Tuesday, 3 November 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *


💌 انقلاب کی چھ ٹانگیں
_______________________
✒️ ڈاکٹر آصف فیضی (مالیگاؤں)
_______________________
🌷 شہر کے سب سے بڑے کوڑے دان کے پیچھے ایک پرانی نالی تھی۔ نالی کے اوپر ایک ٹوٹا ہوا ڈھکن، ڈھکن کے نیچے اندھیرا، اور اندھیرے میں کاکروچوں کی ایک پوری بستی آباد تھی۔بستی میں بے روزگاری تھی۔پروں والے کاکروچ برسوں سے اڑنا چاہتے تھے، مگر آسمان پر پہلے ہی کبوتروں، چیلوں اور سرکاری مچھروں کا قبضہ تھا۔ بغیر پروں والے کاکروچوں کے پاس چھ ٹانگیں تو تھیں، لیکن چلنے کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہر راستہ کسی نہ کسی جوتے کے نیچے ختم ہو جاتا تھا۔

ایک روز بستی کے سب سے بوڑھے کاکروچ نے اپنے مونچھ نما شاخچوں کو حرکت دیتے ہوئے اعلان کیا’’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی قسمت کے خول سے باہر نکلیں۔ ہم کاکروچ ہیں، کوئی معمولی رینگنے والی مخلوق نہیں۔ ہم نے صدیوں سے اندھیروں کو آباد رکھا ہے، گندگی کو سنبھالا ہے، زہریلی دواؤں کو برداشت کیا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے حصے میں صرف جوتے آئے ہیں۔‘‘
ایک نوجوان کاکروچ نے اپنی چھ ٹانگیں سیدھی کرتے ہوئے پوچھا:’’تو کیا ہم بھی کبھی کسی میز پر بیٹھ سکیں گے؟‘‘
بوڑھے کاکروچ نے جواب دیا:’’میز پر بیٹھنا ابھی ہمارا مطالبہ نہیں۔ فی الحال ہم میز کے نیچے سے نکل کر میز کے سامنے آنا چاہتے ہیں۔‘‘
یہ جملہ نالی کی چھت سے ٹکرایا اور پوری بستی میں گونجنے لگا۔
اسی رات "کاکروچ پارٹی" کی بنیاد رکھی گئی۔
پارٹی کا انتخابی نشان ایک ٹوٹی ہوئی چھ ٹانگوں والی کرسی تھا۔ منشور میں تین بنیادی مطالبات درج کیے گئے:
اوّل: ہر کاکروچ کو روزگار دیا جائے۔
دوم: ہر نالی میں روشنی کا انتظام کیا جائے۔
سوم: جوتوں کے غیر ضروری استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔
پارٹی کے پہلے اجلاس میں ایک کم عمر کاکروچ نے سوال اٹھایا’’ہم روزگار مانگیں گے، لیکن روزگار دے گا کون؟‘‘
کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
پھر ایک تجربہ کار کاکروچ نے تجویز پیش کی’’جواب نہ ہو تو سوال کو نعرے میں بدل دو۔ نعرہ جتنا بلند ہوگا، جواب کی ضرورت اتنی کم محسوس ہوگی۔‘‘
تجویز منظور کر لی گئی۔
اگلی صبح نالی کے ڈھکن پر سیاہ حروف میں لکھا تھا ’’چھ ٹانگیں، چھ مطالبے، ایک انقلاب!‘‘
حالاں کہ مطالبے صرف تین تھے، مگر نعرے میں چھ کا عدد زیادہ انقلابی معلوم ہوتا تھا۔

