Monday, 22 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

حماس اور فرانسیسی حکام کے درمیان خفیہ ملاقات ، 1967 کی سرحدی بنیادوں پر فلسطینی ریاست پرہوئی بات چیت 
مشرق وسطی میں تمام سیاسی ہلچل کے بیچ اسرائیل الگ تھلگ پڑتا نظر آرہا ہے ۔ ایران جنگ کے مستقل خاتمہ کے لیے امریکہ اور ایران کے بیچ مذاکراتی عمل جاری ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں حالیہ دنو ں میں تلخیاں درآئی ہیں ۔ لبنان میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں پرامریکی صدرٹرمپ برہمی کا اظہار کئی بار کرچکے ہیں ۔ دوسری جانب سے غزہ میں بھی اسرائیل کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس بیچ، حماس اور یورپی وفد کی خفیہ ملاقات کی خبرسامنے آئی ہے ۔

سعودی اخبار الشرق الاوسط کی پیر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے سینئر رہنماؤں نے ایک فرانسیسی وفد کے ساتھ انتہائی خفیہ ملاقات کی۔رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات حال ہی میں مشرق وسطیٰ کے ایک نامعلوم ملک میں ہوئی۔ دو فلسطینی ذرائع نے اس ملاقات کو انتہائی خفیہ قرار دیا۔ ان کے مطابق بعض فلسطینی دھڑوں کو اس ملاقات کے بارے میں صرف اس کے انعقاد سے کچھ دیر پہلے یا بعد میں آگاہ کیا گیا۔ ان دو ذرائع میں ایک فلسطینی سول سوسائٹی سے وابستہ شخصیت اور دوسرا حماس کے قریب ایک فلسطینی تنظیم کا نمائندہ شامل تھا،رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب حماس کے رہنماؤں اور یورپی حکام کے درمیان کسی ملاقات کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ذرائع کے مطابق فرانسیسی وفد میں موجودہ اور سابق سفارت کاروں کے علاوہ حکمراں اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمان بھی شامل تھے۔

فلسطین کے داخلی امور پر فوکس

فلسطینی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ذریعے نے بتایا کہ مذاکرات پر خصوصی توجہ فلسطینی داخلی امور، قومی مفاہمت کو بہتر بنانے اور اسرائیل کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے پر تھی۔

اس ذریعے نے مزید بتایا کہ گفتگو میں 1967 کی سرحدوں کے اندر ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا موضوع بھی شامل تھا۔ 1967 کی سرحدوں سے مراد چھ روزہ جنگ سے قبل موجود جنگ بندی کی حد بندی ہے۔7 اکتوبر کے بعد سے فرانس دو ریاستی حل کا حامی رہا ہے۔

اسرائیل۔فرانس کے تعلقات کشیدہ

یہ مبینہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل فرانس کے قومی انسداد دہشت گردی استغاثہ دفتر (PNAT) نے اسرائیل کے خلاف ابتدائی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ تحقیقات گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کے بعد شروع کی گئیں جن میں ان پر تشدد اور جنگی جرائم کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

تحقیقات کا آغاز فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئل بروٹ کی جانب سے استغاثہ کو بھیجی گئی باضابطہ درخواست کے بعد کیا گیا۔ یہ اقدام اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کی جانب سے شائع کی گئی ایک ویڈیو کے بعد اٹھایا گیا، جس میں کارکنوں کو اشدود بندرگاہ لایا جاتا دکھایا گیا تھا۔فرانسیسی میڈیا کے مطابق ابتدائی تحقیقات فرانس کے مرکزی دفتر برائے انسدادِ انسانیت مخالف جرائم اور نفرت پر مبنی جرائم (OCLCH) کے ذریعے کی جائیں گی۔فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 میں فرانس نے نیویارک میں منعقدہ ایک عالمی سربراہی اجلاس کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا۔ اس فیصلے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے یہود مخالف جذبات کو تقویت مل رہی ہے۔









ایرانی تیل کی بازار میں واپسی، عالمی منڈی میں ہلچل، کیا پٹرول اور ڈیزل سستے ہوں گے؟
امریکہ کی جانب سے ایران کو 21 اگست 2026 تک بین الاقوامی منڈی میں خام تیل فروخت کرنے کی اجازت دینا عالمی تیل مارکیٹ کے لیے ایک بڑی راحت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور اس کے نتیجے میں پٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ایران کا خام تیل ایک بار پھر عالمی منڈی میں واپسی کے لیے تیار ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن اور تہران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔امریکہ نے ایران کے لیے 60 دن کا عارضی جنرل لائسنس جاری کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، نقل و حمل اور فروخت سے متعلق لین دین کی اجازت دے دی گئی ہے۔ 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پابندیاں دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ایرانی تیل کو باضابطہ طور پر عالمی منڈی میں واپسی کا موقع ملا ہے۔

 خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

ایرانی تیل کی اضافی سپلائی کی خبر سامنے آتے ہی بین عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل مارچ کے بعد پہلی مرتبہ 74 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا۔ عالمی معیار مانے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت 2.8 فیصد کم ہو کر 78.29 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی واپسی سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں اضافہ ہوگا، جس سے رسد کا دباؤ کم ہوگا اور قیمتوں میں مزید نرمی آ سکتی ہے۔

کیا واقعی سستے ہوں گےپٹرول اور ڈیزل؟

ایران دنیا کے سب سے بڑے تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس کی عالمی منڈی میں واپسی کا راست فائدہ ایسے ممالک کو ہو سکتا ہے جو تیل درآمد کرتے ہیں، جن میں بھارت بھی شامل ہے۔

