*راہ گیروں کو چلنا ہوا آسان، مصلیوں کو ملی راحت*
*کلیم دلاور، ونعیم دلاور کی کاوشیں ہوئی کامیاب*
مالیگاؤں ،آگرہ روڑ،فیمس ہوٹل کے آگے، مدینہ مسجد کی گلی کے کارنر پر، ایم، ڈی ہوم اپلائنسس کے سامنے، ایک دیو ہیکل وائر تقریباًچار سال کے عرصے سے راستے سے لگ کر پڑا ہوا تھا، ایسا لگ رہا تھا کہ فلاے اور بریج کی طویل مدتی ہوا اسے بھی چھو کر گزر گئی ہے، کارپوریشن وایم پی سی ایل خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی، آے دن بوڑھے، نوجوان بائیک سوار اور طلبہ وطالبات حادثات کا شکار ہورہے تھے۔اہلیان محلہ مدینہ آباد و مصلیانِ مسجد کو انتہائی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا،لیکن اہل اقتدار کو جیسے سانپ سونگ گیا تھا۔ چار سال کے عرصے میں وہ وائر دھوپ کی شدت وبارش کے پانی سے بالکل سخت ہوگیا تھا، مختلف ڈپارٹمنٹ میں کئی عرضیاں داخل کرنے کے بعد بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی، بالآخر رمضان المقدس کے مہینے میں شیخ کلیم دلاور، اور ان کے لائق فرزند شیخ نعیم دلاور نے بوقت افطار لوگوں کی آمد ورفت کی دقتوں کا
بنظرِخود جائزہ لیا، اور دسویں ،بارہویں کے بورڈ کے ایگزام کے لیے جاتے ہوئے طلبہ وطالبات کی پریشانیوں کو محسوس کیا، فوراً راہ گیروں واہلیانِ محلہ کو یقین دلایا، کہ ہم اس جان لیوا وائر کو ہٹانے کی بھر پور کوشش کریں گے، چند دنوں کا وقت لیا، پھر کیا تھا! آپ کی بار بار حاضری وفکر مندی سے ایم پی سی ایل ڈپارٹمنٹ،وکارپوریشن لرز اٹھے، اور بالآخر 15 /مارچ بروز اتوار بعد نمازِ ظہر وہ دیو ہیکل وائر کو راستے سےہٹا کر دم لیا۔اس طرح راہ گیروں ومصلیانِ مسجد نے چار سال کے لمبے عرصے کے بعد راحت کا سانس لیا، شیخ کلیم دلاور، ونعیم دلاور کی اس پرزور وپُر اثر قیادت کی کافی سراہنا کی جارہی ہے، اور دعاؤں سے نوازا جارہا ہے۔
سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں منائی جارہی ہےعید الفطر
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک میں آج(جمعہ) عیدالفطر مذہبی جوش و جذبے سے منائی جارہی ہے ۔سعودی عرب میں مسجد الحرام اور مسجدِ نبوی ﷺ میں نماز عید کے بڑے اور روح پرور اجتماعات ہوئے جن میں لاکھوں افراد نےنماز ادا کی ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ، خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو عیدالفطر کی مبارکباد دی۔ شاہ سلمان نے عالمی امن واستحکام کیلئےکوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، امت مسلمہ کےلیے امن، سلامتی اور استحکام کی دعا کی۔
دبئی، قطر، بحرین،یمن، کویت، لبنان ،فلسطین،عراق ، ترکیہ اور روس میں بھی آج عید منائی جا رہی ہے۔
مغربی ممالک برطانیہ، فرانس، اسپین،جرمنی سمیت دیگر ممالک میں بھی آج عیدالفطر منائی جارہی ہے۔امریکہ ،کینیڈا اور آسٹریلیا میں آج عید الفطر منائی جا رہی ہے۔ مراکش اور مصر سمیت افریقی ممالک کے مسلمان بھی آج عید الفطر مذہبی جوش و جذبے سے منا رہے ہیں۔وہیں ہندوستان،پاکستان،بنگلہ دیش، سری لنکا، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں عیدالفطر کل ہو گی۔ ان ممالک میں شوال کا چاند29 رمضان المبارک کو نظر نہیں آیا لہذا ان ممالک میں آج (جمعہ) 30 روزے مکمل کیے جارہے ہیں ۔
مغربی ایشیامیں کشیدگی کے درمیان حکومت نے جاری کیا احکام، تیل اور گیس استعمال کرنے والوں کمپنیوں کودینا ہوگا حساب
