پی ایم مودی کا کانگریس پربڑا حملہ ، کہا کانگریس نے وندے ماترم کے ٹکڑے کیے
وندے ماترم کے 150برس مکمل ہونے پر لوک سبھا میں بحث کا آغاز پرائم منسٹر نریندر مودی نے کیا۔ انھوں نے آزادی کی لڑائی میں وندے ماترم کے تعاون اوراس کی تاریخی اہمیت پرروشنی ڈالی ۔انھوں نے کہا کہ وندے ماترم کے خالق بنکم چندر چٹرجی نے انگریزوں کو چیلنج کیا۔یہ صرف آزادی کا منتر نہیں بلکہ اس نے جذباتی قیادت کی۔
ایوان زیریں میں وندے ماترم پربحث کا آغاز کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ وندے ماترم نے ملک کی آزادی کی تحریک کو تقویت بخشی ۔ اس نے قربانی اور تپسیا کا راستہ دکھایا۔ پی ایم مودی نے مزید کہا کہ ،وندے ماترم کے 150 برس مکمل ہونے پرہم سب اس تاریخی موقع کے گواہ بن رہے ہیں یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔لوک سبھا میں پی ایم مودی نے کہا کہ وندے ماترم کا 150 سالہ سفر کئی پڑاؤ سے گزرا ہے۔ جب وندے ماترم نے 50 سال مکمل کیے تو ملک غلام تھا۔ جب وندے ماترم نے 100 سال پورا کیا تو ملک ایمرجنسی میں جکڑا ہوا تھا۔انھوں نے کانگریس پر نشانہ سادھا۔ کانگریس نے وندے ماترم پرسمجھوتہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس نے وندے ماترم کے ٹکڑے کیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ انگریزوں نے1905 میں بنگال کا بٹوارہ کیا۔وندے ماترم پرپابندی لگائی گئی۔وندے ماترم کا نعرہ بلند کرنے پر کوڑے مارے گئے ۔بنکم چندر چٹرجی کی یہ تخلیق پہلی بار 7 نومبر 1875 کو ادبی میگزین بنگدرشن میں شائع ہوئی تھی۔لوک سبھا کی بحث کے بعد،راجیہ سبھا میں منگل کے روز’وندے ماترم‘ پر بحث ہوگی ،جہاں وزیر داخلہ امت شاہ بحث کا آغاز کریں گے اور وزیر صحت اور راجیہ سبھا کے لیڈر جے پی نڈا دوسرے اسپیکر ہوں گے۔
امریکہ نے55 ایرانی شہریوں کو کیا ڈیپورٹ،ایران نے کی تصدیق
امریکہ نے ایران کے 50سے زیادہ شہریوں کو ڈیپورٹ کردیا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے تحت حالیہ چندمہینوں کے دوران دوسری بار ایرانی شہریوں کو امریکہ سےڈیپورٹ کیا گیاہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق،ایرانی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔تاہم امریکہ سے واپس بھیجے گئے کسی بھی ایرانی شہری کی شناخت عام نہیں کی گئی ہے اورنہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ ان کی واپسی کب ہوگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق،ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ 50 سے55 ایرانی شہریوں کی وطن واپسی ہوگی۔انھوں نے امریکہ کی غیرملکی شہریوں بالخصوص ایرانیوں کے ساتھ نسل پرستانہ اقدامات کی مذمت بھی کی۔انھوں نے مزید کہاکہ یہ اقدامات سیاسی محرکات پرمبنی ہیں اور امیگریشن مخالف پالیسیاں انسانی حقوق قوانین سے متصادم ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ، بی بی سی کی رپورٹ میں یہ بتایا کہ گیا تھا کہ امریکی حکام50 سے زیادہ ایرانیوں کو ڈیپورٹ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور یہ کارروائی 48 گھنٹوں کے اندر کی جائے گی۔خیال رہے کہ ، ایران اور امریکہ کے باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔واشنگٹن میں واقع پاکستانی سفارتخانہ کے اندر ایران کا ایک دفتر ہے جہاں قونصلر معاملات کی یکسوئی کی جاتی ہے۔واضح رہے کہ، رواں سال ستمبر میں امریکہ سے120 ایرانیوں کو ڈیپورٹ کیا گیا تھا۔ انھیں براستہ دوحہ ایران بھیجا گیا تھا۔
تھائی لینڈ اورکمبوڈیا کے بیچ تازہ جھڑپیں، ایک دوسرے پرلگایاجنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے بیچ کشیدگی ایک بارپھر بڑھ گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تھائی لینڈ نے کمبوڈیا سے متصل متنازع سرحد پرحملے کیے ہیں۔ تھائی لینڈ کاالزام ہے کہ کمبوڈیا کی فوج نے اس کے جوانوں پر حملہ کیا۔اس حملے میں تھائی لینڈ کا ایک فوجی جوان ہلاک جبکہ دیگر چار زخمی ہوگئے ۔ کمبوڈیا نے بھی تھائی لینڈ پر بلا اشتعال فائرنگ کا الزام لگایا ہے۔
تھائی لینڈ کی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی حملے،کمبوڈیا کی فائرنگ کے جواب میں کیے گئے ہیں اور کمبوڈیا کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تھائی فوج کا الزام ہے کہ اوبون رتچاتھانی صوبے کے نام یوئن ضلع کے چونگ بوک علاقے میں دو جگہوں پر کمبوڈیا کی فوج نے فائرنگ کی جس کے بعد جھڑپیں ہوئیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق،کمبوڈیا نے بھی تھائی فوج پر حملے کا الزام لگایا ہے۔کمبوڈیا کی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ تھائی فوج نے بلااشتعال فائرنگ کی ۔ گزشتہ کئی دنوں سے تھائی لینڈ کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی جارہی تھی ۔تاہم نے اس نے جوابی کارروائی کی بات نہیں کی۔
ادھر، تازہ واقعات کے بعدتھائی لینڈ کی فوج نے سرحدی علاقوں میں آباد شہریوں کے انخلاء کا عمل تیز کردیا ہے۔فوج کے مطابق، انخلاء کےدوران ایک شہری کی موت ہوگئی ہے۔بتایا جاتا ہے وہ متوفی زیرعلاج تھا ۔
جولائی میں ہوئی تھی جنگ
واضح رہے کہ جولائی میں،دونوں ملکوں کے بیچ کشیدگی جنگ میں تبدیل ہوگئی تھی۔جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔مہلوکین میں زیادہ تر عام شہری تھے۔اس وقت بھی سرحد پر فائرنگ کے واقعات سے خونریز جھڑپوں کا آغاز ہوا تھا جو پانچ دنوں تک چلا۔خیال رہے کہ ، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے بیچ 26 اکتوبر کو جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا جنگ بندی معاہدے کے بعد سرحد پر کشیدگی کا یہ تازہ واقعہ ہے۔ تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا جب 2008 میں کمبوڈیا نے سرحد پر واقع ایک متنازع علاقے میں قائم قدیم عبادت گاہ پر اپنےا دعویٰ پیش کیا۔ 11ویں صدی کا یہ مندر یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ یہ ایک ایسا اقدام تھا جس پر تھائی لینڈ کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