Wednesday, 10 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*



آئی پی ایل 2026 نیلامی: 2 کروڑ کے بیس پرائس میں صرف دو ہندوستانی، نیلامی میں غیر ملکی کھلاڑیوں کا دبدبہ، اس بار کون ہوگا سب سے مہنگا کھلاڑی؟
آئی پی ایل 2026 کے کھلاڑیوں کی حتمی فہرست جاری کر دی گئی ہے اور نیلامی 16 دسمبر کو ابو ظہبی میں دوپہر 2:30 بجے (بھارتی وقت) شروع ہوگی۔ اس مرتبہ نیلامی میں نوجوان اور تجربہ کار دونوں طرح کے کھلاڑیوں کی بھرپور موجودگی دیکھنے کو ملے گی۔ فائنل لسٹ کے مطابق اس سال 1390 رجسٹرڈ کھلاڑیوں میں سے 350 کو منتخب کیا گیا ہے۔ ان میں 240 بھارتی اور 110 غیر ملکی کرکٹر شامل ہیں۔ لسٹ میں 224 ان کیپڈ بھارتی اور 14 ان کیپڈ غیر ملکی کھلاڑی موجود ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ نوجوان ٹیلنٹ کی بھرمار ہے۔

کیٹیگری کے مطابق تقسیم
کیپڈ بھارتی کھلاڑی: 16
کیپڈ غیر ملکی کھلاڑی: 96
ان کیپڈ بھارتی کھلاڑی: 224
ان کیپڈ غیر ملکی کھلاڑی: 14
کل: 350
بیس پرائس کی بنیاد پر کھلاڑیوں کی تعداد
آئی پی ایل نیلامی کا سب سے بڑا بیس پرائس 2 کروڑ ہے، جس میں صرف دو بھارتی کھلاڑی— وینکٹیش ائیر اور روی بشنوئی — شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اس کیٹیگری میں 40 کھلاڑی موجود ہیں۔ غیر ملکی کھلاڑیوں میں آسٹریلیا کے کیمرون گرین کو اس بار سب سے مہنگا خریداری کا مضبوط امیدوار مانا جا رہا ہے۔ فائنل لسٹ میں فرنچائز کی درخواست پر کوئنٹن ڈی کاک، دونیتھ ویللاگے اور جارج لنڈے کے نام بھی جوڑے گئے ہیں۔ کل 35 کھلاڑیوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ نیلامی کا آغاز کیپڈ کھلاڑیوں سے ہوگا اور 70 کھلاڑیوں کے بعد ایکسلیریٹڈ راؤنڈ شروع ہوگا۔

فرنچائزز کے پاس خالی سلاٹس
کل 10 ٹیموں کے پاس 77 خالی جگہیں ہیں، جن میں 31 غیر ملکی سلاٹس ہیں۔ سب سے زیادہ منی بیگ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے پاس ہے، جن کے پاس 64.30 کروڑ اور 13 خالی سلاٹس موجود ہیں۔

دیگر ٹیموں کا پرس
لکنؤ سپر جائنٹس: 22.95 کروڑ
راجستھان رائلز: 16.05 کروڑ
سن رائزرز حیدرآباد: 25.5 کروڑ
آر سی بی: 16.4 کروڑ
ممبئی انڈینز: 2.75 کروڑ
چینئی سپر کنگز: 43.4 کروڑ
دہلی کیپیٹلز: 21.80 کروڑ
گجرات ٹائٹنز: 12.9 کروڑ
پنجاب کنگز: 11.5 کروڑ

غیر ملکی کھلاڑیوں کی موجودگی
فہرست میں:
انگلینڈ کے 21
آسٹریلیا کے 19
نیوزی لینڈ کے 16
جنوبی افریقہ کے 15
سری لنکا کے 12
افغانستان کے 10 کھلاڑی شامل ہیں۔
اس بار کی نیلامی میں غیر ملکی کھلاڑیوں کا غلبہ نمایاں ہے، جبکہ بھارتی نوجوانوں کو بھی اپنی صلاحیت دکھانے کا بڑا موقع ملے گا۔











مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17 بلین ڈالر اور امیزون کا 35 بلین ڈالر کی ریکارڈ سرمایہ کاری کا اعلان
حیدرآباد: بھارت دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے ایک بڑا ہاٹ سپاٹ بن گیا ہے۔ ایک کے بعد ایک دنیا بھر کی ٹیک کمپنیاں بھارت میں بڑی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ اب امریکی ٹیک کمپنی مائیکروسافٹ اس فہرست میں شامل ہو گئی ہے، جس نے بھارت میں اپنی اب تک کی سب سے بڑی ایشیائی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ مائیکرو سافٹ کے سی ای او ستیہ نڈیلا نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ذاتی طور پر اپنے میگا انویسٹمنٹ پلان کا اعلان کیا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ مائیکروسافٹ اگلے چار برسوں میں بھارت میں 17.5 بلین ڈالر، یا 1.5 لاکھ کروڑ سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ ایشیا میں مائیکروسافٹ کی اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے اور یہ واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ عالمی ٹیک کمپنیاں آنے والے اے آئی دور میں ہندوستان کی اہمیت اور کردار سے واقف ہیں۔اس سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد

نڈیلا کے مطابق مائیکروسافٹ کی توجہ صرف پیسہ لگانے پر نہیں ہے، بلکہ بھارت کے بنیادی ڈھانچے، مہارتوں، اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر بھی ہے تاکہ ملک اے آئی پر مبنی مستقبل کے لیے پوری طرح سے تیار ہو۔ انہوں نے مائیکروسافٹ کی اس بڑی سرمایہ کاری کے چار بنیادی مقاصد بتائے:

اے آئی اور کلاؤڈ کے لیے ایک بڑا ڈیٹا سینٹر نیٹ ورک تیار کرنا

لوگوں کو اے آئی اور کمپیوٹنگ کی مہارتوں میں تربیت دینا

بھارت کے لیے ملک میں تیار ہائپر اسکیل انفراسٹرکچر بنانا

نئے کلاؤڈ ریجنز اور کمپیوٹنگ کی جدید سہولیات کی تعمیرسب سے بڑا کلاؤڈ انفراسٹرکچر کہاں بنایا جائے گا؟
مائیکروسافٹ نے کہا کہ وہ بنیادی طور پر حیدرآباد میں بھارت کے جنوبی وسطی کلاؤڈ ریجن پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ یہ کلاؤڈ ریجن سنہ 2026 کے وسط تک لائیو ہو جائے گا۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ ایک نیا کلاؤڈ ریجن تیار کیا جا رہا ہے جو کولکاتا کے ایڈن گارڈنز اسٹیڈیم سے تقریباً دوگنا بڑا ہو گا۔

پی ایم مودی نے اعلان کا استقبال کیا

پی ایم مودی نے کہا کہ پوری دنیا کو بھارت کی اے آئی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے۔ حکومت خود ملک کو اے آئی اور سیمی کنڈکٹر حب کے طور پر ترقی دینے کے لیے خاطر خواہ مراعات فراہم کر رہی ہے تاکہ مقامی جدت کو فروغ دیا جا سکے اور درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔دوسری طرف بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی ڈیجیٹل مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔ اس دوڑ میں گوگل نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ پانچ برسوں میں بھارت میں 15 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور وشاکھاپٹنم میں اپنا پہلا اے آئی مرکز بنائے گا۔

عام صارف کے لیے کیا تبدیلی آئے گی؟

یہ سرمایہ کاری نہ صرف کمپنیوں بلکہ عام صارفین کے لیے بھی اہم تبدیلیاں لائے گی۔ اس کی چند جھلکیاں یہ ہیں:

ملک میں تیز اور محفوظ کلاؤڈ سروسز کی دستیابی میں اضافہ ہو گا۔

مقامی اے آئی ٹولز اور ایپلیکیشنز تیزی سے تیار ہوں گے۔

لاکھوں لوگ نئی اے آئی ملازمتوں اور تربیتی پروگراموں سے مستفید ہوں گے۔

اعلی درجے کی ڈیجیٹل خدمات کو حکومت اور عوامی شعبوں میں بھی نافذ کیا جائے گا۔

مائیکروسافٹ کے کے بعد ایمیزون کا بھی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان

بھارت میں ٹیک سرمایہ کاری کی بارش ہو رہی ہے۔ مائیکروسافٹ کی جانب سے منگل کو بھارت میں 17.5 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کرنے کے بعد ای کامرس کمپنی امیزون نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ بھارت میں 2030 تک اپنے کاروباروں میں $35 بلین (3.14 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ) کی میگا سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔کمپنی کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ تازہ میگا سرمایہ کاری اے آئی سے چلنے والی ڈیجیٹائزیشن، برآمدات میں اضافے اور ملازمتوں کی تخلیق پر مرکوز ہوگی۔

