Thursday, 27 November 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





عمران خان کی موت کی افواہ بے بنیاد ، اڈیالہ جیل انتظامیہ کی وضاحت
عمران خان کی صحت و سلامتی کے حوالےسے افواہوں کا بازار گرم ہے۔ روالپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان کے قتل کی افواہ اتنی شدت اختیار کرگئی کہ شہباز شریف حکومت جواب دینا پڑا۔ بدھ کی شب جیل انتظامیہ نے ایک بیان جاری کیا۔ حکام نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو جیل سے کہیں منتقل نہیں کیا گیا ہے اور وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں ۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ ان کی صحت کے بارے میں افواہیں بنیادی طور پر غلط ہیں اورانھیں مکمل طبی امداددی جارہی ہیں۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں بدعنوانی سے لے کر دہشت گردی تک کے متعدد الزامات کا سامنا ہے۔اس بیچ ، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہےکہ عمران خان کو جیل میں تمام سہوت بہم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اچھا کھانا دیا جارہا ہے جوفائیو سٹار ہوٹل کے کھانے سے بہتر ہے۔ ان کے پاس ٹی وی، اپنے پسندیدہ چینلز دیکھنے کی سہولت، ورزش کرنے آلات اور یہاں تک کہ ایک ڈبل بیڈ اور مخمل کا گدا بھی ہے۔جیل میں اپنے وقت کو یاد کرتے ہوئے آصف نے کہا کہ انھوں نے سردیوں کی راتیں ٹھنڈی فرش پر صرف دو کمبلوں کے ساتھ گزاری تھیں اور گرم پانی دستیاب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل کے لاؤڈ اسپیکر پر ان کی واشنگٹن ایرینا کی تقریر سننی چاہیے۔عمران کی بہن کا احتجاج ختم 
ادھر اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی بہن علیمہ خان کی قیادت میں دھرنا بالآخر بدھ کو ختم ہوگیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔ پولیس کے ساتھ مذاکرات کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق پولیس حکام نے علیمہ خان اور پی ٹی آئی لیڈروں سے بات چیت کی اور انہیں یقین دلایا کہ علیمہ خان اور ان کے اہل خانہ کی عمران خان سے آج اور اگلے منگل کو دوبارہ ملاقات کا انتظام کیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد اہل خانہ نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔بہن نے کیا الزامات لگائے؟
احتجاج کے دوران علیمہ خان کا کہنا تھا کہ جب تک انہیں اپنے بھائی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی وہ سائٹ سے نہیں نکلیں گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جو غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندان پرامن طریقے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہا ہے اور ان پرکسی طرح کا کوئی دباؤ غلط ہے۔ علیمہ نے ان لوگوں پر بھی حملہ کیا جو ان کے احتجاج کو ڈرامہ قرار دے رہے تھے۔ انھوں نے پوچھا کہ اگر یہ سب ڈرامہ ہے تو پھر اتنی بڑی پولیس تعیناتی کیوں ہے؟ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ چاہے تو انھیں گرفتار کر سکتی ہے لیکن وہ ڈرنے والی نہیں ۔












چین میں ٹرین حادثہ،11 افراد ہلاک ، حادثے کی جانچ کے احکامات جاری
چین کے صوبے یونان میں ایک المناک حادثہ ہوا ہے ۔ ٹرین کے تصادم سے 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ جنوب مغربی چین کے کنمنگ لویانگ ٹاؤن اسٹیشن پرہوا آیا۔

جمعرات کی صبح، زلزلہ کے آلات کی جانچ کے لیے استعمال ہونے والی ایک ٹیسٹ ٹرین کام میں مصروف ورکرس سے ٹکرا گئی۔ ٹرین کی زد میں آکر کئی مزدورکچلے گئے ۔