پہلا دھرنا شہر کے مرکزی چوراہے پر دیا گیا۔
کاکروچ قطار بنا کر بیٹھ گئے۔ ان کے پاس پلے کارڈ تھے، جن پر لکھا تھا:’’ہمیں بھی جینے دو!‘‘
’’گندگی ہماری، اختیار تمہارا کیوں؟‘‘
’’تعلیم یافتہ کاکروچ بے روزگار کیوں؟‘‘
’’نالی سے نکلے ہیں، تاریخ میں تاریخ لکھیں گے!‘‘
چوراہے کے ایک طرف کبوتر دانہ چگ رہے تھے۔ دوسری طرف مچھر ایک نئی اسکیم کے افتتاح کی تیاری کر رہے تھے۔ اوپر سے ایک بھاری جوتا گزرا۔ دھرنے کی پہلی قطار منتشر ہو گئی۔چند کاکروچ کچلے گئے، کچھ دیوار کی دراڑوں میں گھس گئے، مگر پارٹی کا ترجمان اپنی جگہ ڈٹا رہا۔
اس نے فوراً اعلان کیا’’یہ ہماری تحریک کی پہلی کامیابی ہے۔ آج شہر کی سب سے بڑی طاقت نے پہلی بار ہمیں محسوس کیا ہے۔‘‘

اگلے دن اخباروں میں پارٹی کی تصویر چھپی۔ تصویر میں کاکروچوں کا ہجوم تھا، مگر مرنے والوں کی تعداد درج نہیں تھی۔
سرخی تھی:
’’کاکروچ پارٹی کا تاریخی احتجاج!‘‘
نالی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
کسی نے پوچھا، ’’کیا ہماری مانگیں مان لی گئیں؟‘‘
جواب آیا، ’’ابھی نہیں۔‘‘
کاکروچوں یقین ہو گیا تھا کہ انقلاب کی ابتدا ہو چکی ہے۔

چند ہفتوں بعد دوسرا دھرنا سرکاری عمارت کے سامنے تھا۔ اس بار کاکروچوں نے اپنے مطالبات میں اضافہ کر دیا تھا۔
اب وہ روزگار کے ساتھ وظیفہ، وظیفے کے ساتھ رہائش، رہائش کے ساتھ تحفظ، اور تحفظ کے ساتھ ایک مستقل نالی کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔
پارٹی کا نعرہ بدل گیا:
’’نالی ہماری، راج ہمارا!‘‘
دھرنے کے دوران ایک موٹا کاکروچ، جس کے خول پر چمکدار دھبے تھے، ایک بلند جگہ پر چڑھ گیا اور بلند آواز میں تقریر شروع کی۔
’’ساتھیو! ’’ہمیں اس تحریک کو منظم کرنا ہوگا۔ تحریک کی کامیابی کے لئے اتحاد ضروری ہے ۔"
تمام کاکروچوں نے اتحاد زندہ باد ۔۔۔ انقلاب زندہ باد" کا نعرہ لگایا ۔

چند دن بعد پارٹی نے اپنے اندر انتخابات کا اعلان کیا۔ چھ ٹانگوں کی جمہوریت میں پہلی بار امیدواروں نے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا باقاعدہ فیصلہ کیا۔
ایک امیدوار نے دوسرے کے بارے میں کہا:’’اس کی دو ٹانگیں مشکوک ہیں۔‘‘
دوسرے نے جواب دیا:’’کم از کم میری ٹانگیں اپنی جگہ تو ہیں۔ تم نے تو پوری پارٹی کو اپنی مونچھوں سے باندھ رکھا ہے۔‘‘
تیسرے نے دونوں کو بدعنوان قرار دے دیا۔
چوتھے نے اعلان کیا کہ وہ کسی گروہ کا حصہ نہیں، بلکہ کاکروچوں کے مفاد کے ساتھ ہے۔
انتخاب ہوا۔ نتیجہ آیا۔ جیتنے والا وہی تھا جس کے پاس سب سے زیادہ پلے کارڈ، سب سے اونچی آواز اور سب سے موٹا خول تھا۔
اس نے فتح کے بعد اعلان کیا:’’اب ہماری تحریک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔‘‘
کسی نے پوچھا، ’’وہ کون سا مرحلہ ہے؟‘‘
اس نے کہا، ’’پہلے مرحلے میں ہم مطالبات کر رہے تھے۔ دوسرے میں ہم مطالبات کو دہرا رہے تھے۔ تیسرے میں ہم اس بات پر غور کریں گے کہ مطالبات کیوں نہیں مانے گئے۔‘‘
بستی میں تالیاں بجنے لگیں۔

