ویپ کا استعمال پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے: تحقیق
آسٹریلیا کے محققین کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ویپنگ (ای سگریٹ کا استعمال) پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے، جس کے بعد ماہرین نے ریگولیٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ حتمی شواہد کا انتظار کرنے کے بجائے فوری اقدامات کریں۔
گارڈین کے مطابق سڈنی میں واقع یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے ماہرین کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں سنہ 2017 سے 2025 تک شائع ہونے والی مختلف سائنسی رپورٹس، جانوروں پر کیے گئے تجربات، انسانی کیس رپورٹس اور لیبارٹری تحقیق کا جائزہ لیا گیا۔
یہ اب تک کی تفصیلی تحقیقات میں سے ایک ہے جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آیا نکوٹین ای سگریٹ کینسر کا باعث بن سکتے ہیں یا نہیں۔تحقیق کے مطابق ویپنگ جسم میں ایسے ابتدائی خطرناک اثرات پیدا کرتی ہے جو کینسر سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں، جیسے کہ ڈی این اے کو نقصان پہنچنا اور سوزش کا بڑھ جانا۔
مشہور جریدے ’کارسینوجینیسیس‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ’ویپنگ ان ابتدائی کینسر سے پہلے کی تبدیلیوں سے جڑی ہوئی ہے۔‘
ماہر برنارڈ سٹیورٹ کے مطابق ای سگریٹ کے دھوئیں کو سانس کے ذریعے اندر لینے سے منہ اور پھیپھڑوں کے خُلیات اور بافتوں میں واضح تبدیلیاں آتی ہیں۔ تاہم چونکہ ای سگریٹس جدید دور میں یعنی 2000 کے بعد متعارف ہوئے، اس لیے طویل المدتی انسانی ڈیٹا ابھی محدود ہے، اور یہ واضح طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے افراد میں کینسر پیدا ہوا۔‘
تحقیق میں کچھ ایسے کیسز بھی شامل کیے گئے جن میں ایسے افراد میں منہ کے کینسر کی نشاندہی ہوئی جو صرف ویپنگ کرتے تھے اور کبھی سگریٹ نہیں پیتے تھے۔ اس کے علاوہ جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ای سگریٹ کے بخارات کے سامنے آنے والے چوہوں میں پھیپھڑوں کے ٹیومر زیادہ بنے، اگرچہ یہ نتائج براہِ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں سگریٹ نوشی کے نقصانات کو تسلیم کرنے میں تقریباً 100 سال لگے تھے، اس لیے ویپنگ کے معاملے میں ابتدائی خبردار کرنے والے شواہد کو نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف فریڈی سیتاس کے مطابق ’یہ تاثر کہ ویپنگ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہے، درست نہیں ہو سکتا۔‘ ان کے مطابق ’فی الحال ویپنگ چھوڑنے کے مؤثر طریقوں کے حوالے سے شواہد بھی واضح نہیں ہیں۔‘
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتوں اور صحت کے اداروں کو چاہیے کہ وہ خاص طور پر نوجوانوں کو ویپنگ کے نقصانات سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کریں۔ تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ ویپنگ سگریٹ جتنی نقصان دہ ہے، کیونکہ اس میں سگریٹ کی طرح جلنے والے کیمیائی مادے شامل نہیں ہوتے۔
مجموعی طور پر تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ویپنگ کو محفوظ متبادل سمجھنا درست نہیں اور اس کے ممکنہ خطرات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ! اقوام متحدہ کے نمائندے کا دعویٰ- ایران پر ایٹم بم گرانے کی تیاری کر رہے ہیں امریکہ اور اسرائیل
اقوام متحدہ سے وابستہ ایک نمائندے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر ایٹمی حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس حیران کن دعوے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے اور بین الاقوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مذکورہ دعویٰ اقوام متحدہ میں سفارتی خدمات انجام دینے والے محمد صفا نے کیا، جنہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ معلومات منظر عام پر لانے کے لیے اپنی ملازمت تک چھوڑ دی ہے۔ محمد صفا، جو اقوام متحدہ میں بطور سفارتی نمائندہ اور پیٹریاٹک وژن ایسوسی ایشن کے نمائندے کے طور پر کام کر رہے تھے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ انہوں نے لکھا کہ وہ ایسے ماحول میں کام جاری نہیں رکھ سکتے جہاں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی تیاریاں ہو رہی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے انسانیت کو ممکنہ تباہی سے آگاہ کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔محمد صفا نے اپنے پیغام کے ساتھ تہران کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے ایٹمی حملے کے ممکنہ نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے لکھا کہ تہران کوئی خالی صحرا نہیں بلکہ ایک گنجان آباد شہر ہے جہاں لاکھوں خاندان رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی بات کرنے والے اکثر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایسے حملوں سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران کی آبادی تقریباً ایک کروڑ کے قریب ہے اور اگر اس شہر پر ایٹمی حملہ کیا گیا تو اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس ممکنہ خطرے کو سنجیدگی سے لے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن، برلن، پیرس یا لندن جیسے شہروں پر ایٹمی حملہ ہو جائے تو دنیا کس طرح کے بحران کا سامنا کرے گی۔