مسجد اقصیٰ میں صرف 5 نمازی
رمضان المبارک کے آخری عشرے کی راتیں ہمیشہ سے بیت المقدس کی روحانی زندگی کا نقطۂ عروج رہی ہیں۔ ان مبارک ایام میں مسجد اقصیٰ کے وسیع صحن عبادت گزاروں سے بھر جاتے ہیں، قرآن کی تلاوت کی آوازیں فضاؤں میں گونجتی ہیں اور ہزاروں افراد اعتکاف، ذکر اور قیام اللیل میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ مغرب سے فجر تک مسجد کے دروازوں پر لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے اور پرانے شہر کی گلیاں عبادت گزاروں، زائرین اور تاجروں سے آباد رہتی ہیں۔ مگر اس سال منظر بالکل مختلف ہے۔ رمضان کی سب سے بابرکت راتوں میں پہلی بار مسجد اقصیٰ کے دروازے بند ہیں، اس کے صحن خالی پڑے ہیں اور اس کے اندر صرف 5 نمازی نماز ادا کر رہے ہیں۔ 1967 میں مشرقی القدس پر اسرائیلی قبضے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ رمضان کے آخری عشرے میں فلسطینیوں کو نہ صرف مسجد اقصیٰ بلکہ پورے پرانے شہر تک رسائی سے روک دیا گیا ہے۔ یہ صورتحال مذہبی، سماجی اور سیاسی اعتبار سے غیر معمولی اور تشویشناک سمجھی جا رہی ہے۔
رمضان کے آخری عشرے میں مسجد اقصیٰ کا منظر عام طور پر روحانیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ ہزاروں فلسطینی خاندان مسجد کے صحنوں میں عبادت کرتے ہیں، نوجوان قرآن کی تلاوت میں مصروف ہوتے ہیں اور سینکڑوں افراد اعتکاف کرتے ہیں۔ مسجد کے دروازوں کے باہر بازار سج جاتے ہیں اور چھوٹے تاجر، ریڑھی فروش اور دکاندار عبادت گزاروں کی آمد سے اپنی روزی کماتے ہیں۔ مگر اس سال مسجد کے دروازے بند ہیں۔ وہ گلیاں جہاں عام طور پر عبادت گزاروں کا ہجوم ہوتا تھا اب خاموش ہیں، بازار سنسان ہیں اور دکانوں کے سامنے بیٹھے تاجر خالی راستوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ایک امام مسجد اقصیٰ، جو گزشتہ چھیالیس برسوں سے یہاں نماز پڑھاتے آئے ہیں، کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں مسجد کو اس طرح ویران کبھی نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق رمضان کے آخری عشرے میں مسجد ہمیشہ ہزاروں نمازیوں سے بھری رہتی تھی مگر اس سال صحن خالی ہیں اور مسجد کی فضا غیر معمولی طور پر خاموش ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد مسجد میں نماز کا نظام انتہائی محدود کر دیا گیا ہے۔ مسجد کے اندر نماز ادا کرنے والوں میں عام طور پر ایک امام، ایک مؤذن، اقامت کہنے والا ایک شخص، منبر کا محافظ اور کبھی کبھار اوقاف کا کوئی ذمہ دار شامل ہوتا ہے۔ یوں اکثر اوقات مسجد میں صرف پانچ افراد ہی نماز ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ امام کے مطابق جب وہ اذان دیتے ہیں اور حیّ علی الصلاۃ کی صدا بلند کرتے ہیں تو سامنے ہزاروں افراد کی صفیں نہیں بلکہ چند لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے بقول یہ منظر دل توڑ دینے والا ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ مسجد کو لوگوں سے بھرا ہوا دیکھا ہے۔
مسجد میں نماز تو ادا ہو رہی ہے لیکن اس کی آواز باہر تک نہیں پہنچتی۔ اذان اور نماز کی آواز کو صرف اندرونی اسپیکرز تک محدود رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے پرانے شہر کے رہائشی بھی مسجد کی آواز نہیں سن سکتے۔ قبة الصخرہ کا مصلیٰ بھی بند ہے اور وہاں نماز ادا نہیں کی جا رہی۔ اس صورتحال نے مسجد کی روحانی فضا کو مزید افسردہ بنا دیا ہے کیونکہ عام حالات میں اذان اور نماز کی آواز پورے پرانے شہر میں گونجتی ہے۔
