Monday, 8 December 2025

*دیارِ ادیب سیف نیوز ادبی پوسٹ* *🔴دیارِ ادیب مالیگاؤں**ہم بھی کیوں نہ آواز اٹھائیں**🔴اتواریہ :-شکیل رشید ممبئی* *🔴 افسانہ :__ آئی کینٹکنٹ !**⚫انور مرزا__ ممبئی**غزل____جدید غزل**🔴سلیم شہزاد (ناقد شاعر ناول نگار، ماہرِ لسانیات)**غزل "سو میم' کی ایک غزل**🔴منتظم عاصی مالیگاؤں*______ *🔴انتخاب و پیشکش :- احمد نعیم (موت ڈاٹ کام مالیگاؤں بھارت)**دیار ادیب مالیگاؤں سیف نیوز ادبی پوسٹ پر روزانہ ادبی پوسٹ شالع کی جاتی ہے کہ لہذا آپ اپنے مضامین حمد نعت، افسانے اسکول رپورٹ اس نمبر پر ارسال کریں 9273946747* *دیارِ ادیب ادبی پوسٹ مالیگاؤں*


ہم بھی کیوں نہ آواز اٹھائیں! 

اتواریہ : شکیل رشید 

کل چھ دسمبر گزر گیا ، اور بابری مسجد کی شہادت کا ایک سال اور مکمل ہوا ۔ ان گزرے ہوئے برسوں کے دوران نہ جانے مزید کتنی مسجدیں شہید کی گئیں اور آنے والے برسوں کے دوران، اگر حالات ایسے ہی رہے تو ، نہ جانے مزید کتنی مسجدیں شہید کی جا سکتی ہیں ۔ گذشتہ دنوں ایک خبر نظر سے گزری کہ مسلمان بنارس کی گیان واپی مسجد پر اپنا دعویٰ چھوڑ دیں اور اسے ہندوؤں کے حوالے کر دیں، تاکہ پھر مسجد مندر کا کوئی جھگڑا باقی نہ رہے ۔ مگر سچ یہ ہے کہ نہ بابری مسجد آخری نشانہ تھی ، اور نہ گیان واپی مسجد آخری نشانہ ہے ۔ کٹر وادیوں کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان میں مسلم بادشاہوں کے دورِ حکومت میں ، ساٹھ ہزار مندروں کو تباہ و برباد کیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ جب بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی تحریک عروج پر تھی تب ساٹھ ہزار کی تعداد گھٹا کر تین ہزار کر دی گئی تھی ، اور ہندو توادی تنظیمیں یہ کہنے لگی تھیں کہ ان کے پاس تین ہزار ایسی مسجدوں ، درگاہوں ، مزاروں ، عیدگاہوں ، قلعوں اور مسلم عمارتوں کی فہرست ہے ، جو یا تو ہندو مندروں پر بنائی گئی ہیں یا ڈھائے گئےمندروں کے ملبے سے ان کی تعمیر کی گئی ہے ! یہ ساٹھ ہزار کو اچانک گھٹا کر تین ہزار کیوں کر دیا گیا تھا ، اس کی کوئی وجہ نہ بتائی گئی ، نہ ہی سامنے آئی ، ممکن ہےساٹھ ہزار کی تعداد اس وقت ' مضحکہ خیز ' لگی ہو ، یا شاید یہ سوچا گیا ہو کہ اتنی بڑی تعداد پر دوسروں کو تو جانے دیں ، اپنے لوگ ہی یقین نہیں کریں گے ، اس لیے اسے فی الحال گھٹا دیا جائے ۔ لیکن اب ، جبکہ ' ہندو راشٹر ' کے قیام کی تحریک کو ، ہندو توادی تنظیمیں تیز سے تیز کیے ہوئے ہیں ، یہ فہرست پھر طویل ہو تی جا رہی ہے ۔ اب تو صورتِ حال یہ ہے کہ بھگتوں کی نظر جس مسجد اور درگاہ پر پڑ جائے ، وہ ہندو مندر قرار دے دی جاتی ہے۔ دہلی کی جامع مسجد کے نیچے بھی دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں بتائی جا رہی ہیں ، اور تاج محل کے بند کمروں میں بھی۔ کرناٹک کی ٹیپو سلطان کی مسجد بھی اب ہنومان مندر کہی جانے لگی ہے ، اور احمدآباد ( گجرات ) کی جامع مسجد کو بھی ہندو مندر کی بنیادوں پر کھڑی بتایا جا رہا ہے ۔ رہا قطب مینار ، تو وہ ، ایک عرصہ سے ہندوتوادیوں کی نظر میں مندر ہی ہے ۔ انگریزی اور ہندی زبانوں میں ، اس موضوع پر کئی کتابیں آ چکی ہیں ۔ ایک کتاب کا نام ہے " ہندو منادر : ان کا کیا ہوا "، دو جلدوں کی اس کتاب کے لکھنے والوں میں ارون شوری کا نام بھی شامل ہے ، جو ان دنوں بی جے پی اور آر ایس ایس کے سب سے بڑے دشمن نظر آتے ہیں۔ اس کتاب کے دیگر مصنفین میں مورخ سیتا رام گوئل ، ہرش نارائن ، جئے دوباشی اور رام شروپ شامل ہیں ۔ یہ کتاب 1990 میں ، اس وقت شائع ہوئی تھی جب سارے ملک میں ' رام مندر ' کا شور تھا ۔ اس کتاب میں ممبئی کے ماہم علاقہ میں واقع حضرت مخدوم مہائمی رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ کو بھی ہندو مندر قرار دیا گیا ہے ۔ کیا ان حالات میں زبان بند رکھنے کا مطلب سب کچھ ، تمام عبادت گاہوں اور مزاروں کو اور اپنی شناخت کو کھو دینا نہیں ہے ؟ کیا آواز نہیں اٹھانی چاہیے کہ ہمارے آثار اور ہماری شناخت سے کھلواڑ نہ کیا جائے؟ مولانا سید ارشد مدنی اور مولانا سید محمود مدنی آواز اٹھا رہے ہیں، ان کی آواز میں بہت سے لوگ اپنی آوازیں ملا رہے ہیں ۔ ہمیں بھی آواز ملانا ہوگا ۔ یہ آواز نہ غیر آئینی ہے اور نہ ہی غیر قانونی ۔ یہ آواز ان حقوق کے لیے ہے ، جو چھینے جا رہے ہیں ۔ یہ آواز جمہوری قدروں کی بحالی کے لیے ہے ۔ یہ آواز اقلیت کو بھی یکساں درجہ کا شہری سمجھنے کے لیے ہے ۔
______
عالمی افسانہ میلہ 2025
افسانہ نمبر 7
آئی کنٹیکٹ 
انور مرزا 
 ممبئی ، انڈیا 
                