ایک رات نالی کے اندر عجیب واقعہ پیش آیا۔
کسی نے چپکے سے وہاں ایک چمکتا ہوا ڈبہ رکھ دیا تھا۔ اس پر لکھا تھا:’’خصوصی ترقیاتی خوراک ‘‘
ڈبے میں میٹھی تہہ لگی ہوئی تھی۔ اس کی خوشبو نے بھوکے کاکروچوں کو بے قرار کر دیا۔
پارٹی کے چند ذمہ داروں نے فوری اجلاس بلایا۔
ایک نے کہا، ’’یہ ہمارے مخالفین کی سازش ہے۔‘‘
دوسرے نے کہا، ’’ممکن ہے یہ ہمارے لیے تعاون ہو۔‘‘
تیسرے نے ڈبے کا ڈھکن اٹھاتے ہوئے کہا، ’’انقلاب کے راستے میں ہر چیز کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔‘‘
بالآخر فیصلہ ہوا کہ خوراک کو محفوظ رکھا جائے گا، تاکہ تحریک کے میں کام کرنے والے کاکروچوں کے کام آئے۔

اگلی صبح نالی کے عام کاکروچ پہلے سے زیادہ بھوکے تھے، لیکن کچھ کاکروچوں کے خول چمک رہے تھے۔
ایک چھوٹے کاکروچ نے اپنی ماں سے پوچھا:’’کیا انقلاب کے بعد سب کو کھانا ملے گا؟‘‘
ماں نے جواب دیا:’’ہاں، بیٹا۔‘‘
’’اور انقلاب کب آئے گا؟‘‘
ماں نے خالی پیٹ پر ٹانگیں سمیٹتے ہوئے کہا’’جس دن خوراک کا ڈبہ ہر ایک کو مل جائے گا۔‘‘

پھر ایک دن خبر آئی کہ شہر میں ایک نئی دوا چھڑکی جانے والی ہے۔کاکروچوں میں خوف پھیل گیا۔ ان کی چھ ٹانگیں ایک ساتھ کانپنے لگیں۔ کئی برسوں سے وہ جس نالی کو اپنا وطن سمجھتے تھے، اسی میں اب ان کے وجود کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔پارٹی نے ہنگامی اجلاس بلایا۔
ایک نے کہا، ’’ہم دھرنا دیں گے!‘‘
دوسرے نے کہا، ’’ہم جلوس نکالیں گے!‘‘
تیسرے نے کہا، ’’ہم شہر بند کر دیں گے!‘‘
آخر فیصلہ ہوا کہ اگلی صبح ایک تاریخی احتجاج ہوگا۔
رات بھر نعرے لکھے جاتے رہے۔ نئے پلے کارڈ تیار ہوئے۔ پرانی تصویروں سے پوسٹر بنائے گئے۔ ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ کاکروچ پارٹی اپنے حقوق کے لیے آخری حد تک جائے گی۔
مگر صبح ہونے سے پہلے دوا چھڑک دی گئی۔نالی میں بھگدڑ مچ گئی۔کچھ کاکروچ پتھروں کے نیچے دب گئے۔ کچھ بند راستوں میں پھنس گئے۔ کچھ دیواروں پر چڑھنے لگے، مگر زہریلی دوا نے ان کے قدموں کو روک لیا۔
پارٹی کے موٹے خول والے ذمہ دار ایک محفوظ دراڑ میں جا چھپے۔عام کاکروچ باہر نکلنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھتے رہے۔اسی افراتفری میں ایک نوجوان کاکروچ نے چیخ کر کہا:’’ہمیں بچانے کے لیے کوئی نعرہ لگاؤ!‘‘
ایک بوڑھے کاکروچ نے جواب دیا:’’نعرے تو بہت ہیں، بیٹا، راستہ کوئی نہیں۔‘‘
پھر وہ آواز بھی خاموش ہو گئی۔
اگلی شام دوا کا اثر کم ہوا تو زندہ بچ جانے والے کاکروچ دوبارہ جمع ہوئے۔نالی کا بڑا حصہ خالی ہو چکا تھا۔ دیواروں پر چپکے ہوئے پلے کارڈوں کے حروف دھندلا گئے تھے۔ ایک جگہ اب بھی لکھا تھا:’’نالی ہماری، راج ہمارا!‘‘
ایک نوجوان کاکروچ نے اسے پڑھا اور ہنسنے لگا۔
اس کی ہنسی میں خوشی نہیں تھی۔ وہ اتنا ہنسا کہ اس کی چھ ٹانگیں لرزنے لگیں۔
’’راج ہمارا!‘‘ اس نے دہرایا۔ ’’مگر نالی میں سانس لینے کا حق بھی ہمارا نہیں۔‘‘

