*سید حسین اختر کی قیادت کا ایک سال، اردو کے نام کئی روشن باب*
*ڈاکٹر محمد مقیم جامعی بھیونڈی*
ادبی اداروں کی تاریخ میں بعض ادوار اپنی طوالت سے نہیں بلکہ اپنے اثرات اور کارناموں سے پہچانے جاتے ہیں۔ ایک سال بظاہر وقت کی وسیع بساط پر مختصر سی مدت ہے، لیکن جب قیادت کے ہاتھوں میں بصیرت، دل میں زبان و ادب کی محبت اور ارادوں میں خلوص کی حرارت موجود ہو تو یہی مختصر عرصہ کئی برسوں پر بھاری ثابت ہوتا ہے۔ مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی کی کارگزار صدارت سنبھالنے کے بعد سید حسین اختر نے جس فعالیت، سنجیدگی اور عملی جدوجہد کا مظاہرہ کیا، وہ اسی حقیقت کی روشن مثال ہے۔
30 اکتوبر 2025ء کو سید حسین اختر نے اکیڈمی کی کارگزار صدارت کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ اب جبکہ 30 اکتوبر 2026ء کو ان کی قیادت کا پہلا سال مکمل ہونے جا رہا ہے، گزشتہ بارہ مہینوں کی کارگزاری پر نگاہ ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اس منصب کو محض انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کی خدمت کا ایک وسیع میدان تصور کیا۔ نصف صدی کی علمی و تہذیبی روایت رکھنے والے اس ادارے کو نئی توانائی عطا کرنے، ادبی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کرنے اور اہلِ قلم کی عملی سرپرستی کے لیے ان کی کوششیں بجا طور پر تحسین کی مستحق ہیں۔
سید حسین اختر کی ایک نمایاں خوبی یہ رہی کہ انہوں نے اردو کی خدمت کو محض رسمی تقریبات اور روایتی نشستوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ زبان کے تہذیبی وقار کو عوامی سطح پر نمایاں کرنے کی کوشش کی۔ ممبئی کے تاریخی گیٹ وے آف انڈیا پر اکیڈمی کے زیرِ اہتمام مشاعرے کا انعقاد اسی فکر کا خوب صورت مظہر تھا۔ ندیم فرخ، جوہر کانپوری اور دیگر شعرا کی شرکت نے اس محفل کو ادبی اعتبار عطا کیا۔ تاریخی فضاؤں میں اردو شاعری کی گونج دراصل اس زبان کی زندہ تہذیبی روایت کا اظہار تھی۔ اسی طرح اورنگ آباد میں مشاعرے کا انعقاد دکن کی دیرینہ ادبی روایت سے وابستگی کا خوش آئند ثبوت رہا۔
ان کے عہد کی ایک اہم خصوصیت علمی و عصری موضوعات کی جانب توجہ بھی ہے۔ مالیگاؤں میں ’’میڈیا کے ذریعے اردو کا فروغ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس اس اعتبار سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے کہ آج زبانوں کا مستقبل جدید ذرائع ابلاغ، ڈیجیٹل صحافت اور نئی نسل کی علمی ضروریات سے وابستہ ہو چکا ہے۔ امباجوگائی اور دھولیہ میں علمی و تعلیمی کانفرنسوں کا اہتمام بھی اس بات کا مظہر ہے کہ اکیڈمی کی سرگرمیوں کو چند مخصوص شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے ریاست کے مختلف علاقوں تک پہنچانے کی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ یہ طرزِ عمل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اردو کی اصل قوت ان چھوٹے بڑے مراکز میں بھی پوشیدہ ہے جہاں زبان کے خاموش خدمت گزار علم و ادب کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم سید حسین اختر کے ایک سالہ عہد کا سب سے قابلِ قدر پہلو اہلِ قلم کی عملی سرپرستی ہے۔ تقریباً 65 لاکھ روپے کی مالی معاونت محض ایک انتظامی کامیابی نہیں بلکہ ادیبوں، شاعروں اور تخلیق کاروں کے تئیں ادارہ جاتی احساسِ ذمہ داری کا خوش آئند اظہار ہے۔ ہمارے معاشرے میں اہلِ قلم کو داد و تحسین تو فراخ دلی سے ملتی ہے، لیکن ان کی عملی ضروریات اکثر نگاہوں سے اوجھل رہتی ہیں۔ ایسے ماحول میں یہ اقدام یقیناً غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سید حسین اختر نے اس کوشش کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ زبان کی خدمت کرنے والوں کو صرف پھول اور ستائشی کلمات نہیں بلکہ عملی تعاون بھی درکار ہے۔ بلاشبہ قلم کار کی سرپرستی دراصل آنے والی نسلوں کے علمی و ادبی سرمایے کی حفاظت ہے۔
اسی طرح آئندہ برسوں کے لیے ایک کروڑ پچیس لاکھ روپے کی گرانٹ کی منظوری اکیڈمی کے مالی استحکام اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کامیابی میں سیاسی و انتظامی سطح پر حاصل ہونے والے تعاون کا اعتراف بھی ضروری ہے۔ رکنِ قانون ساز کونسل ادریس نائیکواڑی کی کوششیں، آنجہانی اجیت دادا پوار کا تعاون، حکومتِ مہاراشٹر اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی سرپرستی نیز اکیڈمی کے انتظامی معاملات میں شعیب ہاشمی اور دیگر ذمہ داران کی معاونت قابلِ قدر ہے۔ اچھی قیادت کا وصف یہی ہے کہ وہ مختلف صلاحیتوں اور وسائل کو یکجا کرکے اجتماعی کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہے۔
اس موقع پر یہ توقع بھی بے محل نہیں کہ آئندہ اکیڈمی اسکولوں، کالجوں، نوجوان قلم کاروں اور اردو اساتذہ کے لیے تربیتی منصوبوں کو مزید وسعت دے گی۔ خصوصاً بھیونڈی، مالیگاؤں، ناندیڑ، پونے، ناگپور، امراوتی اور دیگر اردو مراکز کی علمی صلاحیتوں کو مربوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اکیڈمی کے پچاس سالہ ادبی سفر کی دستاویز بندی بھی ایک یادگار علمی خدمت ثابت ہو سکتی ہے۔
سید حسین اختر کی ایک سالہ کارگزاری اس اعتبار سے لائقِ ستائش ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات سے آراستہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی فعالیت نے اہلِ اردو کے دلوں میں نئی توقعات اور ادارے کے مستقبل سے وابستہ امیدوں کو تقویت بخشی ہے۔
30 اکتوبر 2026ء کو ان کی کارگزار صدارت کا ایک سال مکمل ہونے پر انہیں دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے یہی دعا ہے کہ ان کی قیادت میں مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی ترقی کی مزید منزلیں طے کرے، اہلِ قلم کی امیدوں کا مرکز بنے اور نئی نسل کو اپنی زبان و تہذیب سے جوڑنے میں ایک مؤثر کردار ادا کرے۔
سید حسین اختر کا یہ ایک سال محض گزرے ہوئے وقت کا حساب نہیں، بلکہ روشن امکانات کی ایک ایسی تمہید ہے جس سے اردو کے آنے والے کل کی امیدیں وابستہ ہیں۔ دعا ہے کہ یہ چراغ یونہی روشن رہے اور اس کی ضیا سے مہاراشٹر کا ادبی افق مزید تاب ناک ہوتا رہے!