Wednesday, 11 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





حرمین شریفین میں رمضان کے پہلے 20 دنوں میں تقریباً 97 ملین زائرین کی آمد۔ زائرین نے عقیدت واحترام کے ساتھ عبادات کاشرف حاصل کیا
سعودی عرب کی جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے امورِ حرمین شریفین نے ایک اہم اعلان میں بتایا ہے کہ یکم رمضان سے 20 رمضان 1447ھ تک مسجد الحرام اور مسجد نبوی آنے والے زائرین کی کل تعداد 96,638,865 (9 کروڑ 66 لاکھ، 38 ہزار، 8 سو 65) تک پہنچ گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار نماز کے مقامات اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے داخل ہونے والے افراد کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ یہ غیر معمولی تعداد حرمین شریفین کی روحانی اور مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ ماہِ مقدس میں عبادت کے لیے مسلمانوں کے عظیم الشان اجتماع اور جوش و خروش کی عکاسی کرتی ہے۔مسجد الحرام (مکہ مکرمہ) کے اعداد و شمار :
ڈائریکٹوریٹ کی رپورٹ کے مطابق، مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام نے 57,595,401 ایسے زائرین کی میزبانی کی جنہوں نے پانچ وقت کی نمازیں اور نمازِ تراویح ادا کیں۔ اس کے علاوہ، 15,605,086 فرزندانِ اسلام نے اس عرصے کے دوران عمرہ کی سعادت حاصل کی۔

مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کے اعداد و شمار :
حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں نمازِ پنجگانہ اور قیامِ لیل ادا کرنے والے زائرین کی تعداد 21,143,259 رہی۔ ریاض الجنہ (جو کہ نبی کریم ﷺ کے روضہ مبارک اور منبر کے درمیان کا حصہ ہے) میں 579,191 زائرین نے حاضری دی، جبکہ 1,715,928 خوش نصیبوں نے نبی کریم ﷺ اور ان کے دو جلیل القدر صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کی بارگاہ میں سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

اعلیٰ درجے کی انتظامی خدمات :
سعودی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ زائرین کی یہ کثیر تعداد حرمین شریفین میں آپریشنل تیاریوں کے اعلیٰ معیار اور مربوط خدمات کے نظام کا نتیجہ ہے۔ یہ تمام تر انتظامات اس لیے کیے گئے ہیں تاکہ رمضان کے دوران رش کے باوجود زائرین کی نقل و حرکت میں روانی برقرار رہے اور انہیں عبادت کے لیے ایک محفوظ اور پرسکون ماحول میسر آ سکے۔

رمضان المبارک کا مہینہ عالمِ اسلام میں روحانیت اور عبادت کا عروج ہوتا ہے، جس میں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان حرمین شریفین کا رخ کرتے ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت ہر سال زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں وسیع تر انتظامات کرتی ہے تاکہ عبادت گزاروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سال 1447ھ کے اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حرمین شریفین کی کشش اور وہاں فراہم کردہ سہولیات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے









ایران کی امریکہ اور اسرائیل کو بڑی دھمکی ۔ بینکوں، اقتصادی مراکز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کا اعلان
مغربی ایشیا میں جاری ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور بڑھتی جا رہی ہے۔ جنگ کے بارہویں دن ایران کی فوج نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب خطے میں موجود ان کے اقتصادی مراکز، بینکوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ تہران میں ایک بینک پر ہونے والے رات کے حملے کے بعد کیا گیا، جس میں متعدد ملازمین ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے اسے جوابی کارروائی پر مجبور کر دیا ہے۔ایران کا کہنا ہے دشمن نے ہمیں کھلی چھوٹ دے دی

ایران کی فوج کے مرکزی آپریشنل کمانڈ خاتم الانبیاء کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دشمن کے حالیہ حملوں نے ایران کو اس بات کی کھلی اجازت دے دی ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے اقتصادی مفادات کو نشانہ بنائے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق مشترکہ فوجی کمانڈ کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ اب امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ممکنہ اہداف تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کے قریب جانے سے گریز کریں کیونکہ مستقبل میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ تہران میں ایک بینک پر اسرائیلی اور امریکی فضائی حملے میں عملے کے کئی افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد ایران نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے دفاتر بھی ممکنہ ہدف
ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں مغربی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خطے میں موجود دفاتر اور انفراسٹرکچر کو ممکنہ اہداف قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی اسرائیل کی فوجی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ اسی بنیاد پر ایران نے ان کمپنیوں سے وابستہ تنصیبات کو ’’نئے اہداف‘‘ قرار دیا ہے۔

جن کمپنیوں کا نام لیا گیا ان میں شامل ہیں :

Google

Microsoft

Palantir

IBM

Nvidia

Oracle

ایرانی میڈیا کے مطابق ان کمپنیوں کے دفاتر اور کلاؤڈ سروس انفراسٹرکچر اسرائیل کے مختلف شہروں کے علاوہ خلیجی ممالک میں بھی موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر خطے میں جنگ ’’انفراسٹرکچر وار‘‘ کی شکل اختیار کرتی ہے تو ایران کے اہداف کی فہرست مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

خلیجی خطے میں کشیدگی میں تیزی
بدھ کی صبح ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک بار پھر حملوں کا تبادلہ ہوا جس سے پورے خلیجی خطے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

ایران نے تیل کی تنصیبات اور بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق :

دو ایرانی ڈرون دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب گرے جس میں چار افراد زخمی ہوئے، تاہم پروازوں کا سلسلہ جاری رہا۔

آبنائے ہرمز کے قریب عمان کے ساحل کے پاس ایک کنٹینر شپ پر میزائل نما شے لگی جس کے بعد عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا۔

