*🛑انڈیا الائنس کی میٹنگ میں کون کون ہوئے شامل؟ کانگریس نے جاری کی مکمل فہرست*
نئی دہلی : اپوزیشن کے انڈیا الائنس کی میٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ انتخابی کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر سے متعلق تنازع کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی یہ میٹنگ ہو رہی ہے۔ میٹنگ کے ایجنڈے میں الیکشن کمیشن اور اس سے متعلق تنازعات شامل ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے انتخابی کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرکے بتایا کہ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں کون کون سی جماعتیں شامل ہوئی ہیں۔
ان جماعتوں نے میٹنگ میں کی شرکت
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر مکمل فہرست شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انڈیا الائنس کی میٹنگ ابھی شروع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق میٹنگ میں شامل جماعتوں میں کانگریس، سماج وادی پارٹی، ترنمول کانگریس، این سی پی (شرد پوار)، شیو سینا (یو بی ٹی)، راشٹریہ جنتا دل، سی پی ایم، سی پی آئی، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس، جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، سی پی آئی (ایم ایل)، انڈین یونین مسلم لیگ، کیرالہ کانگریس (ایم)، ایم ڈی ایم کے، وی سی کے، آر ایس پی، کیرالہ کانگریس (جے)، اور اے آئی ایف بی شامل ہیں۔جے رام رمیش نے کہا کہ یہ اور دیگر اپوزیشن جماعتیں مودی حکومت کی جانب سے آئین پر کیے جانے والے مبینہ حملوں کے خلاف متحد ہیں۔ انہوں نے انتخابی کمیشن کے ذریعے ووٹوں کی چوری کی مبینہ سازش کو بھی اس سلسلے کی تازہ مثال قرار دیا۔
انڈیا الائنس سے دو جماعتوں نے بنائی دوری
رپورٹ کے مطابق انڈیا الائنس سے دو جماعتیں الگ ہو چکی ہیں۔ پہلے اس اتحاد میں 23 جماعتیں شامل تھیں، اب دو جماعتوں کے الگ ہونے کے بعد یہ تعداد 21 رہ گئی ہے۔ عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے نے اتحاد سے دوری اختیار کی ہے۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اب ان کا انڈیا بلاک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو بھی اس میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ ان کی جگہ پارٹی کے دو ارکان پارلیمنٹ ہریندر ملک اور محیب اللہ ندوی میٹنگ میں پہنچے ہیں۔
اپوزیشن کے خلاف لگائے گئے پوسٹر
انڈیا الائنس کی میٹنگ سے قبل کانسٹی ٹیوشن کلب کے آس پاس بھی ایسے پوسٹر سامنے آئے ہیں، جن میں اپوزیشن لیڈروں پر الیکشن کمیشن کے معاملے میں ’دوہرے معیار‘ اپنانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ان پوسٹرز میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال، ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی، شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے، ڈی ایم کے سربراہ ایم کے اسٹالن، کانگریس کی سوشل میڈیا چیئرپرسن سپریا شرینیت، ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی اور کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کی تصاویر استعمال کی گئی ہیں۔ان پوسٹرز میں اپوزیشن جماعتوں کے الیکشن کمیشن سے متعلق موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں مبینہ طور پر ’دوہرا معیار‘ اپنانے کا الزام لگایا گیا ہے۔
نئی دہلی : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی اور اے آئی شعبے کے بڑے عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کے بعد آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا نام ’سپر انٹیلی جنس‘ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 29 ستمبر کو ہونے والی اس ملاقات میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی کئی بڑی شخصیات موجود تھیں، جن میں میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ، گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور ایلون مسک شامل تھے۔ ٹرمپ نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ امریکی انتظامیہ اب سرکاری طور پر ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ کی جگہ ’سپر انٹیلی جنس‘ اور ’اے آئی‘ کی جگہ ’ایس آئی‘ کی اصطلاح استعمال کرے گی۔
’اے آئی نہیں، سپر انٹیلی جنس‘
ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کا نام تبدیل کرنے سے متعلق دستاویز پر دستخط کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں یہ ٹیکنالوجی صرف ’آرٹیفیشل‘ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اس کا نام ’سپر انٹیلی جنس‘ ہوگا اور اسے سرکاری طور پر ایس آئی کہا جائے گا۔ٹرمپ اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکی سرکاری دستاویزات میں ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ کی جگہ ’سپر انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح استعمال کی جائے گی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اپنے بین الاقوامی امور کے بیورو میں سفارت کاروں کو ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ کی جگہ ’سپر انٹیلی جنس‘ استعمال کرنے کی ہدایت دی تھی۔
