Wednesday, 10 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





امریکہ آنے والے سیاحوں کے لیے بھی سختی، ’گذشتہ 5 برس کی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہسٹری ظاہر کرنا ہو گی‘
امریکہ میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے اُن ملکوں سے آنے والے سیاحوں پر بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دکھانا لازمی قرار دینے کا منصوبہ بنایا ہے جن کو امریکی ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایک سرکاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ ویزے سے مستثنیٰ غیرملکی سیاحوں کو ملک میں داخل ہونے سے قبل گزشتہ پانچ برس کی اپنی سوشل میڈیا ہسٹری ظاہر کرنے کا حکم دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔فیڈرل رجسٹر میں منگل کو شائع ہونے والے نوٹس میں دی گئی تجویز کا اطلاق برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور جاپان سمیت 42 ممالک کے ان سیاحوں پر ہوگا جنہیں امریکہ میں داخلے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں۔
ان ممالک کے باشندوں کو امریکہ میں 90 دن سے کم قیام کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اب تک رائج قواعد کے مطابق ان مسافروں کو اس سے چھوٹ کے لیے درخواست دینے کی ضرورت ہوتی ہے جس کو ’الیکٹرانک سسٹم فار ٹریول اتھارائزیشن‘ کہا جاتا ہے۔ ان ملکوں سے آنے والے سیاحوں کو چند ذاتی تفصیلات فراہم کرنا ہوتی ہیں۔
مجوزہ نئے قوانین کے تحت سوشل میڈیا ڈیٹا کا مجموعہ ’الیکٹرانک سسٹم فار ٹریول اتھارائزیشن‘ ایپلی کیشنز کا ’لازمی‘ حصہ بن جائے گا۔
نوٹس کے مطابق درخواست دہندگان کو گزشتہ پانچ برس کی اپنی سوشل میڈیا ہسٹری فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی۔
انہیں دیگر ’ہائی ویلیو ڈیٹا فیلڈز‘ بھی جمع کرانا ہوں گی جن میں پچھلے پانچ برس میں استعمال کیے گئے فون نمبرز، پچھلی دہائی کے ای میل ایڈریس، فیملی ممبرز کی ذاتی تفصیلات اور بائیو میٹرک معلومات شامل ہیں۔اس تجویز پر شہری اپنی رائے دے سکتے ہیں اور اس کے لیے 60 دن دیے گئے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ میں داخلے پر پابندیاں سخت کر دی ہیں۔ یہ امریکہ کی حکومت کی غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔
اگلے سال امریکہ اپنے پڑوسی ملکوں میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ 2026 فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا جس کے میچز کو دیکھنے کے لیے پوری دنیا سے فٹبال کے شائقین کی بڑی تعداد سیاحتی ویزے پر یہاں کا رُخ کرے گی۔












کیا بریانی کھا کر بھی وزن کم کیا جا سکتا ہے؟،’ایسا کھانا کھائیں جس سے نفرت نہ ہو‘
بہت سے لوگ وزن کم کرنے کے حوالے سے مختلف غلط فہمیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وزن گھٹانے کے لیے پسندیدہ کھانوں کو چھوڑنا اور صرف اُبلی ہوئی چیزیں کھانا یا خود کو بھوکا رکھنا ضروری ہے لیکن ماہرینِ غذائیت کے مطابق ایسا بالکل بھی ضروری نہیں۔ماہرِ غذائیت اور وزن کم کروانے کی کوچ موہیتا کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ وزن کم کرنے کے سفر پر ہیں تو بھی آپ بغیر کسی احساسِ جرم کے بریانی کھا سکتے ہیں۔ جی ہاں، درست سنا آپ نے، اگر چند باتوں کا خیال رکھا جائے تو یہ لذیذ کھانا آپ کے ڈائٹ پلان کا حصہ بن سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق بریانی کھانے کے لیے دو چیزوں پر توجہ دینا ضروری ہے ایک تو اسے صحیح طریقے سے پکایا جائے اور دوسرا مقدار (پورشن) کا خیال رکھا جائے۔ اگر آپ یہ دونوں اصول اپنالیں تو آدھی کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔
روایتی بریانی عام طور پر ایک کلو گوشت، ایک کلو چاول اور بہت زیادہ گھی سے تیار کی جاتی ہے جس سے یہ ڈش چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور ہو جاتی ہے جبکہ پروٹین کی مقدار کم رہتی ہے۔
موہیتا کے مطابق ان کی ’چکن فَیٹ لوس بریانی‘ میں لین پروٹین والا دبلا گوشت، ناپ تول کر چاول، مصالحے اور بہت تھوڑا گھی استعمال کیا جاتا ہے جو ذائقے سے بھرپور ہوتی ہے مگر وزن نہیں بڑھاتی۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں یقین رکھتی ہوں کہ ہمیں ایسا جسم بنانا چاہیے جس سے ہم محبت کریں اور ایسا کھانا کھائیں جس سے نفرت نہ ہو۔‘
انہوں نے وزن کم کرنے والی بریانی کے لیے چند تبدیلیاں تجویز کیں۔ ان کے مطابق دو سو گرام چاول کے لیے چار سو گرام بغیر ہڈی والا چکن لیں جسے سو گرام گریک یوگرٹ (دہی) اور مصالحوں میں میری نیٹ کیا جائے۔ چاول کو آدھے گھںٹے کے لیے بھگوئیں اور گوشت کو بھی اتنے ہی وقت کے لیے فریج میں رکھ دیں۔ پیاز کو زیادہ گھی میں تلنے کے بجائے صرف ایک چمچ گھی میں براؤن کریں یا ایئر فرائیر کا استعمال کریں۔
بریانی تیار ہونے کے بعد اسے 300 گرام کم چکنائی والے گریک یوگرٹ سے بنے رائتے کے ساتھ پیش کریں جس میں باریک کٹی ہوئی سبزیاں شامل ہوں۔
ماہرِ غذائیت کا کہنا ہے کہ جب آپ اس وزن کم کرنے والی بریانی کو آزمائیں گے تو سمجھ جائیں گے کہ صحت مند کھانا ذائقے دار بھی ہو سکتا ہے۔ چند سادہ تبدیلیوں کے ساتھ آپ اپنی پسندیدہ بریانی کو بھی اپنی فٹنس کے سفر کا حصہ بنا سکتے ہیں۔