*روڈ ایکسیڈنٹ* میں شوہر کے انتقال کے 13ماہ بعد... سسُرال میں میرے لئے کچھ بچا نہیں... بیٹی کے اسکول سے لیوِنگ سرٹیفکیٹ لیا... اورنگ آباد اور حِجاب کو الوداع کہا... اور ممبئی جانے والی ’والوو‘ میں سوار ہوگئی... 
مجھے بُلندیوں سے ڈر لگتا ہے...اِ س لئے ہوائی سفر نہیں کرتی...مگر اُس حادثے والی رات...ہماری کار بہت اونچائی سے گہری کھائی میں گِری تھی...

سڑک حادثے کے بعد نیم بے ہوشی کی کیفیت میں میَں اور میری بیٹی مونٹو بھی مہینہ بھر اسپتال میں رہے...اور معجزاتی طور پر بچ گئے ...شوہر کی موت کا صدمہ پہلے ہی مِل چکا تھا... ہوش آنے پر یہ جان کر پھر میرے ہوش اُڑ گئے کہ مونٹو کی بینائی اِس قدر متاثر ہوئی تھی...کہ اُس کی آنکھوں کا آپریشن کیا گیا ...
میَں نے خُدا کا شکر ادا کرتے ہوئے بیٹی کی طرف دیکھا...وہ برابر کی سیٹ پر بیٹھی ’پب جی‘ گیم کھیل رہی تھی...’’کیا ممّا...؟‘‘
’’کچھ نہیں...!‘‘
 میَں نے نصف مسکراہٹ سے کہا اور اپنی طرف کی لائٹ بند کر دی...
بند آنکھوں کے اندھیروں میں ممبئی کی روشنیاں جھِلمِلانے لگیں...ایک روشن چہرہ بار بار مُسکرانے لگا... جیسے میری ممبئی واپسی پر خوش آمدید کہہ رہا ہو...!
 سماعت میں فلمی انداز میں شہنائیاں بجنے لگیں... میَں نے اُس کی دوسری بیوی بننے کا فیصلہ کر لیا تھا...
میَں گیارہ سال سعودی عرب اور چار سال اورنگ آباد میں گُزار کر... پندرہ سال بعد ممبئی آئی تھی... ای میل، سوشل میڈیا اور ڈائری کے سہارے تلاش کئے گئے سارے رابطے ٹوٹ چکے تھے... جو مِلے وہ ’رانگ نمبر‘ نکلے...
میرا شوہر بڑا مذہبی قسم کا انسان تھا... مطلب... ایک نمبر... ﷲ اُسےجنّت نصیب کرے...اُس کی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ تھی...لاکھوں کما کر میرے نام کر گیا...وہ بھی ٹیکس فری... 
تجربہ کار لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں...لڑکی محبت چاہے جس سے کرے...مگر شادی گھر والوں کی مرضی سے ہی کرنا چاہئیے...خیر...
نیک خصلت شوہر، انڈیا میں بھی مجھے سعودی عورتوں کی طرح نقاب، حجاب، موزوں، دستانوں جیسے سات پردوں میں رکھنا چاہتا تھا...میَں بھی مثالی بیوی بننے کے لئے شوہر کی فرمانبردار بن گئی... اُسے شک کے گناہ سے بچانے کے لئے ممبئی سے سارے رشتے، رابطے منقطع کر لئے...
اور اب...ایسا لگ رہا تھا جیسے مجھے خود غرض مان کر، سب ناراض ہوگئے تھے... یا بدلہ لے رہے تھے...
وہ بھی رابطےسے باہر تھا جس سے شادی کا وعدہ نبھانے میَں ممبئی آگئی تھی...
تھک ہار کر میَں نے ماموں کو فون کر دیا کہ ہم آرہے ہیں...

