*حوثی باغیوں کا سستا مال، سعودی عرب کے ڈیفنس سسٹم کی حالت خراب، اب اس ملک نے مدد کیلئے بڑھایا ہاتھ*
ریاض: یمن کے حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ کم لاگت والے ڈرونز اور کروز میزائلوں کے ذریعے کیے جانے والے حملوں نے سعودی عرب کے جدید فضائی دفاعی نظام کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے، تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنائے جانے سے علاقائی سلامتی کے ساتھ ساتھ توانائی کی فراہمی کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، سعودی قیادت والے اتحاد نے اکتوبر میں ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں 17 افراد کی ہلاکت اور 333 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔
عالمی منظر
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
حوثی باغیوں کا سستا مال، سعودی عرب کے ڈیفنس سسٹم کی حالت خراب، اب اس ملک نے مدد کیلئے بڑھایا ہاتھ
ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے، تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنائے جانے سے علاقائی سلامتی کے ساتھ ساتھ توانائی کی فراہمی کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، سعودی قیادت والے اتحاد نے اکتوبر میں ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں 17 افراد کی ہلاکت اور 333 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔
Google Icon+ Follow usOn Google
ADVERTISEMENT
Last Updated : October 16, 2026, 1:41 pm IST
Published by : Imtiyaz Saqibe
حوثی باغیوں کا سستا مال، سعودی عرب کے ڈیفنس سسٹم کی حالت خراب، اب اس ملک نے مدد کیلئے بڑھایا ہاتھ
ADVERTISEMENT
متعلقہ ویڈیو
سعودی عرب:شاہ سلمان نےوزیرحج وعمرہ محمدصالح بنتن کوکیابرطرف،عصام بن سعد بن سعیدنئےوزیرمقرر
سعودی عرب:شاہ سلمان نےوزیرحج وعمرہ محمدصالح بنتن کوکیابرطرف،عصام بن سعد بن سعیدنئےوزیرمقرر
سعودی ولی عہد محمدبن سلمان نے خاشقجی کو زندہ یامردہ پکڑنے کاحکم کیاتھاصادر: امریکی رپورٹ
سعودی ولی عہد محمدبن سلمان نے خاشقجی کو زندہ یامردہ پکڑنے کاحکم کیاتھاصادر: امریکی رپورٹ
Eid ul Fitr: سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں آج منائی جا رہی ہے عیدالفطر: دیکھیں ویڈیو
Eid ul Fitr: سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں آج منائی جا رہی ہے عیدالفطر: دیکھیں ویڈیو
Pakistan News: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے گرفتار
Pakistan News: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے گرفتار
Saudi Arab میں کشمیری نوجوان کی سڑک حادثے میں موت، لاش کو واپس لانے کی منوج سنہا سے اپیل
Saudi Arab میں کشمیری نوجوان کی سڑک حادثے میں موت، لاش کو واپس لانے کی منوج سنہا سے اپیل
Hajj 2022 کی تیاریوں پر مختار عباس نقوی کا بیان، حج کی تمام تیاریاں مکمل
Hajj 2022 کی تیاریوں پر مختار عباس نقوی کا بیان، حج کی تمام تیاریاں مکمل
سعودی عرب:شاہ سلمان نےوزیرحج وعمرہ محمدصالح بنتن کوکیابرطرف،عصام بن سعد بن سعیدنئےوزیرمقرر
سعودی عرب:شاہ سلمان نےوزیرحج وعمرہ محمدصالح بنتن کوکیابرطرف،عصام بن سعد بن سعیدنئےوزیرمقرر
سعودی ولی عہد محمدبن سلمان نے خاشقجی کو زندہ یامردہ پکڑنے کاحکم کیاتھاصادر: امریکی رپورٹ
سعودی ولی عہد محمدبن سلمان نے خاشقجی کو زندہ یامردہ پکڑنے کاحکم کیاتھاصادر: امریکی رپورٹ
Eid ul Fitr: سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں آج منائی جا رہی ہے عیدالفطر: دیکھیں ویڈیو
Eid ul Fitr: سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں آج منائی جا رہی ہے عیدالفطر: دیکھیں ویڈیو
Pakistan News: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے گرفتار
Pakistan News: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے گرفتار
ریاض: یمن کے حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ کم لاگت والے ڈرونز اور کروز میزائلوں کے ذریعے کیے جانے والے حملوں نے سعودی عرب کے جدید فضائی دفاعی نظام کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے، تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنائے جانے سے علاقائی سلامتی کے ساتھ ساتھ توانائی کی فراہمی کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، سعودی قیادت والے اتحاد نے اکتوبر میں ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں 17 افراد کی ہلاکت اور 333 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔
ADVERTISEMENT
