Friday, 10 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


غفلت کرنے والوں کو جواب دینا ہوگا، عوام کو انصاف دینا ہوگا!" 
مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی لمیٹڈ کی مسلسل لاپرواہی، عوامی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے
مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی لمیٹڈ کی مسلسل غفلت، ناقص انتظامیہ اور عوام دشمن رویے کے باعث شہری شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کمپنی کی لاپرواہی کے نتیجے میں کئی معصوم افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، لیکن آج تک نہ کسی ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی کی گئی اور نہ ہی عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے۔
کمپنی کے افسران اور ملازمین عوامی شکایات، تحریری درخواستوں اور متعدد یادداشتوں کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔ دوسری طرف بقایا جات رکھنے والے صارفین کو بجلی منقطع کرنے، قانونی نوٹس بھیجنے اور عدالتی کارروائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ خود کمپنی اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر کمپنی کی غفلت کے باعث کسی شہری کی جان یا مال کا مزید نقصان ہوا تو اس کی مکمل قانونی اور اخلاقی ذمہ داری مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی لمیٹڈ، اس کے متعلقہ افسران اور ذمہ دار حکام پر عائد ہوگی۔ ان کے خلاف مجاز عدالتوں میں قانونی کارروائی، ہرجانے (Compensation) کا دعویٰ، متعلقہ سرکاری محکموں میں شکایات اور دیگر تمام آئینی و قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
اگر عوام کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے اور بجلی کے نظام کو محفوظ بنانے، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کرنے اور شہریوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مورخہ 10 جولائی 2026 (جمعہ کو 2 بجے سے شام 5:00 بجے تک مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی لمیٹڈ کے مرکزی گیٹ کے سامنے محمد احتشام محمد جمیل کی قیادت میں ایک روزہ پرامن دھرنا و احتجاج کیا جائے گا۔
یہ احتجاج صرف ایک آغاز ہوگا۔ اگر اس کے باوجود بھی انتظامیہ اور کمپنی نے اپنی روش نہ بدلی تو احتجاج کو مزید وسیع کیا جائے گا اور تمام قانونی، آئینی اور جمہوری ذرائع استعمال کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ عوام کی جان و مال کے ساتھ مزید کھلواڑ کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔









امریکہ بھلے کندھے پر بٹھائے، یورپ نے پاکستان کو دھو ڈالا، دی ایسی دھمکی، ہو جائے گا کنگال
ایک طرف امریکہ متعدد تنازعات اور دہشت گردی کے الزامات کے باوجود پاکستان کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے۔ دوسری طرف یورپ نے پاکستان کی خوب سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی معیشت تباہ ہو سکتی ہے۔ درحقیقت پاکستان میں انسانی حقوق نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ ہندو اور عیسائی لڑکیوں کا اغوا اور تبدیلی کوئی نئی بات نہیں۔ ان مسائل کے حوالے سے یورپی پارلیمنٹ نے اب واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر انسانی حقوق کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پاکستان GSPپلس پروگرام کے تحت تجارتی مراعات سے محروم ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کی معیشت بالخصوص اس کی ٹیکسٹائل اور کپڑے کی صنعت شدید متاثر ہوگی۔

GSP+ کیا ہے؟
GSP+ یورپی یونین کی ایک خصوصی تجارتی اسکیم ہے۔ اس کے تحت ترقی پذیر ممالک کو یورپی منڈی میں کم یا صفر ٹیرف پر اشیاء فروخت کرنے کی اجازت ہے۔ پاکستان کو یہ درجہ 2014 میں دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے پاکستان کی یورپ کو برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور آج یورپی یونین اس کی بڑی برآمدی منڈیوں میں سے ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کو واپس لینے سے نہ صرف سفارتی بلکہ ایک بڑا اقتصادی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ نے بھی 13 سالہ مسیحی لڑکی ماریہ شہباز کے کیس کو تشویش کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ پارلیمنٹ نے اس فیصلے پر سوال اٹھایا جس میں ایک پاکستانی عدالت نے مبینہ اغوا، جبری تبدیلی مذہب اور بچوں کی شادی کو برقرار رکھا اور ماریہ کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دی۔ یورپی قانون سازوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی پر سختی سے پابندی لگائے، مجرموں کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے اور متاثرہ لڑکیوں کو محفوظ پناہ، قانونی امداد اور نفسیاتی مدد فراہم کرے۔

قرارداد میں پاکستان میں اقلیتوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور اپوزیشن کے خلاف توہین رسالت کے قوانین، دہشت گردی اور سائبر قوانین کے غلط استعمال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پارلیمنٹ نے من مانی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ماریہ شہباز کی عمر صرف 13 سال تھی جب اسے پاکستان میں اغوا کیا گیا، زبردستی اسلام قبول کیا گیا اور 30 سالہ شخص سے شادی کر لی گئی۔

