*ایپلی کیشن کے جنگل میں معلّم*
از: آصف جلیل احمد۔
(ضلع پریشد اردو اسکول جارگاؤں۔ پاچورہ)
9225747141
محکمۂ تعلیم کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہ ہے کہ اس نے اساتذہ کو پڑھانے سے زیادہ بہت سارے پرائیوٹ کمپنیوں کے ایپس چلانے کا ماہر بنا دیا ہے۔ کبھی اسکول میں تختہ سیاہ اور چاک استاد کے اصل ہتھیار ہوا کرتے تھے، آج محکمہ تعلیم نے ان کی جگہ موبائل فون اور "ایپلیکیشنز" تھما دیے ہیں۔۔۔ آج اساتذہ کرام "ڈیٹا انٹری کلرک" بن گیا ہے۔
اب ہر دن کی ابتدا ایپلیکیشن کے سلام سے ہوتی ہے۔ سوِفٹ چیٹ میں حاضری، وِنوبا ایپ میں تفصیل، وی اسکول ایپ، دکشا کے کورسز، ودّیانجلی میں ریکارڈ ، پھر چراغ ایپ کے سرگرمی۔ اس کے بعد بھی سلسلہ ختم نہیں ہوتا: پراشسٹ ایپ، اُلہاس ایپ، نِپون، آئے گوٹ کرم یوگی، ایم ڈی ایم، امرُت ورُکش انٹری، جی پی ایس، مہا اسکول جی آئی ایس، رِیڈ آلانگ ایپ، سیفٹی، ڈجی لوکر، آیُوشمان، اسکول سیفٹی ایپ، پی ایم شری وغیرہ ہزاروں ایپلیکیشن سب کے سب اپنے اپنے نوٹیفکیشن کے ساتھ روزانہ استاد کو جھنجھوڑتے رہتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ بچّوں کو پڑھانے کا وقت کہاں ہے؟
اِدھر گاؤں کے "ساکشر آ ساکشر" جیسے ڈنگرے سروے بھی آئے دن استاد پر لاد دیے جاتے ہیں۔ کبھی ناخواندگی کے اعداد و شمار، کبھی مردم شماری کے کھاتے، کبھی آبادی کا نقشہ، اور کبھی ہر دروازے پر جا کر خانہ پُری۔ پھر یہ سب کاغذی کھیل ختم نہیں ہوتا، الٹا ایپلیکیشن میں اپڈیٹ کرنے کا الگ تماشہ! فوٹو اپلوڈ کرنا، ہر روز کی رپورٹ جمع کرنا۔ گویا استاد اب نصاب نہیں پڑھاتا بلکہ پورے گاؤں کے رجسٹر، کھاتے اور فارمس سنبھالتا ہے۔ وہ قلم جو بچوں کے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے تھا، اب غیر تدریسی سرگرمیوں کے خانہ پُری کی سیاہی میں گھِس رہا ہے۔
محکمۂ تعلیم کے میٹنگ و اجلاسوں میں سب سے زیادہ زور اسی بات پر دیا جاتا ہے کہ: *"ہر حال میں تعلیم کا معیار بلند کرنا ہے!"*
لیکن معیار بلند ہوگا کیسے؟
جب استاد موبائل نیٹ ورک ڈھونڈنے میں وقت گزارے؟
جب وہ طلبہ کے بجائے ایپلیکیشن کے پیچھے بھاگے؟ ایک طالب علم کی انفرادی انٹری کرے؟
جب اس کی ذہنی توانائی ایپلی کیشن کے کورس اور رجسٹریشن فارم میں ضائع ہو جائے؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کا زمانہ جدید دور انٹرنیٹ میڈیا کا ہے۔ ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ استاد کو جدید ٹکنالوجی سے جڑنا چاہیے، نئی دنیا کے ساتھ چلنا چاہیے۔ لیکن یہ جڑاؤ اتنا بھی نہ ہو کہ اصل مقصد ہی فوت ہو جائے۔ موبائل اور ایپلیکیشن محض ذریعہ ہیں، منزل نہیں۔ تعلیم کا اصل چراغ استاد کی زبان اور اس کے کردار سے جلتا ہے، نہ کہ اسکرین کے بٹنوں سے۔اگر محکمۂ تعلیم کو واقعی معیارِ تعلیم بلند کرنا ہے تو سب سے پہلے اساتذہ کو ایپلیکیشنز کے جنگل سے آزاد کرنا ہوگا۔ انہیں دوبارہ کلاس روم میں بچوں کے بیچ، تختہ سیاہ کے سامنے کھڑا کرنا ہوگا۔ ورنہ خطرہ ہے کہ جو نوجوان معلمین ابھی ابھی خدمتِ تدریس میں قدم رکھ رہے ہیں وہ درس و تدریس کے بجائے محض ایپلیکیشنز کے نوٹیفکیشن کے عادی ہو کر رہ جائیں گے۔ پھر وہ معلم کم اور محکمہ کا ڈیجیٹل کلرک زیادہ دکھائی دیں گے۔
_______
عالمی افسانہ میلہ 2025
افسانہ نمبر 1
تعزیت کی ایک رات
رفیع حیدر انجم
ارریہ ، انڈیا
شہرِ نشاط سے ایک افسوس ناک خبر آئی تھی.
