Saturday, 16 November 2024
*کے بی ایچ کالج گراؤنڈ پر انڈیا الائنس کا انتخابی اجلاس**مالیگاؤں سینٹرل سے شـــــــــانِ ہنـــــــــــد واحد لیڈر جنہیں اجلاس میں مدعو کیا گیا**انڈیا الائنس کی اہم اتحادی پارٹیوں کے لیڈران اجلاس میں موجود**شیوسینا سپریمو اُدھو ٹھاکرے،رکنِ پارلیمنٹ شوبھا تائی بچھاؤ وغیرہ کی شرکت*
*مالیگاؤں آؤٹر میں اب تک کسی سیاسی پارٹی اور لیڈر نے فرقہ پرست لیڈر دادا بھوسے کے خلاف تشہیر نہیں کی،انڈیا الائنس کی نامزد امیدوار شان ہند واحد لیڈر جنہیں مہاوکاس اگھاڑی کے اجلاس میں مدعو کر کے فرقہ پرستوں کے خلاف لڑائی میں شامل کیا گیا*
Friday, 15 November 2024
اب پاکستان اورچین کی خیرنہیں ،ہندوستان نے پیناکاویپن سسٹم کاکیاکامیاب تجربہ، ایک منٹ میں ہوگی تباہی
آج جنگ کے معنی بدل گئے ہیں۔ جہاں پہلے فوجیں آمنے سامنے لڑتی تھیں، اب ان کی جگہ گائیڈڈ آٹومیٹک ہتھیاروں، راکٹوں، ڈرونز، یو اے وی اور خودکش ڈرونز نے لے لی ہے۔ تمام ممالک ایسے ہتھیار تیار کرنے میں مصروف ہیں جو اپنی فوج کے بغیر بھی میدان جنگ میں اپنی فوجی طاقت ثابت کر سکیں۔ اس سلسلے میں، ڈی آر ڈی او نے تین مراحل میں پیناکا ویپن سسٹم یعنی گائیڈڈ ایکسٹینڈڈ رینج راکٹ کا کامیاب تجربہ کیا۔ لیکن، یہ جاننا ضروری ہے کہ ہندوستان کے پاس اس سے پہلے بھی کئی ایسے ملٹی بیرل راکٹ لانچر سسٹم موجود تھے، پھر اسے آزمانے کی کیا ضرورت تھی؟ہندوستان پہلے کون سا راکٹ لانچر سسٹم استعمال کرتا تھا؟ ہندوستانی فوج کی جانب سے تجربہ کیے گئے پیناکا ویپن سسٹم کی کیا اہمیت ہے؟ سب کچھ جانتے ہیں۔
پیناکا ویپن سسٹم ایک ہندوستانی ملٹی لانچ راکٹ سسٹم (MLRS) ہے۔ اس کا نام ہندوستانی دیوتا پنکا (بھگوان شیو کے کمان) سے لیا گیا ہے۔ اسے ہندوستانی فوج کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اسے ڈی آر ڈی او نے ڈیزائن کیا ہے۔ یہ کسی بھی میدان جنگ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور ٹارگیٹ حملوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جمعرات کو اسی پیناکا ویپن سسٹم کے گائیڈڈ توسیعی ورژن کو اونچائی پر آزمایا گیا۔
– اب تک ہندوستان طویل فاصلے کی جنگ کے لیے روسی ملٹی بیرل راکٹ لانچر گراڈ اور سمرچ پر منحصر تھا۔ خود انحصار ہندوستان کا پناک ملٹی بیرل راکٹ لانچر سسٹم بنایا گیا۔ پیناکا راکٹ کی رینج عام طور پر 37 کلومیٹر کے درمیان ہوتی ہے، لیکن حال ہی میں DRDO نے زیادہ فاصلے تک پہنچنے کے لیے اس کا جدید ورژن تیار کیا ہے، جس سے اس کی رینج 75-80 کلومیٹر تک بڑھ گئی ہے۔
- پیناکا کا توسیعی رینج گائیڈڈ لانچر GPS نیویگیشن سے لیس ہے۔ ایک بار لانچ سے پہلے اس کا ہدف مقرر ہو جائے گا، پھر لانچ کے بعد یہ براہ راست ہدف سے ٹکرائے گا۔ اگر کسی وجہ سے یہ اپنی رفتار سے کہیں بھی ہٹ جائے تو GPS کی مدد سے آن بورڈ کمپیوٹر راکٹ کو مقررہ رفتار پر واپس لے جائے گا۔
- یہ سسٹم بیک وقت 12 راکٹ فائر کر سکتا ہے، جو 40-45 سیکنڈ میں دشمن کے اہداف پر حملہ کر سکتا ہے۔ یعنی، سادہ زبان میں، ایک بار لانچ ہونے کے بعد، پلک جھپکتے ہی پورا بیرل خالی ہو جائے گا۔
- اس سے قبل ہندوستان نے دو روسی ساختہ ملٹی بیرل راکٹ لانچر استعمال کیے تھے۔ پہلا گریڈ اور دوسرا سمرچ۔ سمرچ کی فائر کی حد 90 کلومیٹر ہے۔ لیکن، ہندوستان کی جانب سے ایڈوانسڈ پناک کی ا سٹرائیک رینج 75 کلومیٹر ہے۔
پیناکا کے بارے میں جانئے
پیناکا ایک ملٹی لانچ راکٹ سسٹم ہے، جو ایک ساتھ کئی راکٹ لانچ کر سکتا ہے۔ یہ نظام بڑے پیمانے پر جنگی علاقوں میں دشمن کے اہداف پر حملہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ پیناکا مختلف قسم کے راکٹ لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فوج بیک وقت متعدد اہداف کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ یہ نظام کسی بھی موسم اور ماحول میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی مؤثر رینج کئی کلومیٹر طویل اہداف کا احاطہ کرتی ہے۔
