Tuesday, 10 December 2024

عمران خان کا 9 مئی اور 26 نومبر کی جوڈیشل انکوائری اور سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے لانے کا مطالبہ


راولپنڈی:
علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے 9 مئی اور 26 نومبر دونوں واقعات کی سپریم کورٹ سے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے لائی جائیں جن کے بغیر تحقیقات ممکن نہیں۔
یہ بات عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں ںے کہا کہ ’’بانی پی ٹی آئی کا پیغام ہے کہ وہ لاعلم میں کہ ڈی چوک میں کتنی شہادتیں ہوئیں اور کتنے لوگ زخمی ہوئے؟ انھیں نہیں پتا کتنے لوگ لاپتا ہیں‘‘، ابھی تک 200 سے زائد کارکنان لاپتا ہیں، لاپتہ کارکنان کے حوالے سے شک ہے کہ وہ بھی شہید ہوچکے ہیں اور بانی پی ٹی آئی لاپتا کارکنان کے حوالے سے فکر مند ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ 15 دسمبر کو یوم شہداء کا دن مقرر کیا گیا ہے، پشاور سمیت دنیا بھر میں کارکنان اس دن دعا کریں گے۔ 
علیمہ خان کے مطابق ’’بانی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے ظلم کا نہیں چل سکتا، ہم اس نظام کو قبول نہیں کریں گے، 9 مئی کے بعد اب 26 نومبر کا مطالبہ بھی مطالبات میں شامل کرلیا ہے، سپریم کورٹ کے 3 سینئر ججز پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے دونوں سانحات کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے بغیر تحقیقات ممکن نہیں ہمارے گرفتار کارکنان کو رہا کیا جائے اور غیر قانونی مقدمات ختم کیے جائیں‘‘۔

علیمہ خان نے مزید کہا کہ ’’بانی پی ٹی آئی نے اوورسیز پاکستانیوں سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں رقوم بھیجنا بند کر دیں، اوورسیز پاکستانیوں کو ہمارے ساتھ مل کر پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے‘‘۔

شاہ رخ خان مداحوں کی شادی میں شرکت کا کتنے کروڑ معاوضہ لیتے ہیں؟



ممبئی : بالی وڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان نے حال ہی میں دہلی میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کی، جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
دُلہن کے ساتھ اسٹیج پر پرفارم کرتے ہوئے شاہ رخ خان کی موجودگی نے مداحوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

انسٹاگرام پر ایک میک اپ آرٹسٹ امرت کور نے ویڈیو شیئر کی، جس میں شاہ رخ خان دُلہن کے ساتھ نہ صرف اسٹیج پر موجود تھے بلکہ ان کی خوبصورتی کی تعریف بھی کر رہے تھے۔

سوشل میڈیا صارفین نے سوالات اٹھائے کہ شاہ رخ خان کسی غیر معروف شخصیت کی شادی میں کیوں شریک ہوئے اور کیا انہوں نے اس کے لیے معاوضہ وصول کیا؟
اسی ویڈیو پر ایک صارف نے تبصرہ کیا، "شاہ رخ خان نے اس شادی میں شرکت کے کتنے پیسے لیے ہوں گے؟" جواب میں میک اپ آرٹسٹ امرت کور نے کہا کہ شاہ رخ خان ان کے فیملی فرینڈ ہیں اور انہوں نے کسی قسم کا معاوضہ وصول نہیں کیا۔

تاہم، کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ شاہ رخ خان بغیر معاوضے کے کسی شادی میں شرکت نہیں کرتے، اور انہوں نے اندازہ لگایا کہ شاید اس تقریب کے لیے اداکار نے کروڑوں روپے وصول کیے ہوں گے۔

 

Sunday, 8 December 2024

*اجمیر شریف درگاہ معاملہ و ملک کی موجودہ صورتِحال پر آل انڈیا سُنّی جمیعتُ الاسلام درگاہ معصوم شاہ کُٹّی پر ہَنگامی مشورتی میٹنگ*