کویت نے آٹھ ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا۔

سعودی عرب نے شیبہ آئل فیلڈ کی جانب آنے والے پانچ ڈرون تباہ کرنے کا اعلان کیا۔

آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل متاثر
ایرانی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں کارگو ٹریفک تقریباً رک گئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ خلیج فارس سے نکلنے والے تقریباً 20 فیصد تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس راستے میں رکاوٹ طویل عرصے تک برقرار رہی تو عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔










آج اسٹاک مارکیٹ کیوں گری؟ ایران جنگ، کمزور روپیہ اور غیر ملکی فروخت سے سینسیکس و نفٹی میں بڑی گراوٹ
ایران جنگ کے سائے میں بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ
بھارت کی اسٹاک مارکیٹ میں بدھ، 11 مارچ کو نمایاں گراوٹ دیکھی گئی جب عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور اقتصادی خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا۔بینچ مارک انڈیکس سینسیکس دن کی بلند ترین سطح سے 1000 سے زیادہ پوائنٹس نیچے آ گیا جبکہ نفٹی 50 اہم نفسیاتی سطح 24,000 کے قریب پہنچ گیا۔

صبح 11:38 بجے کے قریب سینسیکس 878 پوائنٹس (%1.12) کی کمی کے ساتھ 77,327.86 پر ٹریڈ کر رہا تھا جبکہ نفٹی 242 پوائنٹس (%1) گر کر 24,019.20 پر آ گیا۔

اگرچہ مرکزی انڈیکس نیچے آئے، لیکن مارکیٹ کی مجموعی صورتحال نسبتاً متوازن رہی۔ تقریباً 2,149 شیئرز میں اضافہ ہوا، 1,469 میں کمی دیکھی گئی جبکہ 179 شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

 مشرق وسطیٰ کی جنگ اور عالمی منڈیوں پر اثرات
گزشتہ کئی دنوں سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں شدت آ چکی ہے اور امریکہ بھی اس تنازع میں براہ راست شامل نظر آ رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف مقامات پر شدید فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ ایران نے بھی اسرائیل اور خطے کے دیگر مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ جنگ طویل ہو گئی یا آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو اس سے عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر بھارت سمیت دنیا کی معیشتوں اور اسٹاک مارکیٹس پر پڑ سکتا ہے۔

آج اسٹاک مارکیٹ گرنے کی اہم وجوہات
1۔ ایران۔اسرائیل جنگ میں شدت

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کو جنگ کے آغاز کے بعد سب سے شدید کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کی حکومت نے اپنے سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روک دی جائے گی۔

چونکہ دنیا کے بڑے حصے کا تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اس سے عالمی مہنگائی اور اقتصادی سست روی بڑھ سکتی ہے۔۔ روپے کی قدر میں کمی

بدھ کو بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید کمزور ہو گیا۔

روپیہ 0.14 فیصد کمی کے ساتھ 91.93 روپے فی ڈالر پر کھلا، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 91.80 پر بند ہوا تھا۔

پیر کے روز روپیہ 92.35 فی ڈالر کی تاریخی کم ترین سطح کو بھی چھو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق روپے کی آئندہ سمت کا انحصار عالمی تیل کی قیمتوں اور ڈالر انڈیکس پر ہوگا۔

3۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مسلسل فروخت

مارکیٹ پر ایک اور بڑا دباؤ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (FII) کی فروخت سے آیا۔

10 مارچ کو ایف آئی آئیز نے تقریباً 4,673 کروڑ روپے کے شیئر فروخت کیے جبکہ مقامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (DII) نے 6,333 کروڑ روپے سے زائد کے شیئر خریدے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے یہی رجحان جاری ہے جس میں غیر ملکی سرمایہ کار فروخت کرتے ہیں جبکہ مقامی فنڈز مارکیٹ کو سہارا دیتے ہیں۔

4۔ حالیہ تیزی کے بعد منافع وصولی

گزشتہ سیشن میں مارکیٹ میں اچھی خاصی تیزی دیکھی گئی تھی جس کے بعد بدھ کو سرمایہ کاروں نے منافع وصولی (Profit Booking) شروع کر دی۔

آٹو، آئی ٹی، فنانشل سروسز اور ایف ایم سی جی سیکٹر کے شیئرز میں 0.6 سے 1.3 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

نفٹی 50 میں سب سے زیادہ دباؤ مالیاتی کمپنیوں کے شیئرز پر رہا جن میں شامل ہیں :

کوٹک مہندرا بینک

ایس بی آئی لائف انشورنس

بجاج فِن سرو

بجاج فنانس

اسی طرح بھارتی ایئرٹیل اور ٹاٹا کنزیومر پروڈکٹس کے شیئرز میں بھی تقریباً 1 فیصد کمی دیکھی گئی۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟ ماہرین کی رائے

ٹیکنیکل تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ دنوں میں نفٹی کی سمت اہم سپورٹ لیولز پر منحصر ہوگی۔

فوری سپورٹ : 24,100 – 24,000

اہم ریزسٹنس : 24,400 – 24,500

اگر نفٹی اس رینج کے اوپر بریک آؤٹ کرتا ہے تو انڈیکس 24,600 سے 24,700 تک جا سکتا ہے۔

لیکن اگر سپورٹ ٹوٹ گئی تو قلیل مدت میں مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ اور فروخت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*

حرمین شریفین میں رمضان کے پہلے 20 دنوں میں تقریباً 97 ملین زائرین کی آمد۔ زائرین نے عقیدت واحترام کے ساتھ عبادات کاشرف حاصل کیا ...