*سعودی عرب جانے والی ایئر انڈیا کی سبھی فلائٹس 20 اکتوبر تک منسوخ، جانئے کیوں اٹھایا گیا یہ بڑا قدم*
صدارتی محل کو بنایا نشانہ
متعلقہ خبریں
سعودی عرب جانے والی ایئر انڈیا کی سبھی فلائٹس 20 اکتوبر تک منسوخ
پہلے ارامکو میں آگ، اب ریاض ایئرپورٹ پر میزائل حملہ کا دعوی، حوثیوں نے دی نئی دھمکی
حوثی باغیوں سے پریشان سعودی عرب کا خطرناک اعلان، نہیں بچیں گے یمن میں تیل مراکز
سعودی عرب کے مہنگے مہنگے ڈیفنس سسٹم بنے کچرا، ریاض حملہ سے پہلے الرٹ تک نہیں؟
ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کو ختم کرنے کے ارادے سے ایسا حملہ کیا، جس نے پورے یمن کو ہلا کر رکھ دیا۔ باغیوں نے عدن میں واقع صدارتی محل پر میزائل حملہ کیا۔ اس حملے میں 5 افراد ہلاک جبکہ 16 زخمی ہو گئے۔ حملہ ایسے وقت میں ہوا، جب محل کے اندر وزیراعظم اور کئی دیگر وزرا بھی موجود تھے۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے وزیر صحت نے اس پورے حملے کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔
ایئرپورٹ اور تیل کی تنصیبات بنیں نشانہ
حوثی باغیوں نے اکتوبر کے آغاز سے سعودی عرب کے اہم مقامات پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ ریاض کے علاوہ ابہا ایئرپورٹ اور ملک کے مشرقی حصے میں بھی ڈرونز اور میزائل حملوں کا خطرہ سامنے آیا ہے۔ ان واقعات کے بعد پروازیں متاثر ہوئیں اور مسافروں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی۔
امریکی سفارت خانے نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر ممکنہ حملوں کے حوالے سے انتباہ جاری کیا۔ امریکی سرکاری ملازمین سے کہا گیا کہ وہ ملک کے کسی بھی ہوائی اڈے کو استعمال کرنے سے پہلے خصوصی اجازت حاصل کریں۔ اطلاعات کے مطابق، ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کا آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا، جبکہ جدہ اور دمام میں پروازوں میں تاخیر اور انہیں منسوخ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
سستے ڈرونز سے مہنگے دفاعی نظام پر دباؤ
سعودی عرب کے پاس جدید ہتھیار اور پیٹریاٹ جیسے میزائل دفاعی نظام موجود ہیں۔ اس کے باوجود کم بلندی پر پرواز کرنے والے ڈرونز اور کروز میزائلوں کا پتہ لگانا اور انہیں بروقت روکنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت حوثی باغی نسبتاً سستے ہتھیار استعمال کرتے ہیں، جبکہ ان ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے لیے مہنگے انٹرسیپٹر میزائل داغنے پڑ سکتے ہیں۔ مسلسل حملوں سے دفاعی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، وسیع علاقے میں اہم تنصیبات کی حفاظت کرنا اور بیک وقت کئی سمتوں سے آنے والے خطرات کو روکنا آسان نہیں ہے۔
یمن میں بھی فوجی کارروائیاں تیز
یہ تنازع اب سعودی عرب کی سرحدوں تک محدود نہیں رہا۔ یمن کے جنوبی شہر عدن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے صدارتی محل کے احاطے، القصر المعاشیق، پر حوثی باغیوں نے میزائل حملہ کیا۔ یمنی حکام کے مطابق، اس حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔ وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام محفوظ بتائے گئے ہیں۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ اس احاطے میں سعودی فوج کا ایک آپریشنل مرکز موجود تھا۔ دوسری جانب، یمنی حکومت نے اس حملے کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا اور کہا کہ حوثیوں کے کنٹرول سے پورے ملک کو آزاد کرانے تک فوجی مہم جاری رکھی جائے گی۔ تعز کے علاقے میں بھی حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
فرانس نے فوجی مدد بڑھائی، سعودی عرب نے دی وارننگ
سعودی عرب نے حوثی حملوں کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اقدامات کرے گا۔ سعودی نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے الزام لگایا کہ حملوں میں شہریوں، اقتصادی تنصیبات اور ہوائی اڈوں سے متعلق سہولتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس دوران فرانس نے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے فوجی وسائل بھیجنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
فرانس کے صدر ایمینوئل میکرون نے اس سے قبل بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ کی حفاظت میں مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، بھیجے جانے والے فوجی سازوسامان کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔
علاقائی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا
اس تنازع کے اثرات اب فضائی آمدورفت، تیل کی تنصیبات اور سمندری تجارت کی سلامتی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم سمندری راستوں کے آس پاس بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔
دونوں فریق اپنی فوجی کارروائیوں کو جائز قرار دے رہے ہیں اور پیچھے ہٹنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ ایسے میں خدشہ ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان یہ تنازع ایک وسیع علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ فی الحال سب سے بڑا چیلنج حملوں کو روکنا، شہریوں کی سلامتی یقینی بنانا اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا ہے۔
سعودی عرب جانے والی ایئر انڈیا کی سبھی فلائٹس 20 اکتوبر تک منسوخ، جانئے کیوں اٹھایا گیا یہ بڑا قدم
ایران جنگ خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ آبنائے ہرمز سے لے کر باب المندب تک تباہی کا عالم ہے۔ مغربی ایشیا سے دیگر ممالک تک تیل اور گیس کے ساتھ ساتھ دوسری ضروری اشیا کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کا جینا محال کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے اہم بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اس سے حالات انتہائی حساس ہو چکے ہیں۔ سیکورٹی کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ملک کی اہم ایئرلائن ایئر انڈیا نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ ایئر انڈیا نے سعودی عرب جانے والی اپنی تمام پروازیں 20 اکتوبر 2026 تک منسوخ کر دی ہیں۔
خطے میں بدلتے ہوئے سیکورٹی حالات کے پیش نظر ہندوستانی ایئرلائنز ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس نے سعودی عرب کے کئی بڑے شہروں کے لیے آنے اور جانے والی پروازوں کی معطلی میں 20 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔ دونوں ایئرلائنز نے جمعہ کو ایکس پر سفری ہدایات جاری کرتے ہوئے اس کی اطلاع دی۔ اس فیصلے کے باعث سعودی عرب جانے یا وہاں سے ہندوستان واپس آنے کا منصوبہ بنا رہے مسافروں کو اپنے سفر میں تبدیلی کرنا پڑ سکتی ہے۔
ایئر انڈیا نے کہا کہ سعودی عرب کے بدلتے حالات کو دیکھتے ہوئے ریاض، دمام اور جدہ سے آنے اور جانے والی اس کی تمام پروازیں 20 اکتوبر 2026 تک منسوخ رہیں گی۔ کمپنی نے متاثرہ مسافروں کو ٹکٹ کی پوری رقم واپس کرنے کی پیش کش کی ہے۔ ایئرلائن نے کہا کہ مسافروں اور عملے کے ارکان کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے۔
ایئر انڈیا ایکسپریس نے بھی کیا فیصلہ
اسی طرح ایئر انڈیا ایکسپریس نے بھی دمام، جدہ اور ریاض کے لیے پروازوں کی معطلی میں 20 اکتوبر تک توسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ وہ خطے کی صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت کے مطابق اپنے آپریشنز کا جائزہ لے کر تبدیلیاں کرے گی۔ متاثرہ مسافروں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
ایئرلائن نے مسافروں کو بغیر کسی اضافی فیس کے سفر کی تاریخ تبدیل کرنے یا ٹکٹ منسوخ کرانے پر مکمل رقم واپس لینے کا اختیار دیا ہے۔ اس سے پہلے جمعرات کو انڈیگو نے ریاض، جدہ، دمام اور مدینہ کے لیے آنے اور جانے والی پروازیں 24 اکتوبر تک منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی نے کہا تھا کہ صورت حال کا احتیاط سے جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب آکاسا ایئر نے ریاض کے لیے پروازوں کی معطلی میں 24 اکتوبر اور جدہ کے لیے 21 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔ متاثرہ مسافروں کو مکمل رقم کی واپسی یا بغیر کسی اضافی فیس کے سفر کی تاریخ تبدیل کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔
مسافر اس بات کا خیال رکھیں
ایئرلائنز نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہونے سے پہلے اپنی پرواز کی صورت حال ضرور چیک کر لیں اور ایئرلائن کے پاس اپنے رابطے کی تفصیلات تازہ ترین رکھیں۔ کمپنیوں نے کہا کہ پروازوں کی خدمات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ خطے کی سیکورٹی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔ فی الحال مسافروں کو سفر سے متعلق کسی بھی تبدیلی کے لیے متعلقہ ایئرلائن کی سرکاری اطلاع پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
*واۓ ایم بیوٹی پارلر*
*گرنا روڈ جھانجر دیول مندر کے سامنے لب سڑک*
*قدرتی اشیاء سے تیار کردہ جدید کاسمیٹکس آرام دہ ماحول جدید مشینری بھرپور تجربہ*
*فاسٹ سروس مناسب چارج غیر مضر اجزاء بھرپور اسٹاک کوالیٹی و میعار*
*رنگت نکھارنے کے ایک ہی با اعتماد مرکز واۓ ایم بیوٹی پارلر*
*خوب صورتی کا تحفہ رنگت ایسی جو دل کو بجاۓ*