ان معاملات کا بھی ذکر کیا
یورپی پارلیمنٹ نے بلوچ حقوق کارکن مہرنگ بلوچ، انسانی حقوق کے وکیل ایمان مزاری، علی وزیر، حنیف پشتین اور داد شاہ کے مقدمات کا بھی ذکر کیا۔ ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ پرامن کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن ختم ہونا چاہیے اور ہر صورت میں عدالتی عمل کی پیروی ہونی چاہیے۔

یورپ اب باریک بینی سے نگرانی کرے گا
یورپی پارلیمنٹ نے یورپی کمیشن اور یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس (EEAS) سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اگلے GSP+ مانیٹرنگ مذاکرات میں ان مسائل کو ترجیح دیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کے ساتھ پاکستان کی تعمیل کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے، اور اس سے یہ طے ہو گا کہ آیا اسے GSP+ فوائد ملتے رہیں گے۔













’مسٹر جوڈیشل سرونٹ، میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ اے ایس پی، لکھنؤ کے خلاف سائبر کرائم سنڈیکیٹ چلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں‘‘ اس جملے نے سپریم کورٹ میں مچادیا ہنگامہ……
نئی دہلی: سپریم کورٹ میں جمعہ کے روز اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک درخواست گزار نے جو اپنا مقدمہ خود لڑ رہا تھا، سماعت کے دوران عدالت کا نظم درہم برہم کر دیا۔ چیف جسٹس کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا اور ججوں کے سامنے کاغذات اچھال دیے۔ تاہم عدالت نے اس کے خلاف توہین عدالت یا کسی دوسری کارروائی سے گریز کرتے ہوئے صرف اس کی درخواست مسترد کر دی۔

 ہنگامے کی کیا ہیں اصل وجوہات؟

یہ واقعہ جسٹس کے وی وشواناتھن اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل بنچ کے سامنے پیش آیا، جہاں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کو چیلنج کرنے والی خصوصی اپیل کی اجازت (SLP) کی سماعت جاری تھی۔ درخواست گزار پربل پرتاپ نے خود کو ’’خودمختار‘‘ (Sovereign) قرار دیتے ہوئے جج صاحبان کو ’’عدالتی ملازم‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’Mr judicial servant. I order you to order the registration of an FIR against the ACP … Lucknow‘‘ ’’مسٹر جوڈیشل سرونٹ، میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ اے ایس پی، لکھنؤ کے خلاف سائبر کرائم سنڈیکیٹ چلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔‘‘ اس پر جسٹس وشواناتھن نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا: ’’آپ ہمیں حکم دے رہے ہیں؟‘‘ درخواست گزار نے جواب دیا کہ جو کچھ کہنا تھا، وہ ریکارڈ پر موجود ہے۔

چیف جسٹس کے خلاف بدزبانی، سکیورٹی نے باہر نکالا

چند ہی لمحوں بعد درخواست گزار نے چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے اور عدالت میں موجود کاغذات ہوا میں اچھال دیے، جس کے باعث عدالتی کارروائی میں خلل پڑا۔ اس کے بعد سکیورٹی اہلکار فوری طور پر متحرک ہوئے اور اسے عدالت سے باہر لے گئے۔ بعد ازاں اسے کچھ دیر کے لیے سپریم کورٹ کے احاطے میں واقع ڈی ایس پی کے دفتر میں رکھا گیا۔

عدالت نے کارروائی کرنے سے گریز کیا

ہنگامہ آرائی کے باوجود بنچ نے درخواست گزار کے خلاف توہینِ عدالت یا کسی اور تعزیری کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس کے وی وشواناتھن نے کہا: ’’ہم اس شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ مقدمے کے میرٹ کا جائزہ لینے کے بعد ہمیں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آئی، لہٰذا خصوصی اجازت اپیل مسترد کی جاتی ہے۔‘‘ سماعت کے بعد سینئر وکیل پی ایس پٹوَالیا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات جج کا منصب کتنا مشکل ہوتا ہے، یہ ایسے مواقع پر واضح ہو جاتا ہے۔ اس پر جسٹس وشواناتھن نے کہا: ’’وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہے۔ ہمیں اس سے صرف ہمدردی ہے۔‘‘

سپریم کورٹ نے درخواست خارج کردی؟

درخواست گزار نے الہٰ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس میں اس کی عرضی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ متعلقہ عدالتی حکم کے خلاف متبادل قانونی چارہ جوئی اختیار کرے۔ اصل معاملہ لکھنؤ کی اسپیشل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (کسٹمز) کی عدالت سے متعلق تھا، جہاں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کو نجی شکایت (Private Complaint) کے طور پر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی برطانیہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پاب...