مقدسی نوجوان مجد الہدمی، جو پیشے کے اعتبار سے ڈینٹسٹ ہیں مگر پچھلے 15 برس سے رضاکارانہ طور پر مسجد اقصیٰ میں اذان دیتے اور تہجد کی نماز پڑھاتے رہے ہیں، اس صورتحال کو ناقابل بیان محرومی قرار دیتے ہیں۔ رمضان کے آخری عشرے میں وہ عام طور پر اذان دیتے، نماز تہجد پڑھاتے، ذکر کی محفلوں میں شریک ہوتے اور اعتکاف کرنے والوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ مگر اس سال وہ مسجد سے دور ہیں۔ ان کے مطابق مسجد اقصیٰ میں رمضان کی راتوں کا جو روحانی ماحول ہوتا ہے وہ دنیا کے کسی اور مقام پر محسوس نہیں ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ فلسطینی معاشرے کا ایک اہم سماجی مرکز بھی ہے جہاں القدس، مغربی کنارے اور فلسطین کے دیگر علاقوں کے مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور مشترکہ شناخت کو مضبوط بناتے ہیں۔
مسجد اقصیٰ کو اس وقت بند کیا گیا جب اٹھائیس فروری کو ایران کے خلاف امریکی۔اسرائیلی حملوں کے بعد ہنگامی حالت نافذ کی گئی۔ اس کے بعد سے مسجد پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ان پابندیوں میں مسجد کا مکمل بند ہونا، نماز جمعہ اور تراویح پر پابندی، اعتکاف کی اجازت نہ دینا اور نماز کے لیے آنے والے افراد کو روکنا شامل ہے۔ بعض مواقع پر اسلامی اوقاف کے اہلکاروں کو بھی مسجد میں داخل ہونے سے روکا گیا ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق صرف اس سال کے آغاز سے اب تک پانچ سو تیس سے زیادہ افراد کو مسجد اقصیٰ سے دور رہنے کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں جن میں کارکنان، مرابطین، سابق فلسطینی قیدی اور اوقاف کے بعض ملازمین بھی شامل ہیں۔
1967 میں اسرائیلی قبضے کے بعد مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر بند کرنے کے واقعات بہت کم رہے ہیں۔ نو جون 1967 کو اسرائیلی قبضے کے فوراً بعد مسجد بند کی گئی تھی جب اسرائیلی فوج ابھی اس کے اندر موجود تھی۔ چودہ جولائی 2017 کو مسجد کے اندر فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد اسرائیل نے مسجد بند کر دی اور الیکٹرانک گیٹس نصب کرنے کی کوشش کی مگر عوامی احتجاج کے بعد اسے ہٹانا پڑا۔ جون 2025 میں ایران کے خلاف جنگ کے دوران مسجد بند کی گئی اور پھر 6 مارچ کو موجودہ جنگ کے دوران دوبارہ اسے بند کر دیا گیا۔ تاہم رمضان کے آخری عشرے میں اس نوعیت کی مکمل بندش کو غیر معمولی اور تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔
مسجد اقصیٰ کی بندش کا اثر القدس کی معاشی زندگی پر بھی پڑ رہا ہے۔ رمضان کے دوران پرانے شہر کی معیشت کا بڑا حصہ مسجد کے زائرین پر منحصر ہوتا ہے۔ عام طور پر ہزاروں زائرین خریداری کرتے ہیں، کھانے پینے کی دکانیں رات بھر کھلی رہتی ہیں اور ریڑھی فروش اچھی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ مگر اس سال بازار تقریباً خالی ہیں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ رمضان کا سب سے اہم کاروباری موسم بھی تقریباً ختم ہو گیا ہے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ مسجد کی بندش صرف سکیورٹی کا معاملہ نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے ممکنہ مقاصد میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی امور میں اسلامی اوقاف کے کردار کو کمزور کرنا، فلسطینیوں کی اجتماعی موجودگی کو محدود کرنا اور مستقبل میں مسجد کی حیثیت میں تبدیلی کے لیے زمین ہموار کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ بعض حکام کے مطابق یہ اقدامات دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش بھی ہو سکتے ہیں کہ اسرائیل مسجد اقصیٰ پر مکمل کنٹرول قائم کر سکتا ہے۔
مسجد اقصیٰ کے امام کے مطابق جب وہ مسجد سے باہر لوگوں سے ملتے ہیں تو تقریباً ہر شخص ایک ہی سوال پوچھتا ہے: “شیخ صاحب، مسجد اقصیٰ کب کھلے گا؟” مگر اس سوال کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں۔ رمضان کی بابرکت راتیں گزر رہی ہیں، عید الفطر قریب آ رہی ہے اور مسجد اقصیٰ کے صحن اب بھی خاموش ہیں۔ امام کہتے ہیں کہ انہوں نے عید کا خطبہ لکھنا شروع کر دیا ہے مگر دل میں ایک ہی دعا ہے کہ عید سے پہلے مسجد کے دروازے دوبارہ کھل جائیں اور وہ ہزاروں نمازیوں کے ساتھ خدا کے گھر میں نماز ادا کر سکیں۔ تب تک مسجد اقصیٰ کے وسیع صحن خاموش ہیں اور اس خاموشی میں ایک پوری قوم کی محرومی اور درد کی داستان سنائی دیتی ہے۔( ضیاء چترالی)
