Sunday, 7 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





گووا کے نائٹ کلب میں سلنڈر دھماکہ، 23 افراد جاں بحق،وزیراعظم مودی کا اظہارافسوس، لواحقین کو معاوضے کا اعلان
گووا سے ایک دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ شمالی گووا کے ارپورہ میں ہفتہ کی رات دیر گئے ایک نائٹ کلب میں گیس سلنڈر پھٹنے سے خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے تباہی مچا دی۔ اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں اب تک 23 افراد جان ہلاک ہوچکے ہیں، جب کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ گووا پولیس کے مطابق دھماکا رات تقریباً 1 بجے کچن ایریا کے نزدیک ہوا۔ فائر بریگیڈ نے دو گھنٹے کی سخت جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا، مگر تب تک نائٹ کلب مکمل طور پر راکھ ہو چکا تھا۔چار سیاح بھی ہلاک
ابتدائی رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 4 سیاح اور 19 نائٹ کلب کے ملازمین شامل ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قریب رہنے والوں نے کسی دھماکے کی آواز سننے سے انکار کیا ہے۔

وزیراعظم مودی کا اظہارِ افسوسوزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ارپورہ میں آگ لگنے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے گووا کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت سے گفتگو کر کے حالات کی معلومات لی اور یقین دلایا کہ ریاستی حکومت متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے۔

لواحقین کے لیے 2-2 لاکھ روپے کا اعلان

وزیراعظم ریلیف فنڈ (PMNRF) سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 2-2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ اس حوالے سے پی ایم او نے باضابطہ اطلاع جاری کی ہے۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟

ذرائع کے مطابق نائٹ کلب Birch by Romeo Lane میں اچانک سیلنڈر پھٹنے کے بعد آگ تیزی سے پھیل گئی۔ اس وقت کلب کے کئی ملازمین اور کچھ سیاح اندر موجود تھے۔ آگ اتنی شدید تھی کہ لوگوں کو نکلنے کا موقع تک نہ مل سکا۔ فائر بریگیڈ کے پہنچنے تک شعلے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے چکے تھے۔ حادثے میں تقریباً 50 افراد زخمی ہوئے جنہیں گووا میڈیکل کالج منتقل کیا گیا ہے، جہاں کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

اسٹاف اور سیاح دونوں متاثر

تازہ معلومات کے مطابق اب تک 23 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ متعدد افراد جھلس کر زخمی ہوئے ہیں۔ جان گنوانے والوں میں نائٹ کلب کا عملہ اور سیاح دونوں شامل ہیں۔










دہلی کی فضا بدستور زہریلی، اے کیو آئی 330 سے تجاوز،آلودہ ہوا اور بڑھتی سردی نے مشکلات میں کیا اضافہ
دہلی کی صبح ایک بار پھر دھند اور آلودہ دھوئیں کی موٹی چادر میں لپٹی ہوئی نظر آئی۔ سورج کی روشنی بھی اس اسموگ کو چیرنے میں ناکام رہی۔ دارالحکومت کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس اے کیو آئی 306 ریکارڈ کیا گیا، جو ’بہت خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فضا میں موجود زہریلے ذرات نہ صرف آنکھوں میں جلن پیدا کر رہے ہیں بلکہ مسلسل ایکسپوژر سے سانس اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔

زیادہ تر اسٹیشنوں پر آلودگی خطرناک سطح پر
سی پی سی بی کے ’سمیر‘ ایپ کے مطابق، دہلی کے 40 میں سے 31 مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر آلودگی ’بہت خراب‘ کی کیٹیگری میں رہی۔

نہرو نگر میں اے کیو آئی 369،منڈکا میں اے کیو آئی 387
صبح 9 بجے تک اوسط اے کیو آئی 335 رہا، جو شدید آلودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ محکمہ موسمیات نے اتوار کو بھی ہلکی دھند کا امکان ظاہر کیا ہے۔ کم سے کم درجہ حرارت 9 اور زیادہ سے زیادہ 24 ڈگری رہنے کا اندازہ ہے۔

