Wednesday, 10 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*




انڈیگو بحران کے دوران کرایوں میں اضافہ :5000 کاٹکٹ 40,000 تک کیسے پہنچا؟ دہلی ہائی کورٹ نے مرکز سے کئے سخت سوالات
Delhi High Court Slams Centre Over Airfare Surge

انڈیگو بحران: دہلی ہائیکورٹ نے مرکزسے پوچھے تیکھے سوال
دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز انڈیگو کے حالیہ آپریشنل بحران کے دوران یک طرفہ ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے پر مرکز سے سخت سوالات کیے اور یہ جاننا چاہا کہ آخر مسافروں سے 40 ہزار روپے تک کیسے وصول کیے گئے۔ایئرلائن کی بڑے پیمانے پر آپریشنل ناکامی اور ہزاروں مسافروں کے پھنس جانے کے معاملے پر دائر ایک درخواست کی سماعت کے دوران بنچ نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (ASG) سے کہا، ’’یہ واقعی ایک سنگین بحران ہے۔‘‘

عدالت نے کہا کہ یہ صورتحال صرف چند افراد کی تکلیف کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے وسیع معاشی اثرات بھی موجود ہیں۔ بنچ نے حکومت سے پوچھا :
’’ہم آپ کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے ایسی کون سی ناکامی ہوئی جس کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی؟ یہ صرف مسافروں کے ائیرپورٹ پر پھنسنے کا مسئلہ نہیں۔ یہ قومی معیشت کو ہونے والے نقصان کا سوال بھی ہے۔ آپ نے عوام کو ریلیف دینے اور ان کا نقصان پورا کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟‘‘عدالت نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ایئرلائنز کے عملے کا برتاؤ مسافروں کے ساتھ ناقص رہا، اور حکومت سے پوچھا کہ ایسے حالات میں اسٹاف کے رویے کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔

سماعت کے دوران ایک اہم نکتہ پائلٹس کے کام کے اوقات سے متعلق نئی گائیڈ لائنز کے مؤخر نفاذ کا تھا، جسے وقت پر لاگو نہ کرنے کی وجہ سے انڈیگو میں روٹنگ اور روسٹرنگ کا بریک ڈاؤن ہوا۔ بنچ نے پوچھا :
’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ نے نئی گائیڈ لائنز وقت پر نافذ کیوں نہیں کیں؟‘‘

ASG نے جواب دیا: ’’میں آپ کو اصل تصویر بتاتا ہوں۔ حکومت نے بہت سخت اقدام اٹھاتے ہوئے کرایوں پر حد مقرر کی ہے۔‘‘
تاہم بینچ نے مزید تفصیل مانگی اور پوچھا کہ یہ قدم کب اٹھایا گیا۔ ’’کتنے دنوں بعد؟ 4–5 دن بعد؟‘‘ASG نے کہا کہ کرایوں کی کیپنگ ’’دو دن کے اندر‘‘ نافذ کی گئی، لیکن عدالت نے نشاندہی کی کہ اس وقت تک کرایے 4,000–5,000 روپے سے بڑھ کر 30,000 روپے تک پہنچ چکے تھے۔

انڈیگو، بھارت کی سب سے بڑی مسافر بردار ایئرلائن ہے، حالیہ ہفتوں میں شدید آپریشنل بحران سے گزری، جس کی وجہ پائلٹس کی دستیابی میں اچانک کمی، روسٹرنگ سسٹم کا ناکام ہونا، اور پائلٹس کے کام کے اوقات سے متعلق نئی DGCA گائیڈ لائنز کا مؤخر نفاذ بتایا گیا۔نتیجتاً :

سینکڑوں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں

ہزاروں مسافر ائیرپورٹس پر پھنس گئے

ٹکٹوں کی قیمتیں آسمان سے بات کرنے لگیں

ٹریول انڈسٹری پر براہِ راست معاشی اثرات پڑے

اسی صورتحال کے بعد عدالت نے معاملے کو سنگین عوامی ایشو قرار دیتے ہوئے حکومت سے سخت جواب طلب کیے۔













اسرائیل کا ایلنبی راہ داری کوکھولنے کا اعلان، اردن سے غزہ پہنچے گا امدادی سامان
اسرائیل نے اردن سے متصل ایلنبی کراسنگ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ،یہ کراسنگ آج(بدھ) سے کھولی جائے گی۔غزہ کے لیے امدادی سامان اور تجارتی اشیاء کی آمدورفت کے لیے اسرائیل نے اردن کے ساتھ ایلنبی کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

اس کراسنگ کے دوبارہ کھولے جانے سے اردن سے غزہ میں امدادی سامان اور تجارتی اشیاء کی رسائی ہوسکے گی۔اسرائیلی سکیورٹی حکام نے بتایا کہ کراسنگ کھلنے کے بعد ڈرائیور اور کارگو ٹرکس کی سخت اسکریننگ کی جائے گی اور اس حوالے سے خصوصی سکیورٹی فورس بھی تعینات کر دی گئی۔
خیال رہے کہ یہ کراسنگ ستمبر2023 سے بند تھی۔واضح رہے کہ اسرائیل نے شاہ حسن بریج کو اس وقت بند کردیا تھا جب ایک اردنی ٹرک ڈرائیور نے ایک اسرائیلی فوجی اور ریزرو افسر کو سرحد پرگولی ما رکرہلاک کردیا تھا۔وادی اردن میں کراسنگ چند دنوں بعد مسافروں کے لیے دوبارہ کھول دی گئی تھی لیکن غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد کے لیے نہیں۔ایلنبی میں بندش کے بعد سے، اردن نے کہا کہ وہ مغربی کنارے کے شمال میں شیخ حسین کراسنگ کے ذریعے غزہ کو کچھ امداد بھیجنے میں کامیاب رہا ہے۔ایلنبی کراسنگ مغربی کنارے سے فلسطینیوں کے لیے واحد بین الاقوامی گیٹ وے ہے جس کے لیے اسرائیل میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہے، جس نے اس علاقے پر 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے۔10 اکتوبر کے معاہدے کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں سے اب تک 370 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں ۔











