Wednesday, 14 October 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر*





*دہلی آرہی ایئرانڈیا فلائٹ سے ملا ہائی جیک کا سگنل، پھر جے پور میں ایمرجنسی لینڈنگ، کیسے مچی کھلبلی*





جے پور: جرمنی کے شہر فرینکفرٹ سے دہلی آرہی ایئر انڈیا کی بین الاقوامی پرواز AI-2030 میں اس وقت اچانک ہلچل مچ گئی، جب پائلٹ سے مبینہ طور پر غلطی سے ایک بٹن دب گیا، جس کے نتیجے میں طیارے کے ہائی جیک ہونے کا الرٹ جاری ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق، پائلٹ کی اس غلطی کے بعد احمد آباد ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) کو اسکواک 7500 (Squawk 7500) کوڈ کا سگنل موصول ہوا۔ یہ سگنل ملتے ہی سیکورٹی ایجنسیاں فوری طور پر چوکس ہو گئیں اور طیارے کا رخ دہلی کے بجائے جے پور کی جانب موڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بعد ازاں طیارے کو جے پور ایئرپورٹ پر بحفاظت ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔ تاہم، اس بات کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں کہ آیا یہ پائلٹ کی غلطی تھی یا کسی تکنیکی خرابی کے باعث ایسا ہوا۔


الرٹ جاری ہونے کے بعد صبح تقریباً 9 بج کر 45 منٹ پر ایئر انڈیا کی پرواز کو جے پور بین الاقوامی ہوائی اڈے کے آئسولیشن بے (Isolation Bay) میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ ایئرپورٹ کا ایک محفوظ حصہ ہوتا ہے، جہاں کسی ممکنہ سیکورٹی خطرے، بم کی دھمکی یا ہائی جیک کے خدشے کی صورت میں طیارے کو مرکزی ٹرمینل اور دیگر طیاروں سے دور کھڑا کیا جاتا ہے۔ طیارے کے لینڈ کرتے ہی سیکورٹی ایجنسیوں نے کارروائی شروع کر دی۔




طیارے کی بحفاظت لینڈنگ کے بعد دونوں پائلٹوں کو فوراً باہر نکال لیا گیا اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی طیارے میں سوار تمام مسافروں کو بحفاظت اتار کر ان کی اور ان کے سامان کی باریک بینی سے سیکورٹی جانچ شروع کر دی گئی۔ ایئر ٹریفک سروسز (اے ٹی ایس)، مقامی پولیس اور دیگر مرکزی سیکورٹی ایجنسیوں کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے دہلی میں نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی) کی ٹیم کو بھی تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، احمد آباد اے ٹی سی کو اسکواک 7500 کوڈ کا سگنل صرف چند سیکنڈ کے لیے موصول ہوا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سگنل پائلٹ کے غلطی سے بٹن دبانے یا کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ تاہم، سیکورٹی ایجنسیاں کسی بھی طرح کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتیں۔ فی الحال سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ یہ معاملہ بم کی دھمکی سے متعلق تھا یا واقعی ہائی جیک کا الرٹ جاری ہوا تھا۔ گجرات اے ٹی ایس اور دیگر ایجنسیاں معاملے کی ہر پہلو سے تفصیلی تحقیقات کر رہی ہیں۔


پرواز AI-2030 کی ہنگامی لینڈنگ: مکمل ٹائم لائن
13 اکتوبر کی شام: ایئر انڈیا کی پرواز AI-2030 جرمنی کے شہر فرینکفرٹ سے دہلی کے لیے روانہ ہوئی۔ طیارے نے تقریباً شام 7 بج کر 30 منٹ پر اڑان بھری تھی، جبکہ اس کی دہلی آمد کا مقررہ وقت صبح تقریباً 4 بج کر 15 منٹ تھا۔

صبح، ہندوستانی فضائی حدود میں داخلے کے وقت: طیارے کے ہندوستانی فضائی حدود کے قریب پہنچنے پر احمد آباد ایئر ٹریفک کنٹرول کو چند سیکنڈ کے لیے اسکواک 7500 کا سگنل موصول ہوا۔ یہ کوڈ بین الاقوامی سطح پر ہائی جیک یا طیارے میں غیر قانونی مداخلت کی اطلاع دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

