*🛑چچا چھپن.... ڈاکٹر مبین نذیر*
آپ نے نہیں تو آپ کے ممی پاپا نے چچا چھکن کے کارنامے ضرور پڑھے اور سنے ہوں گے ۔ کبھی موبائل سے فرصت ملے تو ان کے کارنامے ضرور سننا ۔ چچا چھکن اب رہے نہیں لیکن ان کی وراثت ان کے قابل بھتیجے چچا چھپن سنبھالے ہوئے ہیں ۔چچا چھکن کے بعد اگر کسی نے خاندان کی عزت بچائی ہے تو وہ ہمارے چچا چھپن ہیں ۔
چچا چھکن کی طرح چچا چھپن کا اصل نام بھی ان کے کارناموں کے نیچے اتنا دب دیا گیا کہ خود انھیں بھی اپنا نام یاد نہیں رہتا ۔ وہ پانچ بہنوں اور چھ بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔ ایک مرتبہ اسکول میں خاندانی معلومات کا فارم بھر کر لانے کے لیے دیا گیا تو چچا پانچ کے آگے چھ لکھ کر لے آئے ۔ ٹیچر نے چھپن کا عدد دیکھا تو حیرت سے پوچھا کہ
چھپن بھائی بہن ؟
نہیں، پانچ بہن اور چھ بھائی...
اتنا کہنا تھا کہ پوری کلاس قہقہوں سے گونج اٹھی ۔ اسی دن سے ان کا نام چھپن پڑ گیا ۔ کلاس تو کلاس، محلے میں بھی وہ اسی نام سے مشہور ہو گئے ۔ چونکہ چچا چھکن کے بھتیجے تھے، اس لیے اپنے چچا کے ہم وزن نام کو خوش دلی سے قبول کر لیا ۔ کچھ اور بڑے ہوئے تو چچا چھپن کہلانے لگے اور ہر معاملے میں چھپن کو مقدم کرکے دکھا دیا ۔
چچا نے بہت کوشش کی کہ نکاح بھی چھپن تاریخ کو ہی کریں اور کسی چھپن سالہ دوشیزہ سے کریں مگر قسمت نے ساتھ نہیں دیا تو پانچ جون کو چچی کو ہی قبول کر لیا ۔بائک خریدی تو اس لکی نمبر کے لیے زائد پیسے ادا کیے ۔ موبائل نمبر بھی ایسا پسند کیا جو موبائل نمبر کم اور چھپن کی سیریز زیادہ معلوم ہوتا تھا ۔ ورزش شروع کی تاکہ سینہ چھپن انچ کا ہوسکے ۔ سینہ تو چھپن انچ کا نہیں ہوسکا البتہ وزن کم ہوکر چھپن کلو رہ گیا ۔وزن میں کمی بیشی نہ ہو اس لیے چچا ترازو لے آئے اور صبح شام وزن چیک کرنے لگے۔
جس دن وزن کم یا زیادہ ہوتا اس دن چچا کا پارہ چڑھ جاتا اور چچی سمیت بچوں کی شامت آجاتی ۔ کبھی وزن بڑھانے کے لئے ڈاکٹر کے پاس جارہے ہیں تو کبھی وزن کم کرنے کے لیے حکیم صاحب کے یہاں چکر لگارہے ہیں ۔ وزن کے چکر میں کمزوری بڑھنے لگی تو مزاج میں چڑ چڑا پن آگیا ۔ معمولی باتوں پر ان کا پارہ چھپن ڈگری اوپر چلا جاتا تو دوسرے ہی پل اتنا ہی نیچے جانے کے لیے بے تاب ہوجاتا ۔ مزاج اور یادداشت کے معاملے میں وہ چچا چھکن سے دو قدم آگے تھے ۔
اپنے جڑواں بچوں جمن اور اچھن کی بائک لینے کے لیے گھر سے نکلے اور دونوں کو لے کر سائیکل کی دکان پر پہنچ گئے ۔ بچوں کے یاد دلانے پر شوروم پہنچے تو بچوں کو نئی بائک دلادی لیکن گاڑی کے رجسٹریشن کے لیے خود تشریف لے گئے اور چھپن چھپن نمبر کے لیے زائد رقم ادا کی ۔
جب بچوں نے وہی گھسا پٹا نمبر دیکھا تو ناک بھوں سکوڑے ۔کیوں کہ کالج میں دوست انھیں اس خاص نمبر کے اہتمام کی وجہ سے تنگ کرتے تھے ۔ چچا چھپن نے اعلان کر دیا کہ گاڑی کا نمبرپسند نہیں ہے تو پیدل ہی کالج جائیں ۔مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق جمن اور اچھن نے بائک تو لے لی لیکن نمبر پلیٹ اس طرح بنوائی کہ چھپن بڑے غور سے دیکھنے پر دکھائی دیتا تھا ۔
