کہاں ہیں ایران کے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای ؟ روسی سفارت کارنے کیا انکشاف ، ٹرمپ رہ جائیں گے حیران
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ جاری ہے ۔ حملوں اور جوابی حملوں کے بیچ امریکی صدرٹرمپ جنگ دو سے تین ہفتوں میں ختم ہونے کی بات کہہ رہے ہیں۔ایران کےصدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا کہ ایران جنگ ختم کرنے کو تیار ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ یہ ضمانت دی جائے کہ تنازع دوبارہ شروع نہیں جائے گا۔
حملوں کے درمیان جنگ بندی باتیں دونوں جانب کی قیادت کی جانب سےکی جارہی ہیں لیکن ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای منظرنامے پر ابھی تک نہیں آئے ہیں ۔وہ کہاں ہیں اس تعلق سے قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے ۔اس درمیان روسی سفارتکار نے انکشاف کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ملک میں ہی موجود ہیں اورسکیورٹی خدشات کے باعث عوامی سطح پرنظرنہیں آرہے ہیں۔اس دوران کویت کے ایک روزنامے الجریدہ کی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای علاج کے لیے روس میں ہیں ۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ وہ ماسکو میں ایک اسپتال میں زیر اعلاج ہیں ۔واضح رہے کہ،28 فروری کوایران پرامریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی پہلی لہر کی شروعات ہوئی تھی۔ اس حملے میں ایران کے رہبراعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی موت ہوگئی تھی۔ان حملوں کی لہر میں مجتبیٰ خامنہ ای کی موت کا بھی دعویٰ کیا گیا تھا۔تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام نشرکیا گیا۔اس کے باوجود وہ اب تک عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں۔اس بیچ ، روسی سفارت کارایلکسی ڈیڈو کا دعویٰ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران میں ہی موجود ہیں، تاہم وہ قابلِ فہم وجوہات کی بنا پر عوامی سطح پر ظاہر نہیں ہو رہے ہیں۔اس دوران، مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے جاری کیے جانے والے تمام بیانات تحریری صورت میں جاری کیے گئے جنہیں سرکاری ٹی وی کے اینکرز نے پڑھ کر سنایا۔ان بیانات میں 12 مارچ کا ان کا پہلا خطاب اور 20 مارچ کو نوروز کا پیغام شامل ہے۔
مردم شماری 2027 کا آغاز، 33 سوالات کیے جائیں گے دریافت، ذات سے متعلق تفصیلات کا بھی کیا جائے گا اندارج
تقریباً 15 سال بعد ملک میں مردم شماری کا عمل یکم اپریل سے شروع ہوگیا ہے۔ پچھلی مردم شماری 2011 میں ہوئی تھی۔ عام طور پر، ملک میں ہر 10 سال بعد مردم شماری کرانے کی روایت ہے لیکن کورونا وباکے سبب اسے 2020-2021 میں ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اب اس مردم شماری میں ذات کو شامل کیا گیا ہے۔
یہ پورا عمل دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ حتمی رپورٹ 2027 میں جاری کی جائے گی۔ اسی وجہ سے اسے مردم شماری 2027 کہا جا رہا ہے۔ آئیے اس مردم شماری کی مکمل تفصیلات دیکھیں۔