صبح، طیارے کا رخ موڑنے کا فیصلہ: الرٹ ملتے ہی طیارے کو دہلی لے جانے کے بجائے جے پور بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف موڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پائلٹ اور عملے نے صورت حال کو سنبھالتے ہوئے طیارے کو جے پور پہنچایا۔

صبح تقریباً 9 بج کر 45 منٹ: طیارے نے جے پور ایئرپورٹ پر بحفاظت لینڈنگ کی۔ اس کے فوراً بعد اسے آئسولیشن بے میں منتقل کر دیا گیا، جہاں دیگر طیاروں سے دور رکھ کر اس کی سیکورٹی جانچ کی جاتی ہے۔

صبح 9 بج کر 45 منٹ کے بعد: الرٹ کے بعد سیکورٹی کارروائی شروع کر دی گئی۔ طیارے میں سوار تقریباً 250 مسافروں اور عملے کے ارکان کو بحفاظت باہر نکال کر ٹرمینل کے ہولڈنگ ایریا میں منتقل کیا گیا۔ سی آئی ایس ایف، مقامی پولیس اور بی ڈی ڈی ایس نے طیارے اور سامان کی تفصیلی جانچ شروع کر دی۔

اب تک کی صورت حال: اسکواک 7500 سگنل اور کسی حقیقی خطرے کی آفیشیل طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ تمام مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ ہیں۔ طیارے کی مکمل جانچ کے بعد ہی اسے دہلی کے لیے روانہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔


صبح 9:45 بجے طیارے کو آئسولیشن بے میں منتقل کیا گیا
احمد آباد اے ٹی سی سے الرٹ موصول ہونے کے بعد صبح تقریباً 9 بج کر 45 منٹ پر ایئر انڈیا کی پرواز کو جے پور بین الاقوامی ہوائی اڈے کے آئسولیشن بے میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ ایئرپورٹ کا مخصوص محفوظ حصہ ہوتا ہے، جہاں سکیورٹی خطرے یا ہائی جیک کے خدشے کی صورت میں طیارے کو مرکزی ٹرمینل سے دور کھڑا کیا جاتا ہے۔ طیارے کے اترتے ہی سیکورٹی نظام کو پوری طرح فعال کر دیا گیا اور جانچ کا عمل شروع ہو گیا۔



*پاکستان میں جم کر ہنگامہ، عمران خان کے حامیوں کا پولیس پر حملہ، آنسو گیس کے گولے داغے، فائرنگ کا بھی الزام*



پاکستان میں وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے درمیان ٹکراؤ بڑھ گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اتوار کے روز خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرتے ہوئے صوبے کی انتظامیہ کا براہِ راست کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ حکومت نے یہ قدم بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے اٹھایا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے اسے سیاسی قبضہ قرار دیتے ہوئے مخالفت کی ہے۔ منگل کو احتجاج کے دوران پولیس اور پی ٹی آئی کے حامیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس میں 5 افراد زخمی ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور فائرنگ بھی کی۔


پی ٹی آئی کے حامیوں نے صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔ سب سے سنگین جھڑپیں پشاور سے تقریباً 15 کلومیٹر دور باڑہ میں ہوئیں۔ پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے داغے اور گولیاں چلائیں۔ پارٹی نے اسے پُرامن احتجاج کرنے والے نہتے لوگوں کے خلاف کارروائی قرار دیا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، صوبائی انتظامیہ میں اطلاعات کا شعبہ سنبھالنے والی سمر ہارون بلور نے کہا کہ پولیس کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کردہ ویڈیوز کے ذریعے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔

پولیس کے مطابق، 50 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے خلاف سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان خراب کرنے کے الزامات کے تحت دہشت گردی اور توڑ پھوڑ سے متعلق مقدمات درج کیے جائیں گے۔ پولیس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ باڑہ میں مظاہرین نے نادرا (NADRA) کے ایک مرکز کو آگ لگا دی۔ تاہم، پی ٹی آئی کے سکریٹری اطلاعات اکرام خٹانہ نے اس دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آگ نامعلوم افراد نے لگائی تھی۔