(پریس ریلیز) مُلک بھارت میں شرپسندوں کی جانب سے مسلسل مذہبی منافرت مُلک کی سالمیت و گنگا جَمنی تہذیب کو داغ دار کرنے کی منظّم سازش، ملک میں جمہوریت اور دستور کی بقاء کے لیے ہِندو مُسلم اتّحاد بے حد ضروری ہے امن و انصاف پسند سیکولر ذہن رکھنے والے افراد موجودہ صورتِحال کو لیکر بے چین نظر آرہے ہیں ملک کا مستقبل اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے تعمر و ترقی، بنیادی مسائل، امن و انصاف، بھائی چارگی، روزگار، ڈیولپمینٹ جیسے اہم مُدّوں سے عوام کو بَھٹکایا جاررہا ہے سَنبھل جامع مسجد، گیان واپی، تاج محل، کاشی، مَتھرا وغیرہ بے جا معاملے میں عوام کو اُلجھا کر بے گناہ مسلمانوں پر ظُلم و ذیادتی، انتہا پسند شرپسندوں کو حکومت کی جانب سے پُشت پناہی انتہائی افسوس ناک ہے ابھی گزشتہ دنوں سلطانُ الہند حضرت خواجہ معینُ الدین چِشتی حَسن سَنجری سرکار غریب نواز علیہ رحمہ اجمیر شریف درگاہ کو لیکر مسلمانوں کو حِراساں کرنا مُلک کا امن و امان خراب کرنا، فساد بَرپا کرنے کی کوشش حکومتِ ِہند کو اِن بے جا معاملے پر روک لگانی چاہیے اسی معاملے کو لیکر آل انڈیا سنّی جمیعتُ الاسلام "اتحاد وقت کی ضرورت" عنوان کے تحت جانشینِ صوفی ملّت صوفی نورالعین صابری صاحب و دیگر ملّی، سماجی، فلاحی تنظیموں کے ذمہ داران کی ہنگامی مشورتی میٹنگ درگاہ حضرت معصوم شاہ کٹّی پر منعقد کی گئی جس کی صدارت انصاری اظہارُالحق صاحب نے فرمائی اغراض و مقاصد صوفی نورالعین صابری صاحب نے ذمہ داران کے درمیان پیش کیا جسمیں خصوصاً مُلک کے سُلگتے مسائل، سنبھل جامع مسجد، اجمیر درگاہ حکومت کی جانب داری و پروپیگنڈہ ، عدالت کا فیصلہ، مسلمانوں کی شہادت، مآب لنچنگ، شریعت میں مداخلت وغیرہ پر تفصیلی گفتگو کی. 

اس مٹینگ سیٹھ اکبر اشرفی صاحب ،محمد یوسف رانا صاحب، مولانا امتیاز قدیری، محمد عارف نوری صاحب،سید سمیر علی اشرفی صاحب، حافظ ذاکر صاحب نے، ، غلام ربانی صاحب، امتیاز انجینئر صاحب نے مشوروں سے نوازا. 

 صدارتی خطبے میں انصاری اظہارُالحق صاحب نے کہا کہ نبی صل اللہ علیہ وسلم کے نام پر متحّد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ 

تمام آئے ہوئے مشوروں کو وکلاء حضرات کے روبرو رکھ کر آگے کا لائے عمل تیار کیا جائے گا. 

اس ہنگامی مشورتی میٹنگ میں جانشینِ صوفی ملّت صوفی نورالعین صابری، سیٹھ شیخ اکبر اشرفی، سید سمیر علی اشرفی، محمد عارف نوری، صوفی افضال قدیرع، مولانا امتیاز قدیری، صوفی مزمّل علیمی، عمران اشرفی، پَترکار یوسف رانا، ڈاکٹر کیفُ الوری، مولانا عبدالرشید مجددی، امتیاز انجنئیر، حامد اختر بابا، ایوب سیٹھ، رفیق شاہ، فیروز خان فٹر، رئیس کھاٹک صابری، معینُ الدین شیخ، ناصر احمد، سیّد آصف، محمد یاسین، محمد ساجد، سمیر احمد، جمیل احمد، نوید خلیل، مومن غلام ربانی، مومن محمد عمار، شاکر خان، علیمُ الدین، مصطفیٰ برکتی، حافظ عرفان رضا و دیگر ذمہ داران موجود تھے. 

