Thursday, 21 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


کیا ہم مشین بن چکے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم
ابتدا ایک کہانی سے کرتے ہیں، وہ بھی فلمی کہانی۔ اس میں اگرچہ وہ نکتہ موجود ہے جس پر بات کرنا چاہ رہا ہوں: یہ ایک نوجوان کی کہانی ہے۔ وہ نوجوان طبعی طور پر خوش مزاج اور خوش اخلاق تھا۔ اس کے مزاج میں شگفتگی تھی۔ المیہ فلمیں، اداس گانے، اداسی طاری کر دینے والے ناول اور مناظر اسے ناپسند تھے۔ وہ ہنستا کھیلتا، گھروالوں اور دوستوں سے ہنسی مذاق کرتا رہتا۔ اس کی تمام خواہشات، احساسات اور ولولے بیدار تھے۔ ایک زندہ دل انسان جو دوستوں کی صحبت کو پسند کرتا، اپنی ماں سے بے پناہ محبت کرتا، اور اسے خوش کرنا چاہتا تھا۔ اپنی محبوبہ منگیتر اسے پسند تھی، وہ آنے والے خوش رنگ دنوں کے سپنے اس کے ساتھ بھی شیئر کرتا۔ اپنی ماں کو جب بھی ملتا، ایسی یگانگت اور الفت سے ملتا جیسے کئی دنوں بعد ملاقات ہوئی ہے۔ کسی دوست کو دیکھتا تو سچی دوستی کے جذبے سے سرشار اس سے ملتا۔اسے یہ پریشانی تھی کہ کہیں ملازمت نہیں مل رہی۔ آخرکار اسے ایک بہت بڑی فیکٹری میں ملازمت مل گئی۔ اسے ایک بڑے ہال کمرے میں لے جایا گیا جہاں دھات کی بنی ہوئی ایک بڑی بیلٹ مسلسل متحرک تھی۔ یہ بیلٹ ہال کے ایک کونے سے آتی اور درمیان سے گزر کر ایک دوسری جگہ چلی جاتی جہاں دوسرے پرزوں کی اسمبلنگ کا کام ہوتا تھا۔ نوجوان کی ملازمت یہ تھی کہ وہ رینچ ہاتھ میں پکڑ کر مستعد کھڑا رہے اور اس متحرک بیلٹ پر دو پیچوں کو چھوڑ کر تیسرے پیچ کو گھما دے۔ پھر اگلے دو پیچوں کو چھوڑ کر تیسرے کو گھما کر کَس دے۔ یہ کام اسے متواتر کرنا تھا۔ دن کے دس گھنٹوں میں وہ یہی کام کرتا رہتا۔ اس کے ساتھ دائیں بائیں کچھ فاصلہ چھوڑ کر سات آٹھ اور مزدور بھی کھڑے اسی نوعیت کا کام کر رہے تھے۔ متحرک بیلٹ اس تیزی سے چلتی رہتی کہ ان تمام لوگوں کو آپس میں بات کرنے کا موقع بھی نہیں مل پاتا۔ اگر کوئی لمحے بھر کے لیے بھی چوکتا تو بیلٹ کا کوئی پیچ ان کسا رہ جاتا اور یوں پورا کارخانہ بند ہو جانے کا خطرہ تھا۔ اس کے ساتھ محنت کش پرانے اور تجربہ کار تھے، انہوں نے کبھی اس سے بات کرنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ وہ اس کا نتیجہ جانتے تھے۔ یہ نوجوان البتہ ابھی ناتجربہ کار اور مشینوں کے ساتھ کام کر کے مشین نہیں بنا تھا۔ تاہم ملازمت اسے مشکل سے ملی تھی وہ پوری مستعدی سے اپنا کام سر انجام دیتا رہا۔
ایک دن اس کی زندگی میں عجب موڑ آیا۔ وہ کام میں مصروف تھا کہ اچانک اس نے دیکھا کہ اس کا دوست اسے ملنے آیا ہے۔ وہ خوشدلی سے اسے دیکھ کر مسکرایا۔ اچانک اس کی نظر داخلی دروازے پر پڑی تو پتہ چلا کہ اس کی ماں اور منگیتر بھی اسے ملنے آئی ہیں۔ اس سے رہا نہ گیا۔ خوشی سے سرشار اس نے اپنا رینچ نیچے رکھا اور ان کی جانب سلام دعا کرنے کے لیے مڑا۔ ابھی وہ ان سے بات بھی نہیں کرنے پایا تھا کہ اچانک سرخ بتیاں جل اٹھیں،الارم بجنے لگے اور پولیس والے تیزی سے ہال میں داخل ہوئے۔ کارخانے کے کنٹرول سسٹم نے اطلاع دی تھی کہ ایک پیچ کسے بغیر رہ گیا یوں پورا سسٹم جام ہو گیا۔ پولیس والوں نے اسے حراست میں لے لیا کہ اس کی جرات کیسے ہوئی یہ کرنے کی۔ اسے سزا سنائی گئی۔ انسانی جذبات کے ایک لمحے نے اس پورے مشینی نظام کو جامد کر دیا۔۔۔ وہ مشینی نظام جسے تخلیق بھی اس طرح کیا گیا کہ اس میں کسی قسم کے انسانی جذبات اور محسوسات کا دخل نہ ہونے پائے۔سزا پانے کے بعد اس کی تربیت کی گئی، کارخانے والوں نے اس کی ایسی برین واشنگ کی کہ وہ خود کو ایک ’ذمہ دار‘ انسان بنائے اور ایک مشین ہی کی طرح مشینوں کے معاملات سنبھالے۔ اس تربیت اور ڈسپلنڈ لائف گزارنے کا نتیجہ کیا نکلا؟ وہ نوجوان ذہنی طور پر ایک ایسی مشین میں بدل گیا جو شام کو کارخانے سے شفٹ ختم ہونے کے بعد بھی اپنی مشینی عادات اور روٹین کو نہیں بھولتا۔ وہ پیچ گھمانے والا ایک ایسا پرزہ بن گیا جو دو پیچوں کو چھوڑ کر تیسرے کو ہر حال میں کس دے گا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جب وہ کسی سڑک کنارے کھڑے پولیس والے کو دیکھتا جس کی وردی پر پیچوں سے مشابہ بٹن ہیں تو وہ فوراً اپنا رینچ نکال کر تیسرے بٹن کو کسنے کے لیے تیار ہو جاتا۔ جب وہ کوٹ میں ملبوس اور ہیٹ پہنے کسی خاتون کو دیکھتا تو اس کے ہیٹ پر لگے بٹن نما چیزوں میں سے تیسرے بٹن کو گھمانے کی کوشش کرتا۔ اس کے لیے دنیا صرف ایک ہی بات کا نام ہے کہ ’دو کو چھوڑ کر تیسرے کو گھماؤ۔‘
یہ کہانی دراصل ایک شاہکار انگریزی فلم ’ماڈرن ٹائمز‘ میں بیان کی گئی ہے۔ چارلی چپلن کی اس خاموش کامیڈی فلم کو لگ بھگ 90 برس قبل فلمایا گیا تھا اور آنے والے ماڈرن وقت کی نقشہ کشی کی گئی۔ یہ چارلی چپلن کی آخری خاموش کامیڈی فلم تھی۔ یہ فلم اُس زمانے میں ریلیز ہوئی جب ہالی وُڈ میں بولنے والی فلمیں (Talking Pictures) عام ہو چکی تھیں، مگر چپلن نے خاموش فلم کے انداز کو برقرار رکھا۔ فلم میں کچھ ڈائیلاگز اور آوازیں موجود ہیں، مگر چپلن کے کریکٹر کی زبان خاموش ہے صرف چہرے کے تاثرات، حرکات، اور موسیقی سے پیغام دیا گیا ہے۔ چارلی چپلن نے اس فلم میں خود موسیقی بھی کمپوز کی، جس میں مشہور دُھن“Smile’’ بعد میں ایک کلاسک گانا بنی۔ فلم میں صنعتی معاشرت، بے روزگاری، غربت، اور مشینوں پر انحصار جیسے مسائل پر طنز اور درد دونوں کو یکجا کیا گیا ہے۔
چارلی چپلن نے اپنے مخصوص انداز سے اس فلم کا مرکزی کردار ’لٹل ٹریمپ‘ ادا کیا۔ لٹل ٹریمپ جو ماڈرن انڈسٹریلائزیشن کے عہد میں اپنی بقا کی جنگ لڑتا ہے۔ ماہرین اور ناقدین متفق ہیں کہ لٹل ٹریمپ کا کردار لیجنڈری حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایسا علامتی کردار ہے جس میں آنے والے کئی زمانوں کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔ یونیسکو نے اس فلم کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا ہے اور آج بھی فلم سکولوں میں یہ فلمی تعلیم کی کلاسک مثال کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔
اس حوالے سے ایک آدھ پہلے بھی کچھ لکھا، کئی بار دوستوں سے اس پر بحث بھی ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم سب بھی ایک خاص طرز کی مشینیں بن چکے ہیں۔ ایک میکانکی انداز ہر ایک میں در آیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمیں کسی مشین نے یا مصنوعی ذہانت نے غیر محسوس انداز سے یوں پروگرام کر دیا ہے کہ ہم دانستہ نادانستہ ایک خاص پیٹرن کو فالو کرتے ہیں۔