'خورشید بھائی نہیں رہے.' سعید کا رقت آمیز لہجہ فون پر محسوس کیا جا سکتا تھا. میں گنگ تھا, کچھ بھی نہیں کہہ سکا.
خورشید بھائی یعنی خورشید انور جن کا اوپن ہارٹ سرجری چند سال قبل ہوا تھا۔آپریشن کے تین سال بعد انہوں نے بینک کی ملازمت سےخود اختیاری سبکدوشی حاصل کر لی تھی. خورشید انور زندہ دل انسان تھے لیکن ان کی موت نے بہتوں کے دل کا آنگن ویران کر دیا تھا. یہ اور بات ہے کہ وہ شہر کے جس مقام پر بیوی بچوں کے ساتھ آباد تھے وہاں آنگن کا کوئی تصور نہیں تھا. شہر کی گنجان آبادی میں واقع ایک ہاؤسنگ سوسائیٹی کی بلڈنگ میں تھرڈ فلور پر تین کمروں کا ایک فلیٹ جہاں لفٹ سے بہ آسانی پہنچا جا سکتا تھا. ٹرین پر شب بھر کی مسافت میں خورشید انور کئی رنگ اور کئی روپ میں مجھے دکھائی دیتے رہے جو کم و بیش رفاقت کے چالیس سال کے طویل عرصے پر محیط تھا.لیکن اب تمام رنگ ایک دوسرے میں مدغم ہوکر سیاہ رنگ میں تبدیل ہو چکے تھےاور سچ تو یہ ہے کہ سیاہی ہی انسان کا آخری مقدر ہے جس کے لئے کسی بھی طرح کا سیاپا ڈالنا بےسود ہے. اب تک میں ان کی زندگی کا ملاقاتی رہا تھا مگر اب ان کی موت مجھ سے روبرو ہونے والی تھی. زندگی سے معدوم ایک مردہ شخص سے ملاقات کا تجربہ کیسا ہونے والا ہے, میں اس سے انجان تھا اور لاشعوری طور پر تشویش میں مبتلا بھی. ایسا نہیں ہے کہ کسی مرے ہوئے آدمی کو میں پہلی بار دیکھنے جا رہا تھا مگر مجھے لگتا ہے کہ ہر مردہ شخص کو دیکھنے کا انداز جداگانہ ہوتا ہے اور ہم اس بارے میں پہلے سے بالکل لاعلم ہوتے ہیں.لیکن ایک بات مشترک ہے کہ کسی مردہ شخص کے روبرو ہونے کے لئے آپ کا دنیادار ہونا لازمی ہے. مجھ سے دنیا دار ہونے میں پہلی چوک اس وقت ہو گئی تھی جب سعید کی اس افسوس ناک اطلاع پر میں خاموش رہ گیا تھا اور مجھ سے تسلی بھرے الفاظ ادا نہیں ہو سکے تھے. حالانکہ خورشید انور اپنی زندگی میں میری ہر ناکامی پر تسلی دیتے رہے تھے اور میری کامیابی پر حیات آمیز کلمات سے نوازتے رہے تھے. ان کی موت کی خبر میرے لئے ایسی ہی تھی جیسے کسی مچھوارے کے ہاتھوں سے زندہ مچھلی پھسل کر ندی میں گر جائے اور تہہِ آب کچھ بھی نظر نہ آئے. خورشید انور کی موت میرے لئے زندگی سے بھرپور ایک شخص کا ہمیشہ کے لئے نظروں سے اوجھل ہو جانا تھا جس کے بعد صرف تاسف کا احساس باقی رہ جاتا ہے.
