Tuesday, 10 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




ایک اچھا سچا انسان اور ڈاکٹر ڈاکٹر رئیس احمد صدیقی ہم میں نہیں رہے 
ڈاکٹر رئیس احمد صدیقی کا پرسوں کے دن انتقال ہوا وہ ایک نہایت ہی اچھے سچے انسان تھے ساتھ ہی ساتھ ایک اچھے ڈاکٹر بھی تھے مالے گاؤں شہر میں آن کے جیسے بہت کم ڈاکٹر بچے ہیں جو کم قیمت میں اچھی کار آمد دوائیں دیتے رہے ہیں مخلص اِنسان مخلص ڈاکٹر کے جانے سے غریبِ مریضوں کو بہت دکھ ہوا یاد رہے کورونا کے وقت ڈاکٹر رئیس صدیقی جیسے ڈاکٹروں نے جو انسانی خدمات کیے تھے اسکو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ایک اچّھے ڈاکٹر اچّھے مخلص انسان سیاسی سماجی شخصیت کے جُدا ہونے پر جہاں افراد خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹا ہے وہیں عام لوگوں کو بھی صدمہ عظیم ہوا ہے ہم انکے غم میں برابر کے شریک رہتے ہوئے اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ یہ اللہ مرحوم کی کروٹ کروٹ مغفرت فرما اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرماآمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شریکان غم۔۔عبدالخالق صدیقی صدر جنتا دل سیکولر مالے گاؤں عبدالعزیز محمد اسماعیل پترکار۔عبدالغفار عبدالستار۔عبدالودود اشرفی سالکی ۔محمد یوسف حاجی محمد الیاس۔صادق حسین اشرفی۔دوست احباب










ٹرمپ کی نکل گئی اکڑ۔ آبناے ہرمز بند ہونے پر عقل آگئی ٹھکانے ،ایران سے راست مذاکرات کے لئے تیار
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگ کے گیارہویں دن ایک ایسا موڑ سامنے آیا ہے جس نے عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کی پاسدارن انقلاب (IRGC) کی جانب سے دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کیے جانے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دی بلکہ امریکہ کے اندر بھی سیاسی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔

اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار اشارہ دیا ہے کہ وہ جنگ کو ختم کرنے اور تیل کی سپلائی بحال کرنے کے لیے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ موقف امریکی پالیسی میں ایک واضح تبدیلی یا یو ٹرن کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ
گزشتہ گیارہ دنوں سے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے دوران ایران کے مختلف فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں میں ایرانی فوجی تنصیبات اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو وہ صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

اسی حکمت عملی کے تحت ایران نے امریکہ پر دباؤ بڑھانے کے لیے دنیا کے سب سے اہم تیل کے راستے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اقدام کیا ہے۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے جوڑنے والی ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔

ایران کی جانب سے اس راستے کی بندش کے بعد عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کئی ممالک میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ بعض خطوں میں سپلائی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال زیادہ عرصے تک جاری رہی تو عالمی معیشت پر اس کے سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔

امریکہ کے اندر بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ
جنگ کے آغاز کے بعد امریکہ کے اندر بھی اس تنازع پر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور ممکنہ معاشی اثرات کے باعث کانگریس کے بعض اراکین اور عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

اسی دباؤ کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہو سکتے ہیں تاکہ تیل کی سپلائی بحال کی جا سکے اور جنگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو یہ موجودہ بحران کو کم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق آنے والے دن اس بحران کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب اگر امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے شروع ہو جاتے ہیں تو اس سے جنگ کے خاتمے یا کم از کم کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔

فی الحال پوری دنیا کی نظریں تہران کے ردعمل پر مرکوز ہیں۔







ایران جنگ کے اثرات : بنگلہ دیش اور پاکستان میں اسکول بند، سری لنکا میں ایندھن مہنگا
پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے ہنگامی اقدامات
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے جاری حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے سبب عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے اثرات جنوبی ایشیا کے کئی ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں جہاں حکومتیں بجلی اور ایندھن کی قلت سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں۔بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا نے توانائی کے استعمال کو کم کرنے اور شہریوں پر معاشی دباؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف فیصلوں کا اعلان کیا ہے، جن میں تعلیمی اداروں کی بندش، سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔

بنگلہ دیش : جامعات بند، ایندھن کی فروخت محدود
بنگلہ دیش کی حکومت نے ملک بھر کی تمام سرکاری اور نجی جامعات کو پیر سے بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ حکام نے عیدالفطر کی تعطیلات کو پہلے ہی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ بجلی اور ایندھن کی کھپت کم کی جا سکے۔

وزارتِ تعلیم کے مطابق جامعات کی بندش سے ہاسٹلز، کلاس رومز، لیبارٹریز اور ایئر کنڈیشننگ سسٹمز میں استعمال ہونے والی بجلی کی کھپت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ بڑے شہروں میں ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا، جس سے ایندھن کی بچت ممکن ہو گی۔

وزارتِ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا کہ موجودہ عالمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ بجلی اور ایندھن کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ رمضان المبارک کے باعث ملک کے بیشتر اسکول پہلے ہی بند تھے، اس لیے تعلیمی ادارے اب ایک طویل عرصے تک بند رہیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ایندھن کی روزانہ فروخت پر بھی حد مقرر کر دی ہے کیونکہ کئی علاقوں میں گھبراہٹ کے باعث شہری بڑی مقدار میں ایندھن ذخیرہ کر رہے تھے۔

پاکستان : اسکول بند، سرکاری اخراجات میں کٹوتی
پاکستان میں بھی تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت نے توانائی کی بچت کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ملک کو معاشی استحکام دینے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔

حکومت کے اعلان کے مطابق :

ملک بھر کے اسکول دو ہفتوں کے لیے بند رہیں گے

جامعات کو آن لائن کلاسز منتقل کیا جائے گا

سرکاری محکموں کے ایندھن الاؤنس میں دو ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی جائے گی

60 فیصد سرکاری گاڑیاں سڑکوں سے ہٹا دی جائیں گی، تاہم بسوں اور ایمبولینسز کو استثنا حاصل ہوگا

سرکاری دفاتر میں صرف آدھا عملہ کام کرے گا

دفاتر ہفتے میں چار دن کھلے رہیں گے

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر پاکستان کا کنٹرول نہیں ہے، تاہم حکومت کوشش کر رہی ہے کہ عوام پر اس کے اثرات کم سے کم پڑیں۔

سری لنکا : ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
سری لنکا میں بھی بڑھتی ہوئی عالمی توانائی قیمتوں کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

سرکاری تیل کمپنی سیپٹکو (Ceypetco) کے مطابق نئی قیمتیں آج رات بارہ بجے سے نافذ ہوں گی۔

نئی قیمتوں کے مطابق :

آٹو ڈیزل : 22 روپے اضافے کے بعد 303 روپے فی لیٹر

سپر ڈیزل : 24 روپے اضافے کے بعد 353 روپے فی لیٹر

پیٹرول (اوکٹین 92) : 24 روپے اضافے کے بعد 317 روپے فی لیٹر

پیٹرول (اوکٹین 95) : 25 روپے اضافے کے بعد 365 روپے فی لیٹر

مٹی کا تیل : 13 روپے اضافے کے بعد 195 روپے فی لیٹر

حکام کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی کے خدشات کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔

*🔴سیف نیوز اردو*

ایران جنگ کے اثرات : بنگلہ دیش اور پاکستان میں اسکول بند، سری لنکا میں ایندھن مہنگا ایران ۔ اسرائیل جنگ کے دوران بھا...