ایسی پریس نوٹ صوفی جمیل قادری ٹیلر صاحب نے جاری کی۔

Thursday, 5 December 2024

بناسپتی گھی کی اہمیت میں کمی کیوں آئی؟ دلچسپ حقائق


بناسپتی گھی دراصل ہائیڈروجنیٹڈ ویجیٹیبل آئل ہے، یہ 20ویں صدی کے اوائل میں ایک انقلابی پراڈکٹ کے طور پر سامنے آیا، جس نے برصغیر پاک و ہند میں کھانوں کی ثقافت اور مارکیٹوں کو بدل کر رکھ دیا تھا۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ بنیادی طور پر یہ گھی نہیں ہے اور نہ ہی حیوانی روغن ہے بلکہ نباتاتی تیلوں کو مصنوعی اور بناوٹی طور پر گھی کی شکل دے دی گئی ہے۔

بناسپتی گھی کی ایجاد کی بنیادی وجہ روایتی دیسی گھی کا سستا متبادل فراہم کرنا تھا روایتی دیسی گھی جو مکھن کو صاف کرکے تیار کیا جاتا ہے اُس وقت یہ ایک مہنگی اور نایاب شے سمجھی جاتی تھی۔

چونکہ بناسپتی گھی عام دیسی گھی سے سستا ہوتا ہے اس لیے پچھلے پچاس ساٹھ سالوں میں اس
کا استعمال بہت بڑھ گیا اور اصلی گھی کا استعمال کم ہوتا گیا۔

ہائیڈروجنیشن کا عمل جس میں غیر سیر شدہ چکنائیوں میں ہائیڈروجن شامل کی جاتی ہے یہ عمل بناسپتی گھی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
یہ طریقہ نہ صرف تیل کو اس وقت کے درجہ حرارت پر زیادہ ٹھوس بناتا ہے بلکہ اس کی شیلف لائف بھی بڑھا دیتا ہے۔

کھانوں کا لازمی جزو
ہندوستان میں سال 1937میں بناسپتی گھی کے پہلے برانڈز متعارف کروائے گئے اور مؤثر اشتہاری مہم کی بدولت یہ اس وقت کے پکوانوں کی ضرورت بن گیا اور اس نے جلد ہی ہر گھر میں اپنی جگہ بنالی۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بناسپتی گھی نے روایتی گھی کی مارکیٹ کو متاثر کیا کیونکہ دیسی گھی کی نسبت یہ ایک سستا اور بہترین متبادل تھا۔

بناسپتی گھی جلد ہی گھریلو پکوانوں کا لازمی جزو بن گیا، بعد ازاں ویجیٹیبل آئل کی طلب میں اضافہ ہوا اور خوردنی تیل کی صنعت میں تیزی آئی۔

کھانوں میں جدت:
بناسپتی گھی کی دستیابی نے کھانوں میں تخلیقی تجربات کی حوصلہ افزائی کی۔ شیف اور گھریلو باورچیوں نے کھانے پکانے کی نت نئی تراکیب اور تکنیکس دریافت کیں جن سے مختلف قسم کے پکوان تیار ہونے لگے۔

گھی کے نقصانات
صحت کے مسائل اور زوال
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور لوگوں میں ہائیڈروجنیٹڈ تیل میں موجود ٹرانس فیٹس کے صحت پر مضر اثرات کا شعور بڑھا تو بناسپتی گھی کی مقبولیت بتدریج کم ہونے لگی۔
یاد رہے کہ ٹرانس فیٹس جو ہائیڈروجنیشن کے عمل کا ضمنی نتیجہ ہیں، دل کی بیماریوں اور صحت کے دیگر مسائل کا بڑا سبب ہیں۔

ان خدشات کے پیش نظر بھارت سمیت کئی ممالک نے کھانے کی اشیاء میں ٹرانس فیٹس کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے متعدد قوانین نافذ کیے۔

موجودہ دور میں اگرچہ بناسپتی گھی کی مقبولیت میں کافی حد تک کمی آگئی ہے، تاہم یہ برصغیر پاک و ہند کے کھانوں کی ثقافتی وراثت کا اہم حصہ ہے۔

حالیہ برسوں میں صحت مند تیل جیسے زیتون کا تیل، ناریل کا تیل، اور سورج مکھی کے تیل کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

