Sunday, 16 November 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*




وہ چار عادات جو انسان کے دماغ کو آہستہ آہستہ تباہ کر دیتی ہیں
ہمارا دماغ ہر روز انتھک کام کرتا ہے، یادداشت، توجہ، جذبات اور فیصلے لینے جیسے اہم افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔ مگر ماہرین کے مطابق ہم میں سے اکثر لوگ انجانے میں ایسی عادات اختیار کر لیتے ہیں جو وقت کے ساتھ دماغی صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق معروف نیوروسرجن ڈاکٹر رچرڈ وینا، جنہیں نیوروسرجری میں 25 سال سے زائد کا تجربہ حاصل ہے، نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں ایسی چار عام روزمرہ کی عادات کی نشاندہی کی ہے جو دماغ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
1: ناکافی نیند
ڈاکٹر وینا کا کہنا ہے کہ مسلسل نیند کی کمی دماغ کی مرمت کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ ان کے مطابق مناسب نیند کے بغیر دماغ زہریلے مادے خارج نہیں کر پاتا اور نہ ہی یادداشت کو درست طور پر محفوظ کر سکتا ہے، جس سے ذہنی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
2: ورزش سے گریز
ورزش دماغ میں خون کے بہاؤ کو نمایاں طور پر بڑھاتی ہے، جس سے یادداشت اور توجہ میں بہتری آتی ہے۔ ڈاکٹر رچرڈ وینا کا کہنا ہے کہ جسمانی سرگرمی صرف جسم کے لیے نہیں بلکہ دماغی تیزی اور واضح سوچ کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔3: مسلسل ذہنی دباؤ
ڈاکٹر وینا خبردار کرتے ہیں کہ طویل مدتی ذہنی دباؤ، کورٹیسول نامی ہارمون کی سطح بڑھا دیتا ہے، جو دماغی خلیات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ ذہنی دباؤ پر قابو پانے کے لیے مائنڈفلنیس، مراقبہ یا دن بھر میں مختصر وقفے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
4: زیادہ پراسیسڈ خوراک کا استعمال
ڈاکٹر کے مطابق زیادہ شکر اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذائیں دماغ میں سوزش کو بڑھا کر اسے جلد بوڑھا کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق مکمل اور متوازن غذا کا استعمال دماغی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔











بنگلہ دیش کا انتخابات والے روز جمہوری اصلاحات کے چارٹر پر ریفرنڈم کروانے کا فیصلہ
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے کہا ہے کہ تاریخی جمہوری اصلاحات کے چارٹر پر آئندہ سال فروری میں ریفرنڈم کروایا جائے گا جس روز پارلیمانی انتخابات منعقد ہونا ہوں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نوبل امن انعام یافتہ 85 سالہ محمد یونس نے کہا کہ گزشہ سال بغاوت کے بعد ’مکمل ٹوٹا پھوٹا‘ سیاسی نظام ورثے میں ملا ہے، اصلاحات کا چارٹر آمرانہ نظام کی واپسی سے بچنے کے لیے اہم ہے۔
قوم سے خطاب میں محمد یونس کا کہنا تھا، ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ریفرنڈم بھی اُسی روز کروایا جائے گا جس روز پارلیمانی انتخابات ہونا ہیں۔‘’یہ کسی طرح سے بھی اصلاحات کے مقصد میں رکاوٹ نہیں پیدا کرے گا۔ کم خرچ کے ساتھ پرجوش انتخابات ہوں گے۔’
انتخابات سے پہلے مختلف اصلاحات کا مسوہ ’جولائی چارٹر‘ سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
اصلاحات کے ذریعے ایگزیکٹو، عدلیہ اور قانون سازی کے اداروں کے مابین چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مضبوط کیا جائے گا جبکہ وزیر اعظم کے لیے دو مدت کی حد مقرر کی گئی ہے اور صدارتی اختیارات میں توسیع کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اصلاحات کے چارٹر میں بنگلہ دیش کو ایک کثیر القومی اور کثیر المذہبی ملک کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
ریفرنڈم میں رائے دہندگان سے ایک سوال جس کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، میں اہم مسائل پر رائے لی گئی ہے۔
محمد یونس کے کہا کہ اگر اکثریت نے ’ہاں‘ میں جواب دیا تو آئینی ریفارم کونسل تشکیل دی جائے گی جس کی ذمہ داری آئین میں ترمیم کروانا ہو گا
انہوں نے کہا، ’ہم جو زندہ ہیں انہیں اُس اتحاد کی عظمت کو داغدار نہیں کرنا چاہیے جو ہم وطنوں نے بہادری کے ساتھ موت کا سامنا کرتے ہوئے فاشزم کے خلاف قائم کیا تھا۔‘اس سے قبل محمد یونس کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ انتخابات فروری 2026 کے آغاز میں ہوں گے تاہم الیکشن کمیشن نے فی الحال حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی کالعدم سیاسی جماعت عوامی لیگ پارٹی نے جمعرات کو ملک گیر ’لاک ڈاؤن‘ کی اپیل کی تھی۔ عدالت کے اطراف میں سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ بکتر بند گاڑیاں چیک پوائنٹس پر تعینات تھیں۔
مفرور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے کے چیف پراسیکیوٹر نے جمعرات کو کہا تھا کہ 17 نومبر کو فیصلہ سنایا جائے گا۔،
عوامی لیگ پارٹی شیخ حسینہ کے خلاف عائد تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور مقدمے کو ’محض ایک نمائشی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔











جواہر لعل نہرو: جن کے نظریات سیکولر اور مزاج سائنسی تھا
انڈیا میں ان دنوں آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہرلعل نہرو سے زیادہ متنازع شاید کوئی دوسری شخصیت نہیں، کیونکہ ایک طبقہ تمام تر مسائل کا نہرو کو ہی ذمہ دار سمجھتا ہے یا کم از کم بیان کرتا ہے۔ چاہے وہ کشمیر کا مسئلہ ہو یا پھر کوئی اور مسئلہ!