مذہبی احکامات کی پابندیوں کے معاملے میں ماموں ...میرے شوہر سے چار قدم آگے تھے...مجبوراً میَں بھی دو قدم آگے بڑھ کر ایک عبایہ اسٹور میں داخل ہوگئی...
مونٹو نے حیرت سے پوچھا...
’’یہ کیا مماّ...اب تم پھر عبایہ پہنوگی؟‘‘
’’صرف میَں نہیں...تم بھی...!‘‘
میرا جواب سُن کر مونٹو نے ایسا ردّ ِ عمل دیا...جیسے کسی نے ’ پب جی‘ گیم میں اُسے شوٹ کر دیا ہو...
’’کیا...؟ کیا...؟ میَں بھی عبایہ پہنوں گی؟‘‘
’’ہاں...! ہماری یہ اِسکن ٹائٹ جینز اور ٹی شرٹس ... ؟ ایسے کپڑے تو ماموں کے لڑکے بھی نہیں پہنتے...وہ ہمیں اپنے گھر میں گھُسنے بھی نہیں دیں گے...!‘‘
’’تو ہم ماموں کے گھر میں گھُس ہی کیوں رہے ہیں؟ پلیز ڈونٹ ڈو دِس مماّ...!‘‘
’’ماموں وہ میرےہیں ... تمہارے نانا ...!‘‘
’’وہی تو میَں کہہ رہی ہوں ممّا...’نا‘...’نا‘... ہم کہیں اور نہیں رُک سکتے...؟‘
’’آج نہیں...! اُن سے ملنے تو جانا ہی تھا...‘‘
میَں عبایہ اسٹور میں اپنے اور مونٹو کے لئے مناسب عبایہ تلاش کرنے لگی...مونٹو تھکے انداز میں ایک اسٹول پر بیٹھ گئی...
میَں اِس اسٹور میں پہلے بھی آچکی ہوں...

پندرہ یا سولہ سال پہلے...میَں بھی مونٹو کی طرح ایسے ہی تھک کر اسٹول پر بیٹھ گئی تھی...
وہ میرے لئے ایک سُنہری عبایہ اُٹھا کر لے آیا...’یہ تمہارے لئے بیسٹ ہے...!‘
کہتے ہوئے اُس نے مجھے اُٹھایا...اور عبایہ اونچا کر کے میری گردن سے لگا دیا...مجھے اچھا لگا... مطلب، گردن سے پیروں تک مچلتا عبایہ...
پہن کر آئینے میں جائزہ لیا... تو سُنہری رنگ اور نفیس آرائش والے عبایہ میں اپنا خوبصورت سراپا دیکھ کر میَں خود ہی شرما گئی...اُس نے دلفریب انداز میں بائیں آنکھ دبا کر ’تھمس اپ‘ کا اِشارہ کیا...

عبایہ خرید کر ہم نے دُکان میں ہی پہن لئے... مونٹو بڑی پیاری لگ رہی تھی عبایہ میں...مگر دُکان سے باہر نکلتے ہوئے دو تین بار لڑکھڑائی...سنبھلی...
’’ممّا...میَں اِس شاپ میں پہلے بھی آچکی ہوں...!‘‘
میَں نے حیرت سے مونٹو کو دیکھا...
’’نہیں... اِمپاسِبل... شاید تم نے یو ٹیوب پر کوئی ویڈیو دیکھا ہوگا...!‘‘

ممبئی، جوگیشوری کے ون روم کِچن فلیٹ میں مجھے بیٹی کے ساتھ دیکھ کر ماموں، ممانی رسمی طور پر خوش ہوئے، پھر ہمارا سامان دیکھ کر فکر مند...
’’تمہارے شوہر کا سُن کر افسوس ہوا...‘‘
’’اب کیا کرو گی...؟‘‘
’’کروں گی کیا...؟یہیں رہوں گی...!‘‘
ماموں ، ممانی کے چہرے دو سوالیہ نشانات کی طرح ایک دوسرے کی طرف گھوم گئے...
مجھے حالات کے ماروں پر ترس آیا... 
’’میَں رینٹ پر فلیٹ لے لُوں گی...‘‘
’’ہاں تو اِسی بلڈنگ میں مِل جائے گا...‘‘
’’مگر ماموں...میَں اِس سوسائٹی میں نہیں رہ سکتی... مجھے پتہ ہے، یہاں ٹی وی نہیں دیکھ سکتے...‘‘
’’ٹی وی کیوں نہیں دیکھ سکتے...؟‘‘
مونٹو حیران رہ گئی...
’’کیونکہ اِس بلڈنگ کے کسی گھر میں ٹی وی نہیں ہے...ایسا قاعدہ قانون ہے ...!‘‘
ماموں نے مونٹو کو بریکِنگ نیوز سُنائی...
’’کیا...؟ کسی گھر میں ٹی وی نہیں ہے...؟‘‘
ٹی وی سیرئیل کے ری ایکشن شاٹس کی طرح، مونٹو کی حیرت دیکھنے لائق تھی...
’’ہاں...اور میوزک بھی نہیں سُن سکتے...‘‘
مونٹو نے بے اختیار اپنے کوَر چڑھے گِٹار کو ایسے قریب کر لیا جیسے ابھی کوئی چھین لے جائے گا...
’’منتشا گِٹار بجانا سیکھ رہی ہے...ہم یہاں نہیں رہ پائیں گے...‘‘
’’پھر...؟‘‘
’’میَں کر لُوں گی... !‘‘