مغربی ایشیا میں کشیدگی کے سبب توانائی کے بحران کے درمیان، حکومت نے ملک میں ضروری اشیاء ایکٹ نافذ کیا ہے۔ اس قانون کے تحت پیٹرولیم مصنوعات اور قدرتی گیس کی پیداوار، پروسیسنگ، ریفائننگ، اسٹوریج، نقل و حمل، درآمد، برآمد، مارکیٹنگ، تقسیم اور استعمال میں شامل تمام اداروں کو اب اپنا ڈیٹا شیئر کرنا ہوگا۔ ان کمپنیوں کو تمام ڈیٹا پٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالیسس سیل (PPAC) کو فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔
اس معاملے سے واقف ایک اہلکار نے بتایا کہ حکومت نے ضروری اشیاء ایکٹ کے سیکشن 3 کے تحت ایک گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پی پی اے سی کو معلومات کو جمع کرنے، تالیف کرنے، دیکھ بھال کرنے اور تجزیہ کرنے کے لیے نوڈل ایجنسی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ وزارت پیٹرولیم میں جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے وضاحت کی کہ پی پی اے سی وزارت تیل کے لیے ڈیٹا کا محافظ ہے، اور اب تمام کمپنیوں کو اپنے استعمال یا برآمد کے بارے میں معلومات شیئر کرنے کی ضرورت ہوگی۔ایسا حکم کیوں جاری کیا گیا؟
پی پی اے سی کا مینڈیٹ تیل اور گیس کے شعبے سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنا ہےلیکن ایک حالیہ نوٹیفکیشن کے بعد، اب اسے حقیقی وقت میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ اعداد و شمار ہنگامی حالات کے لیے حکومت کی منصوبہ بندی میں مدد کرے گا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کے ایکٹ کے سیکشن 3 کے تحت جاری حکم کی کسی بھی خلاف ورزی کو مجرمانہ جرم سمجھا جائے گا اور اس کے نتیجے میں قید ہو سکتی ہے۔
پی این جی میں شفٹ ہو رہے ہیں صارفین
وزارت پٹرولیم کے جوائنٹ سیکرٹری نے بتایا کہ پائپڈ نیچرل گیس اور کمپریسڈ نیچرل گیس کی سپلائی 100 فیصد بے روک ٹوک جاری ہے۔ کمرشل ایل پی جی صارفین کو سی جی ڈی (سٹی گیس ڈسٹری بیوشن) کمپنیوں کے ذریعے مراعات اور تیز رفتار کنکشن فراہم کرکے پی این جی کی طرف منتقل ہونے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ حکومت کی کوششوں کی وجہ سے گزشتہ دو ہفتوں میں تقریباً 125,000 نئے گھریلو اور کمرشل پائپڈ نیچرل گیس (PNG) کنکشن فراہم کیے گئے ہیں۔ پچھلے تین دنوں میں 5,600 سے زیادہ ایل پی جی صارفین پی این جی میں شفٹ ہو چکے ہیں۔قطر پر حملہ اور بحران
قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایران کے حملے سے ہندوستان کی مشکلات میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ ہندوستان کے قطر کے ساتھ بڑے اور طویل مدتی ایل این جی اور ایل پی جی کی فراہمی کے معاہدے ہیں۔ ہندوستان اپنی قدرتی گیس کی کل درآمدات کا تقریباً 47 فیصد قطر سے کرتا ہے۔ ہندوستان بنیادی طور پر مغربی ایشیا سے اپنی توانائی کی فراہمی کی کمی کو پورا کرتا ہے۔ فی الحال، یہ وینزویلا، روس اور امریکہ سمیت تقریباً 40 ممالک سے خام تیل درآمد کرتا ہے۔ بھارت امریکہ، آسٹریلیا، ناروے اور روس سے قدرتی گیس بھی درآمد کرتا ہے۔ جوائنٹ سکریٹری نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے ریاستوں اور مقامی حکام کو شامل کیا گیا ہے۔ ریاستوں نے کنٹرول رومز کو فعال کر دیا ہے اور چھاپوں کو تیز کر دیا ہے۔