شہباز شریف نے فیصلے کو ناگزیر قرار دیا
وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کو حکمراں اتحاد کے اتحادیوں کے ساتھ ایک اجلاس میں کہا کہ حکومت نے گورنر راج نافذ کرنے سے بچنے کی پوری کوشش کی تھی، لیکن مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت والی صوبائی حکومت پر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات نہ کرنے کا الزام لگایا۔

شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن (NFC) کے تحت خیبر پختونخوا کو 800 ارب پاکستانی روپے سے زیادہ فراہم کیے، لیکن اس کے باوجود صوبے کا محکمہ انسدادِ دہشت گردی مضبوط نہیں ہوسکا اور سیف سٹی منصوبے بھی قائم نہیں کیے گئے۔

شہباز شریف کے مطابق، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات 3 اکتوبر کو ناکام ہوگئے تھے۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ وہ سمجھوتے کے بجائے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔ دوسری جانب، پی ٹی آئی نے دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی حکومت کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ مسلح اور نقاب پوش افراد نے سہیل آفریدی کو اغوا کیا۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ حراست میں لیے جانے کے تین دن بعد بھی انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔ درخواست میں ان کی حراست کی قانونی وجوہات بتانے اور آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ ان الزامات پر عدالت کی جانب سے کسی فیصلے کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔




*ہندوستان کیلئے سنگین خطرات‘: ایلون مسک کے غیر متوقع طرزعمل کے علاوہ، اسٹارلنک کو کئی اعتبار سے قابو میں رکھنا مشکل*


روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے 2025 میں تین سال مکمل ہونے پر ایلون مسک نے فخریہ انداز سے کہا تھا کہ ان کا اسٹارلنک نظام ’’یوکرین کی فوج کی ریڑھ کی ہڈی‘‘ ہے۔ اس سے دو سال قبل انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس ’’ایک ہی دماغ میں حقیقی وقت میں عالمی معیشت سے متعلق اتنا ڈیٹا موجود ہے، جتنا تاریخ میں کسی اور کے پاس نہیں رہا۔‘‘ ان کا اشارہ ٹیسلا، اسٹارلنک اور ٹوئٹر، جسے اب ایکس (X) کہا جاتا ہے، کے ذریعے دستیاب ڈیٹا کی جانب تھا۔

ان بیانات سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی ایک شخص یا کمپنی کے پاس مواصلاتی نظاموں اور ڈیٹا تک اتنے وسیع پیمانے پر رسائی اور کنٹرول ہونا چاہیے؟ برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت دوسرے ممالک کی داخلی سیاست میں مسک کی کھلی مداخلت اور وہاں کی حکومتوں کے سیاسی مخالفین کی حمایت نے اس تشویش میں ایک اور پہلو شامل کردیا ہے۔ ایسے حالات میں اسٹارلنک کا بڑھتا ہوا دائرۂ اثر ہندوستان کی داخلی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے


مسئلہ صرف منی پور میں اسٹارلنک ٹرمینلز کی برآمدگی تک محدود نہیں ہے، جہاں نسلی کشیدگی اب بھی شدید ہے، یا انڈمان و نکوبار جزائر میں اسمگلروں کی جانب سے اس کے استعمال تک بھی محدود نہیں ہے۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ جب ہندوستانی حکومت نے ان آلات کے بارے میں معلومات طلب کیں تو کمپنی نے کیا ردعمل ظاہر کیا۔

دسمبر 2024 میں منی پور میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اسٹارلنک کا سامان برآمد ہونے کی خبریں سامنے آنے کے بعد مسک نے ایکس پر کہا تھا کہ ’’یہ غلط ہے۔ ہندوستان کے اوپر اسٹارلنک کی سیٹلائٹ بیمز بند ہیں۔‘‘ تاہم، تکشا شیلا انسٹی ٹیوشن (Takshashila Institution) کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق، حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

مقالے میں کہا گیا ہے کہ ’’جغرافیائی حدود متعین کرنے کے نظام میں خامیوں کی وجہ سے ممکن ہے کہ میانمار کی سرحد سے متصل ریاست کے بعض حصوں میں یہ آلات کام کرتے رہے ہوں۔‘‘ اسٹارلنک کے نچلے زمینی مدار (LEO) میں گردش کرنے والے سیٹلائٹس روایتی جیو اسٹیشنری سیٹلائٹس کے مقابلے میں زمین کے بہت زیادہ قریب کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے روایتی طریقوں سے ان کے سگنلز کو روکنا زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔

یہ چیلنج تکنیکی بھی ہے اور ضابطہ جاتی بھی۔ اسٹارلنک کے ٹرمینلز میں الیکٹرانک طور پر کنٹرول کیے جانے والے اینٹینا استعمال ہوتے ہیں، جو سیٹلائٹس کے ساتھ محدود دائرے میں مسلسل تبدیل ہوتے رہنے والے رابطے برقرار رکھتے ہیں۔ ان رابطوں کو جام کرنے کے لیے جیمر کو سگنل کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانا پڑتا ہے، جس کے لیے ممکنہ طور پر ٹرمینل کے قریب ہونا ضروری ہے۔ اور اگر ایک رابطہ منقطع بھی ہوجائے تو ٹرمینل چند ملی سیکنڈ میں کسی دوسرے سیٹلائٹ سے رابطہ قائم کرسکتا ہے۔ جیو اسٹیشنری سیٹلائٹ کے برعکس، جو آسمان میں تقریباً ایک ہی مقام پر دکھائی دیتا ہے، اسٹارلنک کے سیٹلائٹس مختلف مداری راستوں پر حرکت کرتے رہتے ہیں، جس سے انہیں مسلسل نشانہ بنانا کہیں زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔


ایلون مسک کا غیر متوقع طرزِ عمل
منی پور اور انڈمان و نکوبار جزائر کے واقعات، نیز ہندوستانی حکومت کی جانب سے معلومات طلب کیے جانے پر اسٹارلنک کا ردعمل، اس بارے میں بھی سوالات پیدا کرتا ہے کہ کمپنی قومی سلامتی کے اداروں کی جانب سے اٹھائے جانے والے خدشات سے کس طرح نمٹتی ہے۔

ایکس پر مسک کے جواب کے بعد اسٹارلنک نے ڈیٹا کی رازداری سے متعلق قوانین کا حوالہ دیا اور ہندوستانی حکام کو ہدایت دی کہ وہ اپنی درخواستیں امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں یا قائم شدہ بین الاقوامی طریقۂ کار کے ذریعے بھیجیں۔ کمپنی نے آلات کے صارفین اور ان کے استعمال کی سابقہ تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کردیا۔

تشویش صرف چند واقعات پر کمپنی کے ردعمل تک محدود نہیں ہے۔ مسک کو واشنگٹن میں بھی کافی اثر و رسوخ حاصل ہے، جبکہ اسپیس ایکس امریکی حکومت کے خلائی اور دفاعی پروگراموں میں اسٹریٹجک لحاظ سے ایک اہم مقام رکھتی ہے۔

2025 میں عوامی سطح پر تلخ کلامی کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مسک کے تعلقات برقرار رہے۔ مسک نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی انتخابی مہم میں نمایاں کردار ادا کیا اور بعد میں محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (DOGE) کے عملاً سربراہ بن گئے۔ دوسری جانب، اسپیس ایکس امریکی نیشنل ریکونیسنس آفس اور امریکی خلائی فوج کے لیے سیٹلائٹس لانچ کرتی ہے۔ ان میں میزائلوں کی پیشگی اطلاع اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی صلاحیتوں کو معاونت فراہم کرنے والے سیٹلائٹس بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، اسپیس ایکس ناسا کے انسانی خلائی پروازوں کے پروگراموں کی بھی ایک اہم شراکت دار ہے۔ ان پروگراموں میں نچلے زمینی مدار میں انسانوں کی مسلسل موجودگی برقرار رکھنے اور آرٹیمس (Artemis) کے تحت چاند کی تحقیق کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

تکشاشیلا انسٹی ٹیوشن کے تحقیقی مقالے کے مطابق، مسک کا سیاسی اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل منصوبوں میں اسپیس ایکس کا کردار، دونوں مل کر اسٹارلنک پر ان کے کنٹرول کو ہندوستان کے لیے تشویش کا باعث بناتے ہیں۔