چچا کو ترکہ ملا تو چچا چھپن نے پلاٹ خریدنے کی ٹھانی ۔ سارا کنبہ پلاٹ دیکھنے گیا مگر چچا کی نگاہ میں پلاٹ کے محل وقوع سے زیادہ اہمیت اس کے نمبر کی تھی۔ چچی اور بچوں کو لب ِ سڑک کا پلاٹ پسند آیا تو چچا نے نشیب میں واقع اپنے پسندیدہ نمبر کا پلاٹ پسند کیا ۔ چچی کا پسند فرمودہ پلاٹ کارنر کا پلاٹ تھا ۔لیکن چھپن کے کرشماتی نمبر کی وجہ سے چچا نے آخری پلاٹ کا سودا کرلیا ۔ جہاں ہر وقت بارش کا پانی اور گندگی جمع رہتی تھی ۔ چچا نے اس کی یہ فضیلت بیان کی کہ گندگی اور کیچڑ کی وجہ سے کوئی اس پلاٹ پر ناجائز قبضہ نہیں کرسکے گا اور نہ ہی کوئی ایسا پلاٹ خریدے گا اور ہم اسٹیٹ بروکرس کی دھوکہ دہی سے محفوظ رہیں گے ۔ چچا کی اس منطق پر اسٹیٹ بروکر جو اس پلاٹ کو دکھا رہا تھا ، صدمے کی وجہ سے گرتے گرتے بچا اور گھر والے مسکرا کر رہ گئے ۔ چچی کے دماغ پر بھی چھپن کا عدد کچھ اس طرح سے سوار تھا کہ وہ کبھی کبھی بے خیالی میں اچھن کے ابا کی بجائے چھپن کے ابا پکار اٹھتی تھیں اور چچا بجائے ناراض ہونے کے کھل اٹھتے تھے ۔ البتہ چچی چچا کے اس محبوب نمبر کو اپنی سوتن سمجھتی تھیں ۔ چچا کی چھپن دوستی پر کڑھ کر کہہ اٹھتیں، "آپ کو مجھ سے زیادہ تو یہ چھپن عزیز ہے۔
چچا مسکرا کر کہتے ، نہیں بیگم، ایسا نہیں ہے ۔ تم میری محبت ہو اور چھپن میری عقیدت اور چچی شرما کر رہ جاتیں ۔
جمن اور اچھن میں سے جس کو امتحان میں چھپن مارکس ملتے تھے چچا اسے زیادہ انعام دیتے تھے ۔ دونوں بھائیوں نے چچا سے پیسے اینٹھنے کا یہ طریقہ دھونڈ نکالا کہ جو چیز پسند آجاتی، اس کی قیمت چھپن روپے بتاتے اور چچا موم ہوجاتے ۔ البتہ چچا کا ساری زندگی یہ معمول رہا کہ مغرب کی اذان کے بعد کسی کو ایک روپیہ بھی نہیں دیتے تھے ۔ بچے بھی مغرب سے پہلے ہی وصولی کر لیتے تھے ۔
چچا چھپن کے کارناموں کی تعداد بھی چھپن ہے ۔ چھپن کارناموں کے بعد چچا نے کارناموں سے توبہ کرلی تاکہ یہ نمبر کہیں کھو نہ جائے ۔اگر ہم چچا چھپن کے چھپن کارناموں کو گنوانے بیٹھیں تو چھپن دفتر درکار ہوں گے ۔ اگر چچا چھکن زندہ ہوتے تو یقیناً اپنے بھتیجے کے کارناموں کو دیکھ کر یہی کہتے کہ تم نے نہ صرف ہمارے نام بلکہ کام کی بھی لاج رکھ لی ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
*🛑بہتر بلڈ پریشر کنٹرول کے لیے صرف نمک کم نہ کریں، پوٹاشیم بھی بڑھائیں*
ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے عام طور پر نمک یعنی سوڈیم کم کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، تاہم نئی تحقیق کے مطابق خوراک میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھانا بھی بلڈ پریشر کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ میڈیکل نیوز ٹوڈے کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سوڈیم کے بجائے پوٹاشیم اور سوڈیم کا تناسب دل اور خون کی شریانوں کی صحت کا زیادہ بہتر اشارہ ہو سکتا ہے۔
دی امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلڈ پریشر کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنے کے لیے سوڈیم کم کرنے کے ساتھ پوٹاشیم بڑھانا چاہیے۔
زیادہ تر امریکی روزانہ تقریباً 3,400 ملی گرام سوڈیم استعمال کرتے ہیں، جو تجویز کردہ 2,300 ملی گرام سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ اس کا تقریباً 70 فیصد حصہ ریستورانوں اور پراسیس شدہ غذاؤں سے آتا ہے۔ دوسری جانب 98 فیصد سے زیادہ امریکی بالغ افراد روزانہ پوٹاشیم کی تجویز کردہ مقدار بھی پوری نہیں کرتے۔
پوٹاشیم بلڈ پریشر کے لیے کیوں اہم ہے؟