اس کا تجربہ کرنا بہت آسان ہے۔ آپ لوگ کبھی کسی محفل میں بیٹھے لوگوں پر نظر ڈالیں، بے تکلف دوستوں کی محفل کا بھی جائزہ لیں۔ ہر ایک آپ کو ایک مشین بنا جذبات، احساسات سے عاری موبائل پر نظریں گاڑے نظر آئے گا۔ کئی دنوں، ہفتوں، مہینوں کے بعد بھی اکھٹے ہونے والے دوست اپنے موبائل اور سوشل میڈیا سٹیٹس، پوسٹوں سے نظر نہیں ہٹا سکتے۔ اپنے لمحہ موجود کو چھوڑ کر وہ سائبر دنیا، ورچوئل ورلڈ کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ پھر جیسے ہی کھانا آئے گا، ہر کوئی فٹافٹ تصاویر بنا کر اسے فوری پوسٹ بنا دے گا۔ کھانے کے درمیان ہی میں ویٹرز سے تصاویر بنوائی جائیں گی، بعد میں گروپ فوٹو بنے گا اور اس کا واحد مقصد سوشل میڈیا پوسٹ بنانا ہوتا ہے۔ مجھے تو کئی بار لگتا ہے کہ ہم اب اپنے دوستوں کے ساتھ ملاقاتوں کی حسین یاد اپنے اندر محفوظ کرنے، اپنے ذہن میں نقش کرنے کے بجائے اسے فوری سوشل پوسٹ بنا کر اپنے ذہن سے نکال دینا چاہتے ہیں۔
اگر آپ ایمانداری سے اپنے اردگرد اور خود اپنے معمولات کا جائزہ لیں گے تو یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہم لوگ بھی چارلی چپلن کی اس فلم کے مرکزی کردار لٹل ٹریمپ کی طرح ایک مشین ہی بن چکے ہیں۔ ایسی مشین جو صبح اٹھنے سے رات سونے تک ایک میکانکی انداز سے سب کام کرتی ہے۔ ایسی مشین جس کی شعوری کوشش ہوتی ہے کہ انسانی جذبات اور محسوسات اس کے قریب تک نہ پھٹکنے پائیں کہ کہیں اس کی کارکردگی متاثر نہ ہو جائے۔ ایسی مشین جس کا منتہائے مقصود ہی کوئی ادنیٰ ٹاسک پورا کرنا ہے۔
آج کے عہد کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم خواب دیکھنا بھول گئے ہیں۔ وہ خواب جو زندگی کا حقیقی مفہوم مہیا کرتے ہیں۔ جو اسے عام روٹین میں رچی بسی ادنیٰ زندگی سے ماورا کرتے ہیں۔
کسی بڑے آدرش، بڑے مقصد کے لیے زندگی گزارنے کا تصور نایاب ہو گیا ہے۔ زیادہ پہلے کی بات نہیں، ہماری سیاست، علم و ادب اور مذہبی حلقوں میں ایسے بے شمار لوگ مل جاتے تھے جن کی آنکھوں میں سپنے سجے ہوتے۔ وہ اپنے بلند عزائم کی خاطر بے پناہ قربانیاں دیتے، تبدیلی کی خواہش لیے زندگی بھر سرگرداں رہے۔ وہ نسل ناپید ہو چکی۔
آج المیہ یہ بھی ہوا کہ ان بلند عزائم، معاشرے میں تبدیلی لانے کے خواہشمند لوگوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سے ’’عبرت کے نشان‘‘ سمجھے جاتے ہیں۔ نوجوان ان کی زندگیوں کو دیکھتے اور ان کے پیروی نہ کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر وہ بھی اس راستے پر چل پڑے تو ان کی ذاتی وش لسٹ کا کچھ نہیں بنے سکے گا؟ مہنگے موبائل، آئی فون، عالیشان ہوٹلوں میں ڈنراور بڑی گاڑیاں، کچھ نہیں ملے گا۔
چارلی چپلن کی یہ خاموش فلم ماڈرن ٹآئمز صرف ایک فلم نہیں، بلکہ ایک فلسفیانہ بیانیہ ہے جو بتاتا ہے کہ ترقی کی اصل قیمت انسانی خوشی اور آزادی ہے، اور وہ قیمت ادا نہیں کرنی چاہیے۔ افسوس کہ ہم میں سے بہت سوں کے پاس شاید اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ ٹھہر کر چند منٹوں کے لیے غور کر لے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟
کیا وہ خواب بھی دیکھتا ہے یا نہیں۔ اگلا سوال یہ ہے کہ اس کے خواب جانوروں کی طرح بہتر خوراک، بہتر ٹھکانے اور جنس سے متعلق ہیں یا ان میں اپنے سماج کو بدل ڈالنے اور کوئی عملی اقدام اٹھانے کی خواہش بھی موجود ہے؟
کہیں خدانخواستہ ہم لوگ بھی انسان نما مشین تو نہیں بن چکے؟