یہ تعلق دوسری سمت میں بھی کام کرتا ہے، کیونکہ اسپیس ایکس اپنے تجارتی اور قومی سلامتی سے متعلق لانچوں، اسپیکٹرم کی تقسیم اور مدار کے لائسنسوں کے لیے امریکی حکومتی معاہدوں اور ضابطہ جاتی منظوریوں پر انحصار کرتی ہے۔ اس لیے واشنگٹن کے پاس ٹرمپ کے قریبی ساتھی ایلون مسک پر کافی اثر و رسوخ موجود ہے۔

ایسی صورت حال میں، جب امریکی اسٹریٹجک مفادات اس کا تقاضا کریں، تو امریکی حکومت اسپیس ایکس پر دباؤ ڈال سکتی ہے کہ وہ ہندوستان میں اسٹارلنک کے آپریشنز سے حاصل ہونے والا ڈیٹا شیئر کرے، مخصوص علاقوں میں سروس جاری رکھے یا بند کردے، یا ایسے اقدامات کرے جو ہندوستانی مفادات کے بجائے امریکی مفادات کو پورا کرتے ہوں۔ بالآخر، اسٹارلنک کے آپریشنز ایک ایسی کمپنی کے کنٹرول میں ہیں جو ایک غیر ملکی حکومت کے اختیارات اور مفادات کے تابع ہے۔

مقالے میں یوکرین کے معاملے میں مسک کے طرزِ عمل کو ایک انتباہ قرار دیا گیا ہے۔ 2022 میں روس کے بڑے پیمانے پر حملے کے بعد اسٹارلنک یوکرینی حکومت اور فوج کے مواصلاتی نظام کا مرکزی حصہ بن گیا تھا۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق مسک نے متعدد مواقع پر اس سروس تک رسائی محدود کردی اور کریمیا کے قریب اسٹارلنک فعال کرنے کی یوکرینی فوج کی درخواست مسترد کردی، جس سے میدانِ جنگ میں فوجی کارروائیاں متاثر ہوئیں۔

لہٰذا تشویش محض یہ نہیں کہ اسٹارلنک ایک غیر ملکی سروس ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومتیں اور سیکورٹی فورسز جس نظام پر انحصار کرنے لگیں، وہ ایک نجی کمپنی اور اس کے مالک کے عملی فیصلوں کے تابع رہ سکتا ہے۔

مقالے میں کہا گیا ہے کہ ’’اسٹارلنک کے وسیع پیمانے پر عام صارفین تک پھیلاؤ کے نتیجے میں داخلی سلامتی کی وجوہات کی بنا پر انٹرنیٹ تک رسائی کو منظم کرنے کی ریاستی صلاحیت ختم ہوسکتی ہے۔ اہم خدمات کے لیے اسٹارلنک پر انحصار کرنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب اس رابطے کی سب سے زیادہ ضرورت ہو، خاص طور پر کسی قدرتی آفت، بحران یا جنگ کے دوران، تو رابطہ منقطع ہوجائے۔‘‘

ایسے سیٹلائٹ نظام جن پر حکومتوں کا کنٹرول محدود ہوسکتا ہے
اسٹارلنک کو بند کرنے کی کوششوں کا جائزہ لینے سے حکومتی کنٹرول کی حدود مزید واضح ہوجاتی ہیں۔ اس کا نچلے زمینی مدار پر مبنی نظام روایتی جیمنگ کے ذریعے سروس کو غیر فعال کرنا مشکل بناتا ہے، جبکہ سروس کہاں دستیاب ہوگی، اس کا تعین کرنے کی صلاحیت آپریٹر کے پاس رہتی ہے۔

ایران اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ 2022 میں ہوئے احتجاج کے دوران مسک نے ایران میں اسٹارلنک فعال کردیا تھا، جس سے ٹرمینلز رکھنے والے افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی پر عائد حکومتی پابندیوں سے بچنے کا موقع ملا۔ جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے دوران بھی انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ ایران کے اوپر اسٹارلنک کی سیٹلائٹ بیمز فعال ہیں۔