مردم شماری 2027 کا پہلا مرحلہ آج سے شروع ہو رہا ہے: حکومت ہند نے 2027 کی مردم شماری کا پہلا مرحلہ—ہاؤس لسٹنگ اور ہاؤسنگ اینومریشن (HLO)— یکم اپریل 2026 کو شروع کیا ہے۔ یہ مرحلہ 30 ستمبر 2026 تک جاری رہے گا۔ مختلف ریاستوں اور غیر ریاستوں کی تاریخوں کے مطابق گھر گھر سروے کیا جائے گا۔سوالات کا ایک سیٹ جاری کیا گیا ہے: رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر مرتنجے کمار نارائن نے کہا کہ مردم شماری کارکن اس مرحلے میں کل 33 سوالات پوچھیں گے۔ ان میں عمارت کا نمبر، مردم شماری کے گھر کا نمبر، فرش، دیواراور چھت کی تعمیر میں استعمال کیے گئے سامان جیسی معلومات شامل ہیں۔
بنیادی گھریلو اور خاندانی معلومات: شمار کنندہ گھر میں رہنے والے ارکان کی کل تعداد، گھر کے سربراہ کا نام اور جنس، سربراہ کی ذات (شیڈولڈ کاسٹ، شیڈول ٹرائب یا دیگر)، گھر کی ملکیت، رہنے والے کمروں کی تعداد اور گھر میں شادی شدہ جوڑوں کی تعداد ریکارڈ کرے گا۔
سہولیات کا ایک مکمل ایکس رے: سوالات میں پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ، روشنی کا ذریعہ، بیت الخلا کی دستیابی اور قسم، گندے پانی کو ٹھکانے لگانے، نہانے اور باورچی خانے کی سہولیات، LPG/PNG کنکشن، اور کھانا پکانے کے اہم ایندھن شامل ہیں۔ اس سے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی صحیح تصویر سامنے آئے گی۔
پراپرٹی اور ڈیجیٹل ملکیت: گنتی میں ریڈیو، ٹی وی، انٹرنیٹ، لیپ ٹاپ/کمپیوٹر، ٹیلی فون/موبائل/اسمارٹ فون، سائیکل، سکوٹر، موٹر سائیکل، کار/جیپ/وین جیسی اشیاء کی ملکیت کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔ کھانے پینے کی اہم اشیاء اور مردم شماری سے رابطہ کرنے کے لیے موبائل نمبر بھی اکٹھا کیا جائے گا۔
خود شماری کا آپشن: شہری 16 زبانوں میں ایک آن لائن پورٹل کے ذریعے خود گنتی کر سکتے ہیں۔ فیلڈ سروے سے پہلے شروع ہونے والے، 15 دنوں کی مدت کے لیے خود گنتی دستیاب ہوگی۔ مثال کے طور پر، دہلی کے این ڈی ایم سی اور کنٹونمنٹ علاقوں میں 1 سے 15 اپریل تک خود شماری ہوگی۔
خود شماری کیسے کریں: گھر کا سربراہ یا کوئی بھی ممبر اپنے موبائل نمبر کا استعمال کرتے ہوئے سرکاری پورٹل پر اندراج کر سکتا ہے۔ ایک ضلع منتخب کریں، نقشے پر گھر کے مقام کو نشان زد کریں، اور معلومات درج کریں۔ ایک منفرد 16 ہندسوں کی خود شماری ID تیار کی جائے گی، جسے فیلڈ وزٹ کے دوران شمار کنندہ کو دکھانا ضروری ہے۔
وقت کی بچت اور بہتری کا موقع: خود گنتی اہم وقت بچائے گی۔ فیلڈ وزٹ کے دوران شہری اپنی فراہم کردہ معلومات میں تصحیح بھی کر سکیں گے۔ یہ پہلی ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی جس میں ایک موبائل ایپ بھی استعمال کی جائے گی۔ڈیٹا کی رازداری کی ضمانت: اہلکار نے واضح کیا کہ ذاتی ڈیٹا مکمل طور پر خفیہ رہے گا۔ اسے عدالت میں ثبوت کے طور پر یا کسی سرکاری اسکیموں کے فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ڈیٹا صرف مجموعی اعدادوشمار کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
دوسرے مرحلے میں ذات کی مردم شماری: یہ پہلا مرحلہ رہائش اور سہولیات پر مرکوز ہے۔ ذات پات کی مردم شماری دوسرے مرحلے (آبادی کی مردم شماری) میں کی جائے گی۔ مردم شماری کی پوری مہم کے بعد 2027 میں ڈیٹا دستیاب ہونے کی امید ہے۔
وہ خوف ناک 12 دن...، ایران جنگ کی کہانی پلوامہ کے بلا گرکی زبانی
