Saturday, 8 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑حکومت اور طلبا کے درمیان بات چیت بے نتیجہ، جاری رہے گا احتجاج*
رانچی کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں حکومت اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں کے درمیان ہفتہ کو ہوئی بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ طلبہ اپنی مانگوں پر قائم ہیں، جس کے باعث جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانات میں اصلاحات اور شفافیت کے مطالبے کو لے کر احتجاج جاری رہے گا۔ رانچی: جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانی نظام میں اصلاحات، شفافیت اور دیگر مطالبات کو لے کر طلبہ کا احتجاج مسلسل جاری ہے۔

ہفتہ، 8 اگست کومورہ آبادی واقع اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے گئے نمائندہ وفد اورجے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امیدوارنیائے منچ (دیویندرناتھ مہتوگروپ) کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی، لیکن اس دوران کسی ٹھوس حل پراتفاق نہیں ہوسکا۔ بات چیت کے بے نتیجہ رہنے کے بعد طلبہ نے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ طلبا جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں اپنے مطالبات سے متعلق مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جے ایل کے ایم کی جانب سے جاری احتجاج بھی جاری رہے گا۔

دور دراز کے طلبہ ای میل کے ذریعے بھیج سکیں گے شکایات

اس دوران حکومت کی جانب سے ایک ای میل ایڈریس Jpsc.jssc.feedback@gmail.com بھی جاری کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جو طلبہ دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں اور رانچی نہیں پہنچ سکتے، وہ اپنی شکایات اور تجاویز اس ای میل کے ذریعے حکومت تک پہنچا سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بات چیت میں وزیر دیپیکا پانڈے سنگھ، سدیویہ کمار سونو اور سنجے کمار یادو شامل ہوئے۔ وہیں طلبہ کی جانب سے دین بندھو منڈل، پوجا کماری، چندن کمار، بمل کمار، پریم کمار، روی شنکر، امیت کمار شرما اور رام اوتار مہتو نے نمائندگی کی۔

دیویندر ناتھ مہتو 6 دن سے بھوک ہڑتال پر

اس سے قبل جمعہ کو بھی حکومت کے نمائندہ وفد نے احتجاج کرنے والے طلبہ کے دوسرے گروپ کے نمائندوں سے بات چیت کی تھی، لیکن اس ملاقات میں بھی کوئی ٹھوس حل نہیں نکل سکا تھا۔ ہفتہ کو ایک بار پھر بات چیت ہوئی، تاہم اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اگرچہ حکومت اور طلبہ کے درمیان بات چیت کے تمام راستے اب بھی کھلے ہوئے ہیں، لیکن طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ طلبہ کی حمایت میں جے ایل کے ایم لیڈر دیویندر ناتھ مہتو گزشتہ 6 دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

کیا ہیں طلبا کے مطالبات؟

طلبہ جے پی ایس سی اورجے ایس ایس سی کے امتحانی نظام میں اصلاحات اورمکمل شفافیت سمیت کئی مطالبات کررہے ہیں۔ طلبا کا کہنا ہے کہ 14ویں جے پی ایس سی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات صرف سی آئی ڈی سے نہیں بلکہ سی بی آئی اورانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے بھی کرائی جانی چاہئے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ انہیں صرف سی آئی ڈی کی تحقیقات پراعتماد نہیں ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ امتحانی نظام کو شفاف بنایا جائے اورمبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ کیس کو تیز کرنے کے لیے ایک خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت بنائی جائے، مقررہ مدت میں سماعت مکمل کرکے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ٹی ڈی پی ایل کے ذریعہ منعقد ہونے والے امتحانات کو منسوخ کیا جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ متنازعہ ایجنسی TSR ڈیٹا پروسیسنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کی طرف سے منعقد کیے جانے والے تمام امتحانات کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ TDPL کو بلیک لسٹ کیا جانا چاہیے، اور مستقبل کے تمام مسابقتی امتحانات شفاف اور قابل اعتماد کمپنیوں کے ذریعے کرائے جائیں۔ مزید برآں، طلباء مطالبہ کرتے ہیں کہ بدعنوانی کے سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے تمام JPSC-JSSC عہدیداروں کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے اور ان کی جگہ صاف ستھری شہرت والے عہدیداروں کو تعینات کیا جائے۔










*🛑پاکستان کےلوگ ہندوستان کے لوگوں کے دشمن نہیں ، آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا بیان ، بولے مستقل دشمنی کوئی حل نہیں*
ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کی بات آتے ہی عام طور پر کشیدگی، سرحدی تنازعات اور دشمنی کی تصویر سامنے آتی ہے۔ تاہم، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت کا ایک بیان خبروں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام دل سے بھارتیوں کے دشمن نہیں ہیں اور مستقل نفرت یا دشمنی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ممبئی میں انڈین انٹرنیشنل موومنٹ ٹو یونائیٹڈ نیشنز (IIMUN) کے 15 ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، بھاگوت نے تنازعات کے بارے میں ہندوستان کے نقطہ نظر کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کا پیغام سیدھا تھا: تنازعات کے دوران حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے، لیکن تنازع ختم ہونے کے بعد مستقل طور پر تعلقات منقطع کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان کا نقطہ نظر کبھی کسی کو فتح کرنے یا مٹانے کا نہیں رہا۔ ہندوستانی حل بات چیت، رابطہ کاری اور ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے میں ہے ۔ انہوں نے پاک بھارت تعلقات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور بین الاقوامی سرحدوں کی اپنی جگہ ہے۔ جب کوئی تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو کسی ملک کو اپنی حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں طرف کے لوگوں کے درمیان مستقل دشمنی ہو۔ بھاگوت کے اس بیان کو ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کے ایک جامع نقطہ نظر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔موہن بھاگوت نے پاک بھارت تعلقات پر کیا کہا؟
آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ تنازعہ کے دوران حکومت جو بھی قدم اٹھاتی ہے اس کی حمایت کی جانی چاہئے۔ لیکن یہ موجودہ تعلقات کو مکمل طور پر تباہ نہیں کرنا چاہئے. انہوں نے مزید کہا کہ چین کے لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ ہندوستان نے انہیں تقریباً 2000 سالوں سے کچھ قدریں دی ہیں۔ دریں اثناء پاکستان کی بھارت سے علیحدگی کے 100 سال بھی مکمل نہیں ہوئے۔