اس بار کسی نے اسے خاموش نہیں کرایا۔
پارٹی کے ذمہ دار بھی اپنی دراڑ سے باہر آ گئے تھے۔ ان کے خولوں پر خوراک کی چمک باقی تھی، مگر آنکھوں میں پہلی بار خوف دکھائی دے رہا تھا۔
بوڑھے کاکروچ نے سب کو مخاطب کیا’’ساتھیو، ہم نے سمجھا تھا کہ ہماری تعداد ہماری طاقت ہے۔ پھر ہم نے سمجھا کہ ہمارے نعرے ہماری طاقت ہیں۔ پھر ہمیں یقین ہو گیا کہ ہماری تصویریں ہماری طاقت ہیں۔ مگر آج معلوم ہوا کہ ہم میں سے ہر ایک الگ الگ زندہ رہنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہم نے اپنے لیے چھ ٹانگیں مانگیں، مگر ایک دوسرے کے لیے راستہ نہیں بنایا۔‘‘
ایک کاکروچ نے پوچھا’’اب کیا ہوگا؟‘‘
بوڑھے نے کہا’’اب ہم پھر سے شروع کریں گے۔‘‘
’’کس چیز سے؟‘‘
’’اس سوال سے کہ ہم کس کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘‘
نالی میں خاموشی پھیل گئی۔
کسی نے پہلی بار اپنی ٹانگوں کی طرف دیکھا۔ کسی نے اپنے خول پر جمی گرد صاف کی۔ کسی نے پڑوسی کاکروچ کو سہارا دیا۔ کسی نے خوراک کے ڈبے کی طرف بڑھتے ہوئے اپنا قدم روک لیا۔
یہ بہت چھوٹی تبدیلیاں تھیں۔ ان سے نہ کوئی حکومت بدل سکتی تھی، نہ شہر کا نقشہ، نہ نالی کی تقدیر۔
مگر اسی رات پہلی بار کاکروچوں نے اپنے نعرے بلند کرنے سے پہلے ایک دوسرے کی آواز سننے کی کوشش کی۔

کچھ دن بعد شہر کے چوراہے پر پھر ایک دھرنا تھا۔
پلے کارڈ نیا تھا۔ اس پر لکھا تھا:’’ہمیں صرف زندہ رہنے کا حق نہیں، اپنی زندگی بدلنے کا اختیار چاہیے!‘‘
کاکروچ قطار میں بیٹھے تھے۔ ان کے پاس اب بھی چھ ٹانگیں تھیں، خول تھے، بھوک تھی اور بے روزگاری تھی۔ شہر بھی وہی تھا، نالی بھی وہی، اور اوپر سے گزرتے جوتے بھی وہی۔فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار جب ایک کاکروچ گر پڑا تو دوسرے نے نعرہ لگانا بند کر کے اسے اٹھایا۔
جب ایک کاکروچ نے خوراک کا ڈبہ چھپانے کی کوشش کی تو باقیوں نے اس سے سوال کیا۔
جب کسی نے اپنی آواز کو پوری تحریک کی آواز قرار دیا تو کئی کاکروچوں نے اپنی اپنی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔دھرنا ختم نہیں ہوا تھا۔ مطالبات بھی منظور نہیں ہوئے تھے۔مگر احتجاج کی قطار میں ایک چھوٹی سی جگہ خالی رہ گئی تھی۔ وہاں کوئی پلے کارڈ نہیں تھا، کوئی نعرہ نہیں تھا، کوئی ترجمان نہیں تھا۔اسے اچانک احساس ہوا کہ ان ٹانگوں سے صرف رینگا نہیں جا سکتا، راستہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔
اس نے پہلی ٹانگ آگے بڑھائی۔پھر دوسری۔۔۔پھر تیسری۔۔۔
باقی تین ٹانگیں ابھی بھی پرانی سمت میں تھیں۔
وہ رکا، پلٹا، اور انہیں بھی ساتھ لے آیا۔