حالیہ تحقیق کے مطابق زیادہ سوڈیم کا استعمال ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتا ہے، جبکہ پوٹاشیم جسم میں سوڈیم کے اثرات کو متوازن کرنے، اضافی سوڈیم خارج کرنے اور خون کی شریانوں کو پُرسکون رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ماہر غذائیت جین ہرنانڈیز کے مطابق 2025 کی ایک تحقیق کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد اگر روزانہ تقریباً 2,000 ملی گرام اضافی پوٹاشیم لیں تو سسٹولک بلڈ پریشر تقریباً 5 mmHg اور ڈائسٹولک تقریباً 3 mmHg کم ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف پوٹاشیم بڑھانا بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن بلڈ پریشر کم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ پوٹاشیم میں اضافہ اور کم سوڈیم والی خوراک دونوں کو اپنانا ہے۔ تاہم صرف غذائی تبدیلیوں کو مکمل علاج نہیں سمجھنا چاہیے؛ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات اور دیگر اقدامات بھی ضروری ہیں۔
اثر کتنی جلد ظاہر ہوتا ہے؟
پوٹاشیم بڑھانے کا اثر فوری طور پر ظاہر ہونا ضروری نہیں۔ بعض افراد میں ایک ہفتے کے اندر تبدیلی آ سکتی ہے، جبکہ بعض کو زیادہ وقت لگتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ادویات، عمر اور جینیاتی عوامل بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
شروع میں سوڈیم کم کرنے سے جسم میں اضافی سیال کی مقدار کم ہوتی ہے، جس سے بلڈ پریشر میں کمی آ سکتی ہے۔ اس کے بعد پوٹاشیم خون کی شریانوں کو پُرسکون کرنے میں مدد دیتا ہے اور ایک سے دو ہفتوں کے دوران مزید بہتری آ سکتی ہے۔ اس دوران بلڈ پریشر کی باقاعدگی سے نگرانی ضروری ہے۔
روزانہ کتنا سوڈیم اور پوٹاشیم؟
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق روزانہ 2,300 ملی گرام سے زیادہ سوڈیم نہیں لینا چاہیے، جبکہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں سمیت بیشتر بالغ افراد کے لیے تقریباً 1,500 ملی گرام کا ہدف زیادہ بہتر ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف اوپر سے ڈالا جانے والا نمک نہیں بلکہ ریستورانوں کے کھانے، ڈبہ بند اور منجمد غذاؤں، پیک بریڈ اور سنیکس میں موجود چھپا ہوا سوڈیم بھی ہے۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے روزانہ 3,500 سے 5,000 ملی گرام پوٹاشیم حاصل کرنے کا ہدف تجویز کرتی ہے۔
پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں
ماہرین کے مطابق پھل، سبزیاں اور دالیں پوٹاشیم کے اچھے ذرائع ہیں۔ کیلے کے علاوہ درج ذیل غذائیں بھی پوٹاشیم سے بھرپور ہیں:
چھلکے سمیت درمیانے سائز کا بیک کیا ہوا آلو: 919 ملی گرام
تازہ بیک کیا ہوا سالمن: 763 ملی گرام
آدھا کپ پکی ہوئی پالک: 591 ملی گرام
ایک کپ خربوزہ: 417 ملی گرام
8 اونس دودھ: 388 ملی گرام
آدھا کپ پکی ہوئی پنٹو بینز: 373 ملی گرام
ماہرین قدرتی غذاؤں کے ذریعے پوٹاشیم حاصل کرنے کو سپلیمنٹس پر ترجیح دیتے ہیں۔
کن افراد کو احتیاط کرنی چاہیے؟
گردوں کے دائمی مرض، دل کی کمزوری یا خون میں پہلے ہی زیادہ پوٹاشیم رکھنے والے افراد کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر پوٹاشیم کی مقدار نہیں بڑھانی چاہیے۔
*🛑تحریکِ تحفظ دستور و شریعت: انصاف کی آئینی بالادستی، مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ملک گیر عوامی تحریک*
نئی دہلی: ہندوستان کا دستور تمام شہریوں کو مساوی حقوق، مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ، عزت و وقار اور قانون کے مساوی نفاذ کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں ایسے حالات مسلسل پیدا ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں ملک کے کمزور ومحروم طبقات بالخصوص مسلمان، مذہبی، سماجی، سیاسی اور معاشی سطح پر شدید دباؤ، عدم تحفظ اور امتیازی رویوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