دوسرے دن علی الصبح جب ہم پہنچے تو فلیٹ کا دروازہ نیم وا تھا اور وقفے وقفے سے سوگوار چہرے آجا رہے تھے. بیوی کے ہمراہ بیٹا بھی اندر داخل ہو گیا. مجھے معلوم تھا کہ میرے استقبال کے لئے وہ چہرہ سامنے نہیں آئے گا جس کا میں عادی تھا سو ناآسودگی کی ایک انجانی سی سرد لہرمیں نے اپنے سراپے میں محسوس کی اور میں نے کوریڈور کے ایک آخری کونے میں جا کر سگریٹ کا پیکیٹ نکال لیا. ماچس کی تیلی کو سگریٹ کے قریب لے جاتے ہوئے یاد آیا کہ خورشید انور اپنی بیوی شمع خورشید سے چھپ کر اسی طرح کسی تنہا گوشے میں سگریٹ نوشی کرتے ہوئے مل جاتے تھے. میں نے نیچے جھانک کر سوسائٹی کے مین گیٹ کی طرف دیکھا تو وہاں کچھ افراد دو نوجوان کو اپنی گرفت میں لئے ڈھارس بندھا رہے تھے جو ابھی ابھی وہاں پہنچے تھے. یہ دونوں خورشید انور کے بیٹے تھے. ان میں سے ایک بڑا بیٹا شاداب انورلندن سے اور دوسرا عرفان انور ابو ظہبی سے آیا تھا. عرفان انور کو سنبھالنا قدرے مشکل ہو رہا تھا.اس کی سسکیاں اور گھٹی گھٹی سی چیخوں کی آوازیں مجھ تک پہنچ رہی تھیں. میں نے سگریٹ کے دوتین لمبے کش لئے اور سست قدم سے فلیٹ کے دروازے کی طرف چل پڑا.
کمرے کے اندر شمع خورشید کو ان کی دو شادی شدہ بیٹیاں اور چند نامانوس عورتیں اپنے گھیرے میں لئے بیٹھی تھیں. ان سب کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور کاندھے مضمحل نظر آ رہے تھے. چند ثانیے بعد دونوں بیٹے بھی اندر آگئے اور ماں اور بہنوں سے لپٹ کر بلند آواز میں بین کرنے لگے. اس بین میں میری بیوی بھی شامل تھی اور میرا بیٹا ان سب کے قریب افسردہ و ملول بیٹھا ہوا تھا.میری بیوی کو اپنے بڑے بھائی کی موت کا سخت ملال تھا جس کی شدت کا اندازہ اس کی آنکھوں سے مسلسل بہتے ہوئے آنسوؤں کی روانی سےکیا جا سکتا تھا. میں کمرے کے ایک کونے میں ایستادہ صوفے کی طرف بڑھ گیا جہاں شمع خورشید کے تین بھائی , چند شناسا رشتے دار اور کچھ انجان اشخاص بیٹھے ہوئے تھے.
میرے استفسار پر شمع خورشید کے ایک بھائی حامد خان نے بتایا کہ لاش قریب ہی کے ایک کولڈ سٹوریج میں رکھی گئی ہے اور عصر کے وقت تدفین کے لئے لائی جائے گی. ادھر چند ساعت کی بین کے بعد سب نے تقریباً خاموشی اختیار کر لی تھی اور اس سانحے پر آپس میں تبادلہء خیال کرنے لگے تھے. میں نے دیکھا, اچانک شمع خورشید ان سب کے درمیان سے اٹھیں اور دوسرے کمرے میں چلی گئیں مگر جلد ہی واپس آ گئیں. ان کے ہاتھوں میں خوبصورت سا ایک پرنٹڈ سوٹ تھا جس کے شوخ رنگ دور سے اپنی جھلک دکھلا رہے تھے. انہوں نے سوٹ کا پیکیٹ اپنے بیٹے عرفان انور کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا.
