ایران جنگ کے اثرات : بنگلہ دیش اور پاکستان میں اسکول بند، سری لنکا میں ایندھن مہنگا
ایران ۔ اسرائیل جنگ کے دوران بھارت میں ایل پی جی سپلائی یقینی بنانے کیلئے اقدامات۔ وزیراعظم مودی کا ہنگامی جائزہ اجلاسعالمی توانائی بحران کے خدشات کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور پیٹرولیم و قدرتی گیس کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں خاص طور پر ایل پی جی (LPG) یعنی گھریلو کھانا پکانے والی گیس کی فراہمی کی صورتحال اور ایران جنگ کے باعث ممکنہ رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر تفصیلی غور کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے اثرات عالمی توانائی کی سپلائی چین پر کس طرح پڑ سکتے ہیں اور بھارت میں گھریلو صارفین کو گیس کی مسلسل فراہمی کیسے یقینی بنائی جائے۔اسی دوران مرکزی حکومت نے گھریلو ایندھن کی منڈی کو ممکنہ بحران سے بچانے کے لیے ایسنشل کموڈیٹیز ایکٹ (Essential Commodities Act) کو نافذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں ایندھن کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو بھارت کے اندر ضروری اشیاء کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
پیٹرولیم وزارت کے مطابق اس ایکٹ کے تحت ایک کنٹرول آرڈر جاری کیا گیا ہے جس کے ذریعے ریفائنریوں اور پیٹرو کیمیکل یونٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (LPG) کی پیداوار میں اضافہ کریں۔ اس کے علاوہ مختلف ہائیڈرو کاربن ذرائع کو ایل پی جی کے ذخیرے میں شامل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ملک بھر میں کھانا پکانے والی گیس کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھی جا سکے۔
وزارت نے مزید کہا کہ اس قانون کے نفاذ سے قدرتی گیس کی تقسیم کے لیے ایک ترجیحی فریم ورک بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ موجودہ سپلائی کے دباؤ کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔ نئے رہنما اصولوں کے تحت گھریلو پائپڈ نیچرل گیس (PNG) اور ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی کمپریسڈ نیچرل گیس (CNG) کو 100 فیصد یقینی سپلائی دی جائے گی۔
جبکہ دیگر صنعتی شعبوں کو گیس کی فراہمی ان کی گزشتہ چھ ماہ کی اوسط کھپت کے مطابق محدود یا منظم کی جا سکتی ہے تاکہ گھریلو اور ضروری خدمات کو ترجیح دی جا سکے۔
ملک کی سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) نے بھی عالمی جغرافیائی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر اضافی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے اور گھریلو صارفین کو ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہم کی جا سکے۔
ایک مشترکہ بیان میں انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (IOC)، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن (BPCL) اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن (HPCL) نے کہا کہ وزارت نے ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے اور مناسب ذخائر محفوظ رکھنے کے لیے مختلف اقدامات شروع کیے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور ایندھن کی عالمی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث وزارت نے ایل پی جی کی پیداوار میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ گھریلو صارفین کو بلا تعطل گیس فراہم کی جا سکے۔
حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ ضروری غیر گھریلو شعبوں جیسے اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر اہم خدمات کو بھی ضرورت کے مطابق ایل پی جی فراہم کی جائے گی۔
تاہم دیگر غیر گھریلو شعبوں کے لیے گیس کی فراہمی کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے تین ایگزیکٹو ڈائریکٹروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو درخواستوں کا جائزہ لے کر ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی کا فیصلہ کرے گی۔
’’ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہے حکومت کی تبدیلی‘‘ اسرائیلی وزیراعظم نے ایرانیوں کو دیا مشورہ، ایران نے امریکہ کو دیا سخت جواب