ایران اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ 2022 میں ہوئے احتجاج کے دوران مسک نے ایران میں اسٹارلنک فعال کردیا تھا، جس سے ٹرمینلز رکھنے والے افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی پر عائد حکومتی پابندیوں سے بچنے کا موقع ملا۔ جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے دوران بھی انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ ایران کے اوپر اسٹارلنک کی سیٹلائٹ بیمز فعال ہیں۔

مقالے کے مطابق، جنوری 2026 میں احتجاج کے دوران اسٹارلنک کے استعمال کے جواب میں ایران نے جی پی ایس اور ریڈیو فریکوئنسی جیمنگ کا سہارا لیا۔ اس میں سیٹلائٹ مواصلات کے لیے استعمال ہونے والی کیو بینڈ (Ku-band) اور کے اے بینڈ (Ka-band) فریکوئنسیوں کو متاثر کرنے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بعض مقامات پر عارضی طور پر رابطہ متاثر ہوا، لیکن پورے نظام کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جاسکا۔

اطلاعات کے مطابق، ایران نے طویل فاصلے تک اثرانداز ہونے والے جیمرز بھی استعمال کیے، چھتوں پر نصب ٹرمینلز کی شناخت کے لیے ڈرون نگرانی کی اور آلات ضبط کرنے کے لیے گھر گھر تلاشی لی۔ اس کے باوجود سروس کو مکمل طور پر غیر فعال کرنا مشکل رہا۔

اطلاعات کے مطابق، ایران نے طویل فاصلے تک اثرانداز ہونے والے جیمرز بھی استعمال کیے، چھتوں پر نصب ٹرمینلز کی شناخت کے لیے ڈرون نگرانی کی اور آلات ضبط کرنے کے لیے گھر گھر تلاشی لی۔ اس کے باوجود سروس کو مکمل طور پر غیر فعال کرنا مشکل رہا۔

بعد ازاں تہران نے بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) سے شکایت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اسٹارلنک ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ آئی ٹی یو کے ریڈیو ریگولیشنز بورڈ نے اس صورت حال پر ’’شدید تشویش‘‘ کا اظہار کیا۔ تکشاشیلا کے مقالے کے مطابق، بورڈ نے نشاندہی کی کہ اسٹارلنک کا دعویٰ تھا کہ اس کے ٹرمینلز ایران میں نہ تو فروخت کیے گئے، نہ مارکیٹ کیے گئے اور نہ ہی فعال کیے گئے، لیکن کمپنی نے تمام غیر مجاز ٹرمینلز کو غیر فعال کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

بورڈ نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ اسٹارلنک نے دوسرے ممالک میں اپنے ٹرمینلز کو ان کے جغرافیائی محل وقوع کی بنیاد پر بڑی تعداد میں غیر فعال کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا، لیکن ایران میں اس نے ایسا کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

یہ واقعہ حکومتوں کے سامنے موجود مخمصے کو واضح کرتا ہے: سیٹلائٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی کے پاس کسی مخصوص علاقے میں رسائی محدود کرنے کی تکنیکی صلاحیت ہوسکتی ہے، لیکن جس ملک میں ٹرمینلز کام کررہے ہوں، وہاں کی حکومت لازماً اسے ایسا کرنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔

تکشا شیلا کے مقالے کے الفاظ میں، ’’جب حکومت کسی علاقے میں اسٹارلنک کی سروس بند کرنا چاہے تو ممکن ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر فعال رہے۔ اس کے برعکس، جب حکومت کو سروس کی ضرورت ہو تو اسے بند کیا جاسکتا ہے۔‘‘

ہندوستان کے لیے اس صورت حال سے دو طرفہ خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ اسٹارلنک کسی ایسے علاقے میں فعال رہ سکتا ہے جہاں حکومت سیکورٹی وجوہات کی بنا پر مواصلات محدود کرنا چاہتی ہو۔ اس کے برعکس، کسی بحران کے دوران، جب حکام کو رابطے کی سب سے زیادہ ضرورت ہو، کنکشن منقطع بھی کیا جاسکتا ہے۔

