Monday, 24 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*



*🛑شبیر رحمت علی کا انتقال کرگئے*
رسول پورہ کی مشہور شخصیت رحمت علی سیٹھ کے فرزند رمضان سائیکل والے کے والد شبیر مقادم کا 16 اگست اتوار کو انتقال پرملال ہوگیا اناللہ۔۔۔۔۔ مرحوم محنت کش اور افراد خانی کے مشفق بزرگ تھے اللہ سے بال بال مغفرت کی دعا 
شریکاں غم ۔۔۔۔۔۔۔ اہلیان محلہ و اقارب








*🛑مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن کے دھولیہ ضلع صدر کے عہدے پر انصاری حاجی غفران سیٹھ منتخب*
دھولیہ :مورخہ ۲۱؍اگست ۲۰۲۶ء بروز جمعہ کو شہر دھولیہ کے ۱۰۰؍فٹ روڈ پر واقع اسٹار میریج ہال پر ایک استقبالیہ پروگرام کا انعقاد کیاگیاتھا۔اس پروگرام کی صدارت دھولیہ شہر کے سابق آمدار ڈاکٹر فاروق شاہ صاحب نے انجام دی۔پروگرام کا افتتاح سابق کارپوریٹر شیخ فیروز لالہ صاحب کے ہاتھوں ہوا۔صاحب استقبالیہ مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن کے قومی صدر جناب سلیم سارنگ صاحب (ڈائریکٹرمولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن مہاراشٹر سرکار)کو خاص طور سے مدعو کیاگیاتھا۔پروگرام میں مہمانان خصوصی کے طور پرحاجی عرفان احمد عبدالخالق(پوپٹ فیبرکس)،ایڈوکیٹ نبی لال شیخ (ممبئی ہائی کورٹ)،ایڈوکیٹ رئیس ہندوستانی (دھولیہ کورٹ)،محمد ہارون ماسٹر(ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر ایل۔ ایم ۔سردار اردو ہائی اسکول )، الیاس سر(صدر بزم حناء دھولیہ)حاضر تھے۔پروگرام میں نظامت کے فرائض نہال اختر نے انجام دی۔پروگرام کے افتتاحی موقع پر جناب فیروز لالہ شیخ انھوںنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس پروگرام میں عزت مآب صاحب استقبالیہ جناب سلیم سارنگ صاحب ان کا پرجوش خیر مقدم اور استقبال دھولیہ شہر کی ہر دلعزیز شخصیت جمیعت علماء دھولیہ کے نائب صدر اور مہانگر پالیکا شکشن منڈل کے سابق نائب چیئرمن الحاج انصاری غفران سیٹھ ان کے ہاتھوں کیاگیا۔جناب سلیم سارنگ صاحب کو حاجی انصاری غفران سیٹھ کے ہاتھوں شال ،ٹوپی،پھولوں کا ہار،اور ٹرافی وغیرہ دی گئی۔اس استقبالیہ پروگرام میں بطور خاص گیارہویں ،بارہویں میں نمایاں نمبروں سے کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کے علاوہ SIR کے لئے BLOحضرات جنہوں نے بڑی محنت وجدوجہد کے ساتھ ووٹنگ لسٹ ، میپنگ کے کاموں کو انجام دیا۔انھیں مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن دھولیہ ضلع شاخ کی اور سے رہنمائی وحوصلہ افزائی سرٹیفکیٹس جناب سلیم سارنگ صاحب ،سابق آمدار ڈاکٹر فاروق شاہ اور انصاری حاجی غفران سیٹھ کے ہاتھوں تقسیم کئے گئے۔اس پروگرام میں دھولیہ شہر کے مانی ہوئی معزز شخصیات کے علاوہ کارپوریٹرس وسابق کارپوریٹرس ، پترکار،تعلیمی اداروں کے ذمہ داران وطلبہ وطالبات کی بھی شرکت رہی۔طلبہ وطالبات اساتذہ حضرات کی بھی کارپوریٹرس کے ہاتھوں گُل پوشی کی گئی ۔اس پروگرام میں انصاری حاجی غفران سیٹھ ان کے کام کاجوں کو سوشل ورکنگ کو سامنے رکھتے ہوئے مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن کے قومی صدر جناب سلیم سارنگ صاحب انھوںنے دھولیہ ضلع صدر کے عہدے پر منتخب کرکے گُل پوشی کرکے استقبال کیا۔اور مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن کو دھولیہ ضلع میں سماجی خدمات میں بطورخاص تعلیم، ریزرویشن کی جدوجہد بڑھانے کیلئے امید ظاہر کی۔اس پروگرام میں جناب سلیم سارنگ صاحب انھوں نے مسلم سماج میں بارہویں کے بعد ایسے بچے جو ہوشیارہونے کے بعد ان کے والدین پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے آگے کی تعلیم نہیں دے پاتے ۔ایسے بچوں کیلئے مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعے ایجوکیشن قرض مہیا کرایاجائےگا۔جس سے یہ ہوشیار بچے اپنی آگے کی تعلیم مکمل کرکے بڑے بڑے عہدے پر فائز ہوں گے ایسی گواہی دیتے ہوئے مولانا آزاد کارپوریشن سے ایجوکیشن قرض منظور کرانے کی پوری پوری گواہی دی ہے۔اور سرپرست حضرات سے گذارش کی ہے کہ اپنے بچوں کو بارہویں کے بعد اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دینے کی کوشش کریں۔پروگرام میں سینکڑوں کی تعداد میں سامعین حضرات موجودتھے۔پروگرام کا انعقاد عابد شیخ(فائیو اسٹار)،محمد مصطفیٰ پپو مُلا(سابق کارپوریٹر)، سلیم شاہ عین الدین،ذاکر پٹیل (سابق دکشتا پروٹھا سمیتی رکن)، آصف عنایت منصوری، مصطفیٰ پہلوان ، ذاکر شیخ شیرپور، مختار غلام علی وغیرہ نے بہترین انداز میں کیاتھا۔








