Saturday, 21 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


جے پور عیدگاہ میں انوکھی تصویر، نماز کے بعد پھولوں کی بارش، گنگا جمنی تہذیب کی نظر آئی مثال
 : راجستھان کی راجدھانی جے پور کی عیدگاہ میں عید الفطر کے موقع پر ایک بار پھر گنگا-جمنی تہذیب اور ہندو-مسلم اتحاد کی ایک انوکھی مثال دیکھنے کو ملی۔ ہزاروں کی تعداد میں مسلم برادری کے لوگوں نے یہاں جمع ہو کر عید کی نماز ادا کی۔ نماز کے دوران پورے علاقے میں جوش، خوشی اور عقیدت کا ماحول قائم رہا، لیکن اس بار کی عید خاص اس لیے رہی کیونکہ یہاں بھائی چارے کا ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے سب کا دل جیت لیا۔

عیدگاہ میں نماز کے دوران مختلف ہندو تنظیموں کے نمائندے بھی پہنچے۔ جیسے ہی نماز مکمل ہوئی، انہوں نے مسلم نمازیوں پر پھولوں کی بارش کی۔ پھولوں کی خوشبو کے ساتھ پورے احاطے میں محبت، ہم آہنگی اور باہمی احترام کا ماحول بن گیا۔ اس اقدام نے نہ صرف موجود لوگوں کو جذباتی کر دیا بلکہ سماج کو ایک مضبوط پیغام بھی دیا کہ مذاہب الگ ہو سکتے ہیں، لیکن انسانیت سب سے بڑھ کر ہے۔ہندو-مسلم ایکتا منچ کی جانب سے پہل
یہ پہل ہندو-مسلم ایکتا منچ کی جانب سے ہر سال کی طرح اس بار بھی کی گئی۔ اس منچ کے اراکین ہر مذہبی تہوار پر ایک دوسرے کے ساتھ شامل ہو کر بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں۔ عید کے موقع پر کئی کوئنٹل پھول لے کر پہنچے لوگوں نے نماز کے بعد نمازیوں پر پھول برسائے اور انہیں عید کی مبارکباد دی۔ دوسری جانب مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے بھی اس پہل کا خیرمقدم کیا اور سب کو گلے لگا کر مبارکباد دی۔سماجی ہم آہنگی اور اعتماد کو مضبوط بنایا
قابل ذکر ہے کہ یہ روایت صرف عید تک محدود نہیں ہے۔ مسلم برادری کی جانب سے بھی رام نومی، ہولی اور دیوالی جیسے ہندو تہواروں پر اسی طرح پھولوں کی بارش کر کے مبارکباد دی جاتی رہی ہے۔ اس نے جے پور میں سماجی ہم آہنگی اور اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ جے پور میں ہندو-مسلم ایکتا منچ کی اس پہل نے باہمی محبت، احترام اور اتحاد کا پیغام دیا۔








’اب کوئی جنگ بندی نہیں، جنگ ہی صحیح‘، ایران کا بڑا بیان، ٹرمپ کو للکارا
تہران: امریکہ - ایران میں جاری جنگ اب اور خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ 22ویں دن بھی نہ تو امریکہ پیچھے ہٹنے کو تیار ہے اور نہ ہی ایران کسی جنگ بندی کے لیے راضی ہے۔ دونوں طرف سے آئے سخت بیانات نے صاف اشارہ دیا ہے کہ یہ ٹکراؤ اب طویل ہونے کے ساتھ اور جارحانہ ہونے والا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سیز فائر کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جبکہ ان کے اس بیان کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صاف کہا کہ تہران کسی بھی حالت میں سیز فائر قبول نہیں کرے گا۔