اسکول کے آفس سے باہر آتے ہی میَں نے حسبِ عادت اپنے مخصوص انداز میں مونٹو کو شاباشی دی۔
’ایک... نمبر... بیٹا...یو ڈن اِٹ...!‘
’تھینک یو ممّا!‘
 مونٹو مارے خوشی کے مجھ سے لپٹ گئی۔
وہ اِس قدر خوش تھی جیسے 14سال کی عمر میں اُسے ’آئی فون‘ کا نیا ماڈل گِفٹ کر دیا گیا ہو!
انٹر نیشنل اسکول کی ایڈمِشن ٹیم کے ساتھ انٹرویو اطمینان بخش رہا تھا۔اب بس، ای میل پر اسکول میں داخلے کا کنفرمیشن لیٹر آنا باقی تھا۔
خوش تو میَں بھی تھی...مجھے اِس شہر میں اپنا تعلیمی زمانہ یاد آگیا...جب میَں21 سال کی عمر میں... دو سال کیلئے ممبئی آئی تھی...
ماضی کی یادوں کے خوش رنگ پرندے شہر کی فضا میں اُڑنے لگے ...میَں نے ان پرندوں کو پکڑنے کی کوشش کی...اور اپنی بیٹی کے ساتھ اوشیوارہ، گوریگاؤں کے اُس ہوٹل میں کھانا کھانے کا فیصلہ کیا... جو اپنی بِریانی کیلئے مشہور ہے... 
مجھے بِریانی سے نفرت ہے... محبت تو بس اُس ہوٹل کے ایک مخصوص ٹیبل سے ہے... اور ایک ہلکی سی اُمّید بھی ہے...کہ شاید آج بھی وہ وہیں بیٹھا مِل جائے...!
میَں نے ہوٹل سے کچھ دُور پہلے ہی آٹو رکشہ چھوڑ دیا ...اور مونٹو کا ہاتھ پکڑ کر پیدل چلنے لگی...
’’ہوٹل کہاں ہے؟‘‘
مونٹو نے آس پاس دیکھ کر پوچھا۔
’’وہ رہا سامنے...!‘‘
ہوٹل ذرا دُور تھا...مونٹو نے سوشل میڈیا والے ناراض ’ایموجی‘ جیسا منہ بنایا...
’’تو پھر رکشہ کیوں چھوڑ دیا؟‘‘
’’اصل میں...یُو نو ’منتشا‘... میَں اِس ’ایٹموس فیر‘ کو فیِل کرنا چاہتی ہوں...‘‘
’’ویری انٹریسٹنگ...! آپ بھی نا ...ممّا...‘‘
’’ایک نمبر...منتشا...!‘‘ میَں ہنسی۔
’’تھینک گاڈ...آپ کو میرا اصل نام یاد ہے...‘‘
مونٹو میرا ہاتھ جھُلاتی ہوئی چلنے لگی...

اور چند قدم بعد... اچانک ہی جیسے مونٹو نے مجھ سے ہاتھ چھُڑا لیا...اور اسی طرح میرا ہاتھ جھُلاتے ہوئے...کوئی اور میرے ساتھ چلنے لگا...
’’کیا کر رہے ہو...؟ ہاتھ چھوڑو...لوگ گھُور گھُور کر دیکھ رہے ہیں...!‘‘
میَں نے دھیرے سے اِس انداز میں کہا کہ کہیں وہ میرا ہاتھ چھوڑ ہی نہ دے...ورنہ ہاتھ تو میَں بھی چھُڑا سکتی تھی...
’’چھوڑو...نا...تم عمر میں مجھ سے بڑے ہو... اور لوگوں کی نظروں میں سوال ہیں...!‘‘
اُس نے کہا...’’میَں بڑا نہیں ہوں...تم چھوٹی ہو...!‘‘
میَں نے بے ساختہ قہقہہ لگایا...اور دونوں ہاتھوں سے اُس کی بانہہ پکڑ کر جھُول سی گئی...
میَں نے ایک انگریزی فلم میں دیکھا تھا کہ حسین، نوعمر ہیروئن ایک خرگوش سے محبت کرتی ہے ... لوگ حیرت کرتے ہیں کہ پورے شہر کے لڑکوں کو چھوڑ کر یہ خرگوش ہی مِلا تھا بوائے فرینڈ بنانے کیلئے...؟
تب لڑکی اِس کی ایک ہی وجہ بتاتی ہے کہ یہ خرگوش مجھے بہت ہنساتا ہے...!
میَں نے غور سے اُسے دیکھا...بہت پیار آیا... دل میں سوچا...’میرا پیارا خرگوش...!‘
اور اُس کے گال پر کِس کر لیا...
بس اسٹاپ پر کھڑی عورتوں نے حیرت سے اور مردوں نے حسرت سے ہمیں دیکھا...
’’اب لوگ نہیں دیکھ رہے ہیں...؟‘‘
’’مرنے دو...! ‘‘
’’ اِٹ ز مائی لائف...‘‘
میَں انگریزی گانا گُنگُنانے لگی...
’’یہ آزادی تو بس ممبئی میں ہی ہے...اپنے قصبے میں ہوتی...تو صبح کسی درخت سے لٹکتی ملتی...!‘‘
’’ہم ممبئی والے تو اِسی لئے درخت ہی کاٹے ڈال رہے ہیں...!‘‘
میَں نے پھر ہنستے ہوئے کہا ...’’کتنا ہنساؤ گے...؟پیٹ میں درد ہونے لگا...!‘‘
’’عورت کچھ کہنے کیلئے بے چین ہو تو پیٹ میں درد ہوتا ہے...! کچھ کہنا چاہتی ہو...؟‘‘
’’ہاں...! پتہ ہے...مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے...‘‘
’’او کے...!‘‘
’’کیا او کے ...؟ ڈفر...؟ تمہیں خوشی نہیں ہوئی... کوئی ایکسائٹمنٹ نہیں...‘‘
’’میَں بہت ایکسائٹیڈ ہوں...بٹ ...سوچ رہا ہوں...تمہیں لنچ کیسے کراؤں...!‘‘
’’کیا...؟‘‘ میری ہنسی پھر چھوٹنے لگی۔
’’تمہارے پاس پیسے نہیں ہیں...؟‘‘
’’نہیں...غریب مزدور...غریبی ریکھا کے نیچے...!‘‘
میَں بہت ہنسی...ہم بِریانی والے ہوٹل میں آچکے تھے...روشنی بہت کم تھی...اُس کا پسندیدہ ٹیبل خالی تھا...میَں نے اُس سے تقریباً چِپکتے ہوئے دھیرے سےکہا...
’’تم بھی نا...ایک نمبر ہو...حرامی نئیں تو...‘‘
’’اوکے...!‘‘
’’ کُتّے ہو...!‘‘
’’ہاں...ٹھیک ہے...!‘‘
’’ مار ڈالوں گی کِسی دن...سمجھے...!‘‘
’’مار دو...!‘‘

