Sunday, 7 December 2025

*دیارِ ادیب سیف نیوز ادبی پوسٹ* *🔴دیارِ ادیب مالیگاؤں**مالیگاؤں 'اختلاف سے اتحاد تک __"سیاست کا چہرہ اور شعور کی روشنی**🔴اتواریہ :علیم طاہر مالیگاؤں* *🔴 کلاسیک اور اہم مضمون :__ مقبول عام ادبیوں کا المیہ :-"مقبولیت کی آرزو کسے نہیں -؟؟؟**ناصر عباس نیئر**غزل**🔴ساغر صدیقی**غزل**🔴اشکر فاروقی*______ *🔴انتخاب و پیشکش :- احمد نعیم (موت ڈاٹ کام مالیگاؤں بھارت)**دیار ادیب مالیگاؤں سیف نیوز ادبی پوسٹ پر روزانہ ادبی پوسٹ شالع کی جاتی ہے کہ لہذا آپ اپنے مضامین حمد نعت، افسانے اسکول رپورٹ اس نمبر پر ارسال کریں 9273946747* *دیارِ ادیب ادبی پوسٹ مالیگاؤں*






مالیگاؤں: اختلاف سے اتحاد تک
**************************
________________________
بابِ اوّل — سیاست کا چہرہ اور شعور کی روشنی

مضمون نگار: علیم طاہر
___
مالیگاؤں، جو کبھی صنعت اور تعلیم کے لیے جانا جاتا تھا، آج سیاست اور عوامی شعور کا آئینہ بن چکا ہے۔
یہ شہر اپنی گلیوں، کوچوں، جلسوں اور محفلوں میں صرف مسائل کی گفتگو نہیں کرتا _
بلکہ ان مسائل کے پس منظر میں سوچ اور سوال پیدا کرتا ہے۔

وقت کے ساتھ مالیگاؤں کی سیاست نے کئی رنگ بدلے۔
ایک زمانہ وہ تھا جب قیادت خدمت کا دوسرا نام تھی؛
لیڈر عوام میں جیتا تھا، ان کے دکھ سکھ بانٹتا تھا، اور سیاست کو عبادت سمجھتا تھا۔
لیکن پھر منظرنامہ بدل گیا۔
سیاست نے خدمت سے زیادہ مفاد کا روپ دھار لیا،
اور قیادت شخصیت پرستی میں بدلتی چلی گئی۔

آج کا مالیگاؤں ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے
جہاں قیادت کے نعروں سے زیادہ عوام کے سوال گونج رہے ہیں۔
عوام پوچھتے ہیں _
“ترقی کہاں ہے؟”
“پانی، روزگار اور صفائی کب ملے گی؟”
“کیا ووٹ صرف وعدوں کے لیے ہوتا ہے یا ذمہ داری کے لیے بھی؟”

یہ سوالات معمولی نہیں _
یہی وہ بیداری کے اشارے ہیں جو مالیگاؤں کی نئی سیاست کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔

یہ شہر اب خاموش نہیں رہا۔
نوجوان سوشل میڈیا پر بول رہے ہیں،
خواتین اپنی رائے دینے لگی ہیں،
اور عام شہری اب سیاست کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھنے لگے ہیں۔
یہی تبدیلی مالیگاؤں کی اصل طاقت ہے۔

مگر سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ بیداری کافی ہے؟
کیا صرف شعور، سیاست کو بدل سکتا ہے؟
یا پھر ہمیں ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے
جو عوام کے خوابوں کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنا سکے؟

مالیگاؤں کے سیاسی منظر میں اگرچہ قیادت کا بحران واضح ہے،
مگر امید اب بھی زندہ ہے _
کیونکہ یہ شہر صرف اختلاف کی نہیں، بلکہ اتحاد کی کہانی بھی ہے۔
یہ وہ زمین ہے جہاں مذہب، زبان اور طبقے کے اختلافات کے باوجود
لوگ ساتھ جیتے ہیں، ساتھ ہنستے ہیں، ساتھ خواب دیکھتے ہیں۔

یہی جذبہ مالیگاؤں کی شناخت ہے _
اور یہی اتحاد مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اگر قیادت اپنی سمت درست کرے،
اور عوام اپنے ووٹ کو صرف وعدوں کے بجائے کارکردگی کے پیمانے پر تولے،
تو یہ شہر صرف سیاست کا مرکز نہیں بلکہ ترقی اور شعور کی علامت بن سکتا ہے۔

