Friday, 6 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی اجازت نہیں ، اسرائیل نے عائد کی پابندی
مسجد اقصیٰ میں آج جمعے کی نماز ادا نہیں کی جاسکے گی۔ میڈیا رپرٹس کے مطابق اسرائیلی پولیس نے جمعرات کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعے کے روز مسجد اقصیٰ میں نماز نہیں ہوگی۔ یہ فیصلہ اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات اور اقدامات کے تحت کیا گیا ہے۔

اس بندش سے ہزاروں مسلمان متاثر ہوں گے جو جمعے کے دن مسجد کے احاطے میں نماز ادا کرنے آتے ہیں۔ رمضان المبارک میں نماز جمعہ میں بڑی تعداد میں مسلمان یہاں آتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دیگر مذاہب کے مقامات مقدسہ میں بھی لوگوں کوعبادت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔اس کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد ہوگی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ،اسرائیلی فوج نے گزشتہ ہفتے کی صبح مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا اور وہاں موجود نمازیوں کو زبردستی باہر نکال دیا تھا جبکہ عشاء اور نماز تراویح کی ادائیگی پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔اس اقدام کے باعث فلسطینی مسلمانوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور اسے مذہبی آزادی پر قدغن قرار دیا جا رہا ہے۔

ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق ،اسرائیل نے ایران کے ساتھ جنگ ​​شروع ہونے سے پہلے پابندیاں لاگو کر دی تھیں، جن میں عبادت گزاروں کی تعداد کو محدود کرنا بھی شامل ہے جنہیں اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے سے یروشلم جانے کی اجازت دی گئی تھی۔جنگ کا آج (جمعہ) ساتواں دن ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے ہورہے ہیں۔ایران بھی ان حملوں کا جواب دے رہا ہے ۔28فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پرفضائی حملے کیے تھے جبکہ جوہری مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا۔










امریکہ کا طرزعمل نازی جرمنی جیسا،ایران کی مزاحمت آخری گولی تک رہے گی جاری، نائب وزیرخارجہ سعیدخطیب زادہ کا بیان
ایران امریکہ اسرائیل تنازع کے بیچ ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے امریکہ پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک غیر مسلح اور خالی جہاز پر حملہ کر کے نازی جرمنی جیسا برتاؤ کر رہا ہے جو بین الاقوامی مشقوں میں حصہ لینے ہندوستان کی دعوت پر آیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی تک آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا ہے اور ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

سعید خطیب زادہ نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس نا ک اور بدقسمتی کی بات ہے۔ یہ جہاز ہمارے ہندوستانی دوستوں کی دعوت پر آیا تھا۔ یہ ایک بین الاقوامی مشق میں حصہ لینے آیا تھا، یہ صرف رسمی مقاصد کے لیے تھا، اس میں کوئی ہتھیار نہیں تھا اور وہ خالی تھا۔ تاریخ میں اس کی واحد مثال نازی جرمنی کے دور میں ملتی ہے، جب میدان جنگ سے دور غیر مسلح بحری جہازوں نشانہ بنایا گیا تھا۔ امریکہ ، نازی جرمنی کی طرح عمل کر رہا ہے جنہوں نے یہ کیا انہیں ان کے کیے کی سزا دی جانی چاہیے ۔انھیں چھوڑانہیں جاسکتا۔ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ بہت سی انشورنس کمپنیوں نے بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کی بیمہ کرنا بند کر دیا ہے جس کی بڑی وجہ ٹینکرز اس راستے سے نہیں گزر رہے ہیں۔ اگر ہم روکتے ہیں تو ہم اس کا اعلان کریں گے اور ذمہ داری سے کریں گے۔

’لیکن اس ملک کے جہازکوگزرنے نہیں دے سکتے‘

تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا ہے کہ امریکہ یا اسرائیل کے جھنڈے والے بحری جہاز یا ان کی مدد کرنے والے ممالک کے ٹینکر آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکیں گے۔