’’ممّا...آرڈر دو...!‘‘
میَں اِس آواز پر چونکی۔
اب میرے سامنے وہ نہیں تھا...مونٹو بیٹھی تھی۔
’’ممّا... آر یُو آل رائٹ...؟‘‘
’’ہاں...ہاں...میَں ٹھیک ہُوں...!‘‘
میَں نے بِریانی اور گِرِل سینڈوِچ کا آرڈر دیا۔
’’یُو نو ممّا...ایسا لگ رہا ہے جیسے میَں پہلے بھی یہاں آچکی ہوں...!‘‘
میَں نے پھر حیرت سے مونٹو کو دیکھا...
’’کیا...؟‘‘  
یہ بات اُس نے عبایہ کی دُکان میں بھی کہی تھی... کیا ہو گیا اِسے...؟ کیا میَں نے جیتے جی دوسرا جنم لے لیا ہے...؟ کیا میَں اپنے ہی ساتھ چل رہی ہوں! نہیں... میَں نے سر ہِلایا...
’’نہیں...بیٹا... تم پہلی بار ممبئی آئی ہو...!‘‘

کہتے ہوئے میَں اِس شہر کے اُس فلیٹ میں پہنچ گئی جہاں پہلی بار آئی تھی...وہ بھی پہلی بار سامنے آیا تھا... روم میٹ لڑکی شریفہ نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے اُس سے کہا... ’’اِن سے مِلئے...یہ ہیں افسانہ...!‘‘
اُس نے فوراً میری طرف ہاتھ بڑھایا...
’’مجھ سے مِلئے...میَں ہوں افسانہ نگار !‘‘
’’او ایم جی...! اِس قد رتیز رفتار ردّ ِ عمل...!‘‘
میری ہنسی کیسے رُکتی... میَں کھِلکھِلا پڑی...
اور ہنسی کےساتھ ساتھ میرا ہاتھ بھی بے اختیار آگے بڑھ گیا...اُس نے شاید تین بار میرا ہاتھ بڑی گرمجوشی سے ہِلایا...پھر آہستہ آہستہ ایسے چھوڑا جیسے چھوڑنا تو نہ چاہتا ہو...
شریفہ نے گویا امّاں کی طرح یہ نوٹ کیا...
میَں نے سوچا...اگر اپنے گھر میں ہوتی...تو ایک نا محرم مرد سے ہاتھ مِلانے کے ’جُرم‘ میں بہت جُوتے پڑتے...!
وہ پہلی ہی ملاقات میں اچھا لگا...سیدھا سادا، بے ضرر، معصوم سا...بلا کا حاضر جواب...ظریف... مخلص اور سچّا...اُس کی آنکھوں میں مقناطیسی کشش تھی... ’آئی کانٹیکٹ‘ ہوا... آنکھیں چار ہوئیں... اور میَں بے اختیار کھِنچی چلی گئی...
’دوست‘ تو وہ میری روم میٹ لڑکی ’شریفہ‘ کا تھا...لیکن پہلے ہی دن وہ دوستی میری طرف ڈائیورٹ ہوگئی...شریفہ نے بھی اِس ڈائیورژن پر کوئی اعتراض نہیں کیا...کیونکہ شریفہ کے مطابق ’یہ‘ آدمی کسی ’کام‘ کا نہیں تھا...! جوان لڑکی شریفہ ہو یا نہ ہو...باتیں بھی کب تک اور کتنے دن تک کرتی اور سُنتی رہے...!

مگر میَں روز ’پی سی او‘ سے اُسے فون گھُمانے لگی...اُس کی باتیں سُننے اور اپنی کرنے لگی... وہ پاپولر فِکشن رائٹر تھا...جب بھی فون کرتی... آفس میں مِل ہی جاتا ...ایک شام میَں نے پوچھا...
’’آج مُمبرا آؤگے کیا...؟‘‘
’’مُمبرا کیا...؟ تمہارے لئے تو میَں مومباسا بھی آ سکتا ہُوں...‘‘
’’مومباسا...؟ اب یہ کیاہے...؟‘‘
’’کینیا کا ایک شہر...!‘‘
’’تو وہیں چلے جاؤ...!‘‘
’’چلا جاتا...اگر وہاں تم ہوتیں...!‘‘
میرے لئے ہنسی روکنا مُشکل...

اُس شام وہ مِلنے آیا...تو شریفہ گھر میں نہیں تھی...تنہائی میں ہم اِس قدر قریب آگئے...کہ بس شادی کی کسر رہ گئی...اور پھر وہ اچانک اُٹھ گیا...
’’چلو...گھر چلتے ہیں... آج تمہیں اپنی بیوی سے مِلواتا ہُوں...!‘‘
میَں فوراً تیار ہوگئی...آج رات تنہا نہیں رہنا چاہتی تھی... اُس کے پیچھے بائیک پر بیٹھ کر مُمبرا سے نکلی... تو ہوائیں سرد تھیں...میَں کانپ کانپ جاتی... ہر بار درمیان کا فاصلہ کم ہو جاتا...آخر میَں اُس سے لِپٹ ہی گئی...
’’اگر پہلے مِلی ہوتیں... تو میَں تم سے ہی شادی کرتا...‘‘
’’تو اب کر لو...‘‘
’’مطلب...؟ دوسری شادی...؟‘‘
’’ہاں...اِس میں حرج ہی کیا ہے...‘‘
’’سوچ لو...دوسری بیوی بن کے رہ لوگی؟‘‘
’’چوتھی بن کے بھی رہ لُوں گی...!‘‘
اُس نے اچانک بریک لگا دئیے...
میرا تمام تر فرنٹ اُس کے بیک سے ٹکرایا...
وہ ہنسا...میَں جھینپ سی گئی...’’باسٹرڈ...!‘‘