ہجومی تشدد، ماورائے قانون بلڈوزر کارروائیاں، مساجد، مدارس اور درگاہوں کو نشانہ بنانا، اوقافی املاک اور قبرستانوں پر ناجائز قبضے، مسلم نوجوانوں کی بے بنیاد مقدمات کے تحت بے جا گرفتاریاں، مذہبی آزادی میں مداخلت، یو سی سی کے ذریعہ مسلم پرسنل لا کو بے اثر بنانے کی کوششیں، وندے ماترم کے لزوم کے ذریعہ اقلیتوں کے عقائد پر ضرب لگانے کی کوششیں، نظام تعلیم اور نصاب تعلیم سے چھیڑ چھاڑ اور تعلیمی اداروں میں ایسے اقدامات جن سے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں۔
ہندوستان کا آئینی تشخص، جمہوری اقدار اور مشترکہ قومی ورثہ
ان سب اقدامات نے نہ صرف ملک کی ایک بڑی آبادی میں احساس عدم تحفظ کو گہرا کیا ہے بلکہ دستور ہند، قانون کی حکمرانی، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے بھی سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ یہ صورت حال محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندوستان کے آئینی تشخص، جمہوری اقدار اور مشترکہ قومی ورثے کا معاملہ ہے۔
ان ہی حالات کے پیش نظر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، ملک کے انصاف پسند، جمہوریت پسند ، امن پسند اور دستور پر یقین رکھنے والے تمام طبقات، مذہبی و سماجی تنظیموں، دانشوروں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے اشتراک سے تحریک تحفظ دستور و شریعت کے عنوان سے ایک ملک گیر عوامی تحریک کا آغاز کر رہا ہے۔ اس تحریک کا مقصد دستور کی بالا دستی ، قانون کی حکمرانی ، عدل و انصاف، مذہبی آزادی ، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ تحریک مجلس عمل کے ذریعے درج ذیل منصوبے کے مطابق چلائی جائے گی۔
یو سی سی کے نفاذ اور وندے ماترم کے لزوم کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا۔
ظلم و نا انصافی کے متاثرین کو قانونی، سماجی اور عوامی تعاون فراہم کرنا۔
مسلمانوں کی جان و مال ، مذہبی آزادی اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنا۔
انصاف پسند افراد، تنظیموں اور سول سوسائٹی کو ایک مشتر کہ قومی پلیٹ فارم پر متحد کرنا۔
نفرت ، فرقہ واریت اور تشدد کے مقابلے میں امن، اخوت، محبت اور باہمی احترام کے پیغام کو عام کرنا۔
پُرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر چلائی جائے گی تحریک
یہ تحریک مکمل طور پر آئینی، جمہوری، پُرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر چلائی جائے گی۔ تحریک کا ہر پروگرام اس انداز سے ترتیب دیا جائے گا کہ کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی ، تشدد یا امن و امان میں خلل پیدا نہ ہو، بلکہ ملک میں امن، بھائی چارے، مکالمے اور دستور پسندی کو فروغ ملے۔
1 - عوامی اجتماعات اور احتجاج
ملک کے مختلف بڑے شہروں میں آئینی و پُرامن عوامی اجتماعات اور احتجاجی پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جن سے ممتاز علماء مختلف مذاہب کے رہنما، دانشور، سماجی و سیاسی شخصیات خطاب کریں گی۔
2۔ وہائٹ پیپر کی اشاعت (White Paper)
مسلمانوں کے خلاف پیش آنے والے واقعات، آئینی خلاف ورزیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر مشتمل ایک جامع وہائٹ پیپر تیار کیا جائے گا، جسے میڈیا ، انسانی حقوق کی تنظیموں، دانشوروں ، عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے گا۔
