سڈنی کے بونڈی بیچ پر فائرنگ، حملہ آور سمیت 10 افراد ہلاک، ہنوکا کے موقع پر خونی واقعہ، آسٹریلیا اور دنیا بھر میں مذمت
سڈنی: آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور بونڈی بیچ پر فائرنگ کے ایک ہولناک واقعے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں ایک حملہ آور بھی شامل ہے، جبکہ 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق یہ حملہ اتوار کی شام پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں سکیورٹی آپریشن جاری ہے اور عوام کو بیچ اور اطراف کے علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
واقعے کے بعد سکیورٹی الرٹ
پولیس نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد فوری طور پر ایمرجنسی کارروائی شروع کر دی گئی اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعے موقع پر موجود افراد کو محفوظ پناہ لینے کی اپیل کی۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے سلسلے میں دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی مہم جاری ہے۔
عینی شاہدین کی گواہی
سڈنی مارننگ ہیرالڈ کے مطابق متعدد افراد کو گولیاں لگیں۔ ایک مقامی عینی شاہد نے بتایا ’’میں نے کم از کم دس لوگوں کو زمین پر پڑے دیکھا، ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔‘‘ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں بیچ پر موجود لوگوں کو گولیوں کی آواز سن کر بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ان ویڈیوز کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہودی تہوار کے دوران حملہ
اطلاعات کے مطابق یہ فائرنگ یہودی تہوار ہانوکا کے پہلے دن کے موقع پر ہوئی، جب بڑی تعداد میں یہودی خاندان ’چانوکا بائے دی سی‘ تقریب میں شریک تھے۔ آسٹریلین جیوریز کی نمائندہ تنظیم کے ایک عہدیدار نے کہا کہ یہ واقعہ ایک تہوار کے دوران پیش آیا، جس نے پوری برادری کو صدمے میں ڈال دیا ہے۔
وزیر اعظم انتھونی البانیز کا ردعمل
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے واقعے کو ’’انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا ’’پولیس اور ایمرجنسی سروسز موقع پر موجود ہیں اور جانیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا اظہار تعزیت
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’آسٹریلیا سے آنے والی خبریں نہایت تکلیف دہ ہیں۔ برطانیہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی قیادت کی شدید مذمت
اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے اس حملے کو یہودیوں پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بڑھتی ہوئی یہود مخالف نفرت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا ’’سڈنی میں ہمارے بہن بھائیوں پر حملہ کیا گیا، جو ہنوکا کی پہلی شمع روشن کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔‘‘ انہوں نے آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہود مخالف جذبات کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔
عالمی رہنماؤں کا ردعمل
امریکی سفیر مائیک ہکابی نے واقعے کو ’’خوفناک‘‘ قرار دیا، جبکہ نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے کہا کہ وہ بونڈی بیچ پر پیش آنے والے مناظر دیکھ کر شدید صدمے میں ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ اور اپوزیشن لیڈر نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی سطح پر یہودی برادری کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔
اینٹی سیمیٹزم پر تشویش میں اضافہ
