ثبوں کی کمی یا پولیس کی ناکامی؟ شاہین ملک ایسڈ اٹیک کیس میں 16 سال بعد سبھی ملزمین بری
دہلی کی روہنی کورٹ میں بدھ کے روز جب جج نے بری کا لفظ استعمال کیا تو 16 سال سے انصاف کی امید لگائے بیٹھی پانی پت کی شاہین ملک ٹوٹ گئیں۔ آنکھوں میں آنسو اور دل میں گہری ٹیس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اگر 16 سال عدالتوں کے چکر لگانے کا یہی انجام تھا تو شاید اسی وقت بدلہ لے لینا چاہیے تھا۔ یہ بیان اس نظام پر ایک زوردار طمانچہ ہے جس نے ایک ہونہار ایم بی اے طالبہ کے خوابوں کو تیزاب میں جلتے دیکھا، مگر قصورواروں کو سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کے لیے خاطر خواہ ثبوت تک جمع نہ کر سکا۔ عدالت نے شواہد کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے تمام ملزمین کو بری کر دیا۔
کیا تھا پورا معاملہ؟یہ کہانی سال 2009 کی ہے، جب شاہین ملک ہریانہ کے پانی پت میں واقع پنجاب ٹیکنیکل یونیورسٹی میں ایم بی اے کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ الزام تھا کہ ان کے اُس وقت کے باس (جو شادی شدہ تھا) نے ان کا جسمانی اور ذہنی استحصال کیا۔ تنازع بڑھا تو ایک سازش رچی گئی۔ پولیس تفتیش کے مطابق ملزم کی بیوی نے یونیورسٹی کے ہی ایک طالب علم کے ساتھ مل کر شاہین پر ایسڈ اٹیک کروایا۔ اس حملے نے شاہین کے چہرے کے ساتھ ساتھ ان کی پوری دنیا کو جھلسا دیا۔
سپریم کورٹ تک پہنچی گونج
شاہین پر ہونے والے اس سفاک حملے نے ملک بھر میں غصہ اور اضطراب پیدا کردیا۔ معاملہ اتنا سنگین تھا کہ 2013 میں غیر جانبدار سماعت کے لیے ٹرائل کو ہریانہ سے دہلی منتقل کر دیا گیا۔ اسی کیس کے سبب ایسڈ اٹیک کا مسئلہ سپریم کورٹ تک پہنچا، جس کے بعد اعلیٰ عدالت نے ملک بھر میں تیزاب کی کھلے عام فروخت پر سخت پابندی اور رہنما ہدایات نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے۔ اتنے بڑے سانحے کے باوجود شاہین نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے ایک این جی او قائم کی جو آج ملک بھر میں ایسڈ اٹیک سے بچ جانے والوں کو طبی مدد اور اسکل ٹریننگ فراہم کرتی ہے۔عدالت کا فیصلہ اور تفتیش میں خامیاں
بدھ کو ایڈیشنل سیشن جج جگموہن سنگھ نے ملزمان کو بری کرتے ہوئے پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے۔ عدالت نے مانا کہ:
تفتیش میں لاپرواہی: پولیس ملزمین کے خلاف مضبوط شواہد اور سائنسی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی۔
سنگین خامیاں: تفتیشی عمل میں موجود کمزوریوں کے باعث استغاثہ اپنا کیس ثابت نہ کر سکا۔
شواہد کا فقدان: 16 سال تک جاری طویل ٹرائل کے باوجود قانون کی نظر میں ملزمین کا جرم ثابت نہیں ہو پایا۔
جے پور میں ہٹ مین روہت شرما نے جے پور میں بکھیرے جلوے ، 175 کے اسٹرائیک ریٹ سے بنائی سنچری ، سکم کے گیند بازوں کی دھنائی
نئی دہلی۔ ہندوستانی کرکٹ کے “ہٹ مین” روہت شرما ایک بار پھر دھوم مچا رہے ہیں۔ وجے ہزارے ٹرافی میں، روہت نے دھواں دار سنچری اسکور کی جس نے کرکٹ شائقین کے ساتھ ساتھ سلیکٹرز کی توجہ بھی حاصل کی۔ جے پور گراؤنڈ میں کھیلے گئے اس میچ میں سکم کے گیند باز روہت کے خلاف بالکل بے بس نظر آئے۔
اس میچ میں روہت کو نوجوان بلے باز انگکرش رگھوونشی کا شاندار تعاون ملا۔ دونوں نے مل کر پہلی وکٹ کے لیے 141 رنز کی شراکت داری کی ، جس سے ٹیم کو مضبوط آغاز ملا۔ جہاں روہت نے جارحانہ کردار ادا کیا، انگکریش نے اننگز کو تحمل کے ساتھ آگے بڑھاتے ہوئے مخالف پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔غور طلب ہے کہ روہت شرما اس سے قبل آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیموں کے خلاف کئی بڑی اننگز کھیل چکے ہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں اس طرح کی کارکردگی صاف ظاہر کرتی ہے کہ روہت اب بھی بڑے مرحلے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
روہت کا جے پور میں دکھا جلوہ
روہت شرما کی جارحانہ بلے بازی نے سکم کو 237 رنز کے ہدف کو معمولی بنادیا ۔ ہٹ مین نے 62 گیندوں میں سنچری اسکور کی۔ 175 کے اسٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کرتے ہوئے انہوں نے رنز کی بارش کردی۔ اپنی اننگز کے دوران روہت نے 8 لمبے چھکے اور 8 چوکے لگائے۔ وجے ہزارے کی یہ سنچری صرف اعداد و شمار کے حوالے سے نہیں تھی بلکہ روہت کی ذہنی طاقت اور تجربے کی بھی ایک بہترین مثال تھی۔ میدان کے چاروں طرف ان کے شاٹس نے تماشائیوں کو خوب محظوظ کیا ۔ روہت نے میچ سے پہلے نیٹ میں کافی پسینہ بہایا تھا ، جس کا نتیجہ میچ میں دیکھنے کو ملا۔
کیا روہت دوبارہ کپتان بن سکتے ہیں؟
کرکٹ حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں عروج پر ہیں کہ روہت شرما اپنی شاندار فارم کی بدولت دوبارہ کپتانی سنبھالنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کا تجربہ، قائدانہ صلاحیتیں، اور مسلسل کارکردگی اسے ایک بار پھر ٹیم کے لیے ایک قیمتی آپشن بن سکتی ہے۔ 2027 ورلڈ کپ سے قبل روہت شرما کی فارم بار بار اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انہیں کپتانی سے ہٹانا ایک غلطی تھی، اور اب سلیکٹرز کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ یو ٹرن لے کر اپنی غلطی کو درست کریں اور ایک بار پھر روہت کو ون ڈے کی کپتانی سونپ دیں۔ اگرچہ یہ قبل از وقت ہو سکتا ہے، تاہم یہ یقینی طور پر سلیکٹرز کے لیے ایک آپشن رہے گا ۔
مذہب میں پردہ کا رواج ، ڈنمارک کے اسکولوں اور کالجوں میں برقعہ پر پابندی سے ہندوستان میں غم وغصہ
آگرہ: اترپردیش کے آگرہ میں مسلم کمیونٹی ڈنمارک کے بیان سے برہم ہے۔ ڈنمارک نے حال ہی میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں برقعہ اور نقاب پر پابندی لگانے کی تجویز کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ڈنمارک میں پہلے ہی عوامی مقامات پر حجاب اور برقعہ پر پابندی عائد ہے۔ آگرہ میں مسلم کمیونٹی کے ارکان نے اس معاملے پر احتجاج کیا ہے۔
ہندوستان میں سب کو برابر کے حقوق حاصل
مسلم کمیونٹی نے کہا کہ ڈنمارک ایک الگ ملک ہے اور وہ ہندوستان کے شہری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ہندوستانی کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان آئین کے تحت چلتا ہے، کسی کے بیانات سے نہیں۔ مسلم کمیونٹی کے ارکان نے کہا کہ ڈنمارک اپنے اصول کے تحت چلے ہمیں اس سے کو ئی مطلب نہیں ۔ ہندوستان میں ہر ایک کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور ہر ایک کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان ہے، ڈنمارک نہیں۔ ہم ہندوستانی ہیں، اور ہمیں اپنے مذہب کے مطابق لباس پہننے اور عبادت کرنے کا پورا حق ہے۔مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے نوجوان ندیم نور نے بتایا کہ ڈنمارک ایک الگ ملک ہے اور اس کے قوانین اور آئین مختلف ہیں۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، اور ہندوستانی آئین کے تحت سب کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا آئین ہمیں بتاتا ہے کہ ہم اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں جیسا کہ ہم مناسب سمجھتے ہیں۔ ندیم نے مزید کہا کہ ہندوستان میں ہر ایک کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے۔ برقعہ اور نقاب پہننا اسلامی تعلیمات کے تحت ضروری ہے۔
اسلام پردے کا حکم دیتا ہے
سینئر مسلم سماجی کارکن محمد شریف قریشی نے کہا کہ اسلام پردے کا حکم دیتا ہے۔ اس کے مطابق مسلمان خواتین نقاب اور برقعہ پہنتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام مذاہب کی خواتین پردے کی پابندی کرتی ہیں۔
ہندو خواتین بھی پردہ کرتی ہیں
سینئر مسلم سماجی کارکن ڈاکٹر سراج قریشی نے کہا کہ ہندو خواتین بھی پردہ کرتی ہیں۔ ڈاکٹر سراج نے بتایا کہ آج بھی دیہات میں خواتین اپنے بزرگوں کے سامنے منہ ڈھانپتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں پردے کی بہت اہمیت ہے۔