میَں نے میرا روڈ میں کرائے پر ون بی ایچ کے لے لیا...
اسٹیٹ ایجنٹ کے پاس فلیٹ کے ساتھ ساتھ میرے ماضی کی چابی بھی نکل آئی... میَں نے تو نہیں...مگر اُس نے مجھے پہچان لیا...برسوں قبل مُمبرا میں پے اِنگ گیسٹ والا فلیٹ مجھے اُسی نے دلایا تھا...

پھر ایک کے بعد ایک چابیاں مِلتی چلی گئیں...
اور گُمشدہ تالے بھی مِلتے اور کھُلتے چلے گئے...
سب مِلے...مگر وہ نہیں مِلا...
کہاں چلا گیا...کہاں کھو گیا...
کوئی نِشان نہیں...کوئی سُراغ نہیں...
کہیں وہ...؟
کہیں وہ بھی ...کسی حادثے میں...؟
نہیں...نہیں...یہ میَں کیا سوچنے لگی...!
اچانک نگاہوں میں وہ لمحہ آگیا جب میری کار ہائی وے سے اُچھل کر...گہری کھائی میں چلی جارہی تھی ...اِس بار اپنی جگہ، میَں نے اُسے گِرتی ہوئی کار میں دیکھا ...اور مجھے اپنی کہی بات یاد آگئی...
’’مار ڈالوں گی کِسی دن... سمجھے...!‘‘
’’مار دو...!‘‘
نہیں ...نہیں...مریں اُس کے دُشمن...!
میَں نے سر جھٹک دیا...آنکھیں چھلک گئیں۔
خُدا نہ کرے ایسا کچھ ہو گیا ہو...تو میَں کیاکروں گی...؟
 میَں نے دیکھا...ہم ’آپشنز‘ نامی شاپنگ مال کے سامنے کھڑے تھے...پتہ نہیں میرے لیے بھی یہاں کوئی ’آپشن‘ ہوگا یا نہیں ...
تبھی مجھے مونٹو کی آواز سُنائی دی...
’’جاذِب...!‘‘
میَں نے شاید روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے پلٹ کر مونٹو کو دیکھا...وہ اُسی ’آپشنز‘ مال کی طرف دیکھ رہی تھی...میَں نے بھی دیکھا...کوئی نہیں تھا...
’’مونٹو...! کِسے پُکار رہی تھیں تم...؟ ابھی کیا نام لیا تم نے...؟ ‘‘
مونٹو بھی میری طرح حیران تھی...
’’ممّا...! ابھی میَں نے کسی کو ’آپشنز‘ میں جاتے دیکھا...اور بس...میری زبان پر یہ نام آگیا...!‘‘
اِس بات پر حیران ہونے کا موقع نہیں تھا...کہ میَں نے تو کبھی مونٹو کے سامنے ’جاذِب‘ کا نام تک نہیں لیا...! میَں کچھ کہے بِنا، خوشی سے کانپتی ہوئی... ’آپشنز ‘ کی طرف دوڑی...
’’کیا ہوا ممّا...!‘‘ مونٹو میرے پیچھے لپکی...
شاپنگ مال میں زیادہ بھیڑ نہیں تھی...میَں تیزی سے اِدھر اُدھر اُسے تلاش کرنے لگی...جسے ابھی ابھی مونٹو نے آواز دی تھی...
اور بالآخر...وہ نظر آگیا...
’’جاذِب...!‘‘
میَں نے بے تابی سے اُسے آواز دی...
وہ چونک کر پلٹا...اور غائب ہوگیا...
وہ آئینے میں اُس کا عکس تھا...میَں بھی پلٹی...
اور...میَں اُس کے سامنے کھڑی تھی...!
خوشی کی انتہا میں خدشہ یہ تھا... کہ کہیں رو نہ پڑوں...
مجھے اچانک دیکھ کر چند لمحوں کے لئے تو جیسے مارے حیرت اور خوشی کے وہ فریز ہوگیا...
میَں بھی...!
پھر اُس نےبے اختیار بانہیں پھیلا دیں...
میَں نے بھی...
میَں دوڑ کر اُس سے لپٹ گئی...
وہ بھی...!
تب تک مونٹو وہاں آگئی ...
 ہمیں اِس طرح لِپٹا دیکھ کر حیرت سے بولی...
’’ایک نمبر...!‘‘

’’پتہ ہے... تمہیں میَں نے نہیں...میری بیٹی نے پہچانا... تمہارا نام لے کر پُکارا...!‘‘
میَں نے دیکھا اُسے کوئی حیرت نہیں ہوئی...اور اِس بات پر مجھے بڑی حیرت ہوئی...
اُس نے سنجیدگی سے بس اتنا ہی کہا...
’’گھر چلیں؟‘‘

