوئی اور مصر کی بادشاہت ملی۔ اسی دن حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔

اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کی حضرت یعقوب علیہ السلام سے ایک طویل عرصے کے بعد ملاقات ہوئی۔ اسی دن حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات ملی۔ اسی دن حضرت موسی علیہ السلام پر تورات نازل ہوئی۔ اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت واپس ملی۔ یوم عاشورہ کو ہی حضرت ایوب علیہ السلام کو سخت بیماری سے شفا نصیب ہوئی۔ اسی دن حضرت یونس علیہ السلام 40 روز مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد نکالے گئے۔دس محرم الحرام کو ہی حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول ہوئی اور ان کے اوپر سے عذاب ٹلا۔ اسی دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔ اور اللہ نے اسی دن حضرت عیسی علیہ السلام کو یہودیوں کے شر سے نجات دلا کر آسمان پر اٹھا لیا۔ اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*





اسرائیل غزہ میں60 روزہ جنگ بندی کے لیے رضامند،امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کا بیان،اب حماس پرسب کی نگاہیں
Israel-Hamas War:غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ تھمے گا؟یہ اہم سوال ہے جو سب کے ذہن میں ایک عرصے سے ہے ۔پچھلے ہفتہ اسرائیل۔ایران سیزفائرکے بعدامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے بیان دیا تھا کہ غزہ میں جلد جنگ بندی ہوگی۔ اب لگتا ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو غزہ میں جنگ بندی کے لیے منا لیا ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں سیزفائرکے لیے راضی ہوگیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو قبول کرنے کے لیے حماس پرزوردیا ہے ۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو آئندہ ہفتے امریکہ کے دورے پر ہوں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ خود مذاکرات کے لیے بنیامن نیتن یاہو کی میزبانی وائٹ ہاؤس میں کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ٹرمپ اسرائیلی حکومت اور حماس پر جنگ بندی اور یرغمالیوں کے معاہدے اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کے لیے مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا کہا؟
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر کہا کہ میرے نمائندوں کی غزہ پر اسرائیلیوں کے ساتھ طویل اور ثمرآور ملاقات ہوئی۔ اسرائیل نے 60 روزہ جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لیے ضروری شرائط سے اتفاق کیا ہے۔ ان 60 دنوں کے دوران ہم اسرائیل اور حماس جنگ کے خاتمے کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ قطر اور مصر حتمی تجویز پیش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ حماس مشرق وسطیٰ کی بھلائی کے لیے اس معاہدے کو قبول کرے گی، کیونکہ اس سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ یہ اور بھی برا ہوگا۔

اسرائیل کی ٹیم امریکہ میں
دراصل، اسرائیل کے اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر منگل کو واشنگٹن میں تھے تاکہ غزہ میں ممکنہ جنگ بندی، ایران اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ دیگر معاملات پر بات چیت کریں۔ ڈرمر سے نائب صدر جے ڈی وینس، سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف سے ملاقات متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب منگل کے روز 150 سے زائد بین الاقوامی خیراتی اداروں اور انسانی ہمدردی کے گروپوں نے غزہ میں امداد کی تقسیم کے لیے متنازع اسرائیلی اور امریکی حمایت یافتہ نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ، کیونکہ ان کے مقامات پر خوراک کی تلاش میں فلسطینیوں کے خلاف افراتفری اور ہلاکت خیز تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔اسرائیل۔ایران جنگ بندی کرواچکے ہیں ٹرمپ
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان اس لیے بھی اہم ہے کیوں کہ انھوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے سب سے پہلے ایران اور اسرائیل کے بیچ سیز فائرکا اعلان کیا تھا۔ اب ٹرمپ نے اسرائیل کوغزہ میں جنگ بندی پر آمادہ کرلیا ہے۔ اب اس معاہدے کے تعلق سے حماس کا کیا فیصلہ ہوتا ہے اس پر دنیابھر کی نگاہیں ہیں۔











ہماچل میں قدرت کا قہر،گیارہ مقامات پر پھٹے بادل، متعدد افراد ہلاک، کئی لاپتہ، 500 کروڑ کا نقصان
شملہ۔ ہماچل پردیش میں ایک مرتبہ پھر قدرت کا قہر ٹوٹا ہے۔ ریاست میں ہورہی موسلا دھار بارش سے جان ومال کا کافی نقصان ہوا ہے۔ کئی افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے گزشتہ 13 گھنٹوں میں ہونے والے نقصان کی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس میں 4 لوگوں کی موت ہو گئی ہے، جب کہ 16 لوگ لاپتہ ہیں اور 277 لوگوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔ ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے کہا کہ چمبا میں 3، منڈی میں 233 اور ہمیر پور میں 51 لوگوں کو بچایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 10 مکانات، 12 گائے کے شیڈ زمین بوس ہو گئے ہیں۔ منڈی ضلع کے علاوہ چمبا، ہمیر پور اور کنّور میں لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے ہمیر پور کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ کل رات منڈی ضلع میں آٹھ مقامات پر بادل پھٹنے سے ریاست کو اب تک تقریباً 500 کروڑ روپے کا ابتدائی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیاس ندی اوفان پر ہے۔ ریاست کے مختلف حصوں سے مسلسل نقصانات کی خبریں موصول ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ نقصان کے اعداد و شمار میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے اب تک 129 کروڑ روپے کے نقصان کی اطلاع دی ہے۔ ریاست میں مانسون کے 11 دنوں میں اب تک تقریباً 50 لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جن میں سڑک حادثات بھی شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے سیاحوں سے درخواست کی کہ وہ شہری علاقوں میں رہیں اور دریاؤں اور ندی نالوں یا ناقابل رسائی پہاڑی علاقوں کی طرف نہ جائیں کیونکہ ان علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی بیشتر قومی شاہراہیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں، اور محکمہ تعمیرات عامہ سڑکوں کو بحال کرنے میں دن رات مصروف ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بارش کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پاور پراجیکٹس کو ہوا ہے جس سے کام براہ راست متاثر ہوا ہے۔وزیراعلیٰ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ گزشتہ دو تین سالوں میں بادل پھٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جو کہ تشویش ناک ہے۔ اس کی وجوہات کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2023 کی تباہی کے بعد دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب مکانات کی تعمیر کے حوالے سے ٹی سی پی قوانین میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

