*🛑پاور پلانٹس پر حملے کی ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران نے دی ایسی وارننگ، پورے خطے میں مچ گئی کھلبلی*
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے جواب میں ایرانی انفراسٹرکچر پر بمباری کرتے ہیں، تو تہران پورے خطے میں پلوں اور توانائی کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے پر غور کرے گا۔ ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ ایرانی پلوں یا پاور پلانٹس پر حملہ کرتا ہے تو ایران بھی خطے میں موجود پلوں اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا، جن میں وہ توانائی کی تنصیبات بھی شامل ہوں گی جہاں امریکہ کے مفادات وابستہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دس دنوں کے بعد امریکیوں کو اب مکمل یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے ٹرمپ کی جانب سے ایسا کوئی بھی اقدام ایک بار پھر ان کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گا۔ ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ تہران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا استعمال جاری رکھے گا اور اس اہم اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کے عزم سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔یہ وارننگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے کسی بھی جہاز پر حملہ کرے گا تو امریکہ ہر بار ایک پل یا پاور پلانٹ کو بمباری کرکے تباہ کر دے گا۔
امریکہ کے حملے جاری، ہلاکتوں میں اضافہ
ادھر امریکی فوج نے بتایا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف مسلسل بارہویں رات بھی حملے کیے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد علاقائی سمندری راستوں میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی تہران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
وہیں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے تہران کے “اینٹ کا جواب پتھر سے” کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت، بشمول ہمارے انفراسٹرکچر پر حملے، کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تین آئل ٹینکروں کو روک لیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایک ٹینکر میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی، جبکہ باقی دو نے اپنا رخ موڑ لیا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔دھمکیوں کے اس تبادلے نے ایسے وقت میں خطے کی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے جب سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں، جبکہ دنیا کی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستے، آبنائے ہرمز، کے گرد صورتحال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
*🛑طلبا کے احتجاج پراب بیداری ہوئی دہلی حکومت، وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کا آیا پہلا بیان*
نئی دہلی: دہلی کے جنترمنترپرجاری کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج پراب جاکردہلی حکومت بیدارہوئی ہے۔ دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کا پہلا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے وزیراعظم مودی کے ٹوئٹ پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے طلبا کے مفاد کا تحفظ اوران کے مستقبل کومحفوظ کرنے سے متعلق اپنا پہلا بیان دیا ہے۔
دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پرایک پوسٹ کے ذریعہ یہ باتیں کہی ہیں۔ انہوں نے لکھا، ”وزیراعظم مودی کی قیادت میں طلبا کے مفاد کا تحفظ اورنوجوانوں کے روشن مستقبل کو محفوظ رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا، ’’پیپرلیک کے معاملوں میں فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل اورقصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا یہ فیصلہ ہرمحنتی طلباء کوانصاف فراہم کرنے کی جانب یہ ایک اہم قدم ہے۔ طلبا کے حقوق اوران کی محنت پرحملہ کرنے والوں کے خلاف قانون پوری سختی کے ساتھ اپنا کام کرے گا۔‘‘
کیا ہے پورا معاملہ؟
قابل ذکرہے کہ دہلی میں 20 جون سے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نیٹ پیپرلیک کے معاملے اوردھرمیندرپردھان کے استعفیٰ سے متعلق احتجاج کررہی ہے۔ یہ احتجاج (آندولن) 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے بعد اس وقت ہنگامے کی نذرہوگیا، جب طلبا پرلاٹھی چارج کیا گیا۔ اس میں بڑی تعداد میں طلبا وطالبات زخمی ہوگئے۔ ساتھ ہی بڑی تعداد میں پولیس افسران کے بھی زخمی ہونے کی بات سامنے آئی۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ ریکھا گپتا پربھی کئی سوال کھڑے کئے تھے اورتحریک پران کی خاموشی پرسوال اٹھایا گیا۔ اس کے علاوہ جس طرح سے طلبا پرپولیس کا لاٹھی چارج ہوا اورسخت کارروائی وئی، اس سے متعلق بھی دہلی حکومت کٹہرے میں ہے۔وزیراعظم مودی نے فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل کا کیا اعلان
مظاہرین کے مشتعل ہونے کے بعد ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے پوسٹ کرکے طلبا کو اطمینان دلایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حال میں پیپرلیک کے قصورواروں کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ انہوں نے جانکاری دی کہ پیپرلیک معاملے میں شامل قصورواروں کو سخت سزا دلانے کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل کی جائے گی اوراس سمت میں مناسب اورسخت کارروائی کی جائے گی۔ حالانکہ اس سے پہلے این ڈی اے پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں بھی وزیراعظم مودی نے پیپرلیک کوخطرناک جرم قراردیا تھا اورسخت کارروائی کی بات کہی تھی۔