سورج اپنا سفر ختم کرتے ہوئے شفق پھیلا رہا تھا۔
نالی کے اندر کسی نے آہستہ سے نعرہ لگایا:’’انقلاب زندہ باد!‘‘
کسی دوسرے نے فوراً پوچھا:’’کون سا انقلاب؟‘‘
اس بار جواب دینے میں دیر لگی۔
پھر اندھیرے سے ایک آواز ابھری’’وہ انقلاب، جس میں کسی کاکروچ کو دوسرے کاکروچ کے نیچے کچل کر آگے نہ بڑھنا پڑے۔‘‘
اور پہلی بار نالی میں گونجنے والا نعرہ دیواروں سے ٹکرا کر واپس نہیں آیا۔وہ آگے بڑھ گیا۔شاید انقلاب یہی تھا۔۔۔۔یا شاید انقلاب ابھی شروع ہونا باقی تھا۔🍁




*نحوست سے شہر عزیز مالیگاؤں کو بچاؤ*

*آج عصر کی نماز کے فوراً بعد لال مسجد اقراء نگر میں ہمارے عزیز خالد اختر یوسفی صاحب کی دختر نیک اختر کے نکاح میں شامل ہوا نکاح سے قبل محترم قاری الطاف حسین ملی صاحب نے نکاح کے عنوان پر اور بھی کئی عنوان کو شامل کرتے ہوئے اپنا اصلاحی خطاب کیا*

*محترم قاری صاحب نے سودی نحوست پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیر کہ دن ایک شخص آیا اور کہا کہ میں بہت پریشان ہوں اور دل میں سکون نہیں ہے قاری صاحب نے وجہ پوچھی تو اس شخص نے کہا کہ میں نے سود پر بینک سے لون لیا ہے تو دل کا سکون ختم ہوگیا ہے تو قاری صاحب نے کہا بیوی کے زیور ہیں کیا تو اس نے کہا حضرت میری بیوی بھی کہتی ہے زیور بیچ پر قرض ادا کرو قاری صاحب نے کہا آپ یہی کرو منگل کے دن اس نے زیور بیچ کر بینک کا قرض ادا کر دیا اور بدھ کے دن میرے حلقہ ذکر میں آیا تو بہت خوش تھا اور کہا کہ حضرت قرض ادا کر دیا* 
*اسی دن ایک گاہک نے مجھے سے اتنا زیادہ سامان خریدا کہ وہ رقم دگنا تھی میں نے میری اہلیہ کے زیورات واپس خرید لیے اب اطمینان اور سکون ہیں قاری صاحب نے کہا کہ اس بات کہ کئی گواہ ہیں*

*آج مالیگاؤں کے بر سر اقتدار شہر کی تعمیر ترقی کے نام سے 1000کروڑ کا ورلڈ بینک سے لون لینا چاہتے ہیں بقول اعجاز بیگ میں جہاں بھی جاتا ہوں کہا جاتا ہے کہ 1000 کروڑ قرض لے رہے ہو اسکا مطلب یہی ہے کہ شہر بینک کے قرض لینے کے خلاف ہے*
*ہم بر سر اقتدار سے التماس کرنا چاہتے ہیں کہ وہ شہر عزیز کو سودی نحوست سے بچاتے ہوئے بینک سے قرض نہ لیں بلکہ اس کا کوئی اچھا حل نکالتے ہوئے عوام کو سودی نحوست سے بچائیں*