3- قانونی رہنما کتابچہ (Legal Booklet)
غیر قانونی انہدام، بلڈوزر کارروائیوں، اوقافی املاک ، قبرستانوں، مساجد اور مدارس کے تحفظ سے متعلق قانونی حقوق، عدالتی رہنمائی اور عملی اقدامات پر مشتمل ایک جامع قانونی رہنما کتابچہ شائع کیا جائے گا۔
4 ہجومی تشدد پر جامع اعلامیہ (Mob Lynching)
ہجومی تشدد کے مسئلے پر ایک جامع اعلامیہ جاری کیا جائے گا ، جس میں قانون کی بالا دستی ، ریاست و انتظامیہ کی ذمہ داریاں، متاثرین کے قانونی حقوق اور ملکی قوانین کے مطابق جان و مال کے تحفظ کے حق کو واضح کیا جائے گا۔
5۔ چارٹر آف ڈیمانڈ Charter of Demands
ہر ریاست میں گورنر اور ہر ضلع میں ضلعی انتظامیہ کے ذریعے صدر جمہوریہ ہند کو ایک جامع چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جائے گا، جس میں آئینی حقوق کے تحفظ ، نفرت انگیز جرائم کے خاتمے، مذہبی آزادی، غیر قانونی انہدام کی روک تھام، اوقافی املاک اور مذہبی مقامات کے تحفظ اور قانون کی مساوی عملداری سے متعلق مطالبات شامل ہوں گے۔
تحریک کے ہر مرحلے پر پریس کانفرنسوں ، میڈیا بریفنگ ، ویڈیوڈا کومنٹیشن ، سوشل میڈیا مہمات اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، خصوصاً ایکس پر مربوط ہیش ٹیگ مہم چلائی جائے گی۔
7۔ دہلی میں عظیم الشان قومی اجتماع
تحریک کے ایک اہم مرحلے پر نئی دہلی میں ایک بڑا عوامی اجتماع و احتجاج منعقد کیا جائے گا، جس میں ملک بھر سے مختلف طبقات ، مذاہب اور مکاتب فکر کے نمائندوں کو شریک کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی اجتماع میں تحریک کے آئندہ مرحلے کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔
ہماری اپیل
تحریک برائے تحفظ ملک وملت کسی ایک طبقے یا برادری کی تحریک نہیں، بلکہ ہندوستان کے دستور ، جمہوریت کی بالا دستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، انسانی وقار، قومی یکجہتی اور امن واخوت کے تحفظ کی مشترکہ قومی جدو جہد ہے۔
سول سوسائٹی کے ہر فرد کو قومی تحریک میں شریک ہونے کی دعوت
ہمیں یقین ہے کہ انصاف، محبت، مکالمہ، باہمی احترام اور آئینی جدو جہد ہی ہندوستان کے روشن ، مضبوط اور پُرامن مستقبل کی حقیقی ضمانت ہیں۔ اسی یقین کے ساتھ ہم ملک کے ہر انصاف پسند ، جمہوریت پسند اور امن پسند شہری ، ہر سماجی و مذہبی تنظیم اور سول سوسائٹی کے ہر ذمہ دار فرد کو اس قومی تحریک میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔
اس پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے حضرات کے نام اس طرح ہیں:
نام عہدہ
جناب سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند و نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
مولانا محمد علی محسن تقوی نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
مولانا محمد فضل الرحیم مجددی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
مولانا سید محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند
مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی بدایونی سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
جناب عارف مسعود ایم ایل اے رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
مولانا محمد ابو طالب رحمانی رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس ترجمان، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