امیزون سمبھاو سمٹ کے دوران یہ اعلان کرتے ہوئے سینئر وی پی ایمرجنگ مارکیٹس، امیت اگروال نے کہا کہ کمپنی نے بھارت سے برآمدات کو تقریباً 20 بلین امریکی ڈالر سے چار گنا بڑھا کر 80 بلین امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور سنہ 2030 تک ایک ملین اضافی براہ راست، بالواسطہ اور موسمی ملازمتیں پیدا کرے گا۔

"ایمیزون نے 2010 سے اب تک بھارت میں 40 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اب ہم بھارت میں اپنے تمام کاروباروں میں 2030 تک مزید 35 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔" اگروال نے کہا۔

ایمیزون کا سرمایہ کاری کا یہ منصوبہ مائیکرو سافٹ کے 17.5 بلین امریکی ڈالر کے سرمایہ کاری کے منصوبے سے دو گنا اور 2030 تک گوگل کے 15 بلین امریکی ڈالر کے سرمایہ کاری کے منصوبے سے 2.3 گنا زیادہ ہے۔ اگروال نے کہا کہ امیزون نے اب تک بھارت میں 40 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور وہ بھارت میں سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کار ہے۔











ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے…. گلزار کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
گلزار، اصل نام سمپورن سنگھ کالرا، 18 اگست 1934 کو دینہ، ضلع جہلم میں پیدا ہوئے جو اب پاکستان کا حصہ ہے۔ بچپن پنجاب کے دیہی ماحول میں گزرا، مگر تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ دہلی آ گئے۔ غربت کے دنوں میں مختلف چھوٹے موٹے کام کرتے رہے، حتیٰ کہ ممبئی میں ایک گیراج میں مکینک کے طور پر بھی کام کیا۔

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے

وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے

گلزارؔ

ادب سے لگاؤ نے جلد ہی ان کے لیے ایک نئی دنیا کے دروازے کھول دیے۔ شاعری میں انہوں نے ’گلزار‘ تخلص اختیار کیا اور ترقی پسند ادیبوں کے حلقے سے وابستہ ہوئے۔ ان کی شاعری نازک احساسات، گہری رومانویت اور فلسفیانہ پہلوؤں کے لیے مشہور ہے۔ گلزار نے نظم، گیت، فلمی مکالمے، کہانیاں اور ڈرامے سبھی میں اپنی شناخت قائم کی۔ انہوں نے اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں یکساں مہارت سے لکھا اور ’تروینی‘ جیسی نظم کی ایک نئی صنف بھی تخلیق کی۔

فلمی سفر کی ابتدا 1963 میں بطور گیت نگار ’بندنی‘ فلم سے ہوئی، جس کا پہلا گیت ’مورا گورا انگ لئی لے‘ آج بھی مقبول ہے۔ بعد میں انہوں نے بطور اسکرین رائٹر اور ڈائریکٹر بھی شہرت حاصل کی۔ ان کی ہدایت کاری میں بنی فلمیں جیسے ماچس، آندھی، خوشبو اور کتھا نے سماجی حقیقت نگاری اور انسانی رشتوں کی نزاکت کو منفرد انداز میں پیش کیا۔ بطور نغمہ نگار، انہوں نے مدھم مگر دل کو چھونے والی شاعری کو موسیقی میں ڈھال کر سامعین کو مسحور کیا۔ گلزار نے فلمی دنیا کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے بھی یادگار کام کیا۔ دوردرشن کے مشہور پروگرام ’جنگل بک‘ کا گیت ’چڑیا رانی بڑی سہانی‘ اور ’پوٹلی بابا کی‘ کے مکالمے آج بھی ناظرین کو یاد ہیں۔
ذاتی زندگی میں، انہوں نے اداکارہ راکھی مجمدار سے شادی کی، مگر کچھ ہی عرصے بعد علیحدگی ہو گئی۔ ان کی بیٹی میگھنا گلزار آج معروف فلم ڈائریکٹر ہیں۔ گلزار کو ادب اور فلم دونوں میں اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، پدم بھوشن، گریمی اور آسکر ایوارڈ شامل ہیں۔ فلم فیئر ایوارڈز انہیں 21 مرتبہ ملے، جو ان کی طویل اور کامیاب فنی زندگی کا ثبوت ہیں۔ گلزار کی تخلیقات میں ماضی کی یاد، فطرت کی تصویریں اور انسانی رشتوں کی گرہیں سب کچھ ملتا ہے۔ وہ آج بھی لکھ رہے ہیں، گویا ان کا قلم وقت کو روک کر جذبات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیتا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

جموں  کشمیراسمبلی کابجٹ اجلاس:دوسرے مرحلے کی کارروائی کے پہلے دن این سی اور بی جے پی ارکان اسمبلی نے کیاہنگامہ جموں ...