لیکن گذشتہ دنوں نیو یارک کے نو منتحب میئر زہران ممدانی نے فتح کے بعد اپنی تقریر میں جواہرلعل نہرو کا ذکر کیا تو نہرو کی سیاسی بصیرت ملکی سیاست سے نکل کر ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر بول رہی تھی۔انڈیا کے پہلے وزیرِاعظم جواہرلال نہرو کے مشہور اور لازوال الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے زہران ممدانی نے کہا کہ نیویارک نے ایک نئے دور میں قدم رکھا ہے۔ انہوں نے یہ باتیں آزاد ہندوستان سے اپنے پہلے خطاب میں کہی تھیں۔
ان کے یہ الفاظ نہ صرف ان کے سامنے موجود سامعین کے دلوں میں گونج اٹھے بلکہ ساری دنیا کے لیے ایک نئے سیاسی عہد کے آغاز کی علامت کے طور پر لیے گئے۔
اپنی جذباتی تقریر میں ممدانی نے کہا کہ ’آپ سب کے سامنے کھڑے ہو کر مجھے نہرو کے وہ الفاظ یاد آ رہے ہیں۔ تاریخ میں کبھی کبھی ایسا لمحہ آتا ہے جب ہم پرانے سے نئے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں، جب ایک عہد ختم ہوتا ہے اور جب کسی قوم کی دبائی ہوئی روح آزادی پا لیتی ہے۔ آج رات ہم نے پرانے سے نئے کی جانب قدم بڑھا لیا ہے۔‘
آج ہم اسی جواہرلعل نہرو کی بات کر رہے ہیں جسے دنیا نے عظیم سٹیٹس مین تسلیم کیا تھا، جنہوں نے دو قطبی دنیا میں غیروابستہ رہنے کو ترجیح دی تھی اور اس کے روح رواں اور سرخیل کے طور پر دنیائے سیاست پر ابھرے تھے۔
یہاں ان کے 137ویں جنم دن کے موقع پر ہم انہیں ان کے سیکولر اور سائنسی فکری نظریات میں دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آپ کبھی جنوبی ریاست تمل ناڈو سے متصل مرکز کے زیرِانتظام علاقے پڈوچیری جائیں تو وہاں کے ساحل پرومینیڈ پر آپ کو ایک طرف انڈیا کے بابائے قوم کی مورتی اور دوسری طرف نہرو کی مورتی آمنے سامنے ایک فاصلے سے نظر آتی ہے، اور دور سے دیکھیں تو آپ کو ایسا لگے گا کہ گاندھی سمندر سے نکل کر آ رہے ہیں جبکہ نہرو سمندر کی طرف رخ کر کے اس کا سامنے کرنے کے لیے تیار ہیں۔نہرو کے یوم پیدائش کو انڈیا میں یوم اطفال کے طور پر منایا جاتا ہے اور انڈیا میں انہیں ’چاچا نہرو‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بہت آئیکونک مورتیاں ہیں۔ گاندھی کی تصویر سے بچوں کی فلم ’جاگریتی‘ کے مشہور گیت:
ہم لائیں ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اس دیش کو رکھنا میرے بچوں سنبھال کے
کی یاد آتی ہے جبکہ نہرو کی تصویر یہ تاثر دیتی ہے وہ ملک کو بچانے کے لیے کسی بھی طوفان کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
جواہرلعل نہرو 14 نومبر سنہ 1889 کو انڈیا کے شہر الہ آباد میں سوروپ رانی اور موتی لعل نہرو کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے انگلینڈ میں ہیرو سکول اور کیمبرج یونیورسٹی کے ٹرینیٹی کالج سے تعلیم حاصل کی۔ وہیں اینر ٹیمپل سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور وطن واپس آ کر الہ آباد ہائی کورٹ میں وکالت کرنے لگے اور والد کے ساتھ ہی ہندوستان کی تحریک آزادی میں شامل ہو گئے۔
انہوں نے گانگریس میں شمولیت اختیار کی اور جنگ آزادی کے اعلٰی ترین معماروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم بنے اور اس سے قبل عبوری حکومت کے بھی وہ سربراہ رہے۔جواہرلعل نہرو کو جدید انڈیا میں سیکولر خیالات اور سائنسی نظریات کے حامل رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آزادی کے بعد جب قوم تقسیم، افلاس اور ناخواندگی کے گرداب میں پھنسی ہوئی تھی، اُس وقت نہرو نے ایک ایسے انڈیا کا خواب دیکھا جو سیکولر، جمہوری اور سائنسی شعور پر مبنی ہو۔ ان کی میراث محض سیاسی نہیں، بلکہ فکری اور تہذیبی بھی ہے، ایک ایسی تہذیب جو عقل، رواداری اور تحقیق و جستجو کو اپنی بنیاد بناتی ہے۔
