سردیوں میں خشک جلد سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
سردیاں کھانے پینے اور سفر کا لطف اٹھانے کے بہترین موسموں میں سے ایک ہیں، تاہم سخت موسم جلد کو خشک اور بے جان کر سکتا ہے۔ اکثر لوگوں کو بار بار ایسے پروڈکٹس استعمال کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو جلد کو صحت مند اور نمی سے بھرپور رکھیں۔
مارکیٹ میں متعدد برانڈز کی موجودگی میں، یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آپ کی جلد کے لیے کیا بہتر ہے۔
ہندوستان ٹائمز میں چھپنے والی ایک رپورٹ میں یہاں کچھ آسان ٹپس دیے گئے ہیں جو اس موسمِ سرما میں جلد کو چمکدار اور آرام دہ رکھنے میں مدد دیں گی۔
صفائی اور نمی
سردیوں میں جلد کی صفائی ایسے طریقے سے کرنی چاہیے کہ جلد کے قدرتی تیل ضائع نہ ہوں۔ عام فیس واش یا ڈرماٹولوجسٹ کی تجویز کردہ کلینزرز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔کلینزرز میں موجود اجزا چہرے سے میل، مردہ خلیات اور میک اپ صاف کرتے ہیں اور جلد کو ہائیڈریٹ رکھتے ہیں۔
موئسچرائز اور غذائیت
ایسا موئسچرائزر استعمال کریں جو جلد کی حفاظتی تہہ کی مرمت کرے۔ ایسے موئسچرائزر چننا چاہیے جس میں ceramides، peptides اور humectants جیسی اجزاء شامل ہو، کیونکہ یہ جلد کے خلیات کی مرمت کرتے ہیں۔ یہ اجزا نمی کو بند رکھ کر جلد کو نرم اور غذا سے بھرپور بناتے ہیں۔
پانی پر مبنی سیرم لگائیں
سردیوں میں جلد کی قدرتی تجدید کا عمل سست ہو جاتا ہے۔ لہٰذا موئسچرائزر کے بعد سیرم لگانا جلد کو نرم و ہموار کرنے میں مدد دیتا ہے اور جلن پیدا نہیں کرتا۔سیرمز کولیجن بڑھاتے ہیں، باریک لکیریں کم کرتے ہیں اور جلد کو روشن بناتے ہیں۔
ایکسفولیئٹ کریں
سردیوں میں مردہ جلد جلدی جمع ہو جاتی ہے۔ ہلکے ہاتھ سے ایکسفولیئشن (جلد کی مردہ تہہ کو صاف کرنا) کرنا ضروری ہے، جو مردہ اور خشک پیچز کو ختم کرتا ہے۔ ایکسفولیئشن جلد کو چمک بخشتا ہے اور چہرہ تازہ اور پرُاعتماد نظر آتا ہے۔
سن سکرین لگائیں
اگرچہ سردیوں میں سورج کی تیزی کم ہو جاتی ہے، مگر الٹرا والٹ شعاعیں پھر بھی جلد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ باہر نکلتے وقت سن سکرین ضرور لگائیں۔ خیال رکھیں کہ کریم سفید تہہ نہ چھوڑے اور چپچپی محسوس نہ ہو۔ سن سکرین جلد کی حفاظتی تہہ کو مضبوط کرتا ہے اور توازن برقرار رکھتا ہے۔
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان تاریخی آزادانہ تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات مکمل
بھارت اور نیوزی لینڈ نےایک جامع، متوازن اور مستقبل پر مبنی آزادانہ تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) کیا ہے، جو وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں ہند-بحرالکاہل خطے کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں ایک اہم اقتصادی اور اسٹریٹجک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ وکست بھارت 2047 کے قومی وژن کے مطابق بھارت کے سب سے تیزی سے مکمل ہونے والے ایف ٹی اے میں سے ایک ہے۔ بات چیت کا باضابطہ آغاز 16 مارچ 2025 کو تجارت اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل اور نیوزی لینڈ کے تجارت اور سرمایہ کاری کے وزیر ٹوڈ میک کلی کے درمیان ملاقات کے دوران کیا گیا۔ یہ معاہدہ 5 رسمی مذاکرات کے دوروں میں مسلسل اور گہری بات چیت، کئی ذاتی طور پر اور ورچوئل بات چیت کے ذریعے طے پایا۔ ایف ٹی اے ایک اعلی معیار کی اقتصادی شراکت داری قائم کرتا ہے جو روزگار کو فروغ دیتا ہے، ہنر مندی کی نقل و حرکت کو آسان بناتا ہے، تجارت اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کو آگے بڑھاتا ہے، زرعی پیداواریت کے لیے اختراع کو فروغ دیتا ہے اور طویل مدتی اقتصادی لچیلے پن کو مضبوط کرنے کے لیے ایم ایس ایم ای کی شرکت کو بڑھاتا ہے۔اس معاہدہ کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے، تجارت و صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے کہا ’’آج ہونے والے اس آزادانہ تجارتی معاہدہ کا تعلق لوگوں کے درمیان تجارت کو بڑھانے اور ہمارے کسانوں، ہمارے کاروباریوں، ہمارے طلباء، ہماری خواتین اور ہمارے اختراع کاروں کے لیے مواقع شروع کرنے سے ہے۔ پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرتے ہوئے یہ معاہدہ جدید زرعی پیداواریت کو تحریک دیتا ہے۔ یہ اچھی طرح سے مربوط سمت کی برآمدات کے ذریعے خطے میں بھارتی کاروباروں کے لیے مواقع کے دروازے کھولتا ہے اور ہمارے نوجوانوں کو عالمی سطح پر سیکھنے، کام کرنے اور ترقی کرنے کے لیے موقع فراہم کرتا ہے۔‘‘ اس کے تمام ٹیرف لائنوں پر 100 فیصد محصولات کے خاتمے کے ذریعے تمام بھارتی برآمدات کو ڈیوٹی فری رسائی فراہم کی گئی ہے۔ اس مارکیٹ تک رسائی سے بھارت کے محنت پر مبنی شعبوں کی مسابقت میں اضافہ ہوتا ہے، جن میں ٹیکسٹائل، ملبوسات، چمڑا، جوتے، سمندری مصنوعات، قیمتی پتھر اور زیورات، دستکاریاں، انجینئرنگ مصنوعات اور آٹوموبائلز شامل ہیں۔ اس سے براہِ راست بھارتی مزدوروں، کاریگروں، خواتین، نوجوانوں اور ایم ایس ایم ایز کو مدد ملتی ہے اور انہیں عالمی ویلیو چینز میں مزید مضبوطی سے شامل ہونے کا موقع ملتا ہے۔
یہ ایف ٹی اے اب تک نیوزی لینڈ کے تمام ایف ٹی ایز میں سب سے بہترین اور سب سے زیادہ جامع خدمات کی پیشکش فراہم کرتا ہے۔ بھارت نے آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات، پیشہ ورانہ خدمات، تعلیم، مالی خدمات، سیاحت، تعمیرات اور دیگر کاروباری خدمات سمیت متعدد اعلیٰ قدر کے شعبوں میں معاہدے کیے ہیں، جس سے بھارتی سروس فراہم کنندگان اور اعلیٰ مہارت والی ملازمتوں کے لیے نمایاں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ سکریٹری کامرس راجیش اگروالاس کے بارے میں کہا کہ”یہ ایک نئی نسل کا تجارتی معاہدہ ہے جو محصولات، زرعی پیداواریت، سرمایہ کاری اور ٹیلنٹ پر مبنی ہے، جس کی بنیاد تکمیلیت پر رکھی گئی ہے۔ بھارت کی صلاحیتیں برآمدات میں اضافہ کرتی ہیں، محنت پر مبنی ترقی میں تعاون کرتی ہیں اور خدمات کے شعبے کو تقویت پہنچاتی ہیں۔ نیوزی لینڈ کو بھارت کی وسیع اور تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت تک زیادہ گہری اور زیادہ قابلِ پیش گوئی رسائی حاصل ہوتی ہے۔ طلبہ، پیشہ ور افراد اور ہنرمند کارکنان کی نقل و حرکت ان صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے“۔مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور سہولت فراہم کرنے والا یہ موبیلٹی فریم ورک بھارت کو ہنر مند اور نیم ہنر مند ٹیلنٹ کے ایک اہم فراہم کنندہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ ایف ٹی اے بھارتی پیشہ ور افراد، طلبہ اور نوجوانوں کے لیے داخلے اور قیام سے متعلق بہتر سہولیات فراہم کرتا ہے، جن میں دورانِ تعلیم کام کے مواقع، تعلیم کے بعد کام کے امکاناات، مخصوص ویزا انتظامات اور ورکنگ ہالیڈے ویزا فریم ورک شامل ہیں۔ اس سے عوام سے عوام کے روابط مضبوط ہوں گے اور بھارتی نوجوانوں کے لیے عالمی سطح پر تجربے اور مواقع میں اضافہ ہوگا۔ یہ ایف ٹی اے ہنر مند روزگار کے نئے راستے کھولتا ہے، جس کے تحت بھارتی پیشہ ور افراد کے لیے ہنر مند شعبوں میں عارضی ملازمت کے داخلہ ویزا کا ایک نیا راستہ متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے تحت کسی بھی وقت 5,000 ویزوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے اور قیام کی مدت زیادہ سے زیادہ تین سال ہوگی۔ یہ طریقہ آیوش معالجین، یوگا انسٹرکٹرز، بھارتی شیفس اور موسیقی کے اساتذہ سمیت بھارتی پیشوں کا احاطہ کرتا ہے، نیز آئی ٹی، انجینئرنگ، صحت، تعلیم اور تعمیرات جیسے زیادہ طلب والے شعبے بھی اس میں شامل ہیں۔ اس سے افرادی قوت کی نقل و حرکت اور خدمات کی تجارت کو تقویت ملے گی۔