سال 2023 میں ایک ارب سے زیادہ خواتین نے بچپن میں جنسی زیادتی کا کیا سامنا، لانسٹ کی رپورٹ
آج کے جدید دور میں بھی خواتین کے خلاف تشدد میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ عالمی سطح پر خواتین کے خلاف گھریلو تشدد اورجنسی زیادتی کے معاملات کا بڑھتا گراف مہذب دنیا کے لیے شرم ناک اور تشویش ناک دونوں ہے ۔

مؤقر میگزین دا لانسٹ کی تازہ رپورٹ نے چونکانے والا انکشاف کیا ہے۔میگزین میں شائع ہونے والے اندازے کے مطابق، دنیا بھر میں 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کی ایک ارب سے زائد خواتین کو بچپن میں جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 2023 میں، تقریباً 60 کروڑ 80 لاکھ خواتین کو اپنے پارٹنر کی جانب سے جسمانی اورجنسی طور پر زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔

سب صحارا افریقہ اور جنوبی ایشیا میں پارٹنر اور جنسی تشدد دونوں کا سب سے زیادہ اثر پایا گیا۔ محققین نے نوٹ کیا کہ ان علاقوں میں ایچ آئی وی اور دیگر دائمی بیماریوں کی اعلی شرح تشدد کاصحت پر اثرپڑتا ہے۔ ہندوستان میں، 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کی خواتین میں پارٹنر کی وجہ سے تشدد کا اثر 23 فیصد ہونے کا تخمینہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ، بھارت میں 30 فیصد سے زیادہ خواتین اور 13 فیصد سے زیادہ مرد جن کی عمریں 15 سال یا اس سے زیادہ تھیں، بچپن میں جنسی تشدد کا سامنا کرچکے ہیں ۔

محققین نے گلوبل برڈن آف ڈیزیز (GBD) اسٹڈی 2023 کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جو تمام مقامات اور وقت کے ساتھ صحت کے نقصانات کی پیمائش کرنے کی سب سے بڑی اور جامع کوشش ہے۔ امریکہ میں واشنگٹن یونیورسٹی جی بی ڈی مطالعہ کو مربوط کرتی ہے۔ عالمی سطح پر، 2023 میں، ہم نے اندازہ لگایا کہ 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کی 608 ملین خواتین کو کسی وقت آئی پی وی (Intimate Partner Violence) کا سامنا کرنا پڑا، اور 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے 1.01 بلین افراد کو بچپن میں جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

پارٹنرکے تشدد کی وجہ سے معذوری کی آٹھ اہم وجوہات میں بے چینی اور میجر ڈپریشن ڈس آرڈر تھا، جبکہ بچپن میں جنسی تشدد کے تجربات 14 صحت کے نتائج سے جڑے تھے، جن میں دماغی صحت اور نشہ آور دواؤں کے استعمال سے جڑےڈس آرڈر اور کرونک ڈیزیز شامل ہیں۔ خود کو نقصان پہنچانے اور شیزوفرینیا کو بچپن کے جنسی تشدد کی وجہ سے معذوری کی سب سے بڑی وجوہات میں پایا گیا۔
محققین نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد سے نمٹنا نہ صرف انسانی حقوق کا معاملہ ہے بلکہ صحت عامہ کی ایک فوری ترجیح بھی ہے جو لاکھوں جانوں کو بچا سکتی ہے، ذہنی صحت کے نتائج کو بہتر بنا سکتی ہے اور مضبوط کمیونٹیز کی تعمیر کر سکتی ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ یہ نتائج تشدد کی وجہ سے صحت کو پہنچنے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں، جیسے قانونی فریم ورک کو مضبوط کرنا، صنفی مساوات کو فروغ دینا، اور زندہ بچ جانے والوں کے لیے امدادی خدمات میں اضافہ کرنا۔عالمی صحت ادارےکے ذریعہ نومبر میں شائع ہونے والی ایک عالمی رپورٹ کا اندازہ ہے کہ 2023 تک، ہندوستان میں 15-49 سال کی عمر زمرے کی پانچویں حصے کی خواتین کو پارٹنرکے تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ تقریباً 30فیصداپنی زندگی میں اس سے متاثر ہوئیں۔ عالمی سطح پر، تقریباً تین میں سے ایک، یا 840 ملین، نے اپنی زندگی میں پارٹنر یا کسی قریبی کے ذریعہ جنسی تشدد کاسامنا کیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

جموں  کشمیراسمبلی کابجٹ اجلاس:دوسرے مرحلے کی کارروائی کے پہلے دن این سی اور بی جے پی ارکان اسمبلی نے کیاہنگامہ جموں ...