ہندوستانی حکومت کیا چاہتی ہے؟
ہندوستان نے سیٹلائٹ مواصلات فراہم کرنے والی کمپنیوں پر سیکورٹی سے متعلق متعدد شرائط عائد کرکے ان خدشات کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ مئی 2025 میں محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن نے گلوبل موبائل پرسنل کمیونیکیشن بائی سیٹلائٹ (GMPCS) لائسنس رکھنے والے آپریٹرز کے لیے اضافی تقاضے جاری کیے تھے۔

ان قواعد کے تحت آپریٹرز کو سیکورٹی اداروں کے لیے حقیقی وقت میں نگرانی کی سہولتیں فراہم کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہندوستانی صارفین کی جانب آنے اور جانے والی انٹرنیٹ ٹریفک ہندوستان میں واقع گیٹ ویز کے ذریعے منتقل ہو۔ ان قواعد میں ہندوستانی صارفین کی ٹریفک کو منتقل کرنے کے لیے بین سیٹلائٹ رابطوں (Inter-satellite Links) کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے، حتیٰ کہ گیٹ وے کی خرابی کی صورت میں بھی ایسا نہیں کیا جاسکتا۔ آپریٹرز کو محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کے ٹیلی کام سیکورٹی آپریشن سینٹر کے ذریعے میٹا ڈیٹا جمع کرنے میں تعاون بھی کرنا ہوگا۔ لائسنس رکھنے والی کمپنیوں کو یہ ضمانت بھی دینی ہوگی کہ ہندوستانی ٹیلی کام ڈیٹا کی نقل ملک سے باہر نہیں بنائی جائے گی اور نہ ہی اسے ملک سے باہر ڈی کرپٹ کیا جائے گا

 شرائط سرحدی سیکورٹی تک بھی پھیلی ہوئی ہیں۔ بین الاقوامی اور ساحلی سرحدوں سے 50 کلومیٹر کے اندر واقع علاقوں کو، بشمول 200 سمندری میل تک پھیلے ہوئے خصوصی اقتصادی زون (Exclusive Economic Zone)، خصوصی نگرانی کے علاقے قرار دیا گیا ہے۔ آپریٹرز کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے صارفین کی سرگرمیوں کی نگرانی میں تعاون کرنا ہوگا۔ مسلح تصادم کے دوران یا حکام کی ہدایت پر انہیں مخصوص افراد، گروہوں یا علاقوں کے لیے سروس محدود یا بند کرنا ہوگی۔ قواعد میں مقام کی جعلی معلومات فراہم کرنے پر بھی پابندی ہے اور یہ تقاضا کیا گیا ہے کہ بلاک کی گئی ویب سائٹس سیٹلائٹ سروسز کے ذریعے بھی قابلِ رسائی نہ ہوں۔

ہندوستان نے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ اس کی ترقی پر بھی کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ لائسنس کی شرائط کے مطابق، آپریٹرز کو مرحلہ وار مینوفیکچرنگ سے متعلق ایک پروگرام پیش کرنا ہوگا، جس کا مقصد تجارتی آغاز کے پانچ سال کے اندر سیٹلائٹ نیٹ ورک کے زمینی حصے کا کم از کم 20 فیصد ہندوستان میں تیار کرنا ہے۔ آپریٹرز کو یہ بھی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ صارفین کے ٹرمینلز میں ہندوستان کے مقامی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام نیویگ (NavIC) کو شامل کریں۔ اس نظام کو 2029 تک مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے مرحلہ وار منصوبہ پیش کرنا ہوگا، تاہم یہ ہدف بہترین ممکنہ کوششوں کی بنیاد پر رکھا گیا ہے۔

علاوہ ازیں، انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر (IN-SPACe) نے جنوری 2026 میں اسٹارلنک کے Gen 2 سیٹلائٹ نیٹ ورک کے لیے درخواست مسترد کردی تھی۔ Gen 2 نظام میں ڈائریکٹ ٹو ڈیوائس (D2D) ٹیکنالوجی شامل ہے، جس کے ذریعے سیٹلائٹس روایتی زمینی ٹرمینلز کے بغیر براہِ راست موبائل فونز سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔ فی الحال ہندوستان میں ڈائریکٹ ٹو ڈیوائس سیٹلائٹ سروسز کے لیے کوئی ضابطہ جاتی فریم ورک موجود نہیں ہے اور محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن اس حوالے سے اپنی پالیسی پر غور کررہا ہے۔