کیوی فروٹ، سیب اور شہد سے متعلق زرعی ٹیکنالوجی کے لیے مخصوص ایکشن پلانز کے قیام کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جن میں پیداوار میں اضافے، ٹیکنالوجی کے استعمال، تحقیقی تعاون، معیار میں بہتری اور ویلیو چین کی ترقی پر توجہ دی گئی ہے۔ اس کا مقصد گھریلو صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور بھارتی کسانوں کی آمدنی میں اضافے میں مدد کرنا ہے۔ اس تعاون میں سینٹر آف ایکسی لینس کا قیام، پودوں کے مواد کی بہتر فراہمی، کاشتکاروں کی استعداد سازی اور باغبانی کے انتظام، فصل کے بعد کے طریقۂ کار، سپلائی چین کی کارکردگی اور غذائی تحفظ کے لیے تکنیکی معاونت شامل ہے۔ سیب کے کاشتکاروں اور شہد کی مکھی پالنے کے پائیدار طریقوں سے متعلق منصوبوں سے پیداوار اور کوالٹی معیارات میں بہتری آئے گی۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کی شراکت داری کو نمایاں طور پر مضبوط بناتا ہے۔ نیوزی لینڈ نے آئندہ پندرہ برسوں میں بھارت میں 20 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے بھارت کے میک اِن انڈیا وژن کے تحت مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے، خدمات، اختراع اور روزگار کو فروغ ملے گا۔ بھارتی صنعتوں کو بھی نیوزی لینڈ میں اپنی موجودگی کے ذریعے فائدہ ہونے اور وسیع تر پیسفک جزائر کے بازاروں تک رسائی حاصل ہونے کی توقع ہے۔دواسازی اور طبی آلات کے شعبے کو تیز تر ریگولیٹری رسائی کے ذریعے تقویت ملے گی، جس کے تحت دوسرے ملک کے ریگولیٹرز کی جانب سے جی ایم پی اور جی سی پی معائنے کی رپورٹس کو تسلیم کیا جائے گا، جن میں امریکی ایف ڈی اے، ای ایم اے، برطانیہ کے ایم ایچ آر اے اور دیگر ہم پلہ ریگولیٹرز کی منظوری شامل ہے۔ اس اقدام سے دہرا معائنہ کم ہوگا، تعمیلی لاگت میں کمی آئے گی اور مصنوعات کی منظوری کے عمل میں تیزی آئے گی، جس کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کے لیے بھارت کی دواسازی اور طبی آلات کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ جغرافیائی اشاریوں کے حوالے سے معاہدے میں توسیع کی گئی ہے، جس کے تحت بھارت کی وائن، اسپرٹس اور ’’دیگر اشیاء‘‘ کے رجسٹریشن کو سہل بنانے کے لیے اپنے قانون میں ترمیم کی جائے گی۔ یہ وہی فائدہ ہے جو نیوزی لینڈ کی جانب سے یورپی یونین کو دیا گیا تھا اور اسے طے شدہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا۔
آیوش، ثقافت، ماہی گیری، آڈیو ویژول سیاحت، جنگلات، باغبانی اور روایتی علم کے نظاموں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا ہے۔یہ ایف ٹی اے بھارت کے آیوش نظاموں کو عالمی سطح پر فروغ دیتا ہے، علاج کے لیے معیاری سفر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور بھارت کو ایک عالمی ویل نیس مرکز کے طور پر پیش کرتا ہے۔ محض محصولات میں نرمی کے علاوہ، ایف ٹی اے میں غیر محصولاتی رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے بھی دفعات شامل ہیں، جن میں ریگولیٹری تعاون کو مضبوط بنانا، شفافیت اور کسٹمز، سینیٹری اور فائٹو-سینیٹری (ایس پی ایس) اقدامات اور تجارت میں تکنیکی رکاوٹوں سے متعلق ضوابط کو سادہ اور مؤثر بنانا شامل ہے۔ درآمدات کے لیے تمام نظامی سہولتیں اور فاسٹ ٹریک طریقۂ کار، جو ہماری تیار کردہ برآمدات کے لیے خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ محصولات میں دی گئی رعایتیں مؤثر اور بامعنی مارکیٹ رسائی میں تبدیل ہوں۔
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان اقتصادی تعلقات میں مسلسل رفتار دیکھی گئی ہے۔ دو طرفہ تجارتی سامان کی تجارت 2024–25 میں 1.3 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ اشیاء اور خدمات میں مجموعی تجارت 2024 میں تقریباً 2.4 ارب امریکی ڈالر رہی۔ صرف خدمات کی تجارت 1.24 ارب امریکی ڈالر تک پہنچی، جس میں سفر، آئی ٹی اور کاروباری خدمات کا نمایاں کردار رہا۔ ایف ٹی اے ان تعلقات کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ وزیر اعظم مودی کی دوراندیش قیادت میں اس سال طے پانے والا تیسرا ایف ٹی اے، بھارت–نیوزی لینڈ آزادانہ تجارتی معاہدہ، نئی نسل کی تجارتی شراکت داری کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ معاہدہ وکست بھارت 2047 کے وژن کے تحت بھارت کے ایک عالمی سطح پر مسابقتی، شمولیاتی اور مضبوط معیشت بننے کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔ…..داغ دہلوی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
داغ دہلوی 25 مئی 1831 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام نواب مرزا خان ہے اور ادبی نام جس سے وہ جانے پہنچانے جاتے ہیں وہ داغ دہلوی ہے۔ ان کے والد نواب شمس الدین خان تھے۔ والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ نے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخرو سے شادی کی، جس کے نتیجے میں داغ، دہلی کے قلعہ معلی میں پرورش پانے لگے۔ ان کا بچپن شاہی ماحول میں گزرا اور وہیں انہیں علم و ادب کا ذوق وراثت میں ملا۔ انہوں نے مشہور استاد شیخ ابراہیم ذوق سے شاعری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔
ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغ
جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
داغ دہلویؔ
ادبی خدمات اور شاعری
داغ دہلوی کی شاعری میں سادگی، روانی اور روزمرہ کی زبان نمایاں ہے، یہی خصوصیت انہیں مقبول بناتی ہے۔ ان کی شاعری میں رومانوی جذبات، حسن و عشق اور دل کی کیفیات کو نہایت سلیقے سے بیان کیا گیا ہے۔ وہ غزل، رباعی، مثنوی جیسے اصناف سخن میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے کلام کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہایت آسان زبان میں گہری بات کہنے کا ہنر رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار عوام و خواص میں یکساں مقبول ہوئے۔ داغ دہلوی نے پانچ دیوان مرتب کیے جن میں کل 1028 غزلیں شامل ہیں۔ ان کے ہزاروں شاگرد تھے، جن میں کئی بڑے شعرا شامل ہیں۔ وہ اردو شاعری میں رومانوی غزل کو نئی جہت دینے والے شاعر مانے جاتے ہیں۔ ان کا کلام آج بھی مشاعروں، نصابی کتابوں اور عوامی مجالس میں سنا اور پڑھا جاتا ہے۔
آخری ایام
اپنے آخری ایام میں داغ دہلوی حیدرآباد دکن چلے گئے، جہاں انہیں نظام دکن کا استاد مقرر کیا گیا۔ ان کی زندگی کا آخری حصہ وہیں گزرا۔ 1905ء میں فالج کے سبب ان کا انتقال ہوا۔ داغ دہلوی اردو شاعری کا ایک ایسا درخشاں نام ہیں جنہوں نے سادہ زبان میں گہری باتیں کہہ کر اردو ادب کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی شاعری نہ صرف ان کے دور میں مقبول تھی بلکہ آج بھی اپنی تازگی اور تاثیر کے ساتھ زندہ ہے۔