ہرمز کے گیٹ پر لگی آگ ، آئل ٹینکر جلا ، آسمان بھی خون سے سرخ
آبنائے ہرمز کے منہ پر حالات اچانک خراب ہو گئے ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اپنی جنوبی بندرگاہ سرک سے ایک اینٹی شپ کروز میزائل داغا، جو عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر سے ٹکرا گیا۔ تصادم کے بعد، ٹینکر میں آگ لگ گئی، جس سے دھواں اور آگ کے شعلے سمندر میں پھیل گئے۔ واقعے سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ کمزار ساحل کے قریب سمندر میں اٹھنے والے شعلے اتنے شدید تھے کہ دور دراز کے ساحلی علاقوں سے بھی آسمان نارنجی رنگ میں چمکنے لگا۔ مقامی لوگوں نے اس کی ویڈیو ریکارڈ کی۔
یو کے ایم ٹی او نے بھی وارننگ جاری کی
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشن ایجنسی UKMTO نے واضح طور پر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں خطرہ بدستور “سنگین” ہے۔ ایجنسی کے مطابق، IRGC، یا ایران کے پاسداران انقلاب، تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈرون نگرانی، بحری جہازوں کی ریڈیو انٹرسیپشن اور براہ راست حملے جاری ہیں۔ عمان کے جنوبی سمندری راستوں میں بھی پروجیکٹائل حملے اور قریب قریب دھماکے دیکھے گئے ہیں۔شپنگ پر براہ راست اثر
تیل کے اہم راستے آبنائے ہرمز پر جہاز رانی کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق، جہاز کی نقل و حرکت ایک ہندسے تک گر گئی ہے، جس سے دنیا کے تیل کی سپلائی کے سب سے اہم راستوں میں سے ایک عملی طور پر مفلوج ہو گیا ہے۔ مزید برآں، بارودی سرنگوں کے بہنے کے خطرے کی اطلاع دی گئی ہے، جو اس خطرے کو مزید بڑھا رہی ہے۔
عمان کے قریب کیا ہوا
عمان کے جزیرہ نما مسندم کے علاقے کمزار کے قریب ایک بحری جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ مقام آبنائے ہرمز کے داخلی مقام پر واقع ہے، جو عالمی تیل کی سپلائی کے لیے ایک انتہائی حساس چینل ہے۔ اطلاعات کے مطابق آگ اتنی شدید تھی کہ سمندر کے اوپر کا آسمان نارنجی رنگ کی چمک سے جگمگا اٹھا۔ ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے دور سے یہ منظر دیکھا اور ویڈیوز شیئر کیں۔
مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا ذمہ دار امریکہ ہے
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کو بیرونی قوتوں کی ضرورت نہیں اور امریکہ سے سکیورٹی مانگنے کا خیال غلط ہے۔ بقائی کے مطابق امریکہ خود خطے میں عدم تحفظ کا سبب ہے اور اسرائیل کو بغیر کسی روک ٹوک کے جنگ چھیڑنے کی سہلوت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل کی سیاسی اور سیکورٹی دونوں سطحوں پر حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی حمایت کے بغیر اسرائیل ایسی فوجی کارروائیاں جاری نہیں رکھ سکتا۔ بقائی کے مطابق اس حمایت سے اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانا یا اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
’’کچھ باتیں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتی ہیں‘‘ دولت مشترکہ کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتنے والی چانو نے شیئر کیا وزیراعظم مودی سے ملاقات کا خاص لمحہ
نئی دہلی: بھارت کی دولتِ مشترکہ کھیلوں 2026 کی طلائی تمغہ فاتح اور اولمپک تمغہ جیتنے والی ویٹ لفٹر میرابائی چانو نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نے اتوار کو اپنی رہائش گاہ پر دولتِ مشترکہ کھیلوں 2026 میں تمغے جیتنے والے بھارتی کھلاڑیوں کی میزبانی کی تھی۔ میرابائی چانو نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ اپنی ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ باتیں صرف کہے گئے الفاظ کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے مفہوم اور جذبات کی وجہ سے ہمیشہ انسان کے ساتھ رہتی ہیں۔ چانو نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دل کی باتیں شیئر کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ان کے سفر، ملک سے محبت اور ایک کھلاڑی کی حیثیت سے ان کے کردار کو سراہا، جس پر وہ خود کو خوش نصیب سمجھتی ہیں۔ گلاسگو میں چانو نے 48 کلوگرام زمرے میں طلائی تمغہ جیت کر دولتِ مشترکہ کھیلوں میں اپنا تیسرا طلائی تمغہ حاصل کیا۔ اس سے قبل انہوں نے 2018 میں 48 کلوگرام اور 2022 کے برمنگھم دولتِ مشترکہ کھیلوں میں 49 کلوگرام زمرے میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔’’پوڈیم پر کھڑی تھی تو آنسو خود نکل آئے‘‘
ویڈیو میں وزیر اعظم مودی نے چانو سے پوچھا کہ گلاسگو میں طلائی تمغہ جیتنے کے بعد ان کی آنکھوں میں آنسو کیوں آ گئے تھے۔ اس پر چانو نے بتایا کہ تمغہ جیتنے سے قبل انہیں مسلسل چوٹوں، خاندانی مسائل اور دیگر کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے پیرس اولمپکس میں صرف ایک کلوگرام کے فرق سے تمغہ نہ جیت پانے کا دکھ بھی ان کے ذہن میں موجود تھا۔ چانو نے کہا کہ گلاسگو میں پوڈیم پر کھڑے ہو کر جب بھارتی پرچم لہرایا گیا اور قومی ترانہ بجایا گیا تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو خود بخود نکل آئے۔