یہ تیل عموماً کم سیر شدہ چکنائی اور ٹرانس فیٹس پر مشتمل ہوتے ہیں، جو دل کی صحت کے لیے بہتر سمجھے جاتے ہیں۔

تاہم، بناسپتی گھی اب بھی کچھ دیہی علاقوں میں استعمال ہوتا ہے، جہاں یہ نسبتاً ایک سستا آپشن ہے۔

جیسے جیسے صارفین میں صحت اور غذائیت سے متعلق آگاہی بڑھ رہی ہے، صحت مند تیلوں کی طلب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اس تمام تر صورتحال کے باوجود بناسپتی گھی آج بھی بہت سے لوگوں کے دلوں اور باورچی خانوں میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔

’رونالڈو اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں‘





عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کے ساتھی کھلاڑی نے دعویٰ کیا ہے کہ رونالڈو اسلام میں دلچسپی رکھتے اور مسلمان ہونا چاہتے ہیں۔

پرتگال سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو جو سعودی عرب کے فٹبال کلب النصر سے وابستہ ہونے کے باعث دو سال سے سعودیہ میں ہی فیملی کے ہمراہ مقیم ہیں۔ ان کے بارے میں ساتھی کھلاڑی اور النصر کے سابق فٹبالر نے دعویٰ کیا ہے کہ رونالڈو اسلام سے متاثر ہیں اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔

ایک مقامی ٹی وی شو میں سعودی فٹبالر ولید عبداللہ نے انکشاف کہا ہے کہ رونالڈو اسلامی تعلیمات اور سعودی عرب کی ثقافت سے بہت متاثر ہیں اور وہ اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں۔
ولید عبداللہ نے کہا کہ النصر کی جانب سے کھیلتے ہوئے رونالڈو نے مئی 2023 گول کرنے کے بعد میدان میں سجدہ بھی کیا تھا جس پر ساتھی کھلاڑیوں نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تھا جب کہ وہ کھلاڑیوں کو ہمیشہ نماز پڑھنے اور اسلامی روایات کی پیروی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ جب بھی ٹریننگ کے دوران اذان ہوتی ہے، رونالڈو کوچ سے درخواست کرتے ہیں کہ ٹریننگ کو روک دیا جائے تاکہ ان کے ساتھی کھلاڑی نماز ادا کر سکیں۔
ساتھی فٹبالر نے دعویٰ کیا کہ انہیں اسلامی تعلیمات کے اس قدر قریب دیکھتے ہوئے ایک دن میں نے ان سے بات کی تو رونالڈو نے اس حوالے سے دلچسپی کا اظہار کیا۔
سعودی فٹبالر نے کہا کہ رونالڈو اسلام قبول کریں یا نہ کریں، لیکن ان کا ڈسپلن اور محنت ہی انہیں اس مقام تک لے آئی ہے، جو بھی سعودی عرب آتا ہے، وہ رونالڈو سے متاثر ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ کرسٹیانو رونالڈو اپنے سعودی عرب میں قیام کے بعد سے سوشل میڈیا میں کئی ایسی پوسٹس اور میدان میں ایسا عمل کرچکے ہیں جو ان کی اسلامی تعلیمات سے گہری دلچپسی کا اظہار ہے۔


’بشنوئی کو بلاؤں؟‘ سلمان خان کی شوٹنگ کی جگہ پر پہنچا مشتبہ شخص، پوچھ گچھ کرنے پر دینے لگا دھمکی



ممبئی : لارنس بشنوئی کی دھمکی کے بعد سلمان خان کی سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی، حالانکہ انہیں گینگسٹر کے نام پر مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔ جب سپر اسٹار کی شوٹنگ کی جگہ پر ایک مشتبہ شخص غیر قانونی طور پر داخل ہوگیا تو پولیس نے پوچھ گچھ کے بعد اسے حراست میں لے لیا۔ جب اس شخص سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے کہا کہ ‘میں وشنوئی کو بولوں کیا؟’ مشتبہ شخص پولیس کی حراست میں ہے۔ شیواجی پارک پولیس اسٹیشن میں اس شخص سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