تاہم، اشون پرساد راؤ، آدتیہ رامناتھن اور کرنل داس (ریٹائرڈ) کے تحریر کردہ تحقیقی مقالے میں دلیل دی گئی ہے کہ کاغذ پر سخت شرائط عائد کردینا اس بات کی ضمانت نہیں کہ عملی طور پر بھی مؤثر کنٹرول قائم ہوجائے گا۔

بین سیٹلائٹ رابطوں پر پابندیاں اس کی ایک مثال ہیں۔ اسٹارلنک کے نظام میں سیٹلائٹس کے پورے نیٹ ورک کے اندر ٹریفک منتقل کرنے کے لیے ان رابطوں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کی شرائط کے تحت، کسی ہندوستانی ٹرمینل سے شروع ہونے والی ٹریفک کو ایک سیٹلائٹ کے ذریعے سفر کرکے براہِ راست ہندوستانی گیٹ وے تک واپس آنا ہوگا، نہ کہ مداری نیٹ ورک کے دوسرے سیٹلائٹس کے ذریعے منتقل ہونا ہوگا۔ اگر کوئی ہندوستانی گیٹ وے ناکام ہوجائے تو کنکشن کو کسی دوسرے سیٹلائٹ یا گیٹ وے کے ذریعے منتقل نہیں کیا جاسکے گا، بلکہ وہ مکمل طور پر بند ہوجائے گا۔

یہ شرط سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ایک بنیادی فائدے کو کمزور کرتی ہے: مختلف سیٹلائٹس کے باہم منسلک نیٹ ورک کے ذریعے ٹریفک منتقل کرکے رابطہ برقرار رکھنے کی صلاحیت۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہندوستانی حکام ملک کے اندر قائم گیٹ ویز پر سرگرمیوں کی نگرانی تو کرسکتے ہیں، لیکن مدار میں موجود سیٹلائٹس کے درمیان ہونے والی سرگرمیوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکتے۔ مقالے کے مطابق، صرف زمینی نگرانی کے ذریعے قابلِ اعتماد طور پر یہ معلوم نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی ڈیٹا پیکٹ ہندوستانی گیٹ وے تک پہنچنے سے پہلے بین سیٹلائٹ رابطے سے گزرا تھا یا نہیں۔


ایران کا معاملہ ایک اور پیچیدگی سامنے لاتا ہے۔ آئی ٹی یو نے پایا تھا کہ اسٹارلنک میں مقام کی بنیاد پر بڑی تعداد میں ٹرمینلز کو غیر فعال کرنے کی صلاحیت موجود تھی، لیکن ایران میں ایسا نہیں کیا گیا تھا۔

مجوزہ ڈائریکٹ ٹو ڈیوائس ٹیکنالوجی ایک اور ضابطہ جاتی چیلنج پیدا کرسکتی ہے۔ سیٹلائٹ سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے والے موبائل فون کو روایتی زمینی ٹرمینل کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس طرح گیٹ ویز پر انحصار کرنے والے نظام کو نظرانداز کرنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے، جس پر ہندوستان کے موجودہ قواعد کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس نظام کے ڈیزائن اور ٹریفک کی ترسیل کے طریقے کے لحاظ سے ہندوستان کے موجودہ قواعد، خصوصاً ٹریفک کی منتقلی اور ڈیٹا کو ملک کے اندر محفوظ رکھنے سے متعلق تقاضوں پر عمل درآمد مشکل ہوسکتا ہے۔
مقالے کے مطابق، بنیادی مسئلہ اب بھی حل طلب ہے: پورے سیٹلائٹ نیٹ ورک کا عملی کنٹرول اسپیس ایکس کے پاس ہے۔ ہندوستان شرائط عائد کرسکتا ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس منسوخ کرسکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ کمپنی کو کسی بحران کے دوران سروس جاری رکھنے یا قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت اسے بند کرنے پر مجبور بھی کرسکے۔

🛑*سیف نیوز بلاگر*

*ایران میں ان 4 جگہوں سے داخل ہوسکتے ہیں امریکی فوجی؟ تہران نے تعینات کردی 50 خونخوار یونٹس، میزائل کو دی 1000 کلومیٹر والی دھار...