طالبان کو دھمکایا تو ٹی ٹی پی نے عاصم منیر کو دی وارننگ، تابڑتوڑ حملوں سے دہل گیا خیرپختونخوا
TTP Attacks Khyber Pakhtunkhwa: پڑوسی ملک پاکستان میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ سیاسی محاذ سے لے کر فوج اور سیکورٹی کی صورتحال تک حالات ایسے ہیں کہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ جہاں سیاسی منظرنامے میں شہباز شریف اپنی کرسی بچانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں، تو وہیں پاکستان میں آئینی طور پر سب سے طاقتور بن چکے عاصم منیر نے اپنی جارحانہ حکمتِ عملی نافذ کرنا شروع کر دی ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ سنبھالتے ہی عاصم منیر نے پڑوسی ملک افغانستان کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔
جہاں عاصم منیر نے براہِ راست طالبان حکومت سے کہا کہ وہ یا تو اسلام آباد یا پھر ٹی ٹی پی میں سے ایک کا انتخاب کرے تو وہیں اس کا جواب بھی انہیں مل گیا۔ افغانستان نے تو اس پر کوئی ردِّ عمل نہیں دیا لیکن ٹی ٹی پی نے جواب میں خیبر پختونخوا صوبے کو دہلا دیا۔ پیر کے روز تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے حملے میں پاکستان میں 6 سیکورٹی اہلکاروں کی موت ہوگئی اور 7 زخمی ہوگئے۔ معلومات کے مطابق حملہ کرم ضلع کے مناٹو علاقے میں ہوا۔پاکستانی فوج پر حملہ کیسے ہوا؟
افسران نے بتایا کہ ٹی ٹی پی کے حملے کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ ہوئی، جس میں 6 سیکورٹی اہلکاروں کی موت اور 7 زخمی ہو گئے۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستانی سیکورٹی فورسز پر کیے گئے اس حملے سے علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ یہ حملہ اس واقعے کے چند روز بعد ہوا ہے جس میں ٹی ٹی پی نے ایک سرکاری گاڑی پر حملہ کر کے 5 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ یہ حملہ شمالی وزیرستان میں اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی کی گاڑی کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا۔ پاکستان میں تحریکِ طالبان پاکستان، ایک کالعدم تنظیم ہے جو مسلسل پاکستانی فوج کو نشانہ بناتی ہے۔ اس کے خلاف پاکستانی فوج کئی آپریشن کر چکی ہے لیکن اسے قابو نہیں کر پائی۔کیا عاصم منیر کو چیلنج؟
تحریکِ طالبان کے حوالے سے پاکستان الزام لگاتا رہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں کو افغانستان کی پناہ حاصل ہے، تاہم افغانستان اسے پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے۔ اسی معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بھی رہی ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے نئے سی ڈی ایف بنے عاصم منیر نے افغانستان کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے یا پاکستان طالبان (TTP) کے ساتھ ۔ یہ بیان انہوں نے راولپنڈی میں نئے ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹر کے افتتاح کے دوران دیا تھا۔ اب تک طالبان حکومت نے اس بیان پر کوئی ردِّ عمل نہیں دیا ہے۔
آر ایس ایس ’پروجیکٹ‘، الیکشن کمیشن، ایس آئی آر... راہل گاندھی نے لوک سبھا میں مرکزی حکومت کو کن کن ایشوز پر گھیرا
نئی دہلی: لوک سبھا میں لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی نے منگل کو دعویٰ کیا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ‘پروجیکٹ’ کے تحت مختلف اداروں اور الیکشن کمیشن پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے لوک سبھا میں انتخابات کی اصلاحات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کی تعیناتی والی کمیٹی میں چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) کو شامل کیوں نہیں کیا گیا؟
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ اس حکومت نے دسمبر 2023 میں قانون میں تبدیلی کی تاکہ کسی بھی الیکشن کمشنر کو ان کے فیصلوں پر سزا نہ دی جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تاریخ میں کسی وزیراعظم نے ایسا نہیں کیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اگر ووٹ کا ہی کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا تو لوک سبھا، اسمبلی یا پنچایت کا کوئی وجود باقی نہیں رہ جائے گا۔