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کاپانچواں ہفتہ ہے۔ سیاسی لیڈروں کی بیان بازیوں ،جنگ بندی کی باتوں، ملاقاتوں اور اُمید کے بیچ میدان جنگ خوف ناک تصویر پیش کررہی ہے۔ جنگ ختم ہونے کے آثار نظر نہیں رہے ہیں۔جنگ ہلاکت و تباہی کا نام ہے۔ ایک مہینے سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں جان و مال کے نقصان کا اندازہ لگا پانا مشکل ہے۔
اس دوران ، نیوز 18 نے ایک ایسے شخص سے بات کی جو ایران پرحملوں کے آغاز کے وقت وہاں موجود اور محفوظ رہا۔ جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے عمر اقبال نے جنگ کے دوران ایران میں 12 دن گزارے اور حالات کو قریب سے دیکھا۔ عمر اقبال پلوامہ سے ایک بلاگر ہیں۔ آئیے ایران جنگ کے دوران گزارے 12 روز کی کہانی انہی کی زبانی سنتے ہیں۔افغانستان کے ہرات میں نیوز 18 انڈیا کے ساتھ ایک خاص بات چیت میں عمر اقبال نے انکشاف کیا کہ ایک لمحہ ایسا آیا جب انہیں لگا کہ یہ ان کا آخری لمحہ ہے اور انہوں نے آخری کلمہ بھی پڑھا۔ وہ اس وقت سفر پرتھے اور مسلسل حملے ہورہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ایک ہندوستانی کے طور پر، ایران میں لوگوں اور سیکورٹی اہلکاروں نے ان کی مدد کی۔
عمر اقبال کب ایران پہنچے؟
عمر اقبال نے نیوز 18 انڈیا کو بتایا کہ انہیں امید ہے کہ صورتحال جلد بہتر ہو جائے گی تاکہ وہ دوبارہ ایران دیکھ سکیں۔ جموں کشمیر کے پلوامہ سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ ٹریول بلاگر عمر اقبال فروری کے آخری ہفتے میں ایران پہنچے۔ اس وقت حالات تیزی سے تبدیل ہورہے تھے ۔کشیدگی عروج پر تھی۔ 21 فروری کو وہ ایران میں داخل ہوئے۔ لوگوں نے انہیں خوش آمدید کہا لیکن ساتھ ہی انہیں فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ بھی دیا۔
عمر اقبال کے مطابق عراق میں ایرانی سفارت خانے نے ابتدائی طور پر ویزہ دینے سے انکار کر دیا تھا تاہم سخت جانچ پڑتال کے بعد 12 دن کا ویزہ جاری کیا اور فوری طور پر ملک چھوڑنے کی وارننگ دی گئی۔ خرم آباد اور
قم میں کچھ دن گزارنے کے بعد 28 فروری کو جنگ چھڑ گئی۔یکم مارچ کو وہ تہران کی طرف روانہ ہوئے لیکن حملوں کی شدت کی وجہ سے شہر میں داخل نہیں ہوئے۔ایران میں عمران نے کیا دیکھا؟
عمر اقبال کے مطابق، اس نے ایک رات دمغان کے قریب کھلے آسمان نیچے گزاری، جہاں اس نے میزائلوں گزرتے دیکھا۔ 2 مارچ کو دمغان میں دھماکے سے ایک عمارت کو نقصان پہنچا، جہاں وہ امدادی کاموں میں حصہ لیتے ہوئے خود زخمی ہو ئے۔ بڑھتے ہوئے خطرے اور ویزے کی میعاد ختم ہونے کی وجہ سے، عمرنے 6 مارچ کو تائباد کی جانب تقریباً 750 کلومیٹر کا سفر کیا۔ راستے میں خوف اور غیر یقینی کی صورتحال برقرار رہی۔ انھوں نے 7 مارچ کو افغان سرحد عبور کیااور ہرات میں اپنے خاندان سے رابطہ کیا۔ اب افغانستان میں ایک ماہ قیام کے بعد وہ وسطی ایشیا کا رُخ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ایران پر حملہ
ایران پر 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ حملہ کیا گیا ۔ 28 فروری کو ہونے والے اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت ہوگئی۔ مزید بر، کئی دیگر اعلیٰ ایرانی رہنماؤں کو بھی قتل کیا گیا۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمزپر پہرہ سخت کردیا ہے۔ اب امریکہ ،ایران سے بات چیت کرنے کا دعویٰ کررہا ہے تاہم ایران نے اس کے دعوؤں کی تردید کی ہے۔