Saturday, 7 November 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *

کتاب کاروانِ شعور : ایک مطالعہ
از : اسمٰعیل وفاؔ، مالیگاؤں

کتاب کاروانِ شعور ڈاکٹر اسد اللہ خان کی تحریر کردہ نئی کتاب ہے جو دراصل ان کے تعلیمی اور فکری مضامین کا مجموعہ ہے۔ یہ مضامین ایسے ہیں کہ کوئی رقیق القلب انسان کتاب پڑھتے ہوئے کئی جگہ روئے گا۔ 

ڈاکٹر اسد اللہ خان کو تدریس اور قوم کا درد ورثے میں ملا۔ آپ نے یہ راز پالیا کہ مسلمانوں کی ترقی کا پہلا زینہ تعلیم ہی ہے۔ تعلیم ہی کی بدولت ہماری دنیوی اور اخروی کامیابی ممکن ہوگی۔

ڈاکٹر صاحب نے صرف مسائل پر روشنی نہیں ڈالی، مسائل کا حل بھی سجھایا۔ آپ کے مضامین آئینہ ہیں، لیکن نصیحتون کا پٹارہ نہیں۔ ان کا انداز علمی ہے لیکن عام فہم انداز میں باتیں پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے طالبعلم، استاد اور سرپرست کے اس تکون کو بہت قریب سے دیکھا ہے، ظاہر ہے عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں۔ لیکن مسائل کو جس طرح پیش کیا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ ان کی آپ بیتی ہے۔

اساتذہ کے مسائل، کام کا انبار، نان گرانٹ اساتذہ کی حالت زار، سرپرستوں کے خواب، عزائم اور ان خوابوں کی تکمیل کیلئے کی جانے والی جدوجہد.... اور بالخصوص طالبعلم کے حالات 
... بہت سلجھے ہوئے انداز میں مصنف نے مسائل اور ان کے حل پر روشنی ڈالی ہے۔”ایک چھت کئی جزیرے“ 32 صفحات پر مشتمل مبسوط مبسوط مضمون ہے جو بچے کی تنہائی پر لکھا گیا ہے۔
”پوشیدہ نصاب“ اور”آپ کا بچہ آپ کی دوسری اننگ نہیں ہے“، ایسے موضوعات ہیں جن پر کوئی قلم نہیں اٹھاتا۔ یو ڈائس پلس رپورٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : مستقبل جدولوں میں نہیں، ان کمروں میں تشکیل پاتا ہے جہاں ایک با صلاحیت استاد کسی بچے کی آنکھ میں سوال جگاتا ہے اور اس کے دل میں خواب۔

ہیڈ ماسٹر کے منصب کی ضرورت اور اہمیت پر رقمطراز ہیں : سچ یہ ہے کہ ہیڈ ماسٹر کی کرسی فرنیچر نہیں امانت ہے اور امانت کا خالی رہنا خیانت کی ایک صورت ہے۔

اساتذہ کے مسائل پر بات کرتے ہوئے جہاں زمینی مسائل کا تذکرہ کرتے ہیں وہیں یاددہانی بھی کراتے ہیں کہ آر ٹی ای میں جہاں طلبہ کے حقوق پر روشنی ڈالی گئی ہے وہیں دفعہ 27 کہتی ہے کہ استاد سے مردم شماری، آفات میں مدد اور انتخابی فرائض کے سوا کوئی غیر تدریسی کام نہ لیا جائے۔

طالبعلم اور سرپرست کے رشتے کے بحران پر لکھتے ہیں : ہمارے عہد کا سب سے بڑا تعلیمی بحران نصاب کا بحران نہیں تعلق کا بحران ہے۔ اعتماد کا بحران ہے۔ موجودگی کا بحران ہے۔

ان کا انداز سادہ، علمی اور فکر سے پر ہے۔ ہر ٹیچر کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اسکول کے ذمہ داران کو سبق لینا چاہیے اور سرپرست حضرات کو ڈاکٹر صاحب کے تجربات کی روشنی میں اپنے معمولات اور بچوں سے متعلق اپنے رویے پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔

کتاب کی اشاعت اور اس کے اجراء پر تہہ دل سے مبارکباد

🛑*سیف نیوز بلاگر *

*اندھیرے سے لڑنے کا عزم" ، پی ایم مودی ایک بار پھر جوانوں کے ساتھ منائیں گے دیوالی ، ہم وطنوں کو دی مبارکباد* روشنیوں کے تہ...