"تیرے پاپا مرنے سے دو روز قبل میرے لئے لے کر آئے تھے. " عرفان یکلخت دھاڑیں مار مار کر رونے لگا اور کمرے کی خاموشی ایک بار پھر سے لہو لہان ہو گئی. بڑا بیٹا شاداب انور صبر و تحمل سے کام لے رہا تھا. وہ ایجوکیشن ویزہ پر لندن گیا تھا لیکن وہاں پارٹ ٹائم جاب بھی کرنے لگا تھا. اس نے وہاں دہلی کی ایک لڑکی سے شادی کر لی تھی جو کسی اسکول میں میتھمیٹکس کی ٹیچر تھی. اب تو اس نے وہاں کی شہریت بھی حاصل کر لی ہے. اس کی بیوی کمرے کے ایک کونے میں الگ تھلگ اپنی چھ سالہ بیٹی کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی .اس کی بیٹی نے حیران نگاہوں سے چاروں طرف دیکھا اور اپنی ممی سے پوچھا جو پہلی بار اپنے دادا کے گھر آئی تھی.
"Mamma, why people's are crying? "
وہاں موجود زیوروں سے لدی پھندی ایک فربہ خاتون نے سوٹ کے کپڑے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑے رسان سےکہا.
" خورشید بھائی کا پسند جانے ہیں ..... کوئی مات نا دے سکے ہے. مگر شمع اس کا رہتے پہین نا سکیس. " ایک دوسری بی بی نے لہک کر کہا.
"خورشید تو شمع کا پروانہ تھا, پروانہ. "
کچھ دیر بعد جب سب لوگ پھر سے شانت ہوئے تو حامد خان نے مجھ سے کہا.
"کل رات اچانک جب خورشید بھائی کی طبیعت بگڑ گئی تو شمع نے کسی کو خبر نہیں کی اور گھبراہٹ میں کمبل والے ڈاکٹر کے پاس لے کر چلی گئی. "
"کمبل والا ڈاکٹر ؟" میں حیران ہوا.
"ہاں, یہ ڈاکٹر نہیں موت کا سوداگر ہے.اس نے ایمرجنسی کے سینکڑوں کیس خراب کئے ہیں. " مجھے اس طرح کے کسی ڈاکٹر کا کوئی علم نہیں تھا سو خاموش رہا.
شمع کے ایک دوسرے بھائی نے مجھے بتایا کہ خورشید بھائی کا جہاں ہارٹ کا آپریشن ہوا اس کی لائف کی گارنٹی صرف دس سال کی ہوتی ہے اور یہ ان کا گیارہواں سال چل رہا تھا.
کچھ وقت تک لوگوں کے آنے اور جانے کا سلسلہ جاری رہا. اندر کمرے تک آنے والوں میں بیشتر قریبی فلیٹ اور دور و نزدیک کی رشتے دار عورتیں تھیں جو اپنے اپنے طور پر اظہارِ تاسف کے بعد واپس جا رہی تھیں. یہ تمام عورتیں مطمئن تھیں کہ انہوں نے ایک ضروری رسم میں اپنا حصہ ڈال دیا ہے.
کچھ اور وقت گزرا تو خبر آئی کہ میت آگئی ہے اور نیچے بیسمنٹ میں رکھ دی گئی ہے اور وہیں سے بعد نمازِ عصر تدفین کے لئے قبرستان روانہ کر دی جائے گی. یہ سنتے ہی کمرے میں موجود تمام افراد نیچے جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے . ہر شخص کو مردہ خورشید انور کو آخری بار دیکھنے کی جلدی تھی سو ایک افراتفری کا سا ماحول بن گیا. میں نے سوچا, لوگوں کو جلدی ہو سکتی ہے مگر مردے کو تو کوئی جلدی نہیں ہو سکتی. چند ساعت میں کمرہ بالکل خالی ہو گیا. خالی کمرے کو دیکھ کر مجھے لگا کہ ایک عدد سگریٹ پینے کے لئے یہ ایک بےحد مناسب جگہ ہے سو میں نے اپنی ٹانگوں کو میز پر پھیلا دیا اور سر کو صوفے کی پشت سے ٹکا کر سگریٹ سلگا لی.ایک لمحے کے لئے میں نے خود کو مردہ تصور کیا اور سوچا کہ اگر کوئی مردہ شخص سگریٹ پینے لگے تو وہ ہوبہو مجھ جیسا ہی نظر آئے گا. ایک بےتکا سا خیال تھا لیکن یہ خالی کمرہ اس خیال کو اس لئے بھی تقویت دینے لگا تھا کہ خورشید انور نے نہ جانے کتنی بار اس کمرے کو خالی پا کر سگریٹ پینے کے لئے استعمال کیا ہوگا. لیکن میں زیادہ دیر اس کمرے میں نہیں رہ سکتا تھا کہ ایک مردہ شخص کے آخری رسومات میں شرکت کے لئے ہی تو میں یہاں لایا گیا ہوں.
