Friday, 20 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


پروٹین حاصل کرنے کے لیے کون کون سے پھل کھانے چاہییں؟
امرُود: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 4.2 گرام
امرُود گرم علاقوں کا پھل ہے جو میکسیکو، وسطی امریکہ، کیریبین اور جنوبی امریکہ میں پایا جاتا ہے۔ اس میں پروٹین کی مقدار انڈے کی سفیدی سے بھی تھوڑی زیادہ ہوتی ہے۔
امرُود میں مالٹے کے مقابلے میں وٹامن سی چار گنا زیادہ ہوتا ہے، جو روزانہ کی ضرورت سے بھی زیادہ ہے۔
چونکہ امرود کی زیادہ تر غذائیت اس کے چھلکے میں ہوتی ہے، اس لیے آپ اسے چھیلے بغیر ثابت کھا سکتے ہیں۔
ایوکاڈو: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 3 گرام
ایوکاڈو کا شمار پروٹین سے بھرپور پھلوں میں ہوتا ہے۔ ایک کپ ایوکاڈو میں قریباً آدھی مقدار بادام کے برابر پروٹین موجود ہوتی ہے۔
اس میں 22 گرام صحت مند ’مونو اَن سیچوریٹڈ فیٹ‘ (غیر سیرشدہ چکنائی یا صحت مند چکنائی) ہوتی ہیں جو دل اور دماغ کے لیے مفید ہے۔
ایک کپ ایوکاڈو روزانہ کی فائبر کی ضرورت کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ فراہم کرتا ہے۔
انار: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 2.9 گرام
انار کو تیار کرنے میں تھوڑی محنت درکار ہوتی ہے، لیکن اس کے بہت فائدے ہوتے ہیں۔ اس کے بیج کھانے کے قابل ہوتے ہیں جن میں کچھ مقدار میں پروٹین موجود ہوتی ہے۔
انار کو ’سُپرفوڈ‘ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ غذائی اجزاء سوزش کم کرنے اور خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔انار کھانے کے لیے بیجوں کو جِھلی اور چھلکے سے الگ کریں۔
خوبانی: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 2.3 گرام
خوبانی دیکھنے میں آڑو جیسی نظر آتی ہے۔ اس کا ذائقہ ہلکا سا کھٹا میٹھا ہوتا ہے، جسے کچھ لوگ آڑو اور آلو بخارے کے ملاپ جیسا کہتے ہیں۔
خوبانی میں بیٹا کیروٹین وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے، جو ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے اور اسے نارنجی رنگ دیتا ہے۔ بیٹا کیروٹین آنکھوں کی صحت کے لیے مفید ہے اور میکیولر ڈی جنریشن جیسی بیماری کے خلاف مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
خوبانی کا چھلکا کھانے کے قابل ہوتا ہے، اس لیے اسے چھیلنے کی ضرورت نہیں۔ آپ اسے ثابت کھا سکتے ہیں۔
کیوی فروٹ: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 2.1 گرام
کیوی ایک چھوٹا مگر طاقتور پھل ہے جو وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن ای اور فولیٹ بھی ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام، نظامِ ہضم اور میٹابولزم کے لیے مفید ہیں۔
ایک کپ کیوی میں 5.4 گرام فائبر بھی ہوتا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو اضافی فائبر کے لیے کیوی کو چھلکے سمیت کھا سکتے ہیں، ورنہ چھیل کر کاٹ لیں اور کھانے کا لُطف اٹھائیں۔









ایران-امریکہ جنگ میں شدت، 16 امریکی طیاروں کی تباہی کا دعویٰ،ایران نےکہا- F-35 بھی نشانے پر
نئی دہلی :ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ ایک نئے موڑ میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تقریباً 20 دنوں سے جاری اس تنازع میں امریکہ کو بھاری فوجی نقصان اٹھانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اب تک امریکی فوج کے کئی جدید طیارے اور ڈرون تباہ ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کے جدید ترین لڑاکا طیارے F-35 لائٹننگ II کو بھی ایرانی حملے کے بعد ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی، جس سے صورتحال کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔یہ جنگ 28 فروری 2026 کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا دعویٰ بھی سامنے آیا تھا، جس کے بعد سے مسلسل جھڑپیں جاری ہیں۔امریکی فضائیہ کو بھاری نقصان، ایران کی دفاعی طاقت برقرار

رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد اب تک کم از کم 16 امریکی فوجی طیارے تباہ ہو چکے ہیں، جن میں ڈرون اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ ان میں سے 10 MQ-9 ریپر ڈرون ایرانی فضائی دفاعی نظام کی فائرنگ میں مار گرائے گئے، جن میں سے 9 فضا میں تباہ ہوئے جبکہ ایک ڈرون اردن کے ایک ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملے میں نشانہ بنا۔ مزید دو ڈرون حادثات میں بھی تباہ ہوئے۔حادثات بھی نقصان کی بڑی وجہ بنے۔ کویت میں تین F-15 ایگل لڑاکا طیارے مبینہ طور پر اپنی ہی فوج کی فائرنگ (فرینڈلی فائر) کا شکار ہو گئے، جبکہ ایک KC-135 اسٹریٹو ٹینکر ایندھن بھرنے کے دوران تباہ ہو گیا، جس میں سوار تمام چھ اہلکار ہلاک ہو گئے۔ سعودی عرب کے ایک ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے میں پانچ KC-135 طیارے بھی متاثر ہوئے۔

ابتدائی کوششوں کے باوجود امریکہ اور اسرائیل ایران کے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے میں ناکام رہے ہیں اور ایران اب بھی مضبوط دفاعی پوزیشن میں ہے۔ ایک امریکی F-35 طیارہ بھی ایرانی حملے کے بعد ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا، تاہم پائلٹ محفوظ رہا۔امریکی فوجی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کیا جا سکا۔ ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے فوجی آپریشنز اور مسلسل پروازوں میں اضافہ بھی نقصانات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں کی حفاظت امریکہ کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں ایران کا فضائی دفاعی نظام مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔









نیتن یاہو نے کہا اسرائیل نے امریکہ کو جنگ میں نہیں گھسیٹا ، ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کا کیا دعویٰ
وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو جنگ میں نہیں گھسیٹا ہے۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جنگ میں ایران کو نقصان پہنچا ہے اس کے پاس یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے اور نہ ہی وہ بیلسٹک میزائل بناسکتا ہے۔تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔نیتن یاہو کے مطابق،ایران اتنا کمزورپہلے کبھی نہیں رہا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج ایران کے میزائل اور ڈرون کے ذخائر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا رہی ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق حملوں کا ہدف وہ فیکٹریاں ہیں جو میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کے لیے پرزے تیار کرتی ہیں۔جمعرات کے روزتل ابیب میں پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایران جنگ لوگوں کی سوچ سے بھی تیزی سے ختم ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پارس پر حملہ اسرائیل نے کیا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید حملوں سے روک دیا ہے۔

ایران میں حکومت کی تبدیلی انحصار عوام پر

ایران میں رجیم کی تبدیلی کے حوالے سے نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے یا نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ آسمان سے آپ انقلاب برپا نہیں کرسکتے۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ زمینی کارروائی کے کئی امکانات موجود ہیں لیکن اس حوالے سے وہ تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔
’میں زندہ ہوں‘
نیتن یاہو نے میڈیا کے سامنے آکراپنی موت کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں زندہ ہوں اور آپ کے سامنے ہوں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب جب کہ میں نے اس فرضی خبر کو بے نقاب کر دیا ہے، میں آپ کو ایک اپ ڈیٹ دینا چاہتا ہوں۔ اس آپریشن کا مقصد ایرانی حکومت کی طرف سے لاحق خطرے کو ختم کرنا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

پروٹین حاصل کرنے کے لیے کون کون سے پھل کھانے چاہییں؟ امرُود:  پروٹین کی مقدار: فی کپ 4.2 گرام امرُود گرم علاقوں کا پ...