گائیڈڈ پیناکا کے کامیاب ٹیسٹ سے ہندوستان کی دفاعی خود انحصاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ہندوستان، اب ملٹی لانچ راکٹ سسٹمز اور گائیڈڈ راکٹوں کی تیاری میں خود انحصار کر رہا ہے، اس طرح غیر ملکی ہتھیاروں پر انحصار کم ہو رہا ہے۔ یہ دشمن کے بڑے فوجی اڈوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو تباہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔
ہندوستان بھی ایکسپورٹ کرے گا
جب ہندوستان خود اس سسٹم کو بنا لے گا تو اس ٹکنالوجی کو دوسرے ممالک کو بھی ایکسپورٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ہندوستان عالمی دفاعی مارکیٹ میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرسکتا ہے۔ اس سے ہندوستان کی دفاعی ٹکنالوجی کے معیار اور صلاحیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
اسدالدین اویسی کے'15منٹ' والے بیان کاکیامطلب ہے؟ مہاراشٹرمیں سیاسی ماحول گرم
مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ایک بار پھر 2012 کے متنازعہ “15 منٹ” بیان کا ذکر کیا۔ اویسی نے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے ساتھ جاری لفظی جنگ میں اس بیان کو طنز کے طور پر لیا۔ یہ بیان ان کے بھائی اکبر الدین اویسی کے اس بیان کی یاد دلاتا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہم 15 منٹ کے لیے پولیس کو ہٹا دیں گے تو ہم دکھا دیں گے کہ کون طاقتور ہے۔
انتخابی ریلی کے دوران پولیس نے اسدالدین اویسی کو اشتعال انگیز تقریر کرنے سے روکنے کے لیے نوٹس جاری کیا۔ پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 168 کے تحت اسدالد ین اویسی کو خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی تقریر سے کسی بھی برادری کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے۔ اویسی نے اسٹیج پر پولیس نوٹس پڑھا اور مراٹھی میں جاری نوٹس کا مذاق اڑاتے ہوئے انگریزی میں نوٹس کا مطالبہ کیا۔
‘15 منٹ’ کے بیان کا نیا سیاق و سباق:
اسدالدین اویسی نے پولیس نوٹس اور اپنی تقریر کا وقت جوڑ کر طنز کیا۔ انہوں نے اسٹیج سے 9:45 کا وقت دکھایا اور کہا کہ ’’ابھی 15 منٹ باقی ہیں‘‘ تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ ان کا بیان انتخابی مہم کے باقی ماندہ وقت سے متعلق تھا۔ اس کے ساتھ ہی اویسی نے مراٹھی میں دیے گئے نوٹس کی تصویر لی اور نوٹس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا پولیس صرف ہم سے پیار کرتی ہے؟
مہاراشٹر میں مجلس اتحادالمسلمین کی انتخابی مہم
مجلس اتحادالمسلمین ، مہاراشٹر اسمبلی کی 16 سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے۔ اسد الدین اویسی اور ان کے بھائی اکبر الدین اویسی، مہاراشٹر میں اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ اویسی نے دعویٰ کیا کہ مجلس اتحادالمسلمین ریاست میں ایک سیکولر حکومت کی حمایت کرے گی اور وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے سیکولر امیدوار کی حمایت کرے گی۔
فڑنویس کا جوابی حملہ:
اسدالدین اویسی کے بیان کے بعد فڑنویس نے انہیں نشانہ بنایا اور کہا کہ اسدالدین اویسی مہاراشٹر میں اورنگ زیب کی تعریف کر رہے ہیں اور ان کا مہاراشٹر میں کوئی کام نہیں ہے۔ فڑنویس نے اویسی کو للکارتے ہوئے کہا کہ تم وہیں رہو، کیونکہ یہاں تمہارا کوئی کام نہیں ہے۔
متنازع بیان کی تاریخ:
سال 2012 میں اسد الدین اویسی کے بھائی تلنگانہ اسمبلی کے رکن اکبر الدین اویسی نے کہا تھا کہ ہندوستان میں ہم 25 کروڑ ہیں اور آپ 100 کروڑ ہیں اگر 15 منٹ کے لیے پولیس کو ہٹایا جائے تو ہم دکھا دیں گے کہ کون زیادہ طاقتور ہے۔ اس بیان پر اکبرالدین اویسی کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور انہیں جیل جانا پڑا، تاہم بعد میں انہیں عدالت نے بری کردیاتھا۔
Tuesday, 28 May 2024
سپین، آئرلینڈ اور ناروے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار
سپین، آئرلینڈ اور ناورے اسرائل کی جانب سے سخت ردعمل کے باوجود منگل کو باضابطہ طور پر فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر لیں گے۔
اقوام متحدہ کے 193 میں سے 140سے زیادہ ارکان کے ساتھ شامل ہوتے ہوئے میڈرڈ، ڈبلن اور اوسلو کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیل کی حماس کے خلاف جنگ کو روکنے کے لیے کوششیں تیز کرنا چاہتے ہیں۔
سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اس فیصلے کی کابینہ سے منظوری سے قبل ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جس کا واحد مقصد ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی امن حاصل کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سپین متحدہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، جس میں غزہ اور غربِ اردن شامل ہوگا اور فلسطینی نیشنل اتھارٹی کے زیرانتظام مغربی یروشلم اس کا دارالحکومت ہوگا۔
غربَ اردن میں اسرائیلی تسلط کے زیراثر فلسطینی اتھارٹی کا اختیار محدود ہے، انہوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
وزیراعظم سانچیز کا کہنا ہے کہ سپین 1967 سے پہلے کی سرحدوں میں کسی قسم کی تبدیلی تسلیم نہیں کرتا جب تک کہ فریقین میں اس پر اتفاق نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ہر کوئی پرامن مستقبل کے لیے یہی واحد حل تسلیم کریں، ایک فلسطینی ریاست جو اسرائیلی ریاست کے ساتھ ساتھ امن اور تحفظ کے ساتھ رہے۔‘
دوسری جانب آئرلینڈ کی محکمہ خارجہ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ غربَ اردن میں رام اللہ میں واقع اپنے نمائندہ دفتر کو سفارت خانے کا درجہ دے گا اور وہاں اپنا سفیر تعینات کرے گا، جبکہ آئرلینڈ میں فلسطینی مشن کو بھی سفارت خانے کا درجہ دیا جائے گا۔
سپین، آئرلینڈ اور ناورے کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ یورپی یونین کے دیگر ممالک بھی یہی راہ اختیار کریں گے۔
اگرچہ یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک سات اکتوبر کو حماس کی زیرقیادت حملے کی مذمت کرتے رہے ہیں لیکن اس بلاک نے اسرائیل کے اقدامات پر بھی اتنی ہی تنقید کی ہے۔
اس وقت اسرائیل کے تازہ ترین حملوں کا نشانہ رفح ہے، جہاں فلسطینی ہیلتھ ورکرز نے بتایا کہ اتوار کو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہوئے۔
ادھر آئرلینڈ میں آئرش پارلیمان کے باہر فلسطینی پرچم لہرا رہا ہے اور حکومت کابینہ کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔
آئرش وزیراعظم سائمن ہیرس نے کابینہ کے اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آئرلینڈ کے عوام جانتے ہیں کہ دو ریاستی حل ہی واحد راستی ہے جو اسرائیل میں عوام، اور فلسطینی میں عوام کی زندگیوں میں امن اور استحکام لا سکتا ہے۔’
فلسطین کو باضابطہ آزاد ریاست تسلیم کرنے کے اعلان کا خیر مقدم
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز کا فلسطین کو باضابطہ آزاد ریاست تسلیم کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔
وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سپین جیسے ملک کا فلسطین کی حقیقت کو تسلیم کرنا بین الاقوامی منظر نامے پر ایک مثبت پیش رفت اور خوش آئند امر ہے۔‘
بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ وزیر اعظم پیڈرو سانچیز اور سپین کے لوگوں نے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کی جانب سے جاری تاریخی ظلم و جبر اور غاصبانہ عزائم کو اس فیصلے سے مسترد کر دیا ہے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’پاکستان اپنے نہتے فلسطینی بہن بھائیوں کی ایک ازاد فلسطین اور بیت المقدس کو بطور اس کے دارلخلافہ کے قیام تک سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔‘
رفح پر اسرائیلی حملے: او آئی سی کا سلامتی کونسل سے ’ذمہ داریاں ادا کرنے کا مطالبہ‘
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے رفح کے پناہ گزین کیمپ میں شہریوں کے ’بہیمانہ قتل عام‘ کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