’بے قصور بچوں کا قتل ہورہا‘، ایران جنگ کے درمیان ٹرمپ کی واحد خاتون مسلم صلاح کار سمیرا منشی کا استعفی
واشنگٹن: ایران کے ساتھ جنگ چھیڑنے پر تنقید کا سامنا کر رہی ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ریلیجس لبرٹی کمیشن (مذہبی آزادی کمیشن) کی واحد مسلم خاتون رکن سمیرا منشی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر ہلچل مچا دی ہے۔ یہ استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بڑی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ سمیرا منشی کو سال 2025 میں خود ٹرمپ نے مقرر کیا تھا، لیکن اب انہوں نے انتظامیہ پر “ناانصافی اور ظلم” کے سنگین الزامات لگائے ہیں۔ سمیرا کا کہنا ہے کہ وہ اب اس حکومت کے ساتھ مزید کام نہیں کر سکتیں۔
سمیرا منشی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا۔ سمیرا کے مطابق یہ جنگ امریکی آئین اور کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ملک کے اندر اور بیرون ملک دونوں جگہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے بے حد مایوس اور دکھی ہیں۔ایران میں بچوں کی موت کیلئے ٹرمپ انتظامیہ ذمہ دار: سمیرا
سمیرا منشی نے ٹرمپ انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ایران میں ہو رہی شہری ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوجی حملوں میں معصوم بچوں کی جانیں جا رہی ہیں۔ سمیرا نے اسرائیل کو “نسل کشی کرنے والا ملک” قرار دیا اور کہا کہ امریکہ صرف اسرائیل کی حمایت کے لیے یہ سب کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی خوف یا دباؤ کے تحت استعفیٰ نہیں دے رہیں، بلکہ وہ کمیشن کے ارکان کی جانب سے ہونے والی ناانصافی کی گواہ رہی ہیں اور اب اس کا حصہ نہیں بننا چاہتیں۔
کمیشن کے اندر گندی سیاست جاری!
استعفے کی ایک بڑی وجہ کمیشن کی رکن کیری پریجین بولر کو ہٹایا جانا بھی بتایا جا رہا ہے۔ کیری سابق مس کیلیفورنیا رہ چکی ہیں اور انہیں فروری میں کمیشن سے نکال دیا گیا تھا۔ ٹیکساس کے لیفٹیننٹ گورنر ڈین پیٹرک نے ان پر الزام لگایا تھا کہ وہ ایک سماعت کے دوران اپنا ذاتی اور سیاسی ایجنڈا چلا رہی تھیں۔ تاہم سمیرا منشی کا ماننا ہے کہ کیری کو صرف ان کے مذہبی خیالات کی وجہ سے ہٹایا گیا۔ سمیرا نے کہا کہ انہوں نے عام لوگوں کی آواز بننے کے لیے یہ عہدہ قبول کیا تھا، لیکن اب وہاں صرف سیاست ہو رہی ہے۔سمیرا منشی نے اپنے بیان کے آخر میں سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتظامیہ بدعنوان اور خطرناک ہو چکی ہے جسے امریکی شہریوں اور بے گناہوں کی جان کی کوئی پروا نہیں۔ سمیرا نے واضح الفاظ میں لکھا: “میں اسرائیل کے اوپر امریکہ کی حمایت کرتی ہوں۔” انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب ٹرمپ یا اس حکومت کی حمایت نہیں کر سکتیں۔
رسوئی گیس نہ ھونے سے ہوٹلوں کا کاروبار بند ھونے لگا ۔پہلوان ہوٹل بند
رسوئی گیس کی کمی کی وجہ سے ہوٹلوں کے کاروبار پر زبردست اثر پڑ رہا ہے آج جمعہ 13مارچ کو قدوائی روڈ کی مشہور پہلوان ہوٹل رسوئی گیس نہ ہوئے سے بند کر دی گئی ۔ہوٹل کب جاری ہو گی کہا نہیں جا سکتا ایران اسرائیل امریکہ جنگ کے اثرات نظر آنے لگے ہیں ابھی تو ہوٹلوں پر اثرات نظر آ رہے ہیں آگے کچھ دن ایسے ہی رہیں گے تو شہر اور ملک کے کیا حالات ہوں گے کہا نہیں جا سکتا سرکار کِتنے بھی دعوے کرے مگر عوام کو ہر طرح کے حالات سے نبٹنے کی تیاری خود کرنا ہو گی جاگو عوام جاگو
عبدالخالق صدیقی 7066180898