زکربرگ، پچائی اور ایلون مسک سمیت کئی ٹیک لیڈرز موجود
وائٹ ہاؤس کی ملاقات میں میٹا کے مارک زکربرگ، گوگل کے سندر پچائی اور ایلون مسک کے علاوہ اے آئی اور ٹیکنالوجی شعبے کی دیگر بڑی شخصیات بھی موجود تھیں۔ اجلاس میں اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی، اس کے استعمال اور حفاظتی اقدامات پر بھی بات ہوئی۔
سرکاری استعمال کے لیے نئی اصطلاح
دستخط کیے گئے حکم کے تحت امریکی حکومت میں استعمال ہونے والی اصطلاحات میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ’سپر انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح اس ٹیکنالوجی کی صلاحیت، تیزی سے ہونے والی پیش رفت اور مستقبل کے امکانات کو زیادہ بہتر انداز میں ظاہر کرتی ہے۔تاہم، یہ واضح رہے کہ یہ تبدیلی بنیادی طور پر امریکی حکومت کی سرکاری اصطلاحات اور دستاویزات سے متعلق ہے۔ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے لیے ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ یا ’اے آئی‘ کی اصطلاح کا استعمال فوری طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ ’سپر انٹیلی جنس‘ خود اے آئی کے شعبے میں پہلے سے ایک مخصوص اصطلاح ہے، جو عام طور پر ایسی مشین یا نظام کے تصور کے لیے استعمال ہوتی ہے جو انسانی ذہانت سے کہیں آگے نکل جائے۔
*🛑فرانس میں طلبہ کا سڑکوں پر احتجاج، پولیس سے جھڑپوں کے بعد 400 سے زائد افراد حراست میں، مظاہروں میں متعدد طلبہ اور پولیس اہلکار زخمی*
پیرس: فرانس میں اسکولوں کی خراب صورت حال، سہولتوں کی کمی اور اساتذہ کی قلت کے خلاف بڑی تعداد میں طلبہ سڑکوں پر اتر آئے۔ منگل کو کئی شہروں میں طلبہ کی تحریک پرتشدد ہوگئی، جس کے بعد ملک بھر میں 400 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ حراست میں لیے گئے افراد میں بڑی تعداد نابالغوں کی ہے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کئی پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ گزشتہ ہفتے پیرس سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب فرانس کے کئی علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ طلبہ نے سیکڑوں ہائی اسکولوں کے داخلی دروازے بند کردیے۔ وزارت تعلیم کے مطابق، منگل کو تقریباً 400 اسکولوں میں احتجاج یا تعلیمی سرگرمیوں میں خلل پڑا، جبکہ لگ بھگ 40 اسکولوں میں مکمل طور پر ناکہ بندی کی گئی۔ مظاہرین کے اہم مطالبات میں کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد کم کرنا، اساتذہ اور دیگر عملے کی کمی دور کرنا اور اسکولوں میں بہتر سہولتیں فراہم کرنا شامل ہیں۔ طلبہ نے طویل اور تھکا دینے والے ٹائم ٹیبل کے علاوہ حالیہ گرمی کے دوران کلاس رومز میں درجۂ حرارت حد سے زیادہ بڑھنے پر بھی ناراضی ظاہر کی ہے۔
کئی شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم
میڈیا ادارے ’لی موند‘ کی رپورٹ کے مطابق، شمالی شہر لیل میں مظاہرین نے کوڑے دانوں کو آگ لگا دی اور پولیس پر بوتلیں، پتھر اور دیگر اشیا پھینکیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ بورڈو، رین، نانت، مارسی اور دیگر شہروں سے بھی طلبہ اور پولیس کے درمیان تصادم کی اطلاعات سامنے آئیں۔ فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق، پیر کو ہی 164 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ تقریباً 180 اسکول احتجاج سے متاثر ہوئے تھے۔ منگل کو تحریک مزید وسیع ہوگئی۔ پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک درجنوں سکیورٹی اہلکار اور طلبہ زخمی ہوچکے ہیں۔
سرکاری ملازمین بھی بجٹ منصوبوں کے خلاف سراپا احتجاج
فرانس میں طلبہ کی تحریک کے ساتھ سرکاری شعبے کے ملازمین بھی حکومت کے مجوزہ بجٹ منصوبوں کے خلاف ہڑتال اور مظاہرے کررہے ہیں۔ حکومت کی مجوزہ بجٹ اسکیم میں سرکاری اخراجات میں کٹوتی شامل ہے۔ اساتذہ کی بڑی تعداد بھی ہڑتال میں شریک ہوئی ہے۔ فرانس کے وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو نے اسکولوں کے اطراف آتش زنی اور تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ، اساتذہ اور پولیس کو خطرے میں ڈالنے والی سرگرمیوں کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری جانب، طلبہ تنظیموں اور بعض اساتذہ کا کہنا ہے کہ طلبہ کی شکایات کو سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے اور تعلیمی اداروں میں درپیش مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
کلاسوں میں 35 طلبہ، اساتذہ کی بھی کمی
ایک طلبہ تنظیم کے صدر ریاض رانی نے کہا کہ کئی کلاسوں میں 32 سے 35 طلبہ ہوتے ہیں اور اساتذہ سمیت دیگر ملازمین کی کمی بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق، طلبہ کا مقصد بہتر اور زیادہ مساوی تعلیمی حالات کا مطالبہ کرنا ہے۔ ادھر، احتجاج سے نمٹنے کے طریقے کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی بیان بازی بھی تیز ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو اور بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلینشوں کے درمیان مظاہرین سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