*🛑بلوچستان میں پل کیوں اڑا رہی ہےBLA؟ منیر کی گھبرائی فوج چپے۔چپے پر دے رہی ہے پہرہ*
بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے منظم حملوں نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سڑکوں کے رابطے کو شدید متاثر کیا ہے۔ مستونگ کے علاقے میں کئی چھوٹے پل دھماکوں سے تباہ ہوگئے ہیں ۔ اس سے شہروں کے درمیان ٹریفک میں خلل پڑا اور مقامی راستے منقطع ہوگئے۔ صورتحال بتدریج اس حد تک بڑھ گئی کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ بند کردی گئی۔ سیکورٹی فورسز اور بی ایل اے کے مسلح ارکان کے درمیان جھڑپوں نے اس اہم سڑک کو کئی گھنٹوں تک بند رکھا۔ جس کی وجہ سے مسافروں اور ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

حکام نے کھڈکوچہ اور مستونگ کے کچھ حصوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اضافی سیکورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ سیکورٹی فورسز نہ صرف سڑکوں کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہی ہیں بلکہ مزید حملوں کو روکنے اور باغیوں کو پکڑنے کے لیے آپریشن بھی کر رہی ہیں۔ جیسے جیسے فوج چوکسی بڑھا رہی ہے، باغیوں کے حملے بڑھ رہے ہیں۔پلوں کو کیوں نشانہ بنایا؟
نقل و حمل اور مواصلاتی نظام کو درہم برہم کرنا بلوچستان میں ہمیشہ سے باغیوں کی حکمت عملی رہی ہے۔ بی ایل اے اس سے قبل ریلوے لائنوں، شاہراہوں، پلوں، سیکورٹی چوکیوں اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے کر چکی ہے۔ اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ پلوں کو تباہ کرنے سے علاقے عارضی طور پر الگ تھلگ ہو جاتے ہیں، سپلائی کے راستوں میں خلل پڑتا ہے اور سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ علاقے پر قبضہ کیے بغیر ایک اہم اثر حاصل کیا جا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ باغی حکومت کو سننے پر مجبور کرنے کے لیے اس طرح کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بناتے ہیں۔

کوئٹہ کراچی ہائی وے کا بند ہونا اہم
یہ شاہراہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کو سندھ میں کراچی سے ملانے والا مرکزی راستہ ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو مسافر گاڑیاں اور ضروری سامان لے جانے والے ٹرک استعمال کرتے ہیں۔ صوبے کے دشوار گزار پہاڑی علاقے اور فاصلے کی وجہ سے متبادل راستے کم ہیں۔ طویل ناکہ بندی خوراک، ایندھن اور دیگر سامان میں خلل ڈال سکتی ہے۔ بی ایل اے سمیت کچھ بلوچ باغی پاکستانی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اسلام آباد بلوچستان کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن صوبے کو مناسب سیاسی نمائندگی اور معاشی فوائد فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑امریکہ سے جنگ کے درمیان ایران کو ملا اتنا بڑا گیس کا ذخیرہ، جان کر ٹرمپ ہوجائیں گے پریشان* امریکہ کے ساتھ جاری جن...