عالمی رہنماؤں نے اس حملے کو دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی یہود مخالف کارروائیوں سے جوڑا ہے۔ سابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ یہ تشدد اچانک نہیں ہوا بلکہ نفرت کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا ’’صرف تعزیتی بیانات کافی نہیں، یہودیوں کو کہیں بھی اپنی جان کے خوف میں نہیں جینا چاہیے۔‘‘
’سُپر فلو‘ کیا ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوانا ضروری ہے؟
برطانیہ میں رواں موسمِ سرما میں نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ فلو کے کیسز میں معمول سے پہلے ہی اضافہ ہو یا ہے، جسے بعض حلقے ’سُپر فلو‘ قرار دے رہے ہیں۔
’سُپر فلو‘ کیا ہے؟
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق این ایچ ایس کی نیشنل میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر میگھنا پنڈت نے کہا کہ ’ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس اور ایمبولینسز کی ریکارڈ طلب اور ریذیڈنٹ ڈاکٹروں کی متوقع ہڑتال کے باعث، سُپر فلو کی یہ غیرمعمولی لہر این ایچ ایس کو سال کے اس حصے میں بدترین صورت حال سے دوچار کر رہی ہے۔‘اگرچہ یہ اصطلاح اب میڈیا میں بار بار دہرائی جا رہی ہے، تاہم اسے کسی نئی سائنسی درجہ بندی کے طور پر متعارف نہیں کرایا گیا۔ فلو کا سیزن اگرچہ جلد شروع ہوا ہے، لیکن وائرس کے پھیلاؤ اور بیماری کی شدت اب بھی ماہرین کے نزدیک فلو سیزن کی معمول کی حد کے اندر ہے۔
انفلوئنزا وائرس ہمارے مدافعتی نظام سے بچنے کے لیے مسلسل اپنی شکل بدلتے رہتے ہیں، اسی لیے فلو ویکسین کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے۔ بعض برسوں میں وائرس زیادہ تیزی سے تبدیل ہوتا ہے، اور عموماً ہر چار سے پانچ برس میں اس میں بڑی تبدیلی آتی ہے۔
اس برس فلو کی غالب ’سب ٹائپ‘ انفلوئنزا اےH3N2 ہے جو 1968 سے موجود ہے اور اس دوران اس میں درجن سے زائد بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ اس تعریف کے مطابق ہر چند برس بعد ’سُپر فلو‘ جیسی صورت حال سامنے آتی رہتی ہے۔
کم عمر افراد میں فلو کے کیسز زیادہ کیوں ہیں؟
بچے اور نوجوان سکولوں میں زیادہ میل جول کے باعث آسانی سے متاثر ہوتے ہیں، جہاں وائرس تیزی سے پھیلتا ہے، اور اس لیے بھی کہ ان کے مدافعتی نظام کو فلو وائرس کا کم تجربہ ہوتا ہے۔
بالغ افراد میں انفیکشن کا امکان مجموعی طور پر کم ہوتا ہے، کیونکہ ان کا سماجی رابطہ کم اور مدافعتی نظام اس سب سے پہلے ہی گزر چکا ہوتا ہے، تاہم 64 برس سے زائد عمر کے افراد میں پہلے سے موجود بیماریوں کے باعث شدید بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اور عمر کے ساتھ ان کا مدافعتی نظام کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے، جسے ’امیونوسینیسنس‘ کہا جاتا ہے۔نوزائیدہ بچے بھی زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا مدافعتی نظام ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہوتا۔
بزرگ افراد کو ویکسین لگوانی چاہیے؟
تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق فلو ویکسین بزرگ افراد میں فلو کے باعث ہسپتال میں داخلے کے خطرے کو قریباً 30 سے 40 فیصد تک کم کرتی ہے۔ یہ شرح بعض دیگر وائرسز کی ویکسینز سے کم ہے، مگر فلو کے حوالے سے گذشتہ برسوں جیسی ہی ہے۔
مختلف عمر کے گروپس میں ویکسین کی افادیت مختلف کیوں ہے؟
رواں سیزن کی ویکسین شدید فلو کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ ویکسین لگوانے والے بچوں میں فلو کے باعث ہسپتال جانے یا داخل ہونے کا امکان 70 سے 75 فیصد کم ہو جاتا ہے، جبکہ بالغ افراد میں یہ کمی قریباً 30 سے 40 فیصد ہے۔