پاکستان کی پارلیمنٹ میں اسپیکر کے ہاتھ لگا 50000، 10 نوٹ کیلئے کود پڑے 12 ممبران، ’میرا ہے مجھے دو‘
Pakistan Parliament Cash Drama: پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیر کے روز کچھ ایسا ہوا کہ پارلیمنٹ ایک مزاحیہ شو میں تبدیل ہو گئی۔ یہاں اسپیکر ایاز صادق ہاتھ میں کچھ نقدی لہرا رہے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے بتایا کہ یہ کتنے پیسے اور کتنے نوٹ ہیں، دیکھتے ہی دیکھتے ممبران پارلیمنٹ کی لائن لگ گئی کہ یہ نوٹ ان کے ہیں۔ اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر آتے ہی فوراً وائرل ہو گیا۔

رپورٹس کے مطابق ایاز صادق کو ایوان کے فرش سے 5000 ہزار کے 10 پاکستانی نوٹ ملے تھے۔ انہوں نے یہ پیسے اٹھائے اور لہراتے ہوئے پوچھا کہ “یہ کس کے ہیں؟ جس کا بھی پیسہ ہے ہاتھ اٹھا لے۔” ان کا یہ کہنا تھا کہ اگلے ہی لمحے ایوان میں کئی ممبران پارلیمنٹ نے ہاتھ کھڑا کر دیا۔ یہ دیکھ کر اسپیکر خود ہنس پڑے اور کہا کہ “اتنے تو نوٹ بھی نہیں ہیں جتنے لوگوں کے ہاتھ اٹھ چکے ہیں۔”کیا تھا یہ پورا واقعہ؟
یہ معاملہ پاکستانی پارلیمنٹ کا ہے، جہاں اکثر دلچسپ واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ اس بار واقعہ کیش سے متعلق تھا۔ اسپیکر کے پاس کل 10 پاکستانی نوٹ تھے جن کی کل مالیت 50,000 روپے تھی۔ انہوں نے یہ نوٹ ہاتھ میں اٹھا کر کہا کہ جو ان کا مالک ہے وہ آ کر لے لے۔ اتنا کہنا تھا کہ تقریباً 12 ارکانِ پارلیمنٹ نے ہاتھ اٹھا دئے، جس کے بعد پورے ایوان میں زبردست قہقہے گونجنے لگے۔ اسپیکر ایاز صادق نے مذاق میں کہا کہ “نوٹ 10 ہی ہیں اور مالک 12!” کچھ دیر کے لیے ایوان کی کارروائی بھی روکنی پڑی۔
آخر یہ نوٹ کس کے تھے؟
اتنے تماشے کے بعد پتہ چلا کہ یہ نوٹ پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے رکنِ پارلیمنٹ محمد اقبال آفریدی کے تھے۔ جب تک معاملہ ختم ہوا، واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل چکا تھا اور پاکستانی عوام اس پر چٹکیاں لینے لگے۔ کئی یوزرس نے اسے شرمناک قرار دیا۔ ایک یوزر شہنواز خالد نے لکھا: “ایم این اے کا رویہ شرمناک ہے۔ ہماری پارلیمنٹ کی ایمانداری دیکھنی ہو تو یہ کلپ کافی ہے۔”وہیں فرحان نامی یوزر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ “لاکھوں کی تنخواہیں اور مراعات لینے والے لیڈر، لیکن 50 ہزار روپے پر بھی ہاتھ اٹھانے میں شرم نہیں۔” کچھ لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ان 12 ارکان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جنہوں نے جھوٹا دعویٰ کیا، کیونکہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ کی توہین ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

جموں  کشمیراسمبلی کابجٹ اجلاس:دوسرے مرحلے کی کارروائی کے پہلے دن این سی اور بی جے پی ارکان اسمبلی نے کیاہنگامہ جموں ...