Sunday, 16 November 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*




یورینیم کی افزائش پر پیچھے ہٹا ایران، وزیر خارجہ نے پہلی بار کہا: کوئی پلانٹ ایکٹو نہیں
بین الاقوامی دباؤ اور حالیہ عسکری جھڑپوں کے درمیان ایران نے پہلی بار باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ ملک میں اس وقت کہیں بھی یورینیم کی افزائش (Uranium Enrichment) کا کام نہیں ہو رہا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو یہ اہم بیان دیا، جس میں انہوں نے صاف کہا کہ ان کے تمام جوہری مراکز غیر فعال ہیں اور کوئی بھی پلانٹ اس وقت کام نہیں کر رہا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک صحافی کے سوال پر عراقچی نے کہا کہ “ہمارے یہاں کہیں بھی یورینیم کی افزائش نہیں ہو رہی۔ ہمارے تمام جوہری مراکز بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں ہیں۔ ہمارے تنصیبات پر حملہ ہوا تھا اور اسی وجہ سے وہاں کا کام فی الحال رکا ہوا ہے۔” یہ بیان اس حملے کے پس منظر میں ہے جس میں جون میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ پہلی بار ہے کہ ایران نے کھل کر تسلیم کیا ہے کہ حملے کے بعد اس کی افزائش کی صلاحیت مکمل طور پر ٹھپ ہو گئی ہے۔حق نہیں چھوڑیں گے، کام روکنا مجبوری تھی”
عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹا ہے، بلکہ حالات کے باعث افزائش کے عمل کو روکنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “یورینیم کی افزائش کا حق ہمارا قانونی اور خودمختارانہ حق ہے۔ ہم نے یہ حق چھوڑا نہیں ہے اور مستقبل میں بھی اسے استعمال کریں گے۔ دنیا کو اسے تسلیم کرنا ہوگا۔”
بات چیت جاری رکھنے کا اشارہ
ایران نے اشارہ دیا کہ وہ دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن کسی بھی معاہدے کی شرط میں اس کے جوہری حقوق کو ماننا ضروری ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مغربی ممالک اور IAEA ایرانی مراکز کے معائنے کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ اسرائیل کی بمباری میں ایرانی ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ افزائش کے عمل کو روکنے کا اعلان ایران کی ایک اسٹریٹجک مجبوری بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ بغیر مناسب تحفظ کے وہ اسے دوبارہ شروع کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔اب دنیا کی نظر اس بات پر ہوگی کہ ایران افزائش کے عمل کو کب اور کیسے شروع کرتا ہے اور کیا وہ اس مسئلے کو مذاکرات کی میز پر ایک سفارتی ہتھیار کی طرح استعمال کرے گا۔ فی الحال، ایران نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ کام رکا ہے، حق نہیں۔









اُس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں: امیر مینائی - 
حیدرآباد: امیر مینائی اردو کے مشہور و معروف شاعر و ادیب تھے۔ وہ 1828ء میں شاہ نصیر الدین شاہ حیدر نواب اودھ کے عہد میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مفتی سعد اللہ اور ان کے ہمعصر علمائے فرنگی محل سے تعلیم حاصل کی۔ خاندان صابریہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت امیر شاہ سے بیعت کی۔ شاعری میں اسیر لکھنوی کے شاگرد ہوئے۔

سال 1852ء میں نواب واجد علی شاہ کے دربار میں رسائی ہوئی اور حسب الحکم دو کتابیں شاد سلطان اور ہدایت السلطان تصنیف کی۔ 1857ء کے بعد نواب یوسف علی خاں کی دعوت پر رامپور چلے گئے۔ ان کے فرزند نواب کلب علی خاں نے اُن کو اپنا استاد بنایا۔ نواب صاحب کے انتقال کے بعد رامپور چھوڑنا پڑا۔ 1900 میں حیدرآباد آگئے جہاں کچھ دن قیام کیا تھا کہ بیمار پڑ گئے اور وہیں انتقال ہو گیا۔ آئیے آج کے شعر و ادب میں ان کی مشہور زمانہ غزل 'اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں' ملاحظہ فرمائیں...
اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں

ڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں

ڈال کے خاک میرے خون پہ قاتل نے کہا

کچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں

ضبط کمبخت نے یاں آ کے گلا گھونٹا ہے

کہ اسے حال سناؤں تو سنا بھی نہ سکوں

نقش پا دیکھ تو لوں لاکھ کروں گا سجدے

سر مرا عرش نہیں ہے جو جھکا بھی نہ سکوں

بے وفا لکھتے ہیں وہ اپنے قلم سے مجھ کو

یہ وہ قسمت کا لکھا ہے جو مٹا بھی نہ سکوں

اس طرح سوئے ہیں سر رکھ کے مرے زانو پر

اپنی سوئی ہوئی قسمت کو جگا بھی نہ سکوں










بڈگام میں المناک سڑک حادثہ، کار اور ٹرک کے تصادم میں چار افراد ہلاک، متعدد زخمی
بڈگام (محمد عارف): حکام کے مطابق، جموں و کشمیر کے بڈگام ضلع میں ہفتہ کی رات ایک اسپورٹس یوٹیلیٹی گاڑی کے ایک ڈمپر ٹرک سے ٹکرانے سے کم از کم چار لوگوں کی موت ہو گئی اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔

ایک اہلکار نے بتایا کہ بڈگام رنگ روڈ پر وترونی کے مقام پر ایک ڈمپر جو ٹاٹا سومو مسافر گاڑی سے ٹکرا گیا، جس سے چار مسافر موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
مقامی افراد، راہگیر اور پولیس اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا۔


مہلوکین کے نام:
1. زینب دختر نثار احمد راتھر ساکن مہوارہ عمر 10 سال
2. نثار احمد راتھر ولد غلام احمد راتھر ساکن مہوارہ عمر 40 سال
3. بشیر احمد راتھر ولد محمد قاسم راتھر ساکن مہوارہ عمر 36 سال
4. خاتون زوجہ غلام حسین راتھر عمر 60 سال
زخمیوں کی فہرست:
1. زونہ بانو زوجہ مرحوم غلام محمد راتھر ساکن مہوارہ عمر 70 سال ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سری نگر منتقل
2. شاہ زوجہ محمد قاسم تانترے ساکن مہوارہ عمر 50 سال ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سری نگر منتقل
3. گلشن زوجہ غلام مصطفی راتھر ساکن مہوارہ عمر 50 سال ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سری نگر منتقل
4. صفیہ زوجہ محمد قاسم ڈار ساکن مہوارہ عمر 40 سال ڈسٹرکٹ ہسپتال بڈگام میں زیر علاج
5. تصدق حسین ڈار ولد بشیر احمد ڈار ساکن مہوارہ عمر 25 سال ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سری نگر منتقل
6. راجہ زوجہ مہدی راتھر ساکن مہوارہ عمر 48 سال ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سری نگر ریفر
7. جسبیر سنگھ ولد ویرو سنگھ ساکن گورداسپور پنجاب A/P رنگ روڈ سائٹ ناربل عمر 32 سال (ہائیڈرولک کرین کا کنڈکٹر)وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بڈگام میں ہونے والے المناک حادثے پر صدمے اور غم کا اظہار کیا ہے، جہاں متعدد جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے یقین دلایا ہے کہ، حادثے کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے مکمل چھان بین کی جائے گی۔جموں و کشمیر کے ایل جی منوج سنہا نے بھی بڈگام حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ، "بڈگام میں ایک المناک سڑک حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع سے انتہائی دکھ ہوا ہے۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔"

اس ضمن میں آغا سید روح اللہ ممبر پارلیمنٹ، امران رضا انصاری سئنیرسیاست دان، آغا مجتبٰی، آغا منتظر مہدی ممبر اسمبلی بڈگام کانسٹیونسی، ڈاکٹر فاروق عبداللہ صدر جموں ؤ کشمیر نیشنل کانفرنس اور دیگر سماجی، سیاسی اور مذہبی لیڈرشپ نے ہلاکتوں پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کو اعلی طبی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...