سیکولرازم کے علم بردار
نہرو کی سیکولر سوچ وقتی سیاسی مصلحت نہیں تھی بلکہ ان کے ایقان قلبی کا حصہ تھی۔ آزادی کے بعد کے ہنگامہ خیز برسوں میں، جب فرقہ وارانہ جذبات عروج پر تھے، نہرو نے ہمہ وقت اس اصول کی پاسداری کی کہ انڈیا تمام مذاہب کا مساوی احترام کرنے والا ملک ہو گا۔ ان کے نزدیک سیکولر ازم کا مطلب مذہب سے دشمنی نہیں بلکہ ’ریاستی معاملات کو مذہبی تعصب سے پاک‘ رکھنا تھا۔
وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ’ہم ہندوستان میں ایک سیکولر ریاست کی بات کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست تمام مذاہب کا یکساں احترام کرے اور سب کو برابر مواقع فراہم کرے۔‘یہی تصور انڈیا کے جمہوری ڈھانچے میں رچ بس گیا۔ نہرو کے دورِ قیادت میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ ملا اور ایک مشترکہ قومی تشخص کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
سائنسی مزاج
انڈیا شاید دنیا کا واحد ملک ہے جس نے اپنے آئین میں سائنسی مزاج کی ترقی کو شامل کیا ہے۔ انڈیا کا آئین کہتا ہے کہ بنیادی فرائض میں سے ایک ’سائنسی مزاج، انسان دوستی اور تحقیقات اور اصلاح کا جذبہ پیدا کرنا‘ ہے۔ سائنسی مزاج نہرو کی تصنیف ’ڈسکوری آف انڈیا‘ سے لیا گیا ہے جس میں وہ شواہد اور منطق کو توہمات کے خلاف پیش کرتے ہیں۔
نہرو کو یقین تھا کہ ’سائنسی مزاج‘ ہی ترقی کی حقیقی کنجی ہے۔ ایک ایسی قوم میں جو صدیوں سے توہمات اور روایتوں میں جکڑی ہوئی تھی، انہوں نے عقل، تحقیق اور تجربے پر مبنی طرزِ فکر کو فروغ دیا۔ ان کے نزدیک سائنس محض تجربہ گاہوں تک محدود نہیں، بلکہ ’زندگی کا رویّہ‘ ہے۔
اب سوشل میڈیا پر ان کی اس طرح کی چیزیں دستیاب ہیں جن میں وہ غریب ملک میں سائنس کی ترقی اور تحقیق کے لیے پیسے مختص کرنے کا جواز پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ان کی قیادت میں انڈین انسٹیٹیوٹز آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)، کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) اور ایٹمی توانائی کمیشن جیسے ادارے قائم ہوئے۔
ان کا یقین تھا کہ سائنسی ترقی کو انسانی فلاح اور سماجی انصاف کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ’صرف سائنس ہی بھوک، غربت، گندگی اور ناخواندگی کے مسائل حل کر سکتی ہے۔‘
عقل و اخلاق کا حسین امتزاج
نہرو کی فکر کی انفرادیت یہ تھی کہ انہوں نے عقلیت کو انسانیت کے ساتھ جوڑا۔ وہ جانتے تھے کہ علم اگر اخلاق سے خالی ہو تو بے مقصد ہے، اور اخلاق اگر علم سے عاری ہو تو کمزور۔ ان کا سیکولرازم جذبات سے عاری اصول نہیں تھا بلکہ انسان دوستی اور رواداری سے لبریز جذبہ تھا۔ ان کا سائنسی نظریہ بھی محض ترقی نہیں بلکہ ذمہ داری اور خدمتِ انسانیت سے آراستہ تھا۔
آج جب دنیا میں عدم برداشت اور غیر معقولیت کی آندھیاں پھر سے سر اٹھا رہی ہیں، نہرو کا پیغام پہلے سے زیادہ معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ ان کا سیکولر وژن یہ یاد دلاتا ہے کہ تنوع میں اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے، اور ان کا سائنسی مزاج ہمیں سکھاتا ہے کہ سوال کرنا، سوچنا اور تحقیق کرنا ہی ترقی کا راستہ ہے۔اور شاید زہران ممدانی کے نزدیک نہرو کا یہی نظریہ ہو، لیکن یہ آفاقی نظریہ ہے کیونکہ اردو کے معروف شاعر شیخ محمد ابراہیم ذوق نے اپنے ایک شعر میں اسے یوں پیش کیا تھا:
گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینت چمن
اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے




*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...