نیچے بیسمنٹ میں آیا تو میں نے برف کی سل پر سفید کپڑوں میں ڈھکے خورشید انور کے مردہ جسم کو دیکھا. ان کا چہرہ کھلا ہوا تھا اور اس چہرے پر تاسف کا کوئی رنگ نہیں تھا جیسے زندگی ان پر مہربان ہو گئی ہو اور وہ احساسِ تشکر سے سرشار ہو گئے ہوں. یکایک شمع خورشید سامنے آگیئں تو اپنے شوہر کی میت کو دیکھ کر بےساختہ چیخ پڑیں.
"میرا راج کمار! " میں چونک گیا. میں نے دوبارا خورشید انور کی لاش کو دیکھا تو وہ سچ میں راج کمار ہی نظر آئے .گوتم بدھ سے بھی بڑا راجکمار جو سنسار کے موہ مایا کو تج کر ہمیشہ کے لئے کسی دوسری دنیا کا باشندہ ہو چکا تھا. کوئی شمع ہی اپنے مردہ پروانہ میں راجکمار کی جھلک پا سکتی ہے سو اس نے پا لیا تھا. اس احساسِ تفاخر کے ساتھ ہی مجھے اس وقت سگریٹ پینے کی شدید خواہش ہوئی اور میرے داہنے ہاتھ کی انگلیاں پینٹ کی جیب تک پہنچ بھی گئیں. مگر میرے لئے سگریٹ نوشی کی یہ مناسب جگہ ہرگز نہیں ہو سکتی تھی سو میں نے اپنی اس خواہش کو ملتوی کر دیا. اب میں البرٹ کامیو کے ناول "اجنبی " کا وہ بیٹا تو نہیں ہو سکتا تھا جو اپنی ماں کے جنازے کے قریب بےفکری سے سگریٹ کا کش لگا رہا تھا.
ایک آخری جھلک کے لئے اب شاید کوئی آخری آدمی باقی نہیں بچا تھا اور عصر کی نماز کے لئے قریب کی مسجد سے اذان کی آواز بھی آنے لگی تھی. حمید خان نے بلند آواز سے مجمع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا.
" میت باگماری قبرستان جائے گی. قبرستان کے لئے گاڑیاں سڑک پر کھڑی ہیں. جن کو نماز پڑھنا ہے وہ فرض نماز ادا کر کے جلدی سے آجائیں. " فرض نماز کی شرط پر کچھ لوگوں نے اعتراض جتایا اور چہ میگوئیاں ہونے لگیں مگر حمید خان تب تک وہاں سے کھسک چکے تھے. میت کی تدفین کے تمام رسومات مثلاً غسل, کفن اور نمازِ جنازہ وغیرہ قبرستان میں ہی ہونا طے تھا سو میت کو چار کاندھے پر اٹھا کر ایک چھوٹے سے اوپن ٹرک کے ڈالے پر رکھ دیا گیا.میت کے اٹھ جانے کے بعد بیسمنٹ کی جگہ خالی ہوئی تو یوں محسوس ہوا جیسے سرد ہوا کے جھونکوں نے چاروں طرف ایک دبیز سناٹا پھیلا دیا ہے . یہ سناٹا کسی مردہ جسم سے زیادہ سنسنی خیز تھا جس میں خوف کی ایک ہلکی سی لرزش بھی شامل تھی......... ایک دن خود کے جسدِ خاکی کے بھی فنا ہو جانے کی لرزش. کچھ لوگ ٹرک کے ڈالے پر کھڑے ہو گئے اور بقیہ لوگ دیگر گاڑیوں میں سوار ہو گئے. چند حضرات اپنی بائیک لے کر آگے بڑھ گئے. جنازے میں شامل ہونے والوں کی گاڑیاں مختلف سڑکوں سے گزر رہی تھیں اور شہر کا شور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ماتمی دھن میں تبدیل ہو گیا ہے. باگماری قبرستان کافی وسیع و عریض احاطے پر پھیلا ہوا ہے اور اس قبرستان میں نامی گرامی حضرات کی قبورِ مبارکہ کی تفصیلات موجود ہیں. لوگ کہتے ہیں کہ قبرستان جائے عبرت ہے. قبرستان تو مردوں کی بستی ہے جہاں زندہ لوگ اپنی ہی تسکین کے لئے فاتحہ پڑھنے چلے آتے ہیں. یہ مردے تو برسہا برس سے اپنی قبروں میں لیٹے ہوئے کسی صور کے منتظر ہیں. زندہ لوگ تو زندہ لوگوں کے درمیان ہی رہ کر عبرت حاصل کرسکتےہیں. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبرت ، عقیدت,محبت,نفرت,رعونت, عبادت, وحشت اور دہشت جیسےتمام طرح کے کھیل تو ارضِ حیات کی بساط پر ہی کھیلے جاتے رہے ہیں. خورشید انور کی تجہیز و تکفین میں تقریباً ایک گھنٹے کا وقت لگا. گھر واپس آنے تک مغرب کا وقت ہو چلا تھا اور شہر کی سڑکیں روشن اور پررونق ہو چکی تھیں.