’کاکروچ جنتا پارٹی‘: انڈین چیف جسٹس کے بیان کے بعد شروع ہونے والی یہ تحریک کیا ہے؟
انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت کے نوجوانوں اور کاکروچ یعنی لال بیگ کے بارے میں دیے گئے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک مہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ خاصی زیرِ بحث ہے۔

تاہم جسٹس سوریہ کانت نے سنیچر کو اپنے بیان پر وضاحت بھی دیتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیا کے ایک حصے نے ان کی باتوں کو غلط انداز میں پیش کیا۔

انڈیا میں جسٹس سوریہ کانت کے بیان کے بعد ایک طنزیہ سوشل میڈیا مہم زور پکڑ رہی ہے جس میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ یعنی ’سی جے پی‘ بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

انٹرنیٹ پر اس کے نام سے ایک ویب سائٹ بن چکی ہے اور انسٹاگرام پر اس کے 40 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہو چکے ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ویب سائٹ پر اس کی رکنیت کے لیے خود کو رجسٹر بھی کر لیا۔سی جے پی کیا ہے اور اس کی شروعات کیسے ہوئی؟
کاکروچ جنتا پارٹی کی ویب سائٹ پر اس کے بانی اور کنوینر کی معلومات دی گئی ہیں اور ان کا نام ابھیجیت دیپکے ہے۔

ابھیجیت دیپکے سے بی بی سی نیوز مراٹھی نے تفصیل سے بات کی جس میں انھوں نے اس مہم کے شروع ہونے کی وجہ بتائی۔

جب ابھیجیت دیپکے سے یہ سوال کیا گیا کہ اس طرح کی سوشل میڈیا مہم کا خیال انھیں کیسے آیا؟ تو اس پر اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے ایکس پر انڈین چیف جسٹس کا بیان دیکھا تھا جس میں وہ مُلکی نظام پر تنقید کرنے اور اس پر اپنی رائے کا اظہار کرنے والے نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ اور کیڑے مکوڑوں سے کر رہے تھے۔‘

’مجھے یہ بات انتہائی مضحکہ خیز لگی کیونکہ چیف جسٹس کو مُلک کے آئین کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔ وہ آئین جو ہر کسی کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے۔ اب ایک ایسا شخص جو اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت کرنے والا ہو، وہ کیسے نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ اور کیڑے مکوڑوں سے کر سکتا ہے۔‘’بس اسی بات پر مجھے شدید غصّہ بھی آیا اور انتہائی مایوسی بھی ہوئی جس کے بعد میں نے ایکس کا سہارا لیا اور اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار پر زور انداز میں کیا۔ میں نے پوچھا کہ اگر سارے کاکروچ ایک ساتھ آ جائیں تو کیا ہوگا۔ مجھے جین زی اور 25 سال تک کے نوجوانوں کی جانب سے اس پر شاندار ردِ عمل ملا اور انھوں نے کہا کہ ہمیں ساتھ آنا چاہیے اور ایک پلیٹ فارم بنانا چاہیے۔‘