وزیر اعلیٰ سکھو نے کہا کہ ایسی کسی آفت کی صورت میں مرکزی حکومت کو بھی فوری مدد کے لیے آگے آنا چاہیے۔ انہوں نے NHAI اور سڑک اور شاہراہوں کی وزارت کے تعمیراتی کاموں میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنا ضروری ہے۔منڈی میں قدرت کا قہر۔۔۔
منڈی ضلع میں اب تک 4 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ گوہر، باگسیاد، دھرم پور کے کچھ علاقوں میں بادل پھٹنے کے واقعات کی اطلاع ملی ہے۔ 30 گھنٹوں میں ہونے والی بارش نے 2023 کی تباہی کی یاد دلا دی ہے۔ اب تک 170 افراد کو بچا یا گیا ہے۔














احمد آباد حادثے کے بعد ایئر انڈیا کا ایک اور طیارہ ہو جاتا کریش! 900 فٹ کی بلندی سے گرتا نیچے
نئی دہلی: احمد آباد میں ایئر انڈیا کے طیارے کے حادثے کے دو دن سے بھی کم وقت بعد، دہلی سے ویانا جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز AI-187 (بوئنگ 777) ٹیک آف کے چند منٹ بعد ہی ہوا میں 900 فٹ نیچے گر جاتی۔ یہ واقعہ 14 جون 2025 کو صبح 2:56 بجے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ٹیک آف کرنے کے فوراً بعد پیش آیا تھا۔

ڈی جی سی اے نے ایئر انڈیا کی دیکھ بھال اور آپریشنل خامیوں کی گہرائی سے تحقیقات شروع کی ہے۔ ٹریکنگ ڈیٹا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ خراب موسم میں طیارہ صبح 2:56 بجے دہلی سے اڑان بھرا۔ اس دوران کاک پٹ میں کئی وارننگ دی گئیں۔ ڈی جی سی اے نے اس کی جانچ شروع کردی ہے۔

حکام کے مطابق جہاز میں اسٹال وارننگ اور گراؤنڈ پروکسیمیٹی وارننگ سسٹم کی وارننگز کو ایکٹیویٹ کیا گیا تھا جس کے ساتھ ہی 'ڈو ناٹ سنک' الرٹ بار بار سنائی دے رہا تھا۔ پائلٹوں نے تیزی سے کام کرتے ہوئے طیارے کو مستحکم کیا اور 9 گھنٹے کی پرواز کے بعد اسے ویانا میں بحفاظت لینڈ کیا۔تاہم اس واقعے نے ایئر انڈیا کے سیکورٹی سسٹم پر ایک بار پھر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ واقعہ 12 جون 2025 کو احمد آباد میں ایئر انڈیا کے طیارے کے حادثے میں 241 لوگوں کی موت کے 38 گھنٹے بعد ہوا ہے۔

ایئر انڈیا نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔ ایئر انڈیا کے ایک ترجمان نے کہا کہ پائلٹ کی رپورٹ ملنے کے بعد اس معاملے کی اطلاع ڈی جی سی اے کو قواعد کے مطابق دی گئی۔ جس کے بعد طیارے کے ریکارڈر سے ڈیٹا حاصل کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی۔ تحقیقات کے نتائج آنے تک پائلٹس کو روسٹر سے نکال دیا گیا ہے۔
ایئر لائن کو دی گئی ابتدائی پرواز کے عملے کی رپورٹ میں صرف ہنگامہ خیزی اور اسٹک شیکر وارننگز کا ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم، ڈیجیٹل فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (DFDR) کے تفصیلی تجزیے سے اضافی اہم انتباہات سامنے آئے جن کا اصل میں انکشاف نہیں کیا گیا تھا۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ کو بتاتے چلیں کہ ایئر انڈیا کا بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر فلائٹ AI-171 طیارہ 12 جون کو احمد آباد سے لندن کے لیے اڑان بھرنے کے فوراً بعد ایک رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس میں سوار 242 افراد میں سے 241 مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ طیارے میں 230 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔ رپورٹ کے مطابق، حال ہی میں ڈی جی سی اے کے ایک آڈٹ میں ایئر انڈیا کے ہوائی جہاز میں بار بار دیکھ بھال کی غلطیوں اور خرابیوں کو دور کرنے میں لاپرواہی کا انکشاف ہوا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑جھارکھنڈ پیپر لیک احتجاج: رانچی میں کئی طلباء کو حراست میں لیا گیا، مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال* ...