ٹرمپ کو دکھایا آئینہ

انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی قیادت میں تبدیلی کی بات کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس پر ان کا اپنا موقف ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب وہ نیویارک کا میئر مقررنہیں کرسکتے تو ایران کی قیادت کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے؟امریکی اہداف نشانے پر
ہمارے حملوں میں ہمارا کوئی عرب دوست یا پڑوسی کیوں نہیں مارا گیا؟ کیونکہ ہم صرف امریکی اڈوں، امریکی اثاثوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔یہ بقا کی جنگ ہے، ایران کے وجود کی جنگ ہے۔ وہ ایران کے وجود کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ان حملہ آوروں کو پیچھے دھکیلنے اور جوابی کارروائی کرنے کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمارے پاس جوابی کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ۔طاقت کی سیاست
یہ ایک ریئلٹی ٹی وی شو کی طرح ہے۔ وہ آپ کو سفارت کاری کے بارے میں بات کرنے کے لیے بلاتے ہیں، جب کہ ساتھ ہی وہ فوجیں بھی تیار کرتے ہیں۔ اس بات کی کوئی صحیح سمجھ نہیں ہے کہ انھوں نے یہ سب کیوں شروع کیا۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ انھوں نے یہ کیوں شروع کیا، تو یہ طاقت کی سیاست کی وجہ سے ہے۔آخری گولی تک کریں گے مزاحمت
ہمیں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور جارحیت کا سامنا ہے۔ وہ ایران کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے مسلسل کارپٹ بمباری جاری ہے۔ ایران مسلسل حملوں کی زد میں ہے اور ہمارے پاس اپنی آخری گولی اور آخری سپاہی تک مزاحمت کرنےکے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔










بھارتی آبی حدود کے قریب ایرانی جنگی جہاز کو ڈبونے پر اویسی کا ردعمل، حکومت سے فوری طور پر موقف واضح کرنے کا کیا مطالبہ
حیدرآباد: اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے بھارتی آبی حدود کے قریب امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی جنگی جہاز کو ڈبانے کی کارروائی پر سخت تنقید کی ہے۔ اویسی نے مطالبہ کیا کہ بھارت کی حکومت فوری طور پر وضاحت کرے اور امریکی کارروائی کی مذمت کرے۔کیا ہے اسد الدین اویسی کا موقف؟

اسد الدین اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ میں کہا، ’’امریکی بحریہ کے بھارتی آبی حدود کے اتنے قریب ایرانی جہاز کو ڈبانے کے بارے میں کئی سوالات ہیں، جن کے جواب نہیں ملے ہیں۔ حکومت کو جواب دینا چاہیے، لیکن وزیراعظم اور وزیر خارجہ خاموش ہیں۔ یہ ہمارے ملک کے عوام کے لیے ان کی آئینی ذمہ داری کو نظرانداز کرنا ہے۔حکومت سے وضاحت کی درخواست

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے حکومت سے یہ واضح کرنے کی بھی درخواست کی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے سے پہلے بھارت کو مطلع کیا تھا یا نہیں۔ اویسی نے پوسٹ میں کہا، ’’کیا ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی آبی حدود کے اتنے قریب نیوکلیئر سب میرین استعمال کرنے اور جنگی علاقے کو بڑھانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت کو اطلاع دی تھی؟ آخر ہم بھی کواڈ کے رکن اور امریکہ کے اسٹریٹجک پارٹنر ہیں۔‘‘

اسد الدین اویسی کو ممکنہ تشویش

اوویسی نے سوال کیا، ’’اگر یہ چینی بحریہ کے لیے ان آبی حدود میں کام کرنے کی مثال بن جائے تو کیا تب بھی مودی حکومت خاموش رہے گی؟‘‘ ایک اور پوسٹ میں اویسی نے لکھا، ’’اگر امریکہ آس پاس موجود دو دیگر ایرانی جہازوں کے خلاف ایسی کارروائی دہراتا ہے، تو کیا حکومت تب بھی ‘ریت میں سر چھپانے والے شترمرغ’ کی طرح برتاؤ کرے گی؟‘‘

اس کی اہمیت

اسد الدین اویسی نے مزید کہا، ’’یہ بھارت کی طویل مدتی اسٹریٹجک خودمختاری کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے اور ہمیں عالمی سطح پر غیر متعلقہ بنا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو اس واقعے کی واضح مذمت کرنی چاہیے اور ایک پریس کانفرنس کے ذریعے امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے پر اپنا مفصل موقف واضح کرنا چاہیے۔

*🔴سیف نیوز اردو*

یو پی ایس سی میں کل 53 مسلم امیدوار کامیاب، یہاں دیکھیں فہرست یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے جمعہ کو 2025 ک...