Saturday, 9 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال
اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو قومی ترانے کے برابر درجہ دینے کی مخالفت، کہا : ’ملک کوئی دیوی نہیں‘’ملک کوئی دیوی نہیں‘، اویسی نے ’وندے ماترم‘ کو ’جن گن من‘ کے برابر درجہ دینے پر اعتراض جتایا
مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے جس میں ’وندے ماترم‘ کو قومی ترانے ’جن گن من‘ کے مساوی قانونی تحفظ دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ اویسی نے کہا کہ ہندوستان کسی ایک مذہب، دیوی یا دیوتا کے نام پر قائم نہیں ہے اور نہ ہی ملک کو کسی مذہبی شناخت کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔مرکزی کابینہ نے حال ہی میں ایک تجویز کو منظوری دی ہے جس کے تحت ’وندے ماترم‘ کو بھی وہی قانونی تحفظ حاصل ہوگا جو اس وقت قومی ترانے ’جن گن من‘ کو حاصل ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں کہا کہ ’جن گن من‘ ہندوستان اور اس کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے، نہ کہ کسی خاص مذہب کی۔ ان کے مطابق مذہب اور قوم ایک چیز نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’وندے ماترم‘ ایک دیوی کی مدح میں لکھا گیا گیت ہے، اس لیے اسے قومی ترانے کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔

اویسی نے مزید کہا کہ ہندوستانی آئین کی تمہید ’’ہم، ہندوستان کے لوگ‘‘ سے شروع ہوتی ہے، نہ کہ ’’بھارت ماتا‘’ کے نام سے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آئین ہر شہری کو سوچ، اظہار، عقیدے اور عبادت کی آزادی دیتا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے جہاں کسی ایک مذہبی تصور کو قومیت کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آزادی کی تحریک کے کئی بڑے رہنما، جن میں مہاتما گاندھی،جواہرلعل نہرو، رابندرناتھ ٹائیگور اور سبھاش چندرابوس شامل ہیں، ’وندے ماترم‘ کے بعض حصوں پر تحفظات رکھتے تھے۔ اویسی نے الزام لگایا کہ اس گیت کے مصنف Bankim Chandra Chattopadhyay مسلمانوں کے بارے میں منفی خیالات رکھتے تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دستور ساز اسمبلی میں کچھ اراکین چاہتے تھے کہ آئین کا آغاز کسی دیوی یا خدا کے نام سے کیا جائے، لیکن ایسی تمام تجاویز کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ اویسی کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کی بنیاد مذہبی قومیت پر نہیں بلکہ عوامی جمہوریت پر رکھی گئی تھی۔

دوسری جانب تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رامچندر راؤ نے اویسی کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم ہر اس کوشش کی مخالفت کرتی ہے جس کا مقصد قومی یکجہتی اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہو۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ اویسی صرف ’وندے ماترم‘ ہی نہیں بلکہ یکساں سول کوڈ، تین طلاق کے خاتمے اور دیگر قومی اصلاحات کی بھی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ’وندے ماترم‘ اور ’جن گن من‘ کے معاملے پر یہ تنازع آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ ایک طرف حکومت اسے قومی وقار اور ثقافتی شناخت کا معاملہ قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اپوزیشن اور مسلم تنظیمیں اسے مذہبی حساسیت اور آئینی سیکولرازم سے جوڑ رہی ہیں۔








کیا وجے۔ وی سی کے اتحاد طے پا گیا؟ ای پی ایس کے ٹوئٹ نے تمل ناڈو حکومت سازی پر نئی قیاس آرائیاں چھیڑ دیں
تمل ناڈو کی سیاست میں جاری سنسنی خیز رسہ کشی نے ہفتہ کے روز ایک نیا موڑ لے لیا، جب AIADMK جنرل سکریٹری ایڈاپڈی کے پلانی سوامی (ای پی ایس) کے ایک مختصر مگر معنی خیز مبارکبادی پیغام نے سیاسی حلقوں میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا۔ سیاسی مبصرین اب اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ آیا اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کی جماعت ’’تملگا ویٹری کڑگم‘‘ (TVK) نے حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کر لی ہے یا نہیں۔

ای پی ایس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے پیغام میں لکھا :
’’حال ہی میں منعقدہ 17ویں تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ میں تمل ناڈو میں حکومت بنانے والی جماعت کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘یہ پیغام بظاہر ایک رسمی مبارکباد معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے الفاظ اور وقت نے پورے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ اس وقت وجے کی پارٹی ٹی وی کے حکومت بنانے کے لیے اکثریت ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

وجے کی پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری
حالیہ اسمبلی انتخابات میں وجے کی جماعت TVK نے حیران کن کارکردگی دکھاتے ہوئے 107 نشستیں جیت لیں، جس کے بعد تمل ناڈو کی دہائیوں پر محیط ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کی سیاسی اجارہ داری کو شدید دھچکا پہنچا۔ تاہم 234 رکنی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے 118 نشستوں کی ضرورت ہے، جس کے باعث ٹی وی کے اکثریت سے ابھی بھی کچھ فاصلے پر ہے۔

کانگریس نے بعد میں وجے کی حمایت کا اعلان کیا، جبکہ سی پی آئی اور سی پی ایم نے بھی اس خدشے کے تحت ٹی وی کے کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا کہ کہیں ریاست میں بی جے پی کی بالواسطہ حکومت قائم نہ ہو جائے۔