وہ بہت اونچی... 18منزلہ بلڈنگ میں رہنے لگا تھا...لفٹ میں جب اُس نے ٹاپ فلور کا بٹن دبایا تو میَں نے دونوں ہاتھوں سے اُس کا شانہ پکڑ لیا... لِفٹ کے ایک طرف شیشے کی دیوار تھی... مونٹو وہیں چِپکی باہر کا منظر دیکھ رہی تھی...میَں نے تو ڈر کے مارے اُس طرف پیٹھ کر لی... دھیرے سےکہا...
’’میَں آگئی ہوں...اپنا وعدہ نبھانے...! شادی کروگے نا...!‘‘
’’کر لُوں گا...اگر تم زبردستی کرو گی تو...!‘‘
میَں ہنس پڑی...’’خرگوش...!‘‘
’’تھینکس...!‘‘ اُس کی مسکراہٹ آدھی تھی...
’’میَں نے سُن لیا ممّا...!‘‘ مونٹو بولی...
’’میَں بہت لکی ہُوں...اپنی ممّا کی شادی میں سیلفی لُوں گی...!‘‘

اُس کا بیٹا اور بیٹی بہت اسمارٹ تھے...بہت مہذب...میَں اُن کے حُسنِ سلوک سے متاثر ہوئی...
مونٹو نے تو فوراً اُن سے دوستی کر لی...اُس کی بیٹی کے پاس ’آئی فون‘ تھا...اور مونٹو کے پاس گِٹار...
بچّے کسی کمرے میں چلے گئے...تو میَں نے کہا
’’آج بیوی سے نہیں مِلواؤ گے...؟‘‘
سُنتے ہی جیسے کسی نے اُسے 18ویں منزل سے نیچے پھینک دیا...
چہرے پہ درد...آنکھوں میں نمی نظر آئی...
’’وہ...؟ وہ چلی گئی...!‘‘
میَں کچھ سمجھتے...کچھ نہ سمجھتے... تیزی سے اُس کے قریب گئی...
’’کیا...؟ کیا مطلب...؟ ‘‘
’’روڈ ایکسیڈنٹ...!‘‘
میَں جیسے پھر گہری کھائی میں گِرنے لگی...
’’روڈ... ایکسیڈنٹ...؟‘‘
’’ہاں...! وہ ایک ہی ایکسیڈنٹ تھا...جس میں تمہارا شوہر چلا گیا...اور میری بیوی...!‘‘
’’کیا...؟‘‘ 
میَں سَنّ رہ گئی...پہلی بار سمجھ میں آیا کہ حیرتوں کے پہاڑ کیسے ٹوٹتے ہیں...
میَں نے محسوس کیا کہ میَں لرز رہی ہوں...اُس کا سہارا لے کر کُرسی پر بیٹھ گئی...ہم دونوں کی آنکھیں نم تھیں...کچھ دیر تک تو الفاظ لبوں تک نہ آسکے...

مجھے وہ دن یاد آگیا جب میَں اُس کی بیوی سے پہلی بار مِلی تھی...شاید یہ پہلی بیوی تھی جو اپنے شوہر پر ذرّہ برابر بھی شک نہیں کرتی تھی...حالانکہ میَں رات کے گیارہ بجے مُمبرا سے 30کلو میٹر دُور، میرا روڈ... اُن کے گھر پہنچی تھی...اُس کے شوہر کی بائیک پر...
’’جاذِب بہت تعریف کرتے ہیں تمہاری...تم لکی ہو...ورنہ وہ لڑکیوں کو جلدی منھ نہیں لگاتے...!‘‘ کہہ کر اُس نے قہقہہ لگایا...مَیں حیران...
’’مگر تم خاص ہو...اور خوبصورت بھی...!‘‘
’’آپ کو ڈر نہیں لگتا...کہ کہیں جاذِب مجھے دِل نہ دے بیٹھے ہوں...اور میَں اُنہیں آپ سے چھین نہ لُوں...!‘‘
’’چھین لینے کا میَں موقع نہیں دوں گی...چاہو تو ابھی لے جاؤ...جب جی چاہے واپس کردینا...!‘‘
وہ اتنی زور سے ہنسی کہ جاذِب دوڑا آیا...
’’باپ رے...!‘‘ میَں چکرا گئی...ایسی بھی بیوی ہوتی ہے...!
 میَں نے اُسے شانے سے پکڑ کر آہستگی سے اپنی طرف گھُمایا...
’’آپ سچ مُچ ایسی ہیں...یا کوئی راز...کوئی درد چھُپانے کی کوشش کر رہی ہیں...؟‘‘
’’میَں اور جاذِب ایک دوسرے سے کچھ نہیں چھُپاتے...اگر ایسا نہ ہوتا...تو نہ وہ تمہیں یہاں لاتا... اور نہ میَں تمہیں گھر میں گھُسنے دیتی...‘‘
’’کچھ نہیں چھُپاتے...؟‘‘ میَں نے دل میں سوچا...اور جاذِب کے ساتھ رازدار لمحے یاد آگئے...
اُس نے انکشاف کیا...
’’بِریانی والے ہوٹل میں میَں ہمیشہ جاذِب کے ساتھ بیٹھتی ہوں...لیکن تم ہمیشہ اُس کے سامنے ...‘‘
میَں نے قدرے بے یقینی سے اُسے دیکھا...
’’عبایہ شاپ میں تمہارے لئے گولڈن عبایہ... جاذِب نے نہیں...میَں نے پسند کیا تھا...!‘‘
مجھے حیرت کی انتہا پر دیکھ کر...اُس نے پیار سے میرے بِکھرے بال سنوارتے ہوئے کہا...
’’اور ہاں...مجھے یہ بھی پتہ ہے...کہ تم دونوں کے بیچ چاہے جیسا رشتہ ہو...ایسا ہرگز نہیں ہے...جس سے میَں ڈروں...!‘‘
کہتے ہوئے اُس نے مجھے گلے سے لگا لیا...
میری آنکھیں بھر آئیں...یا ﷲ...! اِس کی عمر دراز کرنا...!
’’آپ نے میرا دِل جیت لیا...‘‘
وہ پھر ہنسی...جاذِب کو دیکھتے ہوئے بولی...
’’تو تم کیا سمجھتی ہو...؟ یہ کام صرف تمہیں ہی آتا ہے...! ‘‘

زندگی سے بھرپُور قہقہہ لگاتی اُس کی تصویر اب دیوار پر لگی تھی...
’’لوگوں کو سرپرائز دے کر خوشیاں بانٹنا ’عرشی‘ کی فطرت تھی...اور یہ کام اُس نے جاتے جاتے بھی کِیا...‘‘
میری آنکھوں میں سوال تھے...
’’عرشی نے اپنی آنکھیں ڈونیٹ کر دی تھیں... ‘‘
میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں...’’مونٹو؟‘‘
اُس نے اقرار میں سر ہِلایا...
’’اوہ ...مائی...!‘‘
جیسے کسی کرنٹ نے مجھے اُچھال دیا... مونٹو کا آپریشن یاد آگیا...
 کھٹ... کھٹ ...کھٹ... ہر سوال کا جواب مِل گیا... 
کیوں مونٹو کو یہ شہر جانا پہچانا لگ رہا تھا...؟ کیسے اُس نے جاذِب کو پہچان لیا تھا...؟
تو یہ سب حقیقت میں بھی ہوتا ہے...!
میَں دوڑ کر جاذِب کے گلے لگ گئی...
روتے روتے میری ہچکیاں بندھ گئیں ...
وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا کرے...مجھے دِلاسہ دے یا خود کو سنبھالے...؟
میرا دل، دماغ قابو میں نہیں تھے... عرشی نے میری بیٹی کو نئی زندگی دی...اب میَں عرشی کو کیا دوں...؟ اپنی خوشی کے لئے اُس کے بچّوں کی خوشیاں چھین لُوں...اُس کا شوہر چھین لُوں...؟ نہیں...نہیں!
عرشی مجھے عرش کی بُلندیوں پر نظر آئی...میَں اِس قابل نہیں تھی کہ اُس کے احسان کا بدلہ چکا سکُوں... مجھے اِس بُلندی سے ڈر لگنے لگا...
میَں دوسری بیوی تو بن سکتی ہُوں...مگر جس عورت نے مجھ پر اِس قدر عظیم احسان کیا ہو... اُس عورت کی نظروں کے سامنے، زندگی بھر...اُس کے شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی...
میَں اچانک جاذِب سے دُور ہو گئی...
’’سوری...! میَں تم سے شادی نہیں کر پاؤں گی! تمہارا گھر بہت بُلندی پر ہے اور مجھے بُلندیوں سے ڈر لگتا ہے...! ‘‘
’’او کے...!‘‘ اُس نے حسبِ عادت کہا...
میَں بچّوں کی طرح روتی...کبھی دائیں تو کبھی بائیں ہاتھ سے آنسو پونچھتی دروازے تک گئی...
اُس نے اچھا کِیا کہ ایک بار بھی مجھے روکنے کی کوشش نہیں کی...
میَں نے پلٹ کر بھیگی آنکھوں سے اُسے دیکھا...اُس کی آنکھیں بھی نم تھیں ...
آئی کانٹیکٹ ہوا ہی نہیں ...

*ختم شُد*

*© Copyrighted Original content. Nobody is allowed to use it in any form without permission*
____________🔴🔴

مثنوی، گیت، غزل، نظم، فســـــــانہ اترے
میرے کاغذ پہ جو اترے وہ ا‌چھوتا اترے

دائرہ دائرہ وَســـــــواس میں دریا اترے
ریت دامن میں کبھی آب صحیفہ اترے

پہرے والوں کو ہے معلوٗم نہ پیاسوں کو خبر
خواہشِ آب کہ مجھ میں کوئی پیاســا اترے

ڈوبنے والے بہت دیکھنے والے بھی بہت
کس کنارے سـے یہ بپھرا ہوا دریا اترے

منتظر ہوٗں کہ مِری کشتی گُم گَشتہ پر
شـــــــــاخِ زیتون لیے کوئی پرندہ اترے

جس کی زلفوں سےٹپکتے ہوں گُہر پانی کے
پیاس کی آگــــــــــ بُجھانے وہ مسیحا اترے

چشمِ بے آب میں ٹھہرا ہُوا بادل ہوٗں مَیں 
اشکـــــــــ بن جاؤں تو احسان ہَوا کا اترے

سلیمؔ شہزاد،
مالیگاؤں،ناشک،
مہاراشٹر ، انڈیا
________🔴🔴

۔۔ 100 "م " والی غزل 

دم بہ دم لام و سم جام و جم ایک دم 
دامِ لم کم سے کم نم کرم ایک دم 

خام و خم جودِ عم بام و رم زم الم
چشمِ نم رنج و غم محترم ایک دم

شامِ مرہم عَجَم یامِ درہم بھرم 
نامِ ارحم صنم عام خم ایک دم

محتشم ملتحم منتقم مغتنم
آمدم دوہرم آشرم ایک دم 

ہم عدم ہم الم ہم کرم ہم حرم 
ظلمِ لم ہم ستم ہم زلم ایک دم 

گامِ محکم ارم ہم قدم منہدِم 
معتصم ملتسم ملتزم ایک دم

مہتمِم منصرم منقسم منتظمِ 
ختم ہمدم ہَرَم خم قلم ایک دم

منتظمِ عاصی
مالیگاوں ( بھارت)
__________

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*🛑سیف نیوز اُردو*

جموں  کشمیراسمبلی کابجٹ اجلاس:دوسرے مرحلے کی کارروائی کے پہلے دن این سی اور بی جے پی ارکان اسمبلی نے کیاہنگامہ جموں ...