مالیگاؤں کی گلیوں میں بکھری ہوئی یہ سیاسی چہل پہل
درحقیقت ایک نئے دور کا اعلان ہے _
جہاں اختلاف، دشمنی نہیں بلکہ مکالمے کی صورت اختیار کر رہا ہے،
اور اتحاد، خواب نہیں بلکہ اجتماعی شعور کا عمل بن رہا ہے۔

یہ کتاب اسی شعور، اسی سفر، اور اسی امید کی روداد ہے _
جو اختلاف سے شروع ہوتی ہے
اور اتحاد پر ختم نہیں، بلکہ وہاں سے ایک نئے باب کا آغاز کرتی ہے۔


----🔴🔴
’’مقبول عام ادیبوں کا المیہ‘‘
مقبولیت کی آرزو کسے نہیں؟
ایک تلخ سچ یہ ہے کہ یہ آرزو انھیں بھی ہے جو گم نامی کی زندگی کی مدح کیا کرتے ہیں؛ وہ اپنی گمنامی کی شہرت چاہتے ہیں۔

کچھ اپنی بد نامی کو بھی شہرت ومقبولیت کا ذریعہ بنالیتے ہیں۔ بے غرضی وبے نیازی کی اقدار کا مسلسل چرچا کرنے والے بھی غرض مند ہو اکرتے ہیں۔

سچ یہ ہے کہ انسانی آرزوؤں کے اظہار کی کوئی ایک زبان ہے ، نہ کوئی ایک پیرایہ۔ نفی کے صیغے میں اثبات ہوسکتا ہےاور خاموشی کے پیرائے ...اور پردے میں کوئی چیختی، گونجتی ہوئی آرزو ظاہر ہونے کے لیے بے تاب ہوسکتی ہے۔ کئی بارغیر مقبول باتوں کا ذکر بھی ، مقبول ہونے کا حربہ ہوا کرتا ہے۔

مقبولیت کی آرزو کیا ہے ؟ دوسروں کے ذہنوں ، دلوں اور یادوں میں اپنا عکس دیکھنا؛ صفحے،سکرین ، دیوار اور لوح زمانہ پر اپنا نقش دیکھنا۔اپنی ذات کو غیر ذات میں جابجا دیکھنا۔ جب یہ عکس و نقش و اقعی نظر آنے لگتے ہیں ،یعنی کوئی شخص واقعی شہرت ِ عام حاصل کرلیتا ہے تو کیا ہوتا ہے ؟ یعنی مقبولیت کا تجربہ اپنی اصل میں کیا ہے؟

اگرچہ ہر مقبول و مشہور شخص کے لیے یہ تجربہ الگ ہوا کرتا ہے ، اور اتنا ہی الگ ہوا کرتا ہے ،جتنے الگ وہ ذرائع ہوتے ہیں ،جن کی مدد سے مقبولیت ملا کرتی ہے۔ ذرائع حقیقی اور جائز ہوتے یا ان کے برعکس۔تاہم مقبولیت کے تجربات میں کچھ باتیں بہ ہر حال مشترک ہوتی ہیں۔

مقبولیت کے جملہ تجربات میں مشترک بات یہ ہے کہ یہ ایک طرح کا اقتدارہے۔ مقبول عام شخص ایک مقتدر شخص میں بدل جاتا ہے۔ وہ دوسروں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت اور پوزیشن اصل کر لیتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اثرانداز ہونے کی یہ صلاحیت اسے حاصل تو اس کے کام کے سبب ہوتی ہے، مگر بہت جلد یہ صلاحیت، اس کے کام سے الگ ہوجاتی ہے،اور اس کے مقبول عام ہونے کے امیج سے وابستہ ہوجاتی ہے۔ اس کے کام سے بڑھ کر، اس کا نام اثر انگیزی کا حامل ہوجاتا ہے۔

وہ صرف اپنے قارئین کے دلوں اور ذہنوں ہی پر اثرانداز نہیں ہوتا، معاصرمقتدر لوگوں،فیصلہ سازوں اور پالیسی سازوں پر بھی اثرا نداز ہونے لگتا ہے۔ کسی مسئلے، متن، آدمی پر اس کی رائے یا تبصرہ رائیگاں نہیں جاتا۔ اسے صرف توجہ سے سنا ہی نہیں جاتا ، اس کے ایک ایک لفظ کو باقاعدہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ایک مقبول عام ادیب، ایک بہ ظاہر دکھائی نہ دینے والی سلطنت کا امیر ہوا کرتا ہے۔