’اس کے بعد میں نے یہ سوچا کہ ہمیں آن لائن ایک پیروڈی پارٹی بنانی چاہیے جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ ہو۔ اگر آپ ہمیں کاکروچ کہہ رہے ہیں تو ٹھیک ہے، ہم کاکروچ جنتا پارٹی بناتے ہیں۔ اس پارٹی میں شامل ہونے کے لیے میں نے شرائط طے کیں، جیسے آپ کو سست ہونا ہوگا جیسا کہ چیف جسٹس صاحب نے آپ کو کہا، آپ بے روزگار ہوں اور آپ مسلسل آن لائن رہنے والے ہوں جیسا کہ چیف جسٹس صاحب نے آپ کو کہا۔‘

’انھوں نے (چیف جسٹس نے) جن بھی الفاظ کا استعمال نوجوانوں کو بے عزت کرنے کے لیے کیا، ہم نے انھیں اس پارٹی کا رکن بننے کی اہلیت بنا دیا یعنی وہ سب کی سب خصوصیات اس پارٹی میں شامل ہونے کے لیے اُمیدوار میں ہونی ضروری قرار دیں۔ بس پھر کیا تھا چند ہی گھنٹوں میں اس نے کمال کر دیا اور ہر کوئی اس پر ردِعمل دینے لگا اور خود کو اس پارٹی میں رجسٹر کرنے لگا۔‘

’اس کے بعد ہمیں محسوس ہوا کہ یہ معاملہ یہاں رکنے والا نہیں اور اب یہ بات مذاق سے آگے بڑھنے والی ہے کیونکہ لوگ مایوس ہو چکے تھے۔ پھر ہم نے ایک ویب سائٹ بنائی، پارٹی کا منشور تیار کیا۔ انسٹاگرام پر اب ہمارے چار ملین سے زیادہ فالوورز ہو چکے ہیں اور دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے خود کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے رکن کے طور پر رجسٹر کیا اور ایسا انڈین سیاست میں کافی عرصے بعد ہوا جو غیر معمولی بات ہے۔‘

کامیابی کی وجہ کیا بنی؟
کئی معروف شخصیات نے بھی ابھیجیت دیپکے کی اس مہم کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

اس پر ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’سابق کرکٹر اور رکنِ پارلیمان کیرتی آزاد نے کہا کہ وہ اس پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ٹی ایم سی کی رکنِ پارلیمان مہوا موئترا نے بھی اس کی حمایت کی۔ ان کے علاوہ بھی کئی لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا اور جس کی وجہ سے آج یہ موضوعِ بحث ہے۔ ساتھ ہی یہ دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔‘

جب ہم اس بارے میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے لوگوں سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ ڈیجیٹل میڈیا میں ایک طرح کی بڑی تبدیلی ہے۔

سوشل میڈیا پر 40 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہونے کے پیچھے کیا کہانی نظر آتی ہے؟

اس سوال پر ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’نوجوانوں کے اندر کئی سال سے جو مایوسی اور غصہ پل رہا ہے، وہی اتنے بڑے ردِعمل کی وجہ بنا۔ حکومت کی ناکامیوں کی وجہ سے نوجوان بے روزگار ہیں۔ انھیں ایک پلیٹ فارم ملا جہاں وہ اپنی مایوسی اور غصہ نکال سکتے ہیں۔‘
ابھیجیت دیپکے کون ہیں؟
کسی بھی سیاسی جماعت یا تحریک کے لیے ایک لیڈر بہت ضروری ہوتا ہے۔ تو پھر ابھیجیت دیپکے آخر کون ہیں؟

ابھیجیت دیپکے نے اپنے بارے میں بتایا کہ ’میں مہاراشٹر کے چھترپتی سنبھاجی نگر سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے پونے سے گریجویشن کی۔ اس کے بعد مجھے کچھ سال تک عام آدمی پارٹی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جہاں میں ان کی کمیونیکیشن ٹیم میں تھا۔‘

’میں عام آدمی پارٹی کی صحت اور تعلیم سے متعلق پالیسی کی وجہ سے اُن کی جانب راغب ہوا تھا۔ جیسے آج کاکروچ جنتا پارٹی نئی ہے، ویسا ہی مجھے لگا کہ وہ بھی کوئی نیا نظام لانے یا کسی بڑی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ میں نے کچھ وقت ان کے ساتھ کام کیا پھر مجھے لگا کہ مجھے مزید پڑھنے کی ضرورت ہے اور میں گھر پر ماسٹرز کی تیاری کرنے لگا۔ مجھے بوسٹن یونیورسٹی جانے کا موقع ملا۔ میں دو سال سے یہاں ہوں اور اپنی گریجویشن مکمل کر چکا ہوں۔‘

ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اس پارٹی کا منشور انڈیا کے موجودہ جمہوری نظام اور موجودہ سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ وہ جج جنھیں غیر جانبدار رہنا چاہیے، جن کا حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے وہ ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت سے فائدے لے رہے ہیں۔ یہ بہت خطرناک ہے کیونکہ عدلیہ کو آزاد رہنا ہوتا ہے۔ اگر عدلیہ بھی حکومت کی راہ پر چلے گی تو پھر باقی کیا رہ جائے گا؟ پھر جمہوریت کا کیا ہوگا اور اسے کون بچائے گا؟‘

’دوسری اہم بات خواتین کی نمائندگی کی ہے۔ میں بچپن سے سنتا آیا ہوں کہ جمہوری سیاسی نظام میں خواتین کی 33 فیصد مخصوص نشستیں ہوں گی لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا۔ اگر خواتین کو جمہوری سیاسی نظام میں شامل کرنا ہے تو انھیں 50 فیصد نشستیں دیں۔‘
انڈین ’جین زی‘ کیسے ہیں؟
نیپال اور سری لنکا میں جین زی کی جانب سے چلائی جانے والی تحریکوں نے دنیا بھر میں شہ سرخیوں میں جگہ بنائی۔ نیپال میں احتجاج کے بعد حکومت کو استعفیٰ دینا پڑا۔ سری لنکا اور نیپال کی جین زی کا انڈیا کی جین زی سے موازنہ کرنے کے بارے میں ابھیجیت کیا سوچتے ہیں؟

اس پر وہ کہتے ہیں کہ انڈیا کی جین زی کا موازنہ سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش کی جین زی سے کرنا ’بڑا توہین آمیز عمل‘ ہوگا کیونکہ وہ انڈین جین زی تشدد کا سہارا لینے والے نہیں۔

ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’انڈین جین زی طنز کے ذریعے اپنی ناراضی ظاہر کر رہے ہیں۔ کاکروچ کا لباس پہن کر وہ مقدس دریا جمنا کو صاف کر رہے ہیں اور کچرا ہٹا رہے ہیں۔ وہ اس کے ذریعے موجودہ نظام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ وہ سڑکوں پر جا کر تشدد نہیں بھڑکا رہے اور اگر کل وہ سڑکوں پر نکلتے بھی ہیں تو وہ یہ کام جمہوری اور پُرامن طریقے سے کریں گے۔ ہماری جین زی ہماری کابینہ میں شامل افراد سے زیادہ پڑھی لکھی ہے۔ ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم پر ان پڑھ لوگ حکومت کیوں کر رہے ہیں۔‘

کاکروچ جنتا پارٹی کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا یہ صرف ایک طنزیہ سوشل میڈیا مہم بن کر رہ جائے گی؟ ابھیجیت کہتے ہیں کہ یہ تو صرف شروعات ہے، کل مزید نوجوان تنظیمیں سامنے آئیں گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’نوجوان موجودہ سیاسی نظام سے تنگ آ چکا۔ آئندہ چند سال میں آپ دیکھیں گے کہ نوجوان تبدیلی کا مطالبہ کرے گا کیونکہ گذشتہ 10سے 12 سال میں نوجوانوں نے ’ہندو مسلم‘ کے بیانیے کے علاوہ کچھ نہیں سنا۔‘

’نوجوان اس سیاسی نظام کو بدلنا چاہتا ہے جہاں ہم تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ہوں اور جہاں روزگار ملے۔ آگے بڑھتے ہوئے ہمیں دنیا کے بہترین ممالک سے اپنا موازنہ کرنا چاہیے۔ ہم کب تک نیپال، پاکستان اور بنگلہ دیش سے اپنا موازنہ کرتے رہیں گے‘

جب ابھیجیت سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انڈیا واپس آئیں گے، تو انھوں نے کہا کہ وہ ضرور واپس آئیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے گذشتہ ہفتے ہی اپنی گریجویشن مکمل کی اور میں واپس آ کر اس تحریک کو آگے بڑھاؤں گا کیونکہ لوگ ایک ساتھ آ رہے ہیں اور وہ بہتر تبدیلی چاہتے ہیں۔ ہماری تنظیم کے قیام کے چوتھے ہی دن ہمارے پاس دو لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ممبران تھے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ جین زی اپنا علیحدہ اور آزاد سیاسی میدان چاہتی ہے۔‘