*محمد اسماعیل ہاکر*
*نائب صدر ایم ایل اے مفتی محمد اسماعیل قاسمی صاحب ورکنگ کمیٹی*





*جمہوریت کے تحفظ اور ملک میں مثبت سیاسی تبدیلی کی امید*


پرویز خان (پی کے) کا راہل گاندھی، ملکارجن کھرگے اور تمام اپوزیشن رہنماؤں کو مبارکباد کا پیغام
بھیونڈی :نئی دہلی میں اپوزیشن اتحاد کی تاریخی پیش قدمی جمہوری حقوق، آئینی اقدار اور عوامی آواز کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔کانگریس کے سینئر رہنما اور معروف سماجی کارکن پرویز خان (پی کے) نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں یکم نومبر کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی اپوزیشن جماعتوں کی عظیم الشان ریلی اور مارچ پر راہل گاندھی، کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے اور انڈیا بلاک کے تمام اعلیٰ رہنماؤں کو مبارکباد پیش کی ہے۔پرویز خان (پی کے) نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج ملک کو ایسے وقت میں جمہوری اقدار، آئینی حقوق اور اداروں کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے سنجیدہ مکالمے اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ نئی دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہونا اور عوامی مسائل کو قومی سطح پر اٹھانا جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کے کردار اور ذمہ داری کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں منعقدہ اس احتجاج کا بنیادی موضوع انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں، ووٹروں کے نام حذف کیے جانے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار پر اٹھائے جانے والے سوالات ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے ان معاملات پر جواب دہی، شفافیت اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ایسے اہم معاملات ہیں جن پر متعلقہ اداروں کو شفاف انداز میں عوام کے سوالات کا جواب دینا چاہیے تاکہ جمہوری نظام پر شہریوں کا اعتماد مضبوط ہو۔
پرویز خان نے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ممتا بنرجی، تیجسوی یادو اور انڈیا بلاک کے دیگر تمام رہنماؤں کی مشترکہ شرکت اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر جمہوری مسائل پر آواز بلند کرنے کی کوشش کو قابلِ توجہ قرار دیا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تحریک محض ایک احتجاج یا سیاسی سرگرمی بن کر محدود نہیں رہے گی بلکہ ملک میں مثبت سیاسی اور سماجی تبدیلی کے لیے ایک نئی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گی۔ عوام کے بنیادی مسائل، روزگار، تعلیم، مہنگائی، معاشی ترقی، سماجی انصاف اور آئینی حقوق کو قومی سیاست میں ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔
انھوںنے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب، مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کا احترام اور باہمی بھائی چارہ ہے۔ ملک کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب نفرت، تعصب اور مذہبی تفریق کی فضا ختم ہو اور ہر شہری کو بلا لحاظ مذہب و ملت یکساں عزت، تحفظ اور ترقی کے مواقع حاصل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہندو مسلم اتحاد ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی بنیاد ہے۔ ہمیں ایسا ہندوستان چاہیے جہاں مندر اور مسجد کے نام پر فاصلے پیدا کرنے کے بجائے انسانیت، محبت، رواداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تقسیم کرنے کے بجائے انہیں ترقی، تعلیم، روزگار اور خوشحالی کے مشترکہ ایجنڈے پر متحد کریں۔
 ہمارا خواب ایک ایسا ہندوستان ہے جہاں نفرت کی جگہ محبت، انتشار کی جگہ اتحاد، بے روزگاری کی جگہ روزگار اور پسماندگی کی جگہ ترقی لے۔ یہی ایک مضبوط، خوشحال اور متحد ہندوستان کی پہچان ہوگی۔


🛑*سیف نیوز بلاگر *

تقریب اجراء کاروان شعور معروف تعلیمی شخصیت ڈاکٹر اسد اللہ خان کے تعلیمی و فکری مضامین پر مشتمل کتاب کارواں شعور کی تقریب اجراء 7...