بھاگوت نے کہا کہ تنازعہ کے دوران تعلقات میں خلل پڑ سکتا ہے۔ بات چیت بند ہو سکتی ہے لیکن انہیں مستقل طور پر منقطع نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق تنازعہ حل ہونے کے بعد تعلقات وہیں سے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں جہاں سے رکی تھی۔

’دائمی نفرت اور دشمنی مسائل کا حل نہیں‘
موہن بھاگوت نے واضح طور پر کہا کہ مستقل نفرت اور دشمنی حل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ تصادم کے بعد بھی دونوں فریقوں کو آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق بھارت کا راستہ ایک دوسرے کو تباہ کرنے کا نہیں بلکہ بات چیت اور ہم آہنگی کے ذریعے آگے بڑھنا ہے۔









*🛑ایران جنگ پر مسعود پزشکیان کا بڑا بیان- ’’ہم نے شروع نہیں کیا، 48 گھنٹے میں…‘‘*
 ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے امریکہ اوراسرائیل پرجنگ شروع کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے یہ جنگ شروع نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق، مخالفین نے فوجی دباؤکے ذریعہ ایران کوکمزورکرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے ایران، اسرائیل اورامریکہ کے درمیان جاری طویل تنازع پربڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا تھا اورتنازعہ کوبات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کررہا تھا، لیکن حالات بتدریج جنگ کی طرف بڑھتے چلے گئے۔

مسعود پزشکیان نے جمعہ، 7 اگست کوایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پرنشرہونے والے ایک انٹرویومیں کہا کہ ان کے مخالفین کوامید تھی کہ فوجی دباؤاورملک کے اندرپیدا ہونے والے حالات کے باعث ایران بکھرجائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود ایران آج بھی ایک مضبوط ملک کے طورپرکھڑا ہے اورمستقبل میں مزید مضبوط ہوکرابھرے گا۔

48 گھنٹے میں ایران پر قبضے کا منصوبہ تھا

ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا کہ ان کے مخالفین نے شام کی طرزپر48 گھنٹے کے اندرایران پرقبضہ کرنے کا مکمل منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم ایران نے اپنی طاقت اورصلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے کوناکام بنا دیا۔ پزشکیان کے مطابق موجودہ حالات نے ثابت کردیا ہے کہ ایران کواتنی آسانی سے کمزوریا غیرمستحکم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے راستے پرمضبوطی کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا۔

مسلم ممالک سے متحد ہونے کی اپیل

ایرانی صدرنے مسلم ممالک سے متحد ہونے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ جب مسلمان متحد ہوتے ہیں تووہ بیرونی طاقتوں کی سازشوں اورچیلنجزکا زیادہ مضبوطی سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مسلم ممالک کے درمیان اتحاد پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ مسعود پزشکیان نے ایران کے نئے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اب ان سے بات چیت کرنا کافی مشکل ہے، تاہم ان کی موجودگی ایران کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈربننے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر بہت کم نظرآئے ہیں۔ ان کی کم موجودگی کی وجہ سکیورٹی اور صحت سے متعلق وجوہات بتائی جاتی رہی ہیں۔

علی خامنہ ای کی موت کے بعد مجتبیٰ بنے سپریم لیڈر

امریکہ اوراسرائیل کے ایران پرحملوں کے دوران اس وقت کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کی موت ہوگئی تھی۔ اس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کوایران کا سپریم لیڈرمقررکیا گیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے عوامی سطح پر کم نظرآنے کے حوالے سے سکیورٹی سے متعلق سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں۔ پزشکیان نے اسی تناظرمیں ان کی موجودگی کوایران کے لیے اہم قراردیا۔ پزشکیان نے امریکہ اوراسرائیل پربراہ راست جنگ شروع کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران بات چیت کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنے کی کوشش کررہا تھا، لیکن دوسری جانب سے مسلسل کشیدگی بڑھائی جا رہی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا تھا، لیکن حالات ایسے بنتے چلے گئے کہ تنازع ایک بڑے فوجی تصادم میں تبدیل ہوگیا۔ ٹرمپ نے بھی جنگ جلد ختم ہونے کی امید ظاہرکی تھی۔

 دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 اگست کو کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ امریکی فوج کوبعض ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔ پزشکیان کا یہ تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اورایران کے درمیان کشیدگی برقرارہے۔ ایرانی صدرنے اپنے بیان کے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ فوجی دباؤاورمختلف چیلنجزکے باوجود ایران پیچھے ہٹنے کے بجائے خود کومزید مضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑احمد رضا بریلوی کے 108ویں عرس رضوی کا شاندار آغاز، ملک اور دنیا بھر سے آتے ہیں زائرین* بریلی(اتر پردیش): اعلیٰ حض...