کرناٹک میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان ۔ کرناٹک بھارت کی پہلی ریاست بن گئی
ریاست کرناٹک کی حکومت نے بچوں کے ڈیجیٹل استعمال سے متعلق ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر ریاست بھر میں پابندی عائد کی جائے گی۔ یہ اعلان چیف منسٹر سدا رامیا نے جمعہ کے روز ریاستی اسمبلی میں سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے کیا۔
یہ فیصلہ بھارت میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل کسی بھی ریاست نے اتنی واضح اور مکمل پابندی کا اعلان نہیں کیا تھا۔چیف منسٹر سدارامیا نے اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد بچوں میں موبائل فون اور سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال کے منفی اثرات کو روکنا ہے۔
سدارامیا نے کہا :
’’بچوں میں موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کے مضر اثرات کو روکنے کے مقصد سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔‘‘
حکومت کے مطابق حالیہ برسوں میں بچوں اور نوجوانوں میں اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی لت نے والدین اور تعلیمی اداروں کے لیے سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
طلباء میں سوشل میڈیاکی لت پر تشویش
کرناٹک حکومت کا کہنا ہے کہ مسلسل اسکرین ٹائم اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر حد سے زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کی تعلیمی کارکردگی، رویّے اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔حکام کے مطابق :
طلبہ کی توجہ تعلیم سے ہٹ رہی ہے
ذہنی دباؤ اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے
سوشل میڈیا کے ذریعے غیر مناسب مواد تک رسائی آسان ہو گئی ہے
بعض معاملات میں نوجوان منشیات کے نیٹ ورکس یا غیر قانونی سرگرمیوں کے رابطے میں بھی آ سکتے ہیں
اسی وجہ سے حکومت نے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے کو ضروری قرار دیا ہے۔
کرناٹک بھارت کی پہلی ریاست
اس اعلان کے ساتھ کرناٹک بھارت کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل :
آندھرا پردیش
گوا
جیسی ریاستوں میں بھی اس طرح کے اقدامات پر غور کیا جا رہا تھا، لیکن کرناٹک نے اس حوالے سے سب سے واضح اور عملی قدم اٹھایا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ریاست بھارت کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی مرکز بنگلورو کا گھر بھی ہے، جہاں دنیا کی بڑی آئی ٹی کمپنیاں موجود ہیں۔
یہ فیصلہ اچانک نہیں کیا گیا بلکہ گزشتہ چند ہفتوں سے اس پر حکومت کے اندر غور و خوض جاری تھا۔
گزشتہ ماہ سدارامیا نے سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے ساتھ ایک اہم اجلاس بھی کیا تھا جس میں اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اس اجلاس میں چیف منسٹر نے کہا تھا کہ :
طلبہ میں سوشل میڈیا کی لت تیزی سے بڑھ رہی ہے
اس کا اثر ان کے رویّے اور تعلیم دونوں پر پڑ رہا ہے
کچھ نوجوان منشیات کے استعمال کی طرف بھی مائل ہو رہے ہیں
اسی لیے حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔
کئی ممالک سوشل میڈیا پرپابندی عائدکررہے ہیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک بھی اب نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔
حال ہی میں آسٹریلیا نے بھی ایک قانون متعارف کرایا ہے جس کے تحت 16 سال سے کم عمر صارفین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔
اس پابندی کا اطلاق جن پلیٹ فارمز پر ہو سکتا ہے ان میں شامل ہیں :
Instagram
TikTok
Snapchat
YouTube
X (سابقہ Twitter)
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں ڈیجیٹل لت، سائبر بُلنگ، ذہنی دباؤ اور نامناسب مواد تک رسائی جیسے مسائل نے حکومتوں کو اس سمت میں سوچنے پر مجبور کیا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی میں بھارت میں اسمارٹ فون کے استعمال میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ مختلف سرویز کے مطابق :
کروڑوں بھارتی بچے روزانہ کئی گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں
آن لائن گیمنگ اور شارٹ ویڈیو پلیٹ فارمز کی مقبولیت میں تیزی آئی ہے
ماہرین نفسیات بچوں میں ڈیجیٹل انحصار (Digital Dependency) کو ایک ابھرتا ہوا مسئلہ قرار دے رہے ہیں
اسی پس منظر میں کرناٹک حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ بچوں کی تعلیم، ذہنی صحت اور سماجی رویّوں کو بہتر بنایا جا سکے۔
یاد پر منتخب اشعار: یادوں کے عنوان پر اردو کی بہترین و خوبصورت شاعری
ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا
بہادر شاہ ظفر
جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے
جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا
جلیل مانک پوری
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
بشیر بدر
امیرؔ اب ہچکیاں آنے لگی ہیں
کہیں میں یاد فرمایا گیا ہوں
امیر مینائی
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
فیض احمد فیض
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
فیض احمد فیض
وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں
خمار بارہ بنکوی
ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے
تو یاد رہے گا ہمیں ہاں یاد رہے گا
ابن انشا
آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا
اپنے اجڑے ہوئے گلشن کو بہت یاد کیا
ساغر صدیقی
تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں
قتیل شفائی
کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے
رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا
ہجر ناظم علی خان
ہم اسے یاد بہت آئیں گے
جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا
قتیل شفائی
اک وہی شخص مجھ کو یاد رہا
جس کو سمجھا تھا بھول جاؤں گا
سلمان اختر
یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں
ناصر کاظمی
یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ
بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے
جمال احسانی
مشرق وسطیٰ میں جنگ نے حالات کو مزید خراب کر دیا، سی بی ایس ای نے 10ویں جماعت کے امتحانات منسوخ کر دیے
نئی دہلی: سی بی ایس ای (سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن) نے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان ان ممالک میں 11 مارچ تک ہونے والے دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات کو منسوخ کر دیا ہے۔ مزید برآں، 7 مارچ کو ہونے والے بارہویں جماعت کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ سی بی ایس ای نے کہا ہے کہ نئی تاریخوں کا اعلان جلد ہی کیا جائے گا۔
سی بی ایس ای کے امتحانی کنٹرولر سنیام بھردواج نے کہا، "مشرق وسطی کے کچھ حصوں – بحرین، ایران، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے بورڈ نے 11 مارچ تک طے شدہ کلاس 10 کے امتحانات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔" انہوں نے کہا کہ سی بی ایس ای جلد ہی ان امیدواروں کے نتائج کے اعلان کے طریقہ کار کا اعلان کرے گا۔
سی بی ایس ای نے کہا کہ طلباء کی جان کو خطرے میں ڈال کر امتحانات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ یہ قدم متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک میں ایرانی حملوں کے خطرے کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
سی بی ایس ای نے تمام متاثرہ ممالک کے اسکولوں کو طلباء اور والدین سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔ مزید برآں، کلاس 12 کے طلباء کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھیں اور کسی بھی افواہ پر دھیان نہ دیں۔
12ویں جماعت کے امتحانات ملتوی
کلاس 12 کے طلباء کے 7 مارچ کو ہونے والے امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ سی بی ایس ای نے کہا ہے کہ وہ 7 مارچ کو صورتحال کا جائزہ لے گا اور 9 مارچ سے ہونے والے امتحانات کے حوالے سے مزید ہدایات جاری کرے گا۔ اس سے قبل بورڈ نے دونوں کلاسوں کے لیے 2، 5 اور 6 مارچ کو ہونے والے علاقائی امتحانات ملتوی کر دیے تھے۔
سی بی ایس ای نتائج کیسے تیار کرے گا؟
سی بی ایس ای نے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک الگ تشخیصی اسکیم تیار کرے گا کہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی ضائع نہ ہو۔ بورڈ جلد ہی دسویں جماعت کے طلباء کے لیے نتیجہ کی تیاری کا فارمولہ جاری کرے گا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حتمی نتائج ان مضامین میں حاصل کردہ نمبروں کی بنیاد پر ہوں گے جن کے لیے امتحانات منعقد کیے گئے ہیں اور داخلی تشخیص یا پری بورڈ کے اسکور پر ہوں گے۔ CBSE کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ طلباء کو بغیر کسی امتیاز کے درست درجہ بندی حاصل ہو، جس سے وہ اگلی کلاس میں داخلہ حاصل کر سکیں۔واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فوجی حملہ کیا تھا جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کے موت واقع ہو گئی۔ اس حملے کے بعد ایران نے خلیجی ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، اردن اور سعودی عرب میں اسرائیلی اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملے شروع کردیئے۔