ٹرین معمول کے مطابق سفر کر رہی تھی کہ کنمنگ لوویانگ ٹاؤن اسٹیشن کام کررہے ورکرس سے ٹکراگئی۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق اس واقعے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں ۔ ٹیسٹ ٹرین نمبر 55537، جو زلزلے کے آلات کو جانچنے کے لیے استعمال ہوتی ہے ٹریک پر کام مںیں مصروف ورکرس سے ٹکرا گئی۔
حادثہ کیسے ہوا؟
حادثے کے فوری بعد ریلوے اور مقامی حکام نے ہنگامی امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ حکام کے مطابق اسٹیشن آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ کنمنگ ریلوے اتھارٹی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیاہے۔حادثے کی جانچ کی جارہی ہے۔چین میں ماضی میں ہوئے ریل حادثات
اگرچہ چین میں حادثات کوئی نئی بات نہیں کیونکہ حفاظتی معیارات پر عمل نہیں کیا جاتا اور ضابطے واضح نہیں ہیں۔بڑی بات یہ ہے کہ اس حادثے میں11 افراد کی موت ہوئی ہے ۔ واضح رہے کہ 14 دسمبر 2023 کو بیجنگ کی سب وے لائن پر دو ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئی تھیں۔اس حادثے میں515 افراد زخمی ہوگئے تھے ۔ 4 جون 2022 کو، ایک تیز رفتار ٹرین گیزو صوبے میں رونگجیانگ اسٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئی تھی ۔ جس سے ڈرائیور کی موت جبکہ بارہ مسافر زخمی ہوگئےتھے۔












دھاکہ میں آتشزدگی ، سیکڑوں عارضی مسکن خاکستر، ہزاروں افراد بے گھر
ڈھاکہ آتشزدگی میں سیکڑوں عارضی رہائش گاہیں تباہ ہوگئی ہیں ۔ شعلوں نے سیکڑوں افراد کو بے گھر کردیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً 1,500 جھونپڑیاں خاکسترہوگئی ہیں ۔خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ، آگ منگل کی شام لگی اور 16 گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد اس پر قابو پایاجاسکا۔ محکمہ فائر سروسز اینڈ سول ڈیفنس کے ڈیوٹی افسرراشد بن خالد نے واقعے کی تصدیق کی۔

فائر سروس کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کرنل محمد تاج الاسلام چودھری نے بتایا کہ، آگ لگنے سے تقریباً 1500 جھونپڑیاں تباہ ہوگئیں ۔ہزاروں افراد کھلے آسمان کے نیچے رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔جھگی جونپڑیوں میں تھے ہزاروں خاندان رہائش پذیر
کوریل ڈھاکہ کا سب سے بڑا جھگی جھونپڑ ی علاقہ ہے، جہاں تقریباً 60,000 خاندان آبادتھے ۔ ان میں بہت سے افراد ایسے ہیں جو گاؤں سے شہر روزی روٹی کی تلاش میں آئے ہیں۔ یہ آباد ی ڈھاکہ کے پوش علاقوں گلشن اور بنانی کے قریب واقع ہے، جس کی سرحدیں بلند و بالا عمارتوں سے ملتی ہیں۔ منگل کی شام آگ نمودارہوئی اور دیکھتے دیکھتے بڑے حصے کواپنی زدمیں لے لیا۔
شعلے آسمان کی جانب لپکنے لگے۔آگ کا دائرہ جیسےجیسے وسیع ہوتا گیا یہ اور شدید ہوتی گئی۔پورے علاقہ دھواں ھواں ہوگیا۔ افرا تفری مچ گئی۔آتش فرو عملہ موقع پرپہنچا اور آگ بجھانے میں مصروف ہوگیا لیکن یہ کام آسان نہ تھا۔ فائر ڈپارٹمنٹ نے اطلاع دی کہ تنگ گلیوں کی وجہ سے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو اندرون تک پہنچنے سے روکا گیا جس کی وجہ سے آگ بجھانے میں تاخیر ہوئی۔ ان بستیوں کا لوگ کیوں کرتے ہیں رخ ؟

قابل غور بات ہے کہ ڈھاکہ کی آبادی 2024 کے اعدادوشمار کے مطابق 1 کروڑ سے زیادہ ہے۔ یہاں کئی جھگی جھونپڑیاں ہیں ۔ غربت، بے روزگاری اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ آفات لوگوں کو ان عارضی شہری آبادیوں میں دھکیلتی ہیں۔





*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...