بلاشبہ مقبولیت عامہ ، اقتدار ہے۔ اقتدار کی جہاں اپنی لذت ہے،وہاں اس کے اپنے خطرات ...اور تضادات بھی ہیں۔ اس شیرینی میں ایک زہر بھی موجود ہے۔(ویسے تو کوئی شیرینی،خود بھی زہر سے کم نہیں )۔

 ہر مقتدر شخص کو اپنے اقتدار کے چھن جانے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔ مقتدر شخص کا دل ،خوف اور بزدلی کی آماج گاہ ہوتا ہے۔ اسے وہ چھپانے کی کوشش، سازش اور اداکاری کرتا ہے۔ کئی بار اس کی کوشش اور سازش سفاکانہ ہو جایا کرتی ہے۔وہ اپنی طاقت کا مہلک استعمال کر لیا کرتا ہے۔

ایک مقبول و مقتدر ادیب کو پہلا خطرہ دوسرے مقبول و مقتدر ادیب سے ہوا کرتا ہے۔ دو مقبول و مقتدرا دیب کبھی دوست نہیں ہوسکتے۔ اقتدار، شراکت پسند نہیں کرتا۔مقتد شخص ، جبلی طور پر جانتا ہے کہ شراکت، معزولی کی تمہیدہوسکتی ہے۔
مقبول و مقتدر ادیب کو دوسرا خطرہ ان سے ہوتا ہے ،جن پر وہ ’’حکمرانی ‘‘کرتا ہے۔ یعنی قارئین وسامعین۔ کہیں وہ اپنا رخ نہ بدل لیں؛اس سے بد دل نہ ہوجائیں؛اس کے خلاف بغاوت نہ کردیں۔لہٰذا وہ انھیں خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ باتیں لکھتا اور کہتا ہے جس سے اس کے کام پر مسلسل لکھا جاتا رہے اور تالیاں بجتی رہیں۔ جس بات، پیرائے، موضوع سے اسے مقبولیت ملی تھی ،وہ انھی کو ،زبانی وقلمی طور پر دہراتا چلا جاتاہے۔

مقتدرو مقبول عام شخص لاکھ قناعت کا درس دیں، ان کے دل اپنی مقبولیت و اقتدار کو مزید بڑھاتے چلے کی ہوس سے بری طرح آلودہ ہواکرتے ہیں۔ وہ کسی ایک اعزاز،کسی ایک مسند، کسی ایک ستائشی تبصرے، ان کی خدمات پر لکھی گئی کسی ایک کتاب پر کبھی قانع نہیں ہوا کرتے۔ وہ ہر اس جگہ خود کو بلاشرکت غیرے دیکھنا چاہتے ہیں ، جو واقعی موجود ہے یا موجود ہوسکتی ہے۔ وہ صرف جیتے جی شہرت عام ہی نہیں، بقائے دوام بھی چاہتے ہیں۔

برٹرینڈ رسل نے اپنے نوبیل تقریر میں ایک طالوی شہزادے کا ذکر کیا ہے۔وہ جب بستر مرگ پر تھا تو اس سے پادری نے پوچھا کہ کیا اسے کوئی تاسف ہے۔اس نے کہاکہ ہاں،ایک بات کا اب تک قلق ہے کہ ایک بار میرے پاس پوپ اور شہنشاہ دونوں آئے۔ میں انھیں اپنے مینار کی چوٹی پر لے گیا تاکہ انھیں وہاں سے شہر کا نظارہ کراسکوں۔ یہ ایک زبردست موقع تھا ، جسے میں نے گنوا دیا،اسی کا قلق ہے۔ اگر میں انھیں وہاں سے دھکا دے دیتا تو مجھے ابدی شہرت مل جاتی۔مقتدر آدمی ،آخری سانسیں لیتے ہوئے بھی اپنے اقتدار ہی کا سوچتا ہے۔

مقبول عام ادیب اپنی ہی بنائی ہوئی ڈگر سے ہٹتے ہوئے،باقاعدہ خوف محسوس کرتا ہے۔ایک اندوہ ناک سچ یہ ہے کہ اب وہ اپنے قارئین وسامعین پر حکمرانی نہیں کرتا،قارئین وسامعین اس کے ذہن وتخیل پر حکمران بن جاتے ہیں۔

 وہ انھیں اپنی طرف متوجہ رکھنے ،یعنی اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے ، نئی ،انوکھی ، غیر مقبول بات کہنے سے باقاعدہ خوف زدہ ہوتا ہے۔وہ اپنے کسی کار نامے کاذ کر خود اپنی زبانی سیکڑوں بار کرنے سے نہیں شرماتا۔ وہ خود پسندی وخود مدحی کی بلندترین چوٹی پر جانے میں قباحت نہیں دیکھتا۔

وہ معمولی سی تنقید اور ذرا سی چبھتی ہوئی بات بھی برداشت کر نے کے حوصلے سے محروم ہوجاتا ہے۔ وہ سوال سے گھبراتا ہے اور غیر مشروط مداحوں میں گھرا رہنا پسند کرتا ہے۔یہ مداح ، اپنی رائے دینے میں سفاک نقادوں کے مقابلے میں ،اس کی ڈھال ہوتے ہیں۔نقادوں کا فوبیا سب سے زیادہ ،مقبول عام ادیبوں یا مقبول ہونے کی آرزو رکھنے والوں کو ہوا کرتا ہے۔

تاہم ایک مقبول عام ادیب کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ تنہائی سے محروم ہوجاتا ہے۔اس کے آس پاس ہی نہیں ، اس کی یادداشت وتخیل میں بھی ، اس کے مداحوں کا جم غفیر رہتا ہے۔ تخلیق ، تنہائی اور وحشت چاہتی ہے۔ ہر بار ایک نئی تنہائی،اور ایک نئی وحشت۔ دنیا ، سماج اور انسانی روح کے ان دیکھے منطقوں میں بے دھڑک جانے کی وحشت، اور ان منطقوں کو تنہا کھوجنے کا حوصلہ۔ اور اس بات کو یکسر بھول جانے کی وحشت کہ آدمی کے لکھے کو کون پڑھے اور سراہے گا اور کون نہیں۔

آخری بات۔ مقبول عام ادیب کا المیہ صرف ذاتی نہیں رہتا،اس کے قارئین و سامعین کا بھی بن جاتا ہے۔ وہ اپنی مقبول عام تحریروں ، باتوں کو مسلسل دہرا کر اپنے قارئین وسامعین کو ایک ہی ڈھب سے سوچتے اور محسوس کرتے چلے جانے کا عادی بنادیتا ہے۔

 بڑے سے بڑا خیال بھی جب عادت بن جائے تو وہ خیال نہیں رہتا، پتھر بن جاتا ہے۔ خیال تو بہتی ندی ہے!

(دو سال پہلے کی تحریر)
ناصر عباس نیّر
۶ دسمبر ۲۰۲۳ء
__________

دِل مِلا ، اور غم شناس مِلا
  پُھول کو آگ کا لباس مِلا 

ہر شناور بھنور میں ڈوبا تھا
جو سِتارہ مِلا ، اُداس مِلا 

 مَیکدے کے سِوا ہمارا پتہ
تیری زُلفوں کے آس پاس مِلا

مُجھکو تقدیر کی گُزرگہ میں
صرف تدبیر کا ہراس مِلا

آبِ رضواں کی دُھوم تھی ساغرؔ
 سادہ پانی کا اِک گلاس مِلا

(درویش شاعر)
ساغرؔ صدیقی ¹⁹⁷⁴-¹⁹²⁸
________🔴
غزل

خود ھی اپنی امان میں خوش ھیں
ھم جو خستہ مکان میں خوش ھیں
 
تم کہانی میں مرکزی شے ھو
ھم تو بس داستان میں خوش ھیں

چاک پر بن رھے ھیں کچھ چہرے
کچھ فقط خاکدان میں خوش ھیں

پھرسے اترے گا آسماں سے کوئی
خوش فہم اس گمان میں خوش ھیں

اے خدا تو یہ جانتا تو ھے
کون تیرے جہان میں خوش ھیں

دل بھی اشکر ھے خوش گماں کوئی
ھم بھی اس کے دھیان میں خوش ھیں
 
اشکر فاروقی

*🛑سیف نیوز اُردو*

جموں  کشمیراسمبلی کابجٹ اجلاس:دوسرے مرحلے کی کارروائی کے پہلے دن این سی اور بی جے پی ارکان اسمبلی نے کیاہنگامہ جموں ...