بچوں کو ناک کے ذریعے سپرے کیا جاتا ہے، جبکہ بالغوں کو انجیکشن لگایا جاتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ناک کا سپرے بچوں میں زیادہ مؤثر اور بالغوں میں نسبتاً کم مؤثر ہوتا ہے۔فلو ہونے کی صورت میں کیا کریں؟
اگر آپ بیمار ہیں تو گھر پر رہیں، آرام کریں اور وائرس کو دوسروں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ فلو ہونا بہت ناخوش گوار ہوتا ہے، مگر اوسطاً ہر شخص کو قریباً ہر پانچ برس میں ایک بار فلو ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر کیسز میں لوگ بغیر کسی طبی علاج کے خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
بزم صحافت کے تحت بھارت ایکسپریس اردو کانکلیو میں شاندار آل انڈیا مشاعرہ وکوی سمیلن کا کامیاب انعقاد، شعروسخن کی محفل نے لوگوں کو تالیاں بجانے پر کردیا مجبور
نئی دہلی: بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے زیر اہتمام بزم صحافت کے تحت اردو کانکلیو میں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر، لودھی روڈ میں 26 نومبر کو ’بزم صحافت‘ کے تحت بھارت ایکسپریس اردو کانکلیو کا شاندار اور تاریخی انعقاد کیا گیا۔ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور کانکلیو کا افتتاح کیا۔ آرٹ، کلچر اینڈ لینگوئجز کے وزیر کپل مشرا مہمان اعزازی کی حیثیت سے پروگرام میں شامل ہوئے۔ اس سیشن کی صدارت بھارت ایکسپریس کے چیئرمین، سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے نے کی۔ سیاسی، ثقافتی و ادبی اعتبار سے یہ پروگرام نہایت اہم ثابت ہوا، جس میں ملک بھر سے سیکڑوں کی تعداد میں اردو زبان کے چاہنے والے، ادیب، اسکالرز، صحافی اور طلبہ شریک ہوئے۔اس پروگرام کا آخری سیشن آل انڈیا مشاعرہ وکوی سمیلن تھا جو روایات سے بالکل الگ اور اپنے انداز کا ایک کامیاب اور منفرد مشاعرہ رہا۔ مشاعرے نے تاریخ رقم کرتے ہوئے شام کے منظر کو مزید حسین اور یادگار بنادیا۔ مشاعرے وکوی سمیلن کی صدارت شکیل اعظمی نے کی، مہمان اعزازی کی حیثیت سے پروفیسر رحمان مصور شریک ہوئے جبکہ معین شاداب نے ناظم مشاعرہ کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیے۔ ملک کے الگ الگ حصوں سے شریک شعرا میں اقبال اشہر، انل اگرونشی، اظہر اقبال، ڈاکٹر افروز طالب، سریتا جین، ممتاز نسیم، ہمانشی بابرا اور اکمل بلرامپوری نے اپنے اشعار کے ذریعہ لوگوں کو شعروادب کا پرستار بنادیا۔ شعرا کے ذریعہ پیش کیے اشعار:
دل بسے تھے مگر اجڑ رہے تھے
ہم محبت کی جنگ لڑرہے تھے
ایک ہی دن میں سب نہیں ہوا ختم
ہم کئی روز سے بچھڑ رہے تھے
شکیل اعظمی
ہندی مہک رہی ہے لوبان جیسی میری
لہجے کو میں نے اپنے اردو کیا ہوا ہے
رحمان مصور
میں نیچا ہوگیا اپنی نظر میں
مری آواز اونچی ہوگئی تھی
اقبال اشہر
کپ میں موجود رہی اس کے چھون کی خوشبو
چائے پیتا ہوں تو آتی ہے بدن کی خوشبو
اظہر اقبال
ہمارے آنسوؤں کی کس قدر توہین کی اس نے
کسی کے سامنے روکر بہت پچھتا رہے ہیں ہم
معین شاداب
ہنسنا ہنسانا عادت ہے میری
اپنا بنانا عادت ہے میری
لوگ منہ پھیر کے چل دیتے ہیں
آواز دے کر بلانا عادت ہے میری
انل اگرونشی
گل کبھی سوکھ کے بھی دوب نہیں ہوتا ہے
سچ کبھی جھوٹ سے مرعوب نہیں ہوتا ہے
ڈاکٹر افروز طالب
کیسا صلہ ملا ہے مجھے اعتبار کا
منہ دیکھتی ہوں روز ترے انتظار کا
ہمانشی بابرا
محبتوں کو ترازو پہ تولنے والے
تو میری سوچ کی دنیا سے جانے والا ہے
جو حیثیت کو پرکھ کرکے سب سے ملتے ہیں
انہیں بتاؤ میرا وقت آنے والا ہے
اکمل بلرامپوری