اگلے تین سے چار دن بھی کوئی بڑی بہتری نہیں
ویدر فارکاسٹنگ سسٹم کے مطابق پہلے سے موجود آلودگی اگلے چند دنوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ 14 اکتوبر کے بعد سے دہلی کا اے کیو آئی مسلسل خراب، بہت خراب یا شدید کیٹیگری میں رہا ہے۔ موسم کے رخ نے آلودہ ذرات کو ہوا میں جما رکھا ہے جبکہ آلودگی کے ذرائع پر کنٹرول موثر انداز میں نظر نہیں آرہا۔
ہفتہ کی شام دہلی–این سی آر کی فضا میں: PM10 کا لیول: 275.7 μg/m³ PM2.5 کا لیول: 157.4 μg/m³ جو معیار سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔

صحت پر بڑھتا ہوا خطرہ
آلودگی کے باعث:دمہ اور سانس کے مریضوں کو شدید دشواری، آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، کھانسی، تھکن، گھبراہٹ اور سر درد کی شکایات میں اضافہ،پھیپھڑوں کی کارکردگی متاثر۔ حکومتی ایجنسیاں کہتی ہیں کہ بارش یا تیز ہوائیں ہی حالات میں بڑی بہتری لا سکتی ہیں، تاہم فی الحال اس کا امکان کم ہے۔

سردی نے دہلی والوں کی مشکلات مزید بڑھا دیں
آلودگی کے ساتھ سردی بھی اپنا زور دکھا رہی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں برفباری اور میدانی حصوں میں ٹھنڈی ہواؤں نے دہلی کی سردی میں اضافہ کر دیا ہے۔










امریکہ کے الاسکا میں 7.0 شدت کا زلزلہ، جھٹکے کینیڈا تک محسوس،لوگ گھروں سے باہر نکل آئے
 امریکہ کے الاسکا اور کینیڈا کی سرحد کے قریب ہفتے کے روز 7.0 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا، جس نے دونوں ممالک کے دور دور تک آباد علاقوں میں رہنے والوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز الاسکا کی دارالحکومت جونو سے تقریباً 370 کلومیٹر شمال مغرب اور کینیڈا کے شہر وائٹ ہارس سے تقریباً 250 کلومیٹر مغرب میں تھا۔ جھٹکے اتنے شدید تھے کہ ہزاروں کلومیٹر دور موجود لوگوں نے بھی زمین کو لرزتے ہوئے محسوس کیا۔خوش قسمتی سے نہ کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع ہے اور نہ ہی سونامی کی کوئی وارننگ جاری کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ متاثرہ علاقے زیادہ تر پہاڑی اور کم آبادی والے ہیں، جہاں صرف گھروں کی دیواروں اور شیلف سے سامان گرنے جیسے معمولی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔کینیڈا کے وائٹ ہارس میں رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کی افسر کیلِستا میکلاؤڈ کے مطابق زلزلے کے فوراً بعد ایمرجنسی کالز ملنی شروع ہوگئیں۔ انہوں نے بتایا کہ “جھٹکے بہت تیز محسوس ہوئے، سوشل میڈیا پر بھی لوگ بڑی تعداد میں بتا رہے ہیں کہ ان کے گھر ہل گئے۔” نیچرل ریسورسز کینیڈا کی سسما لوجسٹ الیسن برڈ کا کہنا ہے کہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ پہاڑی اور کم آبادی والا ہے، جہاں اب تک کوئی ساختی نقصان سامنے نہیں آیا۔کینیڈا میں کہاں محسوس ہوئے جھٹکے؟

زلزلے کے مرکز کے سب سے قریب کینیڈا کا شہر ہینز جنکشن بتایا گیا ہے، جو تقریباً 130 کلومیٹر دور ہے اور جہاں 2022 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 1,000 افراد رہتے ہیں۔ امریکہ کا شہر یاکوٹات، جس کی آبادی 662 ہے، مرکز سے صرف 90 کلومیٹر دور واقع ہے، اسی وجہ سے دونوں مقامات پر لوگ خوفزدہ ہوگئے۔ زلزلے کی گہرائی تقریباً 10 کلومیٹر بتائی گئی، یعنی زمین کی سطح کے بہت قریب، جس سے جھٹکے زیادہ شدت سے محسوس کیے گئے۔ اس کے بعد بھی کئی آفٹر شاکس آئے، جس سے لوگوں میں خوف برقرار ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

جموں  کشمیراسمبلی کابجٹ اجلاس:دوسرے مرحلے کی کارروائی کے پہلے دن این سی اور بی جے پی ارکان اسمبلی نے کیاہنگامہ جموں ...