یروشلم: اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران میں موجودہ حکومت کا مستقبل بالآخر ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہے اور اگر وہاں نظام میں تبدیلی آتی ہے تو یہ ایرانی عوام کی مرضی اور اقدام سے ہی ممکن ہوگا۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے دورے کے دوران کہا کہ اسرائیل کی خواہش ہے کہ ایرانی عوام اس نظام سے نجات حاصل کریں جسے انہوں نے جبر اور آمریت قرار دیا۔ انہوں نے کہا ’’ہماری خواہش ہے کہ ایرانی عوام ظلم کے اس بوجھ سے خود کو آزاد کریں، لیکن آخرکار یہ فیصلہ انہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اب تک جو اقدامات کیے ہیں ان سے ہم ان کی طاقت کو کمزور کر رہے ہیں اور ہماری کارروائیاں جاری ہیں۔‘‘اسرائیل کی عالمی حیثیت میں تبدیلی کا دعویٰ
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل اور ایرانی عوام مشترکہ طور پر کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے بڑی تبدیلی آئے گی۔ ان کے مطابق اس عمل سے اسرائیل کی عالمی حیثیت میں بھی نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر صحت کے ساتھ نیشنل ہیلتھ کمانڈ سینٹر کا دورہ کیا، جہاں وزارت صحت کے ڈائریکٹر نے جاری فوجی مہم کے دوران صحت کے نظام کی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔
ایران کا سخت ردعمل
دوسری جانب ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے دشمنی کے خاتمے کا ذکر کیا تھا۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ تہران ہی کرے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے کے مستقبل کا فیصلہ اب ایرانی مسلح افواج کی حکمت عملی کے مطابق ہوگا، نہ کہ امریکہ کے اقدامات سے۔ آئی آر جی سی کے ترجمان نے امریکی صدر پر عوامی رائے کو متاثر کرنے کے لیے ’’چالاکی اور فریب‘‘ استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
بچوں میں نیند کی کمی، کیا والدین بچوں کو اندازے سے کم سلا رہے ہیں؟
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق جتنی نیند درکار ہوتی ہے وہ اکثر اس سے کم سوتے ہیں، جس کے سنگین نتائج پورے خاندان کی صحت پر پڑ سکتے ہیں۔
امریکی نیوز چیبل سی این این کے مطابق نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن نے کہا ہے نومولود بچوں کے لیے 14 سے 17 گھنٹے، شیرخوار بچوں کے لیے 12 سے 15، ٹوڈلرز کے لیے 11 سے 14، پری سکولرز کے لیے 10 سے 13 اور سکول جانے والے بچوں کے لیے 9 سے 11 گھنٹے کی نیند تجویز کی جاتی ہے۔
تاہم ایک تازہ سروے کے مطابق44 فیصد امریکی بچے اپنی عمر کے مطابق مناسب نیند نہیں لے رہے، اور چھوٹے بچوں میں یہ کمی زیادہ پائی گئی ہے۔فاؤنڈیشن کے ریسرچ ڈائریکٹر ڈاکٹر جوزف جیرزیوسکی کے مطابق نیند صرف انفرادی عمل نہیں بلکہ سماجی رویوں سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچپن کی نیند ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بنیاد کا کام کرتی ہے اور آئندہ زندگی کے نیند کے معمولات پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔
یہ سروے 977 نگہداشت کرنے والوں کے درمیان کیا گیا جن میں 53 فیصد حقیقی مائیں، 33 فیصد حقیقی باپ جبکہ دیگر میں سوتیلے والدین، دادا دادی، نانا نانی اور دیگر شامل تھے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ 95 فیصد والدین اس بات سے متفق ہیں کہ اچھی نیند خاندان کی مجموعی کارکردگی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ 80 فیصد نے بتایا کہ بچوں کی خراب نیند ان کی اپنی نیند کو متاثر کرتی ہے۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگرچہ 74 فیصد والدین روزانہ اپنے بچوں کی نیند کے بارے میں سوچتے ہیں، مگر پھر بھی اکثر والدین بچوں کی اصل ضرورت کے مقابلے میں کم نیند کا اندازہ لگاتے ہیں۔ خاص طور پر 0 سے 3 ماہ کے بچوں کے والدین میں 78 فیصد اپنے بچوں کی نیند کا غلط اندازہ لگاتے ہیں۔ایک اور اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ تقریباً نصف والدین اپنے بچوں سے نیند کی اہمیت پر کبھی بات نہیں کرتے۔ ماہرین کے مطابق بچوں کو نیند کے فوائد سادہ الفاظ میں سمجھانا ضروری ہے، جیسے ذہنی اچھی حالت، جسمانی مضبوطی اور بہتر سیکھنے کی صلاحیت۔
تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا کہ مختصر نیند (نیپ) بچوں کے مجموعی نیند کے وقت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک سال سے کم عمر 93 فیصد بچے باقاعدگی سے نیپ لیتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نیپ روکنے سے رات کی نیند بہتر نہیں ہوتی بلکہ بچے مزید چڑچڑے ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق باقاعدہ سونے کا وقت، سونے سے پہلے پرسکون معمول، روشنی کم کرنا اور کہانیاں پڑھنا بچوں کی صحت مند نیند کے لیے بہترین طریقے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی نیند بہتر بنانے کے لیے والدین کو خود بھی صحت مند نیند کی مثال قائم کرنا ہوگی، کیونکہ بچے ہمیشہ بڑوں کی نقل کرتے ہیں۔