کیوڈو نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں عراقچی نے کہا کہ ‘ہم سیز فائر قبول نہیں کریں گے، کیونکہ ہم پچھلے سال جیسی صورتحال دہرانا نہیں چاہتے۔’ اس بیان سے یہ صاف اشارہ ملتا ہے کہ ایران اب کسی بھی طرح کی سفارتی چال میں پھننسنے سے بچنا چاہتا ہے اور مکمل طور پر سخت موقف اپنا چکا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کیا سیز فائر سے انکار
ایران کا یہ موقف ایسے وقت آیا ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی سیز فائر کو خارج کر چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جمعہ کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ ‘جب آپ دوسرے فریق کو مکمل طور پر ختم کر رہے ہوں، تب سیز فائر نہیں کیا جاتا۔’ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی عسکری طاقت کو کافی حد تک کمزور کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ ایران کے پاس اب نہ بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی کوئی بڑی عسکری صلاحیت۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘ہم نے ان کی نیوی، ایئر فورس اور ایئر ڈیفنس سب ختم کر دیے ہیں۔’نیٹو پر بھی بھڑک اٹھے ٹرمپ
اس درمیان ٹرمپ نے اپنے شراکت داروں پر بھی نشانہ سادھا۔ انہوں نے نیٹو ممالک کو ‘ڈرپوک’ بتاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے بغیر یہ اتحاد صرف ‘کاغذی شیر’ ہے۔ یہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ-ایران جنگ میں ٹرمپ کو اپنے روایتی شراکت داروں سے اتنا تعاون نہیں ملا، جتنا کہ انہیں توقع تھی۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے درمیان ٹکراؤ اور بڑھ گیا ہے۔ ایران نے صاف کہا ہے کہ یہ بحری راستہ صرف ‘دشمن جہازوں’ کے لیے بند کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 2 مارچ کو ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں اس اہم راستے کو بند کر دیا تھا۔











‘اللہ آپ کو آشیرواد دے’، عید کے موقع پر ممتا بنرجی کا پیغام، وہیں کالی گھاٹ پہنچے شوبھیندو ادھیکاری
کولکاتہ : مغربی بنگال میں جیسے جیسے اسمبلی انتخابات کی تاریخیں قریب آ رہی ہیں، دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ مندر–مسجد کی سیاست کا رنگ بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ عید کے موقع پر اس کی واضح جھلک نظر آئی۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی عید کی نماز میں شامل ہوئیں، تو دوسری طرف بی جے پی کے سینئر لیڈر شوبھیندو ادھیکاری کالی گھاٹ مندر جا کر پوجا ارچنا کی۔ اس طرح ریاست میں ووٹنگ سے پہلے بی جے پی اور برسرِ اقتدار ترنمول کانگریس نے اپنا ایجنڈا صاف کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا نے عید کے موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری رضا اسی میں ہے کہ بی جے پی ہٹاؤ، دیش بچاؤ۔ وہیں بی جے پی رہنما شوبھندو ادھیکاری نے کالی گھاٹ میں پوجا کے بعد کہا کہ ریاست میں دراندازی کر کے بنگلہ دیشی دراندازوں نے بہت ظلم کیا ہے۔ بنگال انتخابات میں دراندازی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

عیدالفطر کے موقع پر کولکاتہ کے ریڈ روڈ پر منعقد ایک بڑے مذہبی پروگرام میں ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی اور سماجی مسائل پر کھل کر اپنی بات رکھی۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے نماز ادا کی اور پروگرام میں پُرجوش ماحول دیکھنے کو ملا۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب کا آغاز سب کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بارش کو وہ اللہ کی برکت مانتی ہیں اور یہ لوگوں کی پریشانیوں کے ختم ہونے کی علامت ہے۔ انہوں نے ریاست اور ملک کی ترقی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور بنگال دونوں آگے بڑھیں۔بی جے پی پر براہِ راست حملہ
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنی تقریر میں مرکزی حکومت اور بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ “ہمارا ایک ہی ارادہ ہے – بی جے پی کو ہٹانا اور ملک کی حفاظت کرنا۔” انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے دوران کئی لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں، جس کے خلاف وہ عدالتوں تک گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ “ہم اپنے حقوق کسی کو نہیں لینے دیں گے۔ ہم دہلی سے لے کر سپریم کورٹ تک لڑائی لڑیں گے۔” اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ “ہم ڈریں گے نہیں۔ جو ڈرتے ہیں وہ مرتے ہیں، لیکن جو لڑتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔” انہوں نے لوگوں سے متحد رہنے اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے کی اپیل کی۔کالی گھاٹ پہنچے شوبھیندو ادھیکاری
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی ماحول گرم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ریاست میں اپوزیشن کے لیڈر اور بی جے پی کے سینئر رہنما شوبھیندو ادھیکاری ہفتہ کے روز کالی گھاٹ مندر پہنچے اور پوجا ارچنا کر کے ماں کالی کا آشیرواد لیا۔ اس دوران انہوں نے ریاست میں سیاسی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ماں سے طاقت مانگی ہے اور بنگال میں تبدیلی کی لہر چل رہی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...