میں اعزاز کے لیے نہیں لکھتا، بلکہ لکھنا میرا شوق ہے: علی شیدا
اننت ناگ: (میر اشفاق) جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گاؤں نیپورہ سے تعلق رکھنے والے معروف کشمیری شاعر اور ادیب علی محمد ریشی، جو ادبی دنیا میں علی شیدا کے نام سے جانے جاتے ہیں، کو ان کے کشمیری شعری مجموعے “نجداونیکی پُوت آلاو” پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا ہے۔ ای ٹی وی بھارت کے نمائندے میر اشافاق کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علی شیدا نے کہا کہ وہ ایوارڈ کے لیے نہیں، بلکہ ذاتی شوق کے تحت لکھتے ہیں۔

ان کے مطابق لکھنا ان کے لیے عبادت کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ اپنی مصروفیات کے باوجود ہمیشہ قلم اور کاغذ کے ساتھ جڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لکھائی میں اس قدر مگن ہو جاتے تھے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ گذشتہ پچپن برسوں سے شاعری سے وابستہ ہیں اور مسلسل محنت و لگن کے ذریعے اپنے شوق کو پروان چڑھاتے رہے، جیسے ایک ماں اپنے بچے کی پرورش کرتی ہے۔ ان کے بقول ان کی تحریروں کا اصل معاوضہ قارئین کی محبت، پذیرائی اور حوصلہ افزائی ہے، جس نے انہیں ہمیشہ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔قابل ذکر ہے کہ علی شیدا نہ صرف شاعر بلکہ نثر نگار، افسانہ نگار اور کالم نویس بھی ہیں۔ ان کی 76 نظموں کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے، جس سے ان کی ادبی پہنچ کو بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان ملی ہے۔

یکم اپریل 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ایک تقریب کے دوران کشمیری ادب میں 1970 سے جاری ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کے اعتراف میں انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا۔اس موقعے پر مختلف ادبی، سماجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے علی شیدا کو مبارکباد پیش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس اعزاز پر وزارتِ ثقافت، ساہتیہ اکادمی، اساتذہ، ادبی رفقاء، دوستوں، میڈیا اور اپنے اہل خانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے اپنے چاہنے والوں کے لیے باعث فخر قرار دیا۔

ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ہر سال ملک کی 24 تسلیم شدہ زبانوں میں نمایاں ادبی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے، جس میں ایک لاکھ روپے نقد انعام، تانبے کی تختی اور شال شامل ہوتی ہے۔ علی شیدا کو کشمیری زبان کے زمرے میں ان کی مذکورہ کتاب پر یہ اعزاز دیا گیا، جسے روایت اور جدید اظہار کے حسین امتزاج، ادبی گہرائی اور ثقافتی حساسیت کے لیے بے حد سراہا گیا ہے۔علی شیدا کا ادبی سفر 1970 میں شروع ہوا، جبکہ 1971 میں کالج کے زمانے میں اساتذہ اور نامور ادیبوں کی رہنمائی نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ ان کی ابتدائی تخلیقات مقامی اخبارات میں شائع ہوئیں، بعد ازاں قومی سطح کے رسائل میں جگہ پائیں اور ریڈیو و ٹیلی ویژن کے ذریعے وسیع حلقۂ قارئین و سامعین تک پہنچیں۔اب تک علی شیدا 10 کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں چھ کشمیری، اور چار اردو زبان میں شامل ہے، جبکہ مزید چار کتابوں کی اشاعت متوقع ہے۔ ان کا ایوارڈ یافتہ مجموعہ، جو 2022 میں شائع ہوا، کشمیری زبان میں ان کی چھٹی کتاب ہے۔ اس تصنیف میں نئے موضوعات، جدید اسالیب اور ادبی تجربات کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ روایتی شاعری کی روح کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کتاب میں غزل، نظم، نثری شاعری، رباعیات اور نئی اصناف جیسے ستری نظم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا ہم مشین بن چکے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم ابتدا ایک کہانی سے کرتے ہیں، وہ بھی فلمی کہانی۔ اس میں اگرچہ وہ نکتہ مو...