*🛑اننت ناگ دہشت گردانہ حملے کے بعد بڑی کارروائی، لشکرِ طیبہ کے دو دہشت گردوں کے مکانات مسمار*
اننت ناگ، جموں و کشمیر (اشفاق احمد میر): اننت ناگ کے لال چوک میں جموں و کشمیر پولیس کے ایک اہلکار کی دہشت گردانہ حملے میں ہلاکت کے ایک روز بعد سکیورٹی ایجنسیوں اور انتظامیہ نے ضلع میں سرگرم لشکرِ طیبہ (LeT) کے دو دہشت گردوں کے مکانات مسمار کر دیے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق مسمار کیے گئے مکانات عادل ٹھوکر ساکن گوری، بجبہاڑہ اور ہارون گنائی ساکن حسن پورہ، اننت ناگ کے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ضلع میں دہشت گردوں اور ان کے معاون نیٹ ورک کے خلاف جاری وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔
یہ کارروائی بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب انجام دی گئی، جس کے دوران گوری، بجبہاڑہ کے رہائشی عادل ٹھوکر اور حسن پورہ، بجبہاڑہ کے رہائشی ہارون گنائی کے مکانات کو مکمل طور پر مسمار کیا گیا۔ عادل ٹھوکر کا پرانا مکان گزشتہ برس 22 اپریل کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھی منہدم کیا گیا تھا، جب کہ اس بار اس کے نئے تعمیر شدہ مکان کو نشانہ بنایا گیا۔
متعدد مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں
یہ کارروائی لال چوک، اننت ناگ میں امرناتھ یاترا ڈیوٹی پر تعینات جموں و کشمیر پولیس کے اہلکار عاشق حسین، ساکن بڈگام، کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکت کے ایک روز بعد عمل میں لائی گئی۔ حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے وادی بھر میں انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں نمایاں تیزی لائی۔ اس سلسلے میں مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں انجام دی گئیں، جب کہ سینکڑوں افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا، جن میں بعض مبینہ اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) بھی شامل ہیں۔ وہیں متعدد مقامات پر چھاپہ مار کارروائی انجام دی گئیں۔
امرناتھ یاترا کے پیشِ نظر حفاظتی انتظامات مزید سخت
ادھر جاری شری امرناتھ یاترا کے پیشِ نظر وادی بھر میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ حساس مقامات پر اضافی پولیس اور سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ قومی شاہراہوں، اہم سڑکوں اور داخلی و خارجی راستوں پر ناکوں اور چیکنگ پوائنٹس کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ گاڑیوں کی جامع تلاشی، شناختی جانچ، ایریا ڈومینیشن گشت اور مشترکہ نگرانی میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔
محبوبہ مفتی نے کی شدید مذمت
وہیں محبوبہ مفتی نے عسکریت پسندوں کے گھروں کی مسماری کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ 'ڈیوٹی کے دوران ایک پولیس افسر کا قتل ایک گھناؤنا اور قابل مذمت فعل ہے۔ لیکن ایک ہزار سے زائد لوگوں کو حراست میں لینا اور دو مبینہ عسکریت پسندوں کے خاندانوں کے گھروں کو مسمار کرنا اجتماعی سزا کے مترادف ہے، جس کی کسی جمہوریت میں کوئی گنجائش نہیں۔ اگر حکومت ہند خود یہ دعویٰ کرتی ہے کہ عسکریت پسندی تقریباً ختم ہو چکی ہے، تو اسے پوری برادری سے بدلہ لینے کے بجائے معصوم شہریوں کے ساتھ زیادہ انسانی اور قانونی رویہ اپنانا چاہیے۔'دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا ضروری
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر سمیت پوری وادی میں دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے تمام ضروری اور ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی فورسز پوری طرح متحرک ہیں۔حکام کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پولیس ہیڈ کانسٹیبل پر کی گئی تھی فائرنگ
واضح رہے کہ منگل کی دوپہر لال چوک اننت ناگ میں دہشت گردوں نے ایک پولیس اہلکار کو نشانہ بناتے ہوئے اس پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔ حملے کے فوراً بعد زخمی اہلکار کو تشویشناک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔واقعے کے بعد پورے لال چوک اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔ پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں نے مشترکہ طور پر علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تلاشی اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ داخلی و خارجی راستوں پر اضافی ناکے قائم کیے گئے تھے جب کہ مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے جائے وقوعہ اور اطراف کے علاقوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج، تکنیکی شواہد اور دیگر اہم معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں مختلف زاویوں سے معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہیں تاکہ حملے کے پس پردہ سازش کو بے نقاب کیا جا سکے۔
پولیس نے بتایا تھا کہ بدھ کے روز اننت ناگ کے لال چوک علاقے میں دہشت گردوں نے جموں و کشمیر پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل پر فائرنگ کی تھی، جس میں وہ شدید زخمی ہوئے تھے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ اس واقعے کے بعد پورے جنوبی کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی اور دہشت گردوں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں شروع کی گئیں۔