پیرس اولمپکس کا ایک کلو کا فرق آج بھی یاد ہے
میرابائی چانو نے کہا کہ ٹوکیو اولمپکس میں تمغہ حاصل کرنے سے ایک کلوگرام کی کمی سے محروم رہنے کے بعد ان کے لیے گزشتہ چار سال انتہائی مشکل رہے۔ اس دوران انہیں مسلسل چوٹوں اور خاندانی مسائل سمیت کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام مشکلات سے گزرنے کے بعد جب وہ گلاسگو میں پوڈیم پر کھڑی ہوئیں تو طلائی تمغہ جیتنے کی خوشی اور قومی پرچم کو بلند ہوتے دیکھنے کا جذبہ اتنا شدید تھا کہ وہ جذباتی ہو گئیں۔ میرابائی چانو کے کیریئر میں اولمپکس کا چاندی کا تمغہ، عالمی چیمپئن شپ کے تین تمغے، جن میں 2017 کا طلائی تمغہ بھی شامل ہے اور ایشین چیمپئن شپ کا کانسے کا تمغہ شامل ہے۔ ان کا شمار بھارت کی عظیم ترین ویٹ لفٹرز میں ہوتا ہے۔ اب ایشین گیمز کا تمغہ ان کے شاندار تمغوں میں اہم اضافہ ہوسکتا ہے، کیونکہ وہ بڑے کثیر کھیل مقابلوں میں تقریباً ہر اہم ایونٹ میں تمغہ جیت چکی ہیں۔
بھارت نے 39 تمغوں کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی
2026 کے دولتِ مشترکہ کھیل نسبتاً مختصر فارمیٹ میں منعقد کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں شوٹنگ، کشتی اور بیڈمنٹن جیسے بھارت کے لیے اہم تمغہ جیتنے والے کھیل شامل نہیں کیے گئے۔ اس کے باوجود بھارت نے گلاسگو دولتِ مشترکہ کھیلوں میں مجموعی طور پر 39 تمغے جیت کر تمغوں کی فہرست میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ ان میں 13 طلائی، 17 چاندی اور 9 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔ گلاسگو 2026 کی اختتامی تقریب کے دوران دولتِ مشترکہ کھیلوں کا پرچم باضابطہ طور پر بھارت کے حوالے کیا گیا، جس کے ساتھ بھارت نے 2030 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کی میزبانی کی جانب باضابطہ سفر شروع کر دیا۔ 2030 کے دولتِ مشترکہ کھیل احمدآباد میں منعقد کیے جائیں گے۔ یہ 2010 میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والے کھیلوں کے بعد دولتِ مشترکہ کھیلوں کی بھارت میں واپسی ہوگی اور پہلی مرتبہ گجرات ان کھیلوں کی میزبانی کرے گا۔ نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کی وزارت کا مقصد روایتی کھیلوں کو دوبارہ شامل کرنے کے ساتھ عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا ہے، تاکہ 2030 کے کھیلوں میں بھارت بڑی تعداد میں تمغے حاصل کر سکے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن کے حملوں کا جواب دینے کے لئے تیارہوگئے وزیرداخلہ امت شاہ، کرن رجیجو نے اپوزیشن کو کردیا چیلنج
نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کی کارروائی میں مسلسل رکاوٹ آرہی ہے۔ فی الحال گزشتہ کئی دن مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے ایوان میں طلبا پرلاٹھی چارج سے متعلق معاملے پر بیان دینے کے مطالبہ کے ساتھ کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔ اب خبرہے کہ وزیرداخلہ لاٹھی چارج کے موضوع پرجواب دینے کے مطالبہ کے ساتھ کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔ اب خبرہے کہ وزیرداخلہ لاٹھی چارج کے موضوع پرجواب دینے کوتیارہوگئے ہیں۔ وہ لوک سبھا میں اس کا جواب دیں گے۔ مانا جا رہا ہے کہ اسپیکرجلد ہی وزیرداخلہ کے جواب کا وقت طے کریں گے۔
پارلیمنٹ سیشن کے بارباررخنہ اندازی کرنے کے لئے اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ پرنشانہ سادھتے ہوئے مرکزی وزیرکرن رجیجونے آج پیرکوکہا، ”حکومت کی طرف سے بہت ہی واضح الفاظ میں کہہ دیا گیا ہے کہ طلبا کا احتجاج اوراس سے متعلق جوبھی چیزیں ہیں، اس پرحکومت تفصیل سے تبادلہ خیال کرنے کے لئے تیارہے۔“
بحث کے دوران آپ ہنگامہ نہیں کریں گے: کرن رجیجو
انہوں نے کہا، “میں اپوزیشن سے درخواست کرتا ہوں کہ چونکہ حکومت طلبا کی تحریک پربات چیت کے لئے تیارہے، اس لئے آپ بحث کے دوران کوئی ہنگامہ نہیں کریں گے اوروزیرداخلہ اورحکومت کے جوابات کومکمل طورپرپُرامن طریقے سے سنیں گے۔” کرن رجیجونے یہ بھی کہا کہ حکومت طلبا تحریک پربات چیت کے لئے تیارہے۔ تاہم کانگریس، سماج وادی پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان کچھ اختلافات ہیں۔ اس سے قبل، کانگریس کے قومی صدرملیکا ارجن کھڑگے نے آج پھر سے امت شاہ کے ایوان میں بیان دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ’’لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ امت شاہ ایوان میں آئے اوروہ اپنی بات رکھیں۔ ہم 17 دنوں سے پوری کوشش کررہے ہیں کہ وہ ایوان میں آکرمیں بچوں کے ساتھ جونا انصافی ہوئی ہے، اس پربیان دیں۔‘‘