یہ شہر ظاہری طور پر جتنا روشن نظر آتا ہے, اپنے باطن میں اتنا ہی تاریک بھی ہے. لیکن اس شہر کا کمال یہ ہے کہ تاریک گوشوں میں پڑے سخت جان پتھریلے اجسام باہمی مزاحمت سے ضوفشاں رہتے ہیں. فلیٹ کے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ افرادِ خانہ کے ہمراہ بہت سارے رشتے دار وہاں موجود تھے اور سب کے لئے کھانے پینے کا نظم کیا جا رہا ہے. چند قریبی رشتے داروں نے مٹن بریانی کی دیگیں بھجوا دئیے تھے. کمرے کے صاف شفاف دودھیا ٹائیلز والے فرش پر دستر خوان بچھایا گیا. جن لوگوں کو دستر خوان پر جگہ نہیں ملی وہ صوفوں , کرسیوں اور پلنگ پر براجمان ہو گئے. مٹن بریانی کے علاوہ بھی کئی ڈشز تھیں مثلاً نان, پائے, چکن چاپ ,شامی کباب, فش فرائی اور پینے کے لئے نہ صرف پانی بلکہ کولڈ ڈرنکس کی بوتلیں بھی. سب نے بلا تکلف شکم سیر ہو کر کھایا پیا اور پھر ایک ایک کر اپنے گھروں کو رخصت ہوئے.
موت کا یہ ایک انوکھا جشن تھا جس میں اس شخصیت کا نام و نشان تک نہیں تھا جس کی وجہ سے یہ سارے اہتمام کئے گئے.
شمع خورشید افرادِ خانہ اور چند عزیز و اقارب کے ہمراہ ایک کمرے میں فرش پر بچھی قالین پر دیوار سے ٹیک لگائے نڈھال بیٹھی تھیں. لندن سے آئی ہوئی ان کی بہو اپنی بیٹی کو لے کر دوسرے کمرے میں چلی گئی تھی. تیسرے کمرے میں, میں پلنگ پر نیم دراز لیٹا ہوا دیر تک فریم میں لگی خورشید انور کی تصویر کی گہری مسکراہٹ کو دیکھا کیا. شمع خورشید کے کمرے سے مختلف آوازیں آ رہی تھیں. ان کے دونوں بیٹے یاد کر کر کے بتا رہے تھے کہ رشتے داروں میں کون کون سے لوگ قبرستان تک پہنچے اور تکفین میں شامل ہوئے. وہ کون سا ایسا چہرہ تھا جو نظر دوڑانے کے باوجود نظر نہیں آیا. گفتگو کا دائرہ سکڑ کر پھر خورشید انور کی ذات تک محدود ہو گیااوران کی ذات سے منسلک اہم واقعات ایک ایک کر سامنے آنے لگے. انہیں یاد کرکے کبھی مدھم اور کبھی اونچے سروں میں آہ و بکا اور سسکیوں کی آوازیں بھی آنے لگیں. میں خود کو اس سوگوار ماحول میں پرسکون رکھنے کی کوشش کرتا رہا مگر فریم میں لگی خورشید انور کی تصویر کی مسکراہٹ مزید گہری ہوتی چلی گئی.ان لمحوں میں مجھے ایک عدد سگریٹ کی شدید طلب محسوس ہوئی. میں کمرے سے نکل کر باہر کوریڈور کی طرف کھلنے والے دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ شمع خورشید کے کمرے سے ایک تیز قہقہہ بلند ہوا. ایک لمحے کے لئے میں ششدر کھڑا رہ گیا مگر پھر دروازے سے باہر نکل آیا. میں کوریڈور کے اسی مخصوص تنہا کونے تک پہنچنا چاہتا تھا جہاں پر سگریٹ سلگا سکوں مگر قہقہوں کی آوازیں وقفے وقفے سے میرا تعاقب کرتی رہیں. اسی اثنا میں ادھیڑ عمر کے دو شخص دروازے کے قریب پہنچتے ہوئے نظر آئے. دونوں کی گردنوں میں ان کے آئ ڈی کارڈزکے ہرے رنگ کے ربن نظر آ رہے تھے. یقیناً یہ دونوں خورشید انور کے بینک کے کولیگز ہوں گے اور تعزیت کے لئے ہی پہنچے ہوں گے. ان میں سے ایک شخص نے کال بیل کا بٹن دبانا چاہا مگر دفعتاً اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا. اندر کمرے میں ایک بار پھر سے قہقہے بلند ہونے لگے تھے. دونوں نے پر تشویش انداز میں ایک دوسرے کو دیکھا اور بیک زبان کہنے لگے.