منگل کو اسلام تعاون تنظیم کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے ایک بیان میں او آئی سی نے اس اقدام کو جنگی جرم، انسانیت کے خلاف جرم اور منظم ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے۔
او آئی سی نے کہا کہ اس کے لیے مجرم کو بین الاقوامی فوجداری قانون کے مطابق جواب دہ اور ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے۔
رفح کے پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملوں میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے اسرائیلی قابض کو اس کے جرائم، دہشت گردانہ طرز اقدامات اور فلسطینی عوام کے خلاف وحشیانہ حملوں کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا، جو تمام انسانی اقدار سے متصادم ہیں اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔
او آئی سی نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو مجبور کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے، اس اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر روکنے کے لیے بین الاقوامی عدالت انصاف کے احکامات پر عمل درآمد کرے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ رفح کراسنگ کو کھولا جائے اور زمین، سمندر اور فضا کے ذریعے امداد پہنچانے کے لیے رسائی کی اجازت دی جائے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فلسطینی شہریوں کے لیے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق تحفظ یقینی بنایا جائے۔
عرب نیوز کے مطابق او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین طٰحہ نے کہا ہے کہ تنظیم اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف ظالمانہ جرائم، اس کے اقدامات کو انسانی اصولوں کے خلاف اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔
عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا ہے کہ ’ہم اس نئے جرم کو بین الاقوامی عدالتوں میں پیش کرتے ہیں تاکہ ان جنگی جرائم کو سامنے لانے اور فرد جرم عائد کرنے کے لیے شواہد کو تقویت دی جا سکے۔‘
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق عرب پارلیمنٹ نے بھی اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے وحشیانہ قتل عام کی شدید مذمت کی۔
*سـابـق میئـر عبـدالمـالِک پـر حملے کے ملـزمـان کو فوری گرفتـار کر کے سخت سزا دی جـائـے ۔۔۔!!*
دھولیہ
25 مئی 2025
مالیگاؤں کے سابق میئر و ایم آئی ایم ضلع صدر عبدالمالک پر حملے کے ملزمین کی فوری گرفتار اور اس سازش کے پیچھے کون لوگ شامل ہیں اس کی انکوائری کر کے ان کے خلاف فوری کارروائی کریں ۔ آمدار فاروق شاہ نے ڈائریکٹر جنرل پولیس مسز رشمی شکلا سے ملاقات کی اور ایک مطالباتی میمورنڈم پیش کیا جس میں کہا گیا کہ مالیگاؤں شہر میں امن و امان کی صورتحال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز سابق میئر و ایم آئی ایم کے ضلع صدر عبدالمالک کو گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا تھا۔ وہ ناسک میں زیر علاج ہے۔ فاروق شاہ نے کہا ہے کہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے اس علاقے میں تعینات غیر ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور اہل پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے اور اس سازش کے پس پردہ افراد اور ماسٹر مائنڈ کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ مسز رشمی شکلا نے آمدار فاروق شاہ صاحب کے مطالبات کو بغور سننے کے بعد یقین دلایا کہ ملزمین کو فوری گرفتار کیا جائے گا اور اس سازش کے ماسٹر مائنڈ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی ۔
ایم آئی ایم ضلع صدر
میڈیا سیل
Subscribe to:
Posts (Atom)
*🛑سیف نیوز اُردو*
جنگ کے بعد مالال ہوا ایران، جلد ملیں گے اتنے ارب ڈالر، مسعود پزشکیان نے کیا یہ بڑا اعلان ایران صدر کے مسعود پزشکیان ...
-
مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل