Saturday, 22 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑دہلی میں H1N1 کے بڑھتے کیسز، مریضوں میں آکسیجن لیول گرنے کی شکایت، ڈینگی اور ملیریا نے بھی بڑھائی تشویش*
نئی دہلی :دہلی میں موسمی بیماریوں اور H1N1 انفلوئنزا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے درمیان صحت کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کی صدارت میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں دہلی حکومت کی تیاریوں، اسپتالوں میں دستیاب سہولیات اور موسمی و مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں دہلی کے وزیر صحت ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران اب تک دارالحکومت میں انفلوئنزا-اے کے 2,392 کیسز سامنے آچکے ہیں۔ ان میں H1N1 کے 1,777 معاملات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ H1 کے 37، H3 کے 138 اور دیگر اقسام کے 440 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ بعض مریضوں میں بیماری کی شدت بڑھنے پر آکسیجن لیول گرنے اور سانس لینے میں دشواری جیسے مسائل بھی سامنے آسکتے ہیں۔

مریضوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت

ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے دہلی کا صحت نظام پوری طرح تیار ہے۔ ان کے مطابق اسپتالوں میں بستروں، ڈاکٹروں، ادویات اور ضروری طبی آلات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مریضوں کو بروقت جانچ اور علاج فراہم کرنے کے لیے صحت کے نظام کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔دہلی اسٹیٹ ہیلتھ مشن کے تحت انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس پروگرام کے ذریعے ILI، SARI اور انفلوئنزا کے معاملات پر روزانہ نظر رکھی جارہی ہے۔ اسپتالوں اور ضلعی سطح کے صحت حکام کو اسکریننگ، رپورٹنگ اور مریضوں کی نگرانی کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ڈینگی، ملیریا اور چکن گنیا کے کیسز بھی بڑھے

میٹنگ میں ڈینگی، ملیریا اور چکن گنیا کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دہلی میں اب تک ڈینگی کے 246، ملیریا کے 80 اور چکن گنیا کے 19 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ راحت کی بات یہ ہے کہ ان تینوں بیماریوں سے اب تک کسی موت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔صحت محکمہ کی جانب سے علاج، مریضوں کی درجہ بندی، وینٹی لیٹر مینجمنٹ، ماسک کے استعمال اور ہوم کیئر سے متعلق رہنما ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ طبی عملے کو علامات کی بروقت شناخت اور مریضوں کے فالو اَپ کے حوالے سے تربیت دی جارہی ہے۔

2.38 کروڑ گھروں کا سروے

مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے مقامی اداروں نے ویکٹر کنٹرول مہم کے تحت اب تک 2.38 کروڑ گھروں کا دورہ کیا ہے۔ تقریباً 3.20 لاکھ گھروں میں اسپرے کیا گیا، جبکہ 91,217 گھروں میں مچھروں کی موجودگی پائی گئی۔ قوانین کی خلاف ورزی پر 74,591 قانونی نوٹس جاری کیے گئے اور 6,724 معاملات میں کارروائی کی گئی۔دہلی میں بیماریوں کی نگرانی کے لیے 35 سینٹینل سرویلنس اسپتال موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایمس اور نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول میں دو اعلیٰ سطحی ریفرل لیبارٹریز اور مولانا آزاد میڈیکل کالج میں ملیریا ریفرنس لیب کام کررہی ہے۔

H1N1 کی علامات کیا ہیں؟

H1N1 میں اچانک تیز بخار، خشک کھانسی، جسم میں درد، سر درد، گلے میں خراش، کپکپی اور شدید تھکن جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ بعض مریضوں میں سانس لینے میں دشواری اور آکسیجن لیول گرنے کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔ سانس پھولنے، سینے میں درد، مسلسل تیز بخار، الجھن یا ہونٹ نیلے پڑنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔بزرگوں، چھوٹے بچوں، حاملہ خواتین اور ذیابیطس، دل یا پھیپھڑوں کی دائمی بیماری یا کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد میں سنگین بیماری کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔ حکام نے لوگوں سے گھبرانے کے بجائے احتیاط برتنے اور علامات ظاہر ہونے پر بروقت طبی مشورہ لینے کی اپیل کی ہے۔









*🛑وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کو سالگرہ پر پیش کی مبارکباد، وجے کا فلمی دنیا سے سیاست تک کا سفر*

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کے روز تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ سی جوزف وجے کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کی طویل، خوشحال اورصحت مند زندگی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں لکھا، “تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ تھروسی جوزف وجے کو سالگرہ کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ میں ان کی طویل اور صحت مند زندگی کے لیے دعاکرتا ہوں۔”

فلمی دنیا سے سیاست تک کا سفر

22 جون 1974 کو چنئی میں پیدا ہونے والے جوزف وجے چندرشیکھر، جنہیں مداح “تھلاپتی” کے نام سے جانتے ہیں، تمل سنیما کے مقبول ترین اداکاروں میں شمارہوتے تھے۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ جنوبی ہندوستانی فلم انڈسٹری کے سب سے کامیاب اور بااثر ستاروں میں سے ایک رہے۔ وجے معروف فلم ساز ایس اے چندرشیکھر اور گلوکارہ شوبھا چندرشیکھر کے صاحبزادے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم “ویٹری” (1984) میں بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنے فلمی کیریئرکا آغاز کیا تھا۔

سپر اسٹار سے عوامی رہنما تک

وجے نے تمل فلم انڈسٹری میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ “خوشی”، “تھیروملائی”، “گھلی”، “پوکری” اور “سرکار” جیسی بلاک بسٹرفلموں نے ان کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ابتدا میں رومانوی کرداروں سے شہرت حاصل کرنے والے وجے بعد میں ایکشن ہیرو کے طور پر ابھرے اورسماجی و سیاسی انصاف کے لیے لڑنے والے کرداروں کے باعث خاصی مقبولیت حاصل کی۔ان کی غیرمعمولی عوامی مقبولیت کے باعث اکثر ان کا موازنہ تمل ناڈو کے ان عظیم اداکاروں سے کیا جاتا تھا، جنہوں نے بعد میں سیاست میں کامیاب اننگز کھیلی۔ ان کی کئی فلموں میں سیاسی موضوعات کو ان کے مستقبل کے سیاسی عزائم کا اشارہ سمجھا جاتا تھا۔

2024 میں سیاست میں باضابطہ داخلہ

سال 2024 میں وجے نے اپنی سیاسی پارٹی “تملگا ویٹری کڑگم” (ٹی وی کے) قائم کی اور عملی سیاست میں قدم رکھا۔ 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں ان کی جماعت نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست کی سب سے بڑی پارٹی کا درجہ حاصل کیا ۔ٹی وی کے نے 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں جیتیں۔ اگرچہ پارٹی واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی، قابل ذکربات یہ ہےکہ کانگریس اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرکے حکومت تشکیل دی گئی۔

10 مئی کو سنبھالا وزارتِ اعلیٰ کا عہدہ

اتحادی حکومت کی تشکیل کے بعد سی جوزف وجے نے 10 مئی کو تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے طورپرحلف لیا اور ریاست کی قیادت سنبھالی۔ ان کی سالگرہ کے موقع پرسیاسی و سماجی حلقوں سمیت لاکھوں مداحوں نے بھی انہیں مبارکباد پیش کی۔










*🛑اڑیسہ کی خاتون کے جسم کے ٹکڑے آگرہ میں سوٹ کیس سے برآمد، تمل ناڈو پولیس نے مشتبہ قاتلوں کا سراغ لگالیا*
چنئی : اڑیسہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے قتل کے انتہائی سنگین معاملے میں تمل ناڈو پولیس نے اہم پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس نے ان افراد تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی ہے جن پر خاتون کو قتل کرکے اس کی لاش کے حصے ایک سوٹ کیس میں رکھ کر ٹرین کے ذریعے آگرہ بھیجنے کا شبہ ہے۔ پولیس نے گڈووانچیری کے مسجد اسٹریٹ علاقے میں واقع اس مکان کا بھی سراغ لگا لیا ہے جہاں مبینہ طور پر قتل کیا گیا تھا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 5 اگست کو اترپردیش کے آگرہ ریلوے اسٹیشن پر ایک لاوارث سوٹ کیس سے بدبو آنے کی اطلاع پر پولیس نے اسے کھولا۔ سوٹ کیس کے اندر انسانی جسم کے اعضا ملنے کے بعد آگرہ پولیس اور گورنمنٹ ریلوے پولیس نے تحقیقات شروع کیں۔ تحقیقات کے دوران پولیس کو شبہ ہوا کہ سوٹ کیس چنئی سے چلنے والی ٹرین میں رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد تفتیش کا دائرہ چنئی منتقل کیا گیا اور چنئی سینٹرل ریلوے اسٹیشن سمیت اطراف کے علاقوں کی 350 سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک مرد اور ایک خاتون کو سرخ رنگ کا سوٹ کیس لے کر چنئی سینٹرل اسٹیشن میں داخل ہوتے دیکھا گیا۔ پولیس کے مطابق دونوں نے سوٹ کیس کو آگرہ جانے والی ٹرین میں چھوڑا اور خود چنئی پارک ریلوے اسٹیشن سے گڈووانچیری جانے والی دوسری ٹرین میں سوار ہوگئے۔ بعد ازاں گڈووانچیری ریلوے اسٹیشن اور اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پولیس نے دونوں مشتبہ افراد کا راستہ تلاش کیا۔ فوٹیج میں انہیں اسی سوٹ کیس کے ساتھ ایک آٹو رکشا میں گڈووانچیری کے مسجد اسٹریٹ علاقے کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔

پولیس نے آٹو رکشا کا تعاقب کرتے ہوئے اس مکان کا پتہ لگایا جہاں مشتبہ افراد ٹھہرے ہوئے تھے۔ مکان کی تلاشی کے دوران پولیس کو ایسے شواہد ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ قتل اسی مکان میں کیا گیا اور بعد میں شواہد مٹانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ مقتولہ کے جسم کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے بعض حصے سوٹ کیس میں رکھے گئے اور انہیں ٹرین کے ذریعے آگرہ بھیج دیا گیا۔

پولیس کے مطابق مکان میں باقی شواہد اور جسم کے دیگر حصوں کو ختم کرنے کی بھی مبینہ کوشش کی گئی۔ تفتیش کاروں نے بتایا کہ خاتون کے سر کی تلاش بھی جاری ہے۔ پڑوسیوں کے مطابق اس مکان میں دو خواتین اور ایک مرد رہتے تھے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ مرد اور ایک خاتون نے دوسری خاتون، جس کی شناخت حیات نِشا کے طور پر کی گئی ہے، کو قتل کیا۔ بتایا گیا ہے کہ حیات نِشا اڑیسہ کی رہنے والی تھیں اور تامبرم کے قریب ایک ایکسپورٹ کمپنی میں ملازمت کرتی تھیں۔

مقتولہ کے بیٹے سے بھی پولیس پوچھ گچھ کررہی ہے تاکہ اس کی والدہ کی سرگرمیوں، رابطوں اور ان افراد کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوسکیں جو اس کے ساتھ رابطے میں تھے۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کررہی ہے۔ تفتیش کا ایک اہم رخ یہ بھی ہے کہ آیا مقتولہ اور مشتبہ افراد کے درمیان پہلے سے کوئی تعلق تھا یا قتل کے پیچھے زیورات اور نقد رقم حاصل کرنے کا مقصد کارفرما تھا۔پولیس نے مشتبہ افراد کے خلاف شواہد جمع کرنے اور معاملے میں مزید لوگوں کے ممکنہ کردار کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات تیز کردی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تصویر تفتیش آگے بڑھنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑دہلی میں H1N1 کے بڑھتے کیسز، مریضوں میں آکسیجن لیول گرنے کی شکایت، ڈینگی اور ملیریا نے بھی بڑھائی تشویش* نئی دہلی...