"کمبخت واچ مین نے فلیٹ کا نمبر غلط بتا دیا ہے. " یہ کہتے ہوئے دونوں لفٹ کی طرف تیزی سے مڑ گئے. سگریٹ میرے ہونٹوں میں دبا ہوا تھا اور میں ماچس جلانا بھول کر سوچتا رہ گیا کہ خورشید انور کی زندگی میں ایسا کون سا وقوعہ رونما ہوا ہوگا جسے یاد کر کے کمرے میں موجود چند نفوس ان انتہائی سوگوار لمحوں میں قہقہے لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں. ***
________
غزل
۔۔۔۔۔۔
ارشد عبدالحمید
کوئی آہٹ ہے نہ دستک ہے نہ آوازہء شام
آس پر کس کی جیے تیرا یہ درماندہء شام
پردہء ہجر میں کیا کوئی صبا چہرا ہے
کیوں مہکتا ہے سر وادی جاں لالہء شام
اور تو شغل نہیں کوئی سو بام و دیوار
شام کےمنہ سے سناکرتے ہیں افسانہء شام
روز اک طفل کی مانند بہل جاتا ہوں
روزدےجاتی ہےفطرت مجھےبازیچہء شام
کس مقدر کے اجالے نہیں ہوتے کافور
کون سا دن ہے جو ہوتا نہیں وابستہء شام
شکریہ میرے تصور کہ تری جودت نے
چاند کے حرف سے لکھا مرا سرنامہء شام
دھوپ کے سایے بہر حال درک جاتے ہیں
دیر تک ذہن میں رہتا ہےتواک سایۂ شام
پھر وہی کشمکش چون و چرا ہے ارشد
پھر کھڑی ہے مری دہلیز پہ حرافہء شام
________🔴🔴🔴
غزل...
ہر دستِ ہوس درہم و دینار تک آیا
سکہ نہ کوئی کاسہءحقدار تک آیا
کرتا ہی رہا تھا نظرانداز مگر اب
وہ ہاتھ مرے دامنِ پندار تک آیا
کب دیکھیں وہ اقرار کے کمرے تلک آئے
مشکل سے بہت جو درِ انکار تک آیا
ہر موڑ پہ اس سر کے طلبگار کھڑے تھے
میں راہ بدل کر رسن ودار تک آیا
امید سے کچھ کم ہی ملے دام سخن کے
ناحق ہی میں اس شہر کے بازار تک آیا
اب تک سفرِ زیست کی منزل نہیں آئی
میں تھک کے بہت سایہءاشجار تک آیا
اک بھیڑ تھی ہر حال میں بکنے پہ رضامند
مشکل سے کوئی چشمِ خریدار تک آیا
نرمی سے سخن کرتا رہا میں تو مزاجاً
وہ شخص مگر حجت و تکرار تک آیا
ممکن ہے بہت جلد ہو پرواز پہ مائل
زخمی جو پرندہ ابھی چہکار تک آیا
ہونی ہے سلیم آگے وہاں اور بھی خواری
وہ در تو ابھی ڈانٹ سے دھتکار تک آیا
........................................