اس سلسلہ میں ممبئی پولیس نے بتایا کہ ایک شخص اجازت کے بغیر بالی ووڈ اداکار سلمان خان کی شوٹنگ کی جگہ میں داخل ہوگیا۔ شک کی وجہ سے جب اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے کہا کہ ‘کیا میں بشنوئی کو بلاؤں؟’ اس شخص کو پوچھ گچھ کے لیے شیواجی پارک تھانے لے جایا گیا ہے۔
سلمان خان کو لارنس بشنوئی کے نام پر مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔ گینگسٹر 1998 کے کالے ہرن کے شکار کے معاملہ میں سلمان خان کو ملزم مانتا ہے اور اسے جان سے مارنے کی دھمکی دیتا ہے۔ پچھلے مہینے ہی سپر اسٹار کو لارنس بشنوئی سے ان کا نام جوڑنے والے گانے کی وجہ سے دھمکی ملی تھی ۔

ممبئی کے ٹریفک کنٹرول روم کو موصول ہوئے دھمکی آمیز پیغام میں ایک گانے کا ذکر تھا، جس میں مبینہ طور پر سلمان خان اور لارنس بشنوئی دونوں کے نام ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ذمہ دار گلوکار کو ایک ماہ کے اندر برے نتائج بھگتنے پڑیں گے ۔ میسیج میں لکھا ہوا تھا کہ نغمہ نگار کی حالت ایسی ہو جائے گی کہ وہ گانا نہیں لکھ سکے گا۔ سلمان خان میں ہمت ہے تو اسے بچا لے۔
وہیں پولیس نے حال ہی میں سلمان کو دھمکیاں دینے کے سلسلے میں ایک 32 سالہ شخص کو گرفتار کیا تھا۔ یہ شخص اصل میں جالور، راجستھان کا رہنے والا ہے۔ اسے مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

یوپی کے مدارس اب نہیں دے سکیں گے یوجی اور پی جی کی ڈگریاں، یوگی سرکار کرنے جارہی یہ بڑی تبدیلی



لکھنؤ : اتر پردیش کی یوگی حکومت مدرسہ ایجوکیشن کونسل ایکٹ 2004 میں بڑی تبدیلی کرنے جا رہی ہے۔ اس تبدیلی کے بعد مدرسہ سے کامل یعنی بیچلر اور فاضل یعنی ماسٹر کی ڈگریاں نہیں مل سکیں گی۔ اس کے لیے حکومتی سطح پر کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔ بتادیں کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں مدرسہ بورڈ کی آئینی حیثیت سے متعلق اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مدرسہ بورڈ کو آئینی درجہ دیا تھا، لیکن کہا تھا کہ 12ویں کے بعد کی تعلیم کیلئے مدرسہ بورڈ کو منظوری نہیں مل سکتی ۔

دراصل الہ آباد ہائی کورٹ نے مدرسہ بورڈ کی تشکیل کو ہی غیر آئینی قرار دیا تھا۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ مدرسہ ایجوکیشن کی تمام شقیں آئین کے بنیادی ڈھانچے کی خلاف ورزی نہیں ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ 12ویں کے بعد ملنے والی ڈگریوں کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ملک میں اعلیٰ تعلیم یو جی سی ایکٹ کے تحت دی جاتی ہے ۔
بتادیں کہ یوپی مدرسہ ایجوکیشن بورڈ 2004 ایکٹ میں منشی، مولوی، عالم، کامل اور فاضل کورسز کے امتحانات منعقد کرنے کا اختیار ہے۔ اس ایکٹ کی بنیاد پر اس وقت کی اکھلیش یادو حکومت نے 2016 میں اتر پردیش کی غیر سرکاری عربی اور فارسی مدرسہ کی شناخت، انتظامیہ اور سروس ریگولیشن -2016 تیار کیا تھا۔

تاہم اب ریاست کی یوگی حکومت سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اس میں ترمیم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ترمیم کے بعد مدارس سے کامل اور فاضل کی ڈگریاں نہیں مل پائیں گی ۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناگالینڈ میں زہریلی شراب پینے سے 19 افراد ہلاک، تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل* موکوکچنگ،ناگالینڈ: ناگالینڈ میں م...