اب پوری سیاسی توجہ ’’ودوتھلئی چرُتھائیگل کچّی‘‘ (VCK) پر مرکوز ہے، جس کے پاس فیصلہ کن کردار موجود ہے۔ وی سی کے نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام 4 بجے اپنے حتمی فیصلے کا اعلان کرے گی۔

ای پی ایس کے بیان نے کیوں بڑھائی بے چینی؟
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ای پی ایس نے اپنے پیغام میں ’’حکومت بنانے والی جماعت‘‘ کا ذکر کرکے دراصل یہ اشارہ دیا ہے کہ وجے نے مطلوبہ حمایت حاصل کر لی ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ تمل ناڈو کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔

یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ چند روز قبل AIADMK کے ایک رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’’میرا لیڈر وزیر اعلیٰ بنے گا‘‘، جس کے بعد مختلف سیاسی فارمولوں اور پس پردہ مذاکرات کی افواہیں مزید تیز ہو گئی تھیں۔

ڈی ایم کے مخالف قوتیں متحرک
تمل ناڈو کی سیاست میں اس وقت ایک اہم مقصد یہ بھی دکھائی دے رہا ہے کہ کسی بھی صورت ریاست میں صدر راج نافذ نہ ہونے دیا جائے۔ اسی لیے ڈی ایم کے مخالف جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آتی دکھائی دے رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق وجے نے حالیہ دنوں میں کئی مرتبہ راج بھون جا کر گورنر راجیندر وشواناتھ آرلیکر سے ملاقات کی ہے۔ گورنر نے واضح کیا ہے کہ حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرنے والی جماعت کو اسمبلی میں اکثریت کے ثبوت دینا ہوں گے۔

اسی دوران چھوٹی جماعتیں کنگ میکر بن چکی ہیں اور ان کی حمایت یا مخالفت ہی طے کرے گی کہ تمل ناڈو کا اگلا چیف منسٹر کون ہوگا۔

تمل ناڈو کی سیاست کئی دہائیوں سے DMK اور AIADMK کے گرد گھومتی رہی ہے۔ لیکن فلم اسٹار وجے کی سیاست میں آمد نے اس روایتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نوجوان ووٹرز، شہری طبقے اور ڈی ایم کے مخالف حلقوں میں وجے کو غیرمعمولی حمایت حاصل ہوئی۔

ٹی وی کے کی غیرمتوقع کامیابی نے نہ صرف ڈی ایم کے بلکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کو بھی نئی حکمت عملی بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگر وجے واقعی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ تمل ناڈو کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی تصور کی جائے گی۔








ٹرمپ کو ایران کے جواب کا انتظار، مغربی ایشیا میں کشیدگی ختم کرنے کے لئےایران کامثبت جواب ضروری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کو امید ہے کہ ایران آج رات واشنگٹن کی اُس تجویز پر اپنا جواب دے گا جس کا مقصد مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور تنازع کو ختم کرنا ہے۔

جمعہ کے روز ورجینیا کے شہر اسٹرلنگ میں واقع اپنے گالف کلب میں عشائیے کے لیے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا،
’’ہمیں بتایا گیا ہے کہ شاید آج رات ایران کی جانب سے جواب موصول ہو جائے گا۔‘‘جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران جان بوجھ کر مذاکراتی عمل کو سست کر رہا ہے، تو ٹرمپ نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا،
’’ہم بہت جلد جان لیں گے۔‘‘

ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو مغربی ایشیا میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔اس سے چند گھنٹے قبل امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے کہا تھا کہ واشنگٹن جمعہ کے روز ایران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے اور امریکہ کو امید ہے کہ تہران کی طرف سے سنجیدہ پیشکش سامنے آئے گی۔

روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا،
’’ہمیں امید ہے کہ آج کچھ نہ کچھ پیش رفت ضرور ہوگی۔‘‘

مارکو روبیو اس وقت اٹلی اور ویٹیکن کے دورے پر ہیں، جہاں وہ امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے تناظر میں اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آخری اطلاعات تک ایران کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے اندرونی سیاسی اور انتظامی مسائل بھی تاخیر کی ایک بڑی وجہ ہو سکتے ہیں۔
روبیو کے مطابق :
’’ایران کا نظام اس وقت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے اور اس میں فیصلہ سازی کا عمل غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے، یہی صورتحال مذاکراتی پیش رفت میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ایران کا جواب ایک ’’سنجیدہ اور بامعنی مذاکراتی عمل‘‘ کی راہ ہموار کرے گا۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی سے متعلق امریکی منصوبے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کے بارے میں بھی اہم اشارہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال میں بہتری نہ آئی تو امریکہ اس منصوبے کے ایک نئے اور زیادہ طاقتور ورژن پر دوبارہ غور کر سکتا ہے۔

ٹرمپ نے کہا،
’’میرے خیال میں پروجیکٹ فریڈم ایک اچھا منصوبہ ہے، لیکن ہمارے پاس اس کے علاوہ بھی کئی راستے موجود ہیں۔ اگر معاملات حل نہ ہوئے تو ہم پروجیکٹ فریڈم کی طرف واپس جا سکتے ہیں، مگر اس بار یہ پہلے سے زیادہ وسیع ہوگا۔‘‘۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ایران مثبت جواب دیتا ہے تو امریکہ اور ایران کے درمیان نئے مذاکرات کا آغاز ممکن ہو سکتا ہے، تاہم اگر بات چیت ناکام رہی تو خطے میں مزید کشیدگی، بحری خطرات اور اقتصادی بے یقینی بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...