بھارت اپنی ضرورت کا 80 فیصد سے زیادہ خام تیل بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہوتا ہے تو حکومت اور تیل کمپنیوں کے اخراجات کم ہوں گے۔اس کے نتیجے میں سرکاری تیل کمپنیاں جیسے آئی او سی، ایچ پی سی ایل اور بی پی سی ایل کے منافع میں بہتری آ سکتی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوگا۔اگر خام تیل کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل یا اس سے نیچے برقرار رہتی ہے تو گھریلو بازار میں ایندھن سستا ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

دنیا کے 12 فیصد تیل کے ذخائر ایران کے پاس

ایران کے پاس توانائی کے وسائل کا ایک وسیع ذخیرہ ہے جو عالمی منڈی پر نمایاں اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 ایران کے پاس تقریباً 208 ارب بیرل خام تیل کے ذخائر موجود ہیں۔

 یہ دنیا کے مجموعی تیل ذخائر کا تقریباً 12 فیصد ہیں۔

اسی لیے جب بھی ایران عالمی تیل منڈی میں فعال کردار ادا کرتا ہے تو خام تیل کی قیمتوں پر اس کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ایران قدرتی گیس سے بھی ہے مالامال

صرف خام تیل ہی نہیں بلکہ قدرتی گیس کے میدان میں بھی ایران ایک عالمی طاقت مانا جاتا ہے۔

 ایران کے پاس تقریباً 34 ٹریلین مکعب میٹر (TCM) قدرتی گیس کے ذخائر ہیں

 یہ دنیا کے مجموعی قدرتی گیس ذخائر کا تقریباً 17 فیصد بنتے ہیں۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی تیل اور گیس کی برآمدات مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف عالمی توانائی منڈی کو استحکام مل سکتا ہے بلکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی امید بھی بڑھ سکتی ہے۔









لکھنؤ کوچنگ سینٹر آتشزدگی : 15 افراد ہلاک ، حکومت نے ایس آئی ٹی دی تشکیل ، 4 افسران معطل
لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں پیر کے روز ایک تین منزلہ عمارت میں آگ لگنے کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور 10 افراد زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں عمارت کے مالکان سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ غفلت برتنے کے الزام میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پرچار افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

پرائم منسٹر نریندرمودی نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کے لواحقین کو2-2 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے 50، 50 ہزار روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے متاثرہ خاندانوں کو 5-5 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50، 50 ہزار روپے مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔یہ حادثہ علی گنج تھانہ علاقے میں اوشا مہتا مارگ پر واقع ایک تین منزلہ کمرشیل بلڈنگ میں دوپہر تقریباً 3 بجے پیش آیا۔ یہ عمارت پورنیا بازار کے قریب ایک پوش رہائشی علاقے میں واقع ہے جہاں متعدد کوچنگ سینٹرز اور کیفے موجود ہیں۔اسپتال کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ساگر، نیلیش، انامیکا، سنیم، انوچھا، سکھمنی، آدتیہ شریواستو، جیوتی، بھوشیہ، عبدالرحمن، سورج شاہ، شاہ جہاں، جینل چکرورتی، محمد عمار اور سومالیا شامل ہیں۔

ایس آئی ٹی کی تشکیل

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر دو رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں سیاحت، ثقافت اور مذہبی امور کے ایڈیشنل چیف سکریٹری امرت ابھیجات اور لکھنؤ زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس پروین کمار شامل ہیں۔ ٹیم کو سات دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔اب کیا کی گئی کارروائی ؟

پولیس نے رات گئے چار افراد کو گرفتار کیا جن میں رام کرشن اپادھیائے، وریندر پرساد شکلا، تشار کرشن جائسوال اور سریش کمار ساہو شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق اپادھیائے، شکلا اور جائسوال عمارت کے مشترکہ مالکان ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے حکم پر بجلی محکمہ جانکی پورم کے افسر گورو کمار، فائر بریگیڈ کی اندرا نگر شاخ کے افسر کملیندر کمار سنگھ، لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ انجینئر انیل کماراور جونیئر انجینئر پرمود پانڈے کو فوری طور پر معطل کر دیا گیاہے۔

آگ لگنے کی وجہ کیا تھی؟

شہری ترقی اور توانائی کے وزیر اے کے شرما کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ عمارت کے اے سی ڈکٹ سے شروع ہوئی۔ مناسب ایمرجنسی راستے نہ ہونے کے باعث دھواں پوری عمارت میں پھیل گیا اور بیشتر افراد کی موت دم گھٹنے سے ہوئی۔مقامی بی جے پی رکن اسمبلی نیرج بورا کے مطابق زیادہ تر اموات جلنے سے نہیں بلکہ دم گھٹنے کے باعث ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت میں باہر نکلنے کا مناسب راستہ موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے حادثہ اتنا سنگین ثابت ہوا۔مقدمہ درج

علی گنج آتشزدگی کیس میں غیر ارادۃً قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ عمارت کے مالک وریندر پرساد شکلا، علی گنج پیٹ شاپ اینڈ کلینک کے مالک رام کرشن اپادھیائے اور عمارت میں قائم دیگر اداروں کے ذمہ داران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا چینی کا استعمال واقعی کینسر کا سبب بنتا ہے؟ ڈاکٹر ورتیکا نے بتایا کہ ’بعض لوگ پی ای ٹی سکین کی تصاویر کا حوالہ د...