کانگریس لیڈر نے آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد ان کے ‘پروجیکٹ’ کا اگلا حصہ ہندوستان کے ادارہ جاتی ڈھانچے پر قبضہ کرنا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس نے ایک ایک کر کے اداروں پر قبضہ شروع کر دیا۔ سب جانتے ہیں کہ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کیسے ہوتی ہے۔
راہل گاندھی کے اس دعوے پر حکمراں پارٹی کی طرف سے اعتراض کیا گیا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن کو مقررہ موضوع پر بولنا چاہئے۔ کانگریس کے سابق صدر نے کہا کہ یہ موضوع ووٹ سے جڑا ہے اور وہ اسی بنیاد پر اپنی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد انویسٹی گیشن ایجنسیز پر قبضہ کرنے کا مقصد تھا۔
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن حکومت میں بیٹھے لوگوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے فیصلے کر رہا ہے اور کسی بھی الیکشن سے پہلے وزیراعظم کے پروگرام کے مطابق انتخابی مہم کے لیے طویل مدت رکھی جاتی ہے۔انہوں نے حکمراں پارٹی پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ وہ ذات پات کے نظام پر یقین رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں خود کو سب سے اوپر سمجھتے ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ ملک 1.5 ارب لوگوں کا ایک جال ہے جو ووٹ کے ذریعے بُنا گیا ہے۔
عمرخالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ کی ضمانت سے متعلق سپریم کورٹ میں کپل سبل اورابھیشیک منوسنگھوی کی بڑی دلیل، کیا مل پائے گی ضمانت؟
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کے روز2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات معاملے میں سازش کرنے کے ملزمین عمرخالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اوردیگرکارکنان کی ضمانت عرضی پرسماعت کی۔ یہ سبھی طلبا لیڈرغیرقانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یواے پی اے) کے تحت جیل میں بند ہیں۔ عدالت میں جسٹس اروند کماراورجسٹس این وی انجاریا کی بینچ نے بچاوفریق کی دلیلیں سنیں۔ سماعت بدھ کے روزبھی جاری رہے گی۔
زبردست جرح کے درمیان بچاوفریق نے دلیل دی کہ ٹرائل میں تاخیرکی بنیاد پرضمانت ملنی چاہئے۔ سپریم کورٹ کے کئی فیصلے ایسا کہتے ہیں۔ انہوں نے پانچ سال جیل میں گزارے ہیں اور تقریباً پوری سزا کاٹ لی ہے۔ اس میں کہا گیا کہ 2698 صفحہ کی بڑی چارج شیٹ میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ ملزم نے حکومت بدلنے کی کوشش کی، یہ نام خراب کرنے کی کوشش ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پراسیکیوشن کا مقصد ملزم کوکسی بھی طرح جیل میں رکھنا ہے۔
ہرسطح پربغیرکسی ثبوت کے الزام
دلیل دی گئی کہ پراسیکیوٹرکا مقصد ملزم کوکسی بھی طرح ہمیشہ کے لئے جیل میں رکھنا نہیں ہونا چاہئے۔ صرف تقریرنہیں، انہیں سزا ثابت کرنے کے لئے مزید ثبوت بھی دکھانے ہوں گے۔ اس میں وہ ناکام ہوگئے ہیں۔ وہیں ملزم گلفشاں فاطمہ کے وکیل ابھیشیک منوسنگھوی نے کہا کہ وہ تقریباً 6 سال سے جیل میں بند ہے۔ 16 ستمبر2020 کوایک چارج شیٹ فائل کی گئی، لیکن سپلیمنٹری چارج شیٹ مسلسل فائل کی جا رہی ہیں۔ اب تک 4 سپلیمنٹری اورایک مین چارج شیٹ فائل ہوچکی ہے۔ ٹرائل ختم ہونے کے کوئی آثارنہیں نظرآرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بغیرسزا کے لمبے وقت تک کسی کوجیل میں رکھنا، ہمارے کریمنل جسٹس سسٹم کا مذاق ہے، یہ پری-ٹرائل سزا ہے۔
ابھیشیک منوسنگھوی نے کہا کہ نتاشا نروال اوردیوانگنا کلیتا پربھی بہت سنگین الزام تھے اورانہیں ایک سال میں ہی ضمانت مل گئی۔ یہ لوگ سازش کرنے والے واٹس اپ گروپ (دہلی پروٹیسٹ سپورٹ گروپ-ڈی پی ایس جی) کا حصہ تھے جبکہ گلفشاں اس کا حصہ نہیں تھی۔ انہوں نے خواتین مظاہرین کوفنڈنگ کی، لیکن گلفشاں نے نہیں کی۔ گلفشاں کا ذکرایڈیشنل سالسٹرجنرل راجو کی دلیلوں میں صرف دوبارکیا گیا ہے۔ جہاں تک دوسری خفیہ میٹنگ کی بات ہے، اس میں دیوانگنا اورنتاشا بھی موجود تھیں اورگلفشاں سے زیادہ اہم رول میں تھیں اورانہیں ضمانت مل گئی۔ اب ایک 32 سال کی خاتون پریواے پی اے لگایا جا رہا ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