محمد صفا نے الزام لگایا کہ اقوام متحدہ کے بعض سینئر عہدیدار ایک طاقتور لابی کے لیے کام کر رہے ہیں اور بین الاقوامی مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ضمیر انہیں اس صورتحال میں خاموش رہنے کی اجازت نہیں دیتا تھا، اسی لیے انہوں نے اپنی سفارتی ذمہ داریاں ترک کر دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں اس لیے روک دیں تاکہ وہ انسانیت کے خلاف ممکنہ جرم کا حصہ نہ بنیں اور نہ ہی اس کے خاموش گواہ رہیں۔ ان کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا ایک بڑی ایٹمی تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔
محمد صفا نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کو ترجیح دیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید تباہی کو جنم دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دے۔ دوسری جانب عالمی اداروں کے بعض ماہرین بھی اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ اگر ایران سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہوا تو صورتحال ایٹمی تصادم تک پہنچ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی صورت حال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ محمد صفا کے دعوے کے بعد عالمی سطح پر تشویش مزید بڑھ گئی ہے اور کئی ممالک نے سفارتی حل پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔
دہلی میں پریمیم پٹرول، ڈیزل اور کمرشل سلنڈر کے دام میں اضافہ، جانیے ایندھن کی قیمتوں میں کتنا ہوا اضافہ؟
دارالحکومت دہلی کے گاڑی مالکان اور تاجروں کے لیے نئے مہینے کی شروعات مہنگائی کے جھٹکے کے ساتھ ہوئی ہے۔ انڈین آئل کارپوریشن (IOCL) نے دہلی میں اپنے پریمیم پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی بڑھوتری کا اعلان کیا ہے۔ جہاں ایک طرف عام پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں استحکام برقرار ہے، وہیں دوسری جانب ہائی اینڈ کاروں اور سپر بائیکس میں استعمال ہونے والے پریمیم فیول کی قیمتوں نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کمرشل گیس سلنڈر کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس کا براہِ راست اثر ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان پر پڑے گا۔پریمیم پٹرول کی قیمت کتنی بڑھی؟
پریمیم فیول استعمال کرنے والوں، خاص طور پر لگژری کار اور ہائی پرفارمنس بائیکس رکھنے والوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ انڈین آئل نے اپنے پریمیم XP100 پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 11 روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد دہلی میں XP100 پٹرول کی قیمت 149 روپے سے بڑھ کر سیدھے 160 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ XP100 بھارت کا پہلا 100 آکٹین پریمیم پٹرول ہے، جسے خاص طور پر سپر بائیکس اور ہائی اینڈ انجن والی گاڑیوں کی بہتر کارکردگی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
پریمیم ڈیزل بھی مہنگا
پٹرول کے ساتھ ساتھ پریمیم ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ انڈین آئل کا پریمیم ڈیزل ویرینٹ Xtra Green ڈیزل، جو کم اخراج اور بہتر مائلیج کا دعویٰ کرتا ہے، اب دہلی کے صارفین کو مہنگا پڑے گا۔ پریمیم ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 1.50 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد Xtra Green ڈیزل کی نئی قیمت 92.99 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ اس سے پہلے یہ 91.49 روپے فی لیٹر تھی۔ تاہم عام ڈیزل کی قیمتوں میں فی الحال کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی۔
کمرشل اور 5 کلو سلنڈر کے دام میں اضافہ
ایندھن کے ساتھ ساتھ رسوئی گیس کے محاذ پر بھی مہنگائی نے دستک دی ہے۔ حکومت نے 19 کلو والے کمرشل ایل پی جی سلنڈر اور 5 کلو والے چھوٹے سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ منظور کر لیا ہے۔ دہلی میں کمرشل سلنڈر کی قیمت تقریباً 196 روپے بڑھ گئی ہے، جس سے باہر کھانا پینا مہنگا ہو سکتا ہے۔ جبکہ 5 کلو والے چھوٹے سلنڈر کی قیمت میں بھی 51 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
گھریلو گیس کی قیمتوں میں دو ہفتہ قبل ہی اضافہ کیا گیا تھا
مہنگائی کے اس دور میں عام صارفین کے لیے بھی کوئی راحت کی بات نہیں ہے کیونکہ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں دو ہفتے قبل ہی اضافہ کیا گیا تھا۔ تیل کمپنیوں اور حکومت نے مارچ میں طے شدہ قیمتوں کو اپریل میں بھی برقرار رکھا ہے۔ دہلی میں گھریلو سلنڈر کی قیمت 853 سے بڑھ کر اب 913 روپے ہو گئی ہے، جبکہ کولکاتا میں 939 روپے، ممبئی میں 912.50 روپے اور